Translate

Saturday, March 6, 2021

اسلام میں عبادت کا وسیع تصور

  مفتی محمد اعظم ندوی


’’عبادۃ‘‘ عَبَدَ یَعْبُدُ کا مصدرہے،تعظیم کی نیت اور ارادہ سے کسی کے سامنے جھکنا اور پست ہونا، یہ عمل صرف اللہ کے لئے جائز ہے، یہ لفظ اطاعت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اہل عرب ایسے اونٹ کو بَعیرٌ مُعَبَّدٌکہتے ہیں جو سواری کے لئے پوری طرح قابو میں آگیا ہو اور ’’طَرِیْقٌ مُعَبّدٌ‘‘ اس راستہ کو کہتے ہیں جو کثرت سے پامال ہوکر ہموار بن گیا ہو،یہ تو ہوئے اس کے لغوی معنی کی وضاحت،اصطلاحی اعتبار سے اس کی کئی تعریفیں کی گئی ہیں، ان میں چند یہ ہیں:

(۱) اللہ کے لئے جھکاؤ اورعاجزی کا سب سے اعلی درجہ ۔

(۲) مکلف کا اپنے نفس کے تقاضہ کے خلاف اپنے رب کی تعظیم میں کوئی کام کرنا۔

(۳) ایسا کام کرنا جس سے صرف اللہ کی تعظیم مقصود ہو اور اللہ تعالیٰ نے ا س کا حکم بھی دیا ہو۔

(۴) ہر وہ قول اورقلبی وجسمانی عمل جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور جس سے خوش ہوتا ہے عبادت ہے۔

(۵) وہ عمل جس کے کرنے پر ثواب ہو، اور اس کا صحیح ہونا نیت پر موقوف ہو۔

 اسلام میں معبود صرف ایک ذات برحق کو قراردیا گیا ہے، جوخالق ہے، اور تمام بندوں کی حیثیت عابد کی ہے، عبادت کے مختلف طریقے ہیں، کچھ وہ ہیں جن کے لئے عبادت کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اور کچھ وہ ہیں جونیت کی وجہ سے عبادت بن جاتے ہیں، اورعبادت اپنی تمام شکلوں کے ساتھ مخلوق پر خالق کا حق ہے، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھ سے حضور  ا نے دریافت فرمایا:’’اے معاذ!کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ ‘‘میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ ا نے فرمایا: بندوں پر اللہ کاحق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں‘‘(بخاری :2856)

اورعقلی طور پر بھی یہی بات قرین انصاف ہے کہ جس ذات نے اپنے بندوں کو وجودبخشا اور ان کو ہر طرح کی ظاہری وباطنی نعمتوں سے ہروقت نواز رہا ہے صرف اسی کی عبادت کی جائے، یہ اس کا لازمی حق ہے، اس کا یہ حق کسی اور کو دینا یا اس کے کسی حصہ میں شریک کرنا ظلم ہے، اسلام سے پہلے لوگ طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے، اورمختلف قومیں اپنے اپنے خیالات کے مطابق جس چیز میں کوئی غیرمعمولی بڑائی دیکھتی اس کے سامنے جھکنا شروع کردیتی تھیں، اسلام نے واضح کیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، اسی نے سب کو پیدا کیا ہے، اور وہی عبادت کے لائق ہے، اور ’’لاالہ الا اللّٰہ‘‘ کو اسلام کا کلمہ قرار دیا، قرآن کریم اسلام کا دستور ہے، پورے قرآن کریم کا نچوڑ سورہ فاتحہ ہے، اورسورہ فاتحہ کا نچوڑ اس کی آیت’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ یعنی ہم آپ کے علاوہ نہ کسی چیز کی عبادت کرتے ہیں نہ کسی ذات کی، اور آپ کے علاوہ کسی سے مددنہیں مانگتے۔

  جب بھی کوئی شخص اسلام لاتا حضور ا اس کو اولین ہدایت یہ دیتے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،اسلام کی دعوت میں بھی توحید کے ساتھ عبادت کو شامل کیاجاتا، یہی دعوت آپ نے اس وقت کے بڑے بڑے بادشاہوں اور فرماں رواؤں کو دی، قیصر اور نجاشی کو آپ نے جو خط لکھا اس میں صاف طور پر یہ آیت تحریر فرمائی: ’’قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلَمَۃٍ سَوَائٍ  بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْْئًا وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْا اشْہَدُوْا بِأَنَّا مُسْلِمُوْنَ‘‘]آل عمران: 64 [(کہو اے اہل کتاب!آ ؤایسی بات کی طرف جو  ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے، اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے  ہیں)۔

بلکہ قرآن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہی تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے، ہر ایک نے اللہ کی عبادت کا حکم دیا او رطاغوت(باطل اور نظام باطل) کی عبادت سے روکا، قرآن مجید میں ہے:(ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اس کے ذریعہ سب کو خبردار کر دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو)]النحل:36 [،اور حضور  ا کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کرکے فرمایا:’’وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا نُوحِیْ إِلَیْْہِ أَنَّہٗ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ ‘‘ ]الانبیاء:25 [(ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو)،اور قرآن نے انسان کی تخلیق کا مقصود بھی عبادت کو ہی قرار دیا: ’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ‘‘ ]الذاریات:56 [ (میں نے جن و انس کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں) ۔

 اسلام میں عبادت کی حقیقت دو عناصر سے مربوط ہے،ایک اللہ کے لئے آخری درجہ کا جھکاؤ اور دوسرے اللہ کے لئے آخری درجہ کی محبت،بلکہ علامہ ابن قیمؒ تو فرماتے ہیں:’’اصل عبادت اللہ کی محبت ہی ہے،بلکہ صرف اور صرف اللہ کی محبت،اور یہ کہ محبت کامل ومکمل صرف اللہ کے لئے خاص ہوجائے،اللہ کے ساتھ کسی سے محبت نہ کی جائے،بلکہ جس سے بھی محبت کی جائے اللہ کے لئے اور اس کے نام پرکی جائے‘‘(مدارج السالکین،ج۱،ص۹۹)،اور اقبالؔ عبادت کو بے لوث بنانے کی یہاں تک ترغیب دے گئے کہ:

سودا گری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے

اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

علامہ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: ’’ہر وہ قول وعمل جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو، خواہ وہ ظاہری ہو یا باطنی عبادت ہے، مثلاً نماز، زکوۃ، روزہ، حج، سچ بولنا، امانت کا پاس ولحاظ کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، صلہ رحمی، وعدہ کو پورا کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، حق کے غلبہ کے لئے ہر طرح کی جد وجہد، پڑوسیوں، یتیموں، مسافروں، غلاموں اور جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک، ذکر و دعاء ، قرآن کی تلاوت، اللہ کی محبت، اس کا خوف، اس کی طرف رجوع، اخلاص، شکرو صبر، تقدیر پر راضی رہنا، توکل اور اللہ کی رحمت کی امید اور ان جیسے تمام کام عبادت میں داخل ہیں‘‘۔

پھرعبادت کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں،قلبی اعمال: وہ اعمال جن کا تعلق دل سے ہے، جیسے توکل یعنی صرف ایک اللہ پر بھروسہ کرنا، ’’رجاء‘‘صرف اللہ سے ہی اچھی امید رکھنا، ’’خوف‘‘ صرف اللہ سے ڈرنا، ’’انابت‘‘ صرف اللہ سے رجوع ہونا، حضور انے فرمایا: ’’اچھا گمان کرنا بھی بہترین عبادت ہے‘‘ (مسند احمد:7956) ایک حدیث میں آپ  ا نے فرمایا:’’ سب سے افضل عبادت مصیبت کے ختم ہونے کا انتظار ہے‘‘(ترمذی:3919)،تعبُّدی اعمال: وہ مخصوص اعمال جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کی بندگی کی علامت قرار پاگئے، ان کی تین قسمیں ہیں: بدنی عبادتیں جیسے نماز اور روزہ، مالی عبادتیں جیسے زکوۃ، بدنی اور مالی دونوں خصوصیت رکھنے والی عبادت جیسے حج، جب مطلق’’ عبادت ‘‘یا ’’عبادات‘‘ کا لفظ ذکرکیا جاتا ہے تو ان سے یہی عبادتیں مراد ہوتی ہیں، ان کو عبادات خاص طورسے اس لئے کہتے ہیں کہ یہ اخروی اعمال ہیں، جب تک ان کو بجالانے کا مقصد دنیا طلبی نہ ہو ان پر آخرت کا ثواب اورجزاء کا وعدہ ہے، اگرچہ ہماری عقلیں ان کی مصلحتوں اور فوائد کو نہ سمجھ سکیں۔

وہ تمام اعمال جن کے کرنے یا نہ کرنے پر ثواب کا وعدہ ہے، کو بجالانا، یا ان سے بچنا بھی عبادت ہے، اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ان میں اللہ سے قریب ہونے کی نیت ہو، ایک حدیث میں حضور  ا نے فرمایا: ’’اے ابوہریرہ! ورِع بن جاؤ سب سے بڑے عبادت گذار ہوجاؤ گے‘‘ (ابن ماجہ:4217) ،ورِع یا متقی اس شخص کو کہتے ہیں جو حرام ومکروہ اور مشتبہ چیزوں سے بچنے والا ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عبادت کا دائرہ بہت وسیع کردیا ہے، حتی کہ ہر وہ عمل جس سے معاشرہ کو فائدہ پہنچے اسلام میں عبادت کے زمرہ میں داخل ہے، شرط یہ ہے کہ اس کام کو کرنے والے کی نیت صرف شہرت حاصل کرنا اور لوگوں سے تعریفیں سننا نہ ہو، حضور انے دوجھگڑا کرنے والوں کے درمیان صلح کرانے کے بارے میں فرمایا کہ روزہ، نماز اور صدقہ سے بہتر ہے(الأدب المفرد : 1391) روزہ، نماز اور صدقہ وغیرہ خالص عبادتیں ہیں، لیکن ایک شخص اگرنفل نمازوں، روزے اور صدقے کی ادائیگی کے بجائے دلوں کو ملانے کا کام انجام دیتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے، اور اس کا ثواب بسااوقات ان سے بڑھ کر ہے، مریض کی عیادت کے بارے میں حضور  ا نے فرمایا:’’ جو کسی مریض کی عیادت کے لئے نکلتا ہے آسمان سے ایک آواز دینے والایہ آواز دے کر کہتا ہے کہ تم پاکیزہ، تمہار اچلنا مبارک، تم نے جنت میں ایک ٹھکانہ بنالیا‘‘(ابن ماجہ : 1443) 

اسلام ان اعمال کو صرف پسند نہیں کرتا بلکہ ان کی ترغیب بھی دیتا ہے، ان کا حکم دیتا ہے، اور ان کو ایک مسلمان کی یومیہ ذمہ داری قراردیتا ہے، بلکہ اسلام نے ان کی اہمیت اس قدربڑھادی ہے کہ کہیں ان کو’’ صدقہ‘‘ اور کہیں’’ صلاۃ‘‘ کے لفظ سے یاد کیا، ایک حدیث میں ہے، حضور انے فرمایا :’’ انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے، ہردن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، دولوگوں کے درمیان انصاف کرتا ہے یہ صدقہ ہے، کسی کی مدد اس کے جانورکے سلسلے میں کردیتا ہے، اس کو اس پر سوار کردیتا ہے یا اس پر اس کا سامان رکھ دیتا ہے صدقہ ہے، بھلی بات کہنا بھی صدقہ ہے، نماز کے لئے چل کرجاتا ہے اس کا ہرہر قدم صدقہ ہے، راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹاتا ہے یہ بھی صدقہ ہے‘‘ (بخاری : 2989)

ا صدقہ اصلاً اللہ کی رضا کے لئے کسی غریب کی مالی مدد کو کہتے ہیں، اور یہ خالص عبادت ہے؛ لیکن ہرشخص اس کی استطاعت نہیں رکھتا؛ چنانچہ اسلام نے بھلائی کے تمام کاموں کو صدقہ قراردے دیا، اور اس طرح ان کو بھی عبادت میں شامل کردیا، ایک حدیث میں آپ  ا نے یہاں تک فرمایا: ’’انسان کے ہرجوڑ پر ہر دن نماز ہے، ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو بہت مشکل ہے، آپ نے فرمایا: بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، کمزور کی مدد کرنا، اور ہر وہ قدم جو تم میں سے کوئی نماز کے لئے اٹھاتا ہے نماز ہے‘‘(المعجم الکبیر للطبرانی: 11791)۔

اس سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ  ا نے خالص دنیوی کاموں کو جو انسان اپنی گذر بسر کے لئے کرتا ہے عبادت قراردیا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ کام اسلام کی نظر میں درست ہو، اس میں اچھی نیت شامل ہو، اس میں اللہ کے حدود کا لحاظ رکھا گیا ہو، دوسروں کی حق تلفی، خیانت اور دھوکہ سے اپنے معاملہ کو محفوظ رکھا گیا ہو، دنیوی کاموں میں مشغولیت کی وجہ سے دینی فرائض وواجبات سے غفلت نہ ہونے پائے، اگرایک مسلمان ان امور کی رعایت کرتا ہے تو وہ اپنی دنیوی مشغولیات میں بھی عبادت گذارشمار ہوگا گوکہ وہ مسجد میں نہ ہو، بلکہ خالص وہ امور جو انسان اپنی فطری خواہشات کی تکمیل کے لئے کرتا ہے نیت کی درستگی سے عبادت بن جاتے ہیں ،جیسے کھانا پینا، بیوی سے مباشرت وغیرہ، اس کی سب سے بڑی دلیل وہ حدیث ہے جس میں آپ  ا نے صحابہ ث سے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہے یہ بھی صدقہ ہے، صحابہ نے کہا: ایک شخص اپنی شہوت پوری کرتاہے ، کیا اس پر بھی وہ اجر وثواب کا مستحق ہے؟ حضور نے فرمایا: تم غورکروکہ اگر وہ اپنی خواہش کسی حرام ذریعہ سے پوری کرتا تو اس پر گناہ ہوتا؟انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: اسی طرح جب وہ حلال ذریعہ سے اپنی خواہش پوری کررہا ہے تووہ ثواب کا مستحق ہے‘‘(ابن حبان : 4167)۔علماء نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے انتہا رحمت کی بات ہے کہ وہ فطری خواہش کی تکمیل کو بھی عبادت بنا دیتا ہے، اوراس پر ثواب عطا فرماتا ہے؛ لیکن شرط یہ ہے کہ بیوی کے حقوق کی ادائیگی اور شرمگاہ کی حفاظت کی نیت کی جائے۔

اسلام کی ان تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عبادت صرف مخصوص اعمال سے مربوط نہیں بلکہ اس کا رشتہ پوری زندگی سے ہے، اسی لئے حضرت معاذ بن جبل ص فرمایا کرتے تھے:’’وَأَرْجُوْ فِيْ نَوْمَتِيْ مَا أَرْجُوْ فِيْ قَوْمَتِيْ‘‘  ( جس طرح میں تہجد میں اجروثواب کی امید رکھتا ہوں سونے میں بھی اجر وثواب کی امید رکھتا ہوں)،ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اسلام کی مقررہ عبادتوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ حسن نیت اور اخلاص سے اپنی عادتوں کو بھی عبادتوں میں تبدیل کردیں،اور اس طرح ہماری پوری زندگی عبادت سے عبارت ہوجائے:

عبادت اک ضرورت سے تھی پہلے  

 ضرورت اب عبادت ہوگئی ہے





No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...