مولانا محمد ظفیر الاسلام ندوی
کووڈ 19 کے بعد عالمی منظر نامے میں بڑی تیزی سے تبدیلی واقع ہوئی ہے اور ہو رہی ہے اسی طرح زندگی کے دوسرے شعبوں میں بڑی تبدیلیوں کے ساتھ نظامِ تعلیم بھی بہت کچھ بدل چکا ہے، اور حالات مزید بدلاؤ کا اشارہ دے رہے ہیں۔
سب سے پہلے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جو بھی حالات آئیں جیسا کہ کرونا آیا ان حالات سے ہمیں سیکھنا چاہیے اور ان کو اچھا رخ دینے کی کوشش کرنا چاہیے، اسی لیے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن نے ہمیں جھٹکا لگا کر ٹریک پر لاکر کھڑا کر دیا، اگر یہ نہ ہوتا تو ہم کئی سال پیچھے رہ جاتے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس کے بعد آنے والے حالات کے لیے تیار ہیں، یا نہیں؟ اسکول کھلنے جا رہے ہیں، اور طویل وقفے کے بعد اب بچے اسکول آنے والے ہیں، طویل لاک ڈاؤن اور اس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں کا طویل تعطل، بچوں کا گھروں میں قید ہو کر رہ جانا، پھر کرونا کے ڈر سے ایک دوسرے سے سوشل ڈسٹینسنگ بناکر رکھنے کی کوشش، یہ سب وہ حالات ہیں جنہوں نے بچوں کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے،
چند چیزوں کے بارے میں ہم بات کریں گے
۱ سوچنے کا عمل (Thoghat process) کافی سارے بچوں میں منفی سوچ پیدا ہونے لگی ہے، سیکھنے کے عمل سے لمبی دوری کی وجہ سے سوچنے کی صلاحیت (learning power) کمزور ہو گئی ہے۔
۲_ اخلاق و کردار (Behaviour) جو بچے دوسرے بچوں سے بہت زیادہ الگ رہے ہیں ان کے سلوک میں کافی فرق آ گیا ہے، نخرے بہت بڑھ گیے ہیں، ضدی پن، غصہ اور چڑچڑاپن بہت زیادہ پیدا ہو گیا ہے۔
۳ معمولات (Routine) بہت زیادہ بدل گیے ہیں، دماغی اور جسمانی صحت متاثر ہو گئی ہے، بچوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
۴_ تعلیم ( Education) سب سے زیادہ متاثر بچوں کی تعلیم ہوئی ہے، بہت بڑی تعداد تعلیم چھوڑ چکی ہے، اس کے بھی کئی سارے اسباب ہیں، والدین کی اقتصادی حالت، یا اسکولوں کا بند ہونا وغیرہ وغیرہ۔
۵ باہمی مہارت (interpersonal skills) جتنا پہلے ایک دوسرے سے مل جل کر رہتے تھے اور ایک دوسرے سے سیکھتے تھے، اب ایک تو ویسے ہی فیملی پلاننگ کے چلتے بچے کم ہوتے ہیں، اور پہلے عام طور سے مشترکہ خاندان ہوتے تھے جس کی وجہ سے گھر میں بچے زیادہ ہوتے تھے، بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہوئے، جھگڑتے ہوئے، الجھتے ہوئے سیکھتے تھے، اب ہر فیملی الگ رہنا پسند کرتی ہے، اس پر لاک ڈاؤن نے رہی سہی کسر پوری کردی، ہر فیملی آسیولیٹ ہوگئی۔
مندرجہ بالا اثرات اور ان کے علاوہ بہت سارے ایسے اثرات ہیں جو کووڈ 19، لاک ڈاؤن اور تعلیمی اداروں کے بند ہونے کے وجہ سے بچوں پر پڑ رہے ہیں، یہ وہ چیلنجر ہیں جن کا ہمیں اس وقت سامنا کرنا ہے، ہم اگر اس انتظار میں رہیں کہ سب پہلے جیسا ہوجائیگا، بہت سارے لوگ اسی خوش فہمی میں انتظار کر رہے ہیں کہ حالات معمول پر آ جائیں تب ہم کچھ کریں گے، یہ بہت بڑی بھول ہے، ہمیں ان حالات سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے اور آئندہ کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔
اب اسکول بتدریج کھولے جارہے ہیں، بچے اسکول آنے والے ہیں یا کچھ جگہوں پر آچکے ہیں، لہذا ہمیں بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر پڑھانا ہوگا، نئے حالات کے لیے انھیں تیار کرنا ہوگا، صرف مارنے پیٹنے ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ سے ہم ان کو شاید اچھا، ماہر اور کامیاب انسان بنانے میں ناکام رہ جائیں،
ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جس ماحول میں ہم نے پڑھا ہے، اور جس طریقے سے ہمارے اساتذہ نے ہمیں پڑھایا اب وہ زمانہ نہیں ہے، نہ وہ حالات ہیں، اگر ہم پرانے گھسے پٹے طریقہ پر چلیں گے تو بہت پیچھے رہ جائیں گے، ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا،
ایک بہت اہم اور ضروری چیز جو اساتذہ کو بچوں کے لیے کرنی ہے وہ یہ ہے کہ بچوں میں سوچنے کی صلاحیت پیدا کریں، سوچ پر ڈالیں، thinker بنائیں، تفکیری قابلیت پیدا کرنے کی کوشش کریں، آج خالی معلومات کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ معلومات کے ذرائع بہت ہیں، ایک کلک میں دنیا بھر کی معلومات اکٹھا کرسکتے ہیں، آج مفکرین (Thinkers) کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ اور بہت کچھ بدلاؤ (changes) کی ضرورت ہے، جن کے بارے میں ماہرین تحقیق کر رہے ہیں، لہذا ان سب چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بچوں کی تعلیم و تربیت کا نظام بنائیں، تاکہ آنے والی نسل زندگی کی دوڑ کسی سے پیچھے نہ رہے۔
No comments:
Post a Comment