اس عارضی زندگی میں کئی" سال "آئے گئے،اس میں گذرے سال کی داستانیں بھی تھیں اور آنے والے نئے سال کی امیدیں بھی وابستہ رہیں ،برسہا برس کی کہا نیاں بھی علم ومطالعے سے گزریں ،اس موضوع پر تقریبا ہر برس ہی نئے مضامین پڑھنے کو ملتے رہے ،مگر سچ پوچھئے تو 2020ء کے گذرنے کا جو درد ہے ،اس نے آنے والا سال 2021ء کو بھی خوفناک بنا دیا ہے ۔ہر روز کے حساب سے اک نیازخم ،ناسور بن کر عمریں گھٹا تا چلا جارہا ہے ، نئے سال کی آمد سے قبل نہ جانے کتنی بہاریں ہماری لوٹ چکی ہوتی ہیں ،اس لئے ہمیں سال کے پورا ہونے پر بیتے دنوں کے حوالے سے کف افسوس ملنے کے بجائے اورپچھلی زندگی کا احتساب کرنے کے بجائے ،ہم آنے والے برس کا پرجوش استقبال کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ،ہم تو کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے "کہنے کے بجائے سال گذرا خدا خدا کرکے "کہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں ۔
اگر صرف2019ء کا ہم احتساب کریں تو ہمارے کے پاس حساب کرنے کو کچھ نہیں ،چہ جائے کہ 2020ء کا ہم احتساب کرنے بیٹھیں ! گذرے سالوں کا احتساب تو ہم تب کریں ،جب ہمارا ذہن ،قوم وسماج کی تعمیر کے لئے فارغ ہو ،بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے یکسو ہو "روٹی، کپڑا اور مکان " کے تئیں فکر مند ہو ،مگر ان سب کی نوبت کہاں! رہی سہی کسر دہلی فساد میں نکل گئی ، جہاں بلوائیوں نے پوری طرح سے ہمیں زندہ جلا کر رکھ دیا ،جس میں سینکڑوںسے زیادہ جانیں گئیں ،دکان مکان اور گاڑی اور سمپتییاں ،ہفتوں تک جلتی رہیں ،احساس کیجئے کہ جب" وجود " اور اپنی "بھومی "کو بچانے کے لئے سڑکوں ،پارکوں اور گذرگاہوں پر زندگی جینا ہمارا مقدر بن چکا ہو اور ہم نے کالے قانون سے تحفظ اور ملک کے دستور کو بچانے میں بچوں کی تعلیم سمیت اپنے آرام وراحت تک کو قربان کردیا ہو ،ہمارا پورا سماج برسر اقتدار حکومتوں سے نمٹنے میں اپنی زندگی داؤ پہ لگا رہا ہوتو اب بچا کیا ہے ،جس کا ہم حساب کریں اور ہم نے کیا کھویا ،کیا پایا کو انگلیوں پر شمار کریں ۔
سی اے اےکی واپسی اور آئین کے تحفظ کے لئے 11/ دسمبر2019 سے ہم مسلسل سڑکوں پہ ہیں ،22/مارچ2020ء سے ہمیں" کورونا " کے بہانے لاک ڈاؤن کےنام پر گھروں میں بند ہونے پر مجبور کردیا گیا ،کاروبار ،تعلیم وتدریس ،روزی روٹی ،آنا جانا ،ملنا جلنا ،بلکہ ایک دوسرے کے قریب ہونے تک سے ہمیں روک دیا گیا ،اس درمیان ہم بے روزگار ہوکر نان شبینہ کے محتاج بن کر جہاں تھے وہیں قید ہوکر رہ گئے ،ہم نے ارادہ کیا گھر چل کر بچوں سے ملنے کا ،راستہ ہمارے لئے خندق اور کانٹوں سے آباد دنیا ثابت ہوا ،تحفظ کے نام پر وردی دھاریوں نے ہماری درگت بنائی ،کسی طرح سے پٹتے پٹاتے گاؤں پہنچے تو "کرنٹائن "کے نام پر اسکولوں میں نظر بند کردیا گیا ،بچے بلکتے رہے ،بھوک سے بوڑھی مائیں تڑپتی رہیں ، کتنے ہی رشتہ دار ،معززین ،محسنین اور اساتذہ بے یار و مددگار اپنی زندگی سدھار لے گئے اور ہم ان کی مٹی منزل تک میں شریک ہونے سے بھی محروم رہ گئے ،ہمیں ان مرحومین کے آخری دیدار سے دور رکھا گیا ۔کہنے کو ڈاکٹروں کو علاج کرنے کی اجازت دی گئی تھی ،مگر اس نے بھی دپکی سادھ لی ۔اس درمیان جمعہ و جماعت ، رمضان واعتکاف ،عید بقرعید ،سبھوں کی اجتماعی ادائگی سے بھی ہم محروم کردئیے گئے ،دیگر تعلیم گاہوں کے ساتھ عربی مدار بھی بند کردئیے گئے ،شادی بیاہ ،میلہ ٹھیلا ،سیاسی ،سماجی ،مذہبی غیر مذہبی تمام پروگرامس ہورہے ہیں ،مگر ابھی تک عربی درسگاہوں کے لئے باضابطہ کوئی گائڈ لائن جاری نہیں ہوسکا ۔
اسی ادھیڑ بن میں 2020ء بڑی سبک گامی کے ساتھ اب ہم سے رخصت ہوا چاہتا ہے ،بلکہ ہمیں تو صحیح سے احساس بھی نہیں ہو سکا کہ سال رواں میں ہم نے کب قدم رکھا اور کس طرح سے یہ سال اپنا چکر پورا کرگیا۔ ابھی کورونا سے ابھرے بھی نہیں ہیں کہ تین اور کرسی کالےقانون ہمارے اوپر تھوپ کر ہمیں پھر سڑکوں پر لے آیاگیا ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ 2021 کا سکون بھی ہم سے چھن جائے اور ہم خوف ودہشت کے سائے میں 2021 کے دن گذارنے پر مجبور ہوں ۔
بہر حال ! اوپر جو کچھ بھی لکھا گیا سکے کا ایک پہلو تھا، لیکن د وسرا پہلو اس سے حق اور سچ ہے جہاں شب دیجور کی رخصت پذیری اور نسیم صبح کی سحر آفرینی ازل سے طے ہے،یقنا ظلمت شب مٹے گی اور بہار کےدن بھی لوٹیں گے ،مذہب اسلام کی سچی اور تابناک تاریخ سے ہمیں سبقی ے کی ضرورت ہے ، ہم مومن ہیں ،ہمیں اللہ کی قدرت پہ بھروسہ کرنا ہے ،اللہ کو راضی کرنا ہے ،اس کو روٹھنے سے منانا ہے اور بقول راحت اندوری :
اپنا خالق اپنا مالک افضل ہے
آتی جاتی سرکاروں سے کیا لینا
یہ دنیا ہے جو ہمارے لئے قیدخانہ ہے ،ہماری نظر منزل اورمقصد پر رہنی چاہئے ،ہمیں ہر حال میں محاسبے کے ساتھ زندگی بتانی ہے ،چاہے جیسی گذرے ، ہمارا عقیدہ ہے کہ دین دنیا کی جیسی بھی مصیبتیں ہوں ،یوں نہیں آیا کرتیں ،اللہ کی مشیت کار فرماہوتی ہیں ،جس طرح ،مصائب میں الجھ کر مسکرانا ہماری فطرت ہے ،اسی طرح حالات اور باد مخالف سے جھوجھتے رہنا بھی ہمارا مقدر اور تاریخ کا حصہ ہے ،مصیبتیں آئی ہیں ٹلیں گی ،اس دنیا میں کبھی بھی وقت اور حالات کو قرار نہیں ہے ۔(وتلک الایام نداولھا بین الناس) ۔
یہ مت کہو خدا سے مری مشکلیں بڑی ہیں
ان مشکلوں سے کہد و میرا خدا بڑا ہے
موجودہ حالات کے پیش نظربہت ہی قیمتی نسخہ مخدوم گرامی قدر امیر شریعت بہار اڑیسہ جھار کھنڈمفکر اسلام حضرت مولانا سید شاہ محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : "شیطان اور ابلیس کا اپنا کام ہے وہ اپنے کام میں لگا ہوا ہے، مصیبتیں اور آفتیں بھی اپنی روش پر چل رہی ہیں، ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ارادے اور عزائم میں کمزوری نہیں آنی چاہیے، ہمیں اور آپ کو شکست حوصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اگر میدان میں شکست کھا بھی جائیں، تو کوئی خاص بات نہیں، شکست حوصلہ نہ ہوں، یہ خطرناک بات ہے، اس لئے حوصلہ کے ساتھ جئیں اور حوصلے کے ساتھ مرنے کا ارادہ بنائیں"
آئیے عزم جواں کے ساتھ ہم پھر رخت سفر باندھتے ہیں اور پچھلی زندگی کی عملی کوتاہیوں کا احتساب کرتے ہوئے رجوع الی اللہ اورسنت وشریعت کی پابندی ،منکرات ونواہی سے اجتناب اور تعلیمی و معاشی استحکام کے تعلق سے مسلسل عزم سفر جاری رکھنے کے عہد کے ساتھ کاروان حیات کا لائحہ عمل طے کرتے ہیں اور متعین شدہ اہداف کے حصول کی خاطر، طوفانوں میں چراغ جلانے کا ہنر آزماتے ہیں :
میں کسی حال میں مایوس نہیں ہوسکتا
ظلمتیں لاکھ ہوں امید سحر رکھتا ہوں
No comments:
Post a Comment