نتیجۂ فکر۔ محمد صلاح الدین رضوی ،محمد پور ،مظفر پور
میں ایسی ہواؤں کا چلن دیکھ رہا ہوں
اڑتی ہوئی لاشوں سے کفن دیکھ رہا ہوں
شہزادئی اسلام فقط تیری ادا سے
مہتاب کے چہرے پہ گہن دیکھ رہا ہوں
مانوس تھا ہر سرخئ گل رنگ حنا سے
ماضی کا ترا ایسا چمن دیکھ رہا ہوں
مغرور نہ ہو ظلم نہ کر اہل چمن پر
ہے ملک عدم تیرا وطن دیکھ رہا ہوں
کچھ تجھ سے گلہ اور ہے کچھ اپنی خطائیں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن دیکھ رہا ہوں
سکتے میں فقط اہل چمن ہی تو نہیں ہیں
میں وقت کے ماتھے پہ شکن دیکھ رہا ہوں
کیا بات ہے رضوی ترے انداز سخن میں
ہر جا نیا موضوع سخن دیکھ رہا ہوں
No comments:
Post a Comment