مولانامحمد امام الدین ندوی
کورونا جیسی مہلک وبا سےبچا نے کے لئے ملک میں ”لاک ڈائون“ کا اعلان سرکاری سطح پر ہوا ۔اس کا نفاذ پوری طاقت سے کیا گیا ۔کچھ لوگ بات سے مان گئے اور اپنے گھروں میں قید ہوگئے۔کچھ لوگ بات نہیں سمجھے تو انہیں ”لات، گھونسے، ڈنڈے اور کچھ دوسرے طریقے“سے سمجھایا گیا۔سارے دفاتر ،کل کارخانے، روزگار کے چھوٹے بڑےتمام وسائل بند ہوگئے ۔جو جہاں تھا وہیں سمٹ کر رہ گیا۔ زندگی کی دوڑ بھاگ تھم سی گئی۔
یہی حال تعلیمی اداروں کا ہوا انہیں بھی مکمل بند کردیا گیا ۔ پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔لاک ڈائون کا سلسلہ بہت طویل ہوگیا۔اس سے یہ ادارے کافی متاثر ہوئے۔جو طلباء ان اداروں سے منسلک تھے جن کی وجہ سے یہ ادارے چلتے تھے۔ان اداروں سے جتنے کارکنان اورملازمین منسلک تھے، ان اداروں کے بند ہونے سے ان سب کا بہت نقصان ہوا ۔ان کی معاشی حالت دگرگوں ہو گئی۔ جوادارے نجی زمین پر چل رہے تھے ان میں رمق ابھی باقی ہے ۔لیکن جو ادارے کرائےکے مکان میں چل رہے تھے ان میں سے اکثر بند ہوگئےیا پھر بند ہونے کی کگار پر ہیں۔ ہر ڈائریکٹر کے پاس نہ اتنی سکت ہے کہ وہ اساتذہ کی تنخواہ اور عمارت کا کرایہ ادا کرسکے۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے سے گارجین کی جانب سے بھی توجہ ہٹ گئی اس طرح یہ ادارے اپنا جنازہ خود پڑھنے کے لائق بھی نہیں رہے۔
مدارس دینیہ ملک وملت کی عظیم امانت ہیں۔ملک میں امن وسلامتی کی فضااگر قائم ہے تو انہی کے دم سے ہے ۔مسلمانوں کی شناخت اس ملک میں اگر ہے توانہی کی دَین ہے۔نئ نسلوں میں دینی شدبد انہی سے ہے۔ یہ اس ملک میں مسلمانوں کے وجودکے ضامن اور امین ہیں۔دینی مدارس ہماری دینی اور ملی شناخت ہیں۔ہمیں اور ہماری نئی نسلوں کو ہر طرح کے ارتدادسے بچانے کا مضبوط قلع ہیں، ہمارے ایمان کو مضبوط اور اسے صیقل کرنےمیں دینی مدارس کا بہت اہم کردار ہے۔
پورے ملک میں بے شمار چھوٹے بڑے ادارے کھلے ہوئے ہیں ۔سب اپنا فیض ملک اور بیرون ملک میں پہونچا رہے ہیں۔ ان اداروں سے ایک طرف ملک کا وقار بلند ہوا ہے تو دوسری جانب ملک سے جہالت دور کرنے میں اس کا اہم رول رہا ہے۔
مدارس دینیہ میں عام طور سے ”خالص دینی تعلیم“ کا نظم ہے ۔عصری علوم جو دراصل اسلام ہی کا بڑا حصہ ہیں۔ مدارس کی تعلیم نے ملک کو پرامن شہری مہیا کئے ہیں۔ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے کا تعلق عام طور پر مسلمانوں کے متوسط وغریب طبقے سے ہوتا ہے ۔کچھ مالدار گھرانوں کے بھی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جو دیندار ہوتے ہیں ۔ غریب و یتیم بچوں کے کھانے ،رہنے، قلم وکتاب ،وغیرہ کے سارے اخراجات انہیں مدارس کے ذمہ ہوتے ہیں ۔یہی بوریا نشیں، روکھی سوکھی کھا کر فراغت کے بعد ملک و ملت کی صحیح آبیاری کرتے ہیں۔
مدارس دینیہ کے مالی اخراجات مسلمانوں کے تعاون سے پورے کئے جاتے ہیں ۔یہ خطیر رقم اصحاب ثروت کی جانب سے فطرہ زکات،صدقات،عطیات،امداد ،کی صورت میں دی جاتی ہے۔اسے دینی مدارس کے اساتذہ وکارکنان اصحاب خیر حضرات کے پاس سے جاکر لاتے ہیں ۔کچھ لوگ چیک ،یا بینک اکائونٹ، میں رقم ٹرانسفر کرتے ہیں۔انہیں رقموں سے یہ ادارے چلتے ہیں ۔اسی سے دینی مدارس اور ان کے اساتذہ ،دیگر ملازمین ،کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔سرکار سے نہ کچھ لیا جاتاہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
اس ”لاک ڈائون“ میں سب سے زیادہ متاثر دینی مدارس ہوئے ہیں ۔ہراعتبار سے ان کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے ۔ تعلیم وتدریس، کے ساتھ مالی اعتبار سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
اس ”لاک ڈائون“نے مدارس کے لئے بہت سےمسائل کھڑے کئے ہیں۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔اساتذہ اور طلبہ کا آپسی تعلق ختم ہوگیا ۔ طلبہ واساتذہ کا ادارے سے بھی تعلق کمزور پڑ گیا۔درس وتدریس سے دوری ہوگئی۔پڑھنے پڑھانے سے انسیت کم ہوگئی۔ادارے کی آمدنی بند ہوگئی۔کچھ ادارے کے ذمہ داروں نے صاف کہ دیا کے ہم تنخواہ نہیں دے سکیں گے۔کسی نے کہا کہ آدھی تنخواہ دیں گے ۔کسی نے کہا کہ تنخواہ تو پوری دیں گے مگر جب استطاعت ہوسکے گی تب دیں گے ۔
”لاک ڈائون“ کی وجہ سے ادارے بند ہوئے ۔ادارے بند ہونے سے عوام الناس اور مدارس کےآپسی روابط ختم ہو گئی یا کمزور پڑ گئے ۔ادارے کے ذمہ داروں اور عوام الناس کے روابط کم ہونے سے مالی نقصانات بھی بہت ہو گیا ہے۔
اس ”لاک ڈائون “ سے چھوٹے چھوٹے،ادارے یا تو بند ہو گئے یا پھر بڑی دشواریوں کا سامناکر رہے ہیں۔ اللہ خیر کا معاملہ فرمائے۔اس سے” طلبہ “کا نقصان تو ہوا ہی”علما ٕ“کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑےگا۔انہیں بہت بڑے ابتلا سے گزرنا پڑے گا۔
ان ”مشکلات “سے اداروں کو کیسے” نکالا“ اور ”بچایا“ جائے؟یہ بہت بڑا”سوال“ ہے۔خدا نہ خواستہ اگر یہ ”دینی قلعے“ بند ہو گئے تو دوبارہ کھلنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔ پھر مسلمانوں کا کیا ہوگا ؟ان کے ایمان کی بقا اور تحفظ کیسے اور کہاں ہوگی؟۔
ان ”دینی قلعوں“ کی آبیاری کے لئے امت کے غریب وامیر سب کو اپنی استطاعت کے بقدر حصہ لینے کی ضرورت ہے ۔ذمہ داروں اور اساتذہ کو ہر ممکن قربانی دینے کی ضرورت ہے ۔
ہر ”چھوٹے،بڑے“ ادارے کو بند ہونے سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔امت مسلمہ ایک وقت کم کھائے ،موٹے جھوٹے کپڑے استعمال کرے اپنے بال بچوں کی خواہشوں پر کم خرچ کرے اور فراخ دلی سے دینی قلعوں کو مضبوط کرے ۔اس کا پورا اجر اور اس کے عوض دائمی راحت ملے گی۔اور ہماری نسلیں ارتداد سے بچ جائیں گی۔یہی وقت کی آواز اور پکار ہے ۔اس میں ذرا سی غفلت ہمارے دینی وملی وجود کو ختم کر دے گی ۔پھر ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔
طلباء کے تعلیمی نقصان کی تلافی تو مشکل ہے ۔ارباب مدارس کو ایسا راستہ نکالنا چاہئے جس میں بچوں کے نقصان کی تلافی ہوسکے۔اور طلباء پر تعلیمی بوجھ بھی زیادہ نہ ہو ۔اور ان کا سال بھی بچ جائے۔اسکےلئے طلباء ،اساتذہ،گارجین،عوام الناس، سب کو مل جل کر محنت کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ادارہ چلتا رہے اور طلباء ترقی کرتے رہیں۔اور ایمان کی روشنی گھر گھر پہونچے ۔ہمارا اور آپ کا وجود مکمل اسلامی شعار کے ساتھ برقرار رہے ۔بحیثیت مسلمان اور ایک اچھے شہری بن کر ہم زندہ رہیں ۔اور زندہ قوم کا ثبوت پیش کریں۔
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!
عزیزو! تبدیلیوں کے ساتھ چلو، یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لیے تیار نہ تھے، بلکہ اب تیار ہوجاؤ، ستارے ٹوٹ گئے لیکن سورج تو چمک رہا ہے، اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھا دو ٗجہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔
میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کا سرٹیفکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش ونگار تمہیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کے طور پر نظر آرہے ہیں ٗ انہیں بھلاؤ نہیں، انہیں چھوڑو نہیں، ان کے وارث بن کر رہو اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ہمارا ملک ہے، ہم اس کے لیے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔
آج زلزلوں سے ڈرتے ہو، کبھی تم خود اک زلزلہ تھے، آج اندھیرے سے کانپتے ہو ٗکیا یاد نہیں کہ تمہارا وجود ایک اجالا تھا، یہ بادلوں نے میلا پانی برسایا ہے، تم نے بھیگ جانے کے خدشہ سے اپنے پائنچے چڑھا لیے ہیں، وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندر میں اتر گئے، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا، بجلیاں آئیں تو ان پر مسکرا دیے، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا، صرصر اٹھی تو اس کا رخ پھیر دیا، آندھیاں آئیں تو ان سے کہا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کی جاں کنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے ٗآج خود اپنے گریبانوں سے کھیلنے لگے اور خدا سے اس درجہ غافل ہوگئے کہ جیسے اس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔
عزیزو! میرے پاس تمہارے لیے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے، وہی پرانا نسخہ ہے جو برسوں پہلے کا ہے، وہ نسخہ جس کو کائنات انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا، وہ نسخہ ہے قرآن کا یہ اعلان کہ {وَلاَ تَہِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ}
مولانا ابو الکلام آزادؒ (خطبات آزاد: ۳۲۱-۳۲۲)
No comments:
Post a Comment