Translate

Monday, March 8, 2021

طاقت کا نشہ

 مولانا محمد ارمغان بدایونی ندوی

رفیق دار عرفات، تکیہ کلاں، رائے بریلی


نشہ آور اشیاء ہر سماج میں ناپسندیدہ ہیں، نشہ کا انجام نہایت مہیب ہے اور نشہ کا چسکا انتہائی مضر! اشیائے خوردنی کا نشہ ہڈیاں گلاتا ہے، مہلک بیماریاں بناتا ہے،دماغ کو مفلوج کرتا ہے، معدہ کو تباہ کرتا ہے، اعصاب کو متاثر کرتا ہے، جسم میں زہریلے مادے پھیلاتا ہے اوربالآخر گھربار تباہ کردیتا ہے۔ نشہ زندگی کی ضد ہے، زندگی پرواز چاہتی ہے اور نشہ تنزلی، زندگی ہمسایے چاہتی ہے اور نشہ بے گانے، زندگی آبادی چاہتی ہے اور نشہ بربادی، زندگی عزت چاہتی ہے اور نشہ بے عزتی، زندگی اعلیٰ معیار چاہتی ہے اور نشہ ادنی معیار، زندگی بلند عزائم چاہتی ہے اور نشہ فقط ایک کش!

دنیا میں نشہ کی مختلف اقسام اور متعدد شکلیں ہیں، جن میں نشہ کی ایک قسم ’’طاقت کا نشہ‘‘ بھی ہے، طاقت کا نشہ دنیا کے سبھی نشوں سے زیادہ خطرناک، مہلک اور تباہ کن ہے، اس کا فلسفہ سب سے الگ اور مضرات نہایت سنگین اور بہت ہی گہرے ہیں۔

طاقت فی نفسہٖ شیٔ محمود ہے، تاہم نشہ ہراس چیز کا حرام ہے جو انسان کے اندر سے انسانیت کا عنصر ہی چھین لے، طاقت کا وجود ظلم مٹاتا ہے مگر طاقت کا نشہ ظلم کو فروغ دیتا ہے، طاقت کا وجود بدعنوانی ختم کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ بدعنوانی کوبڑھاوادیتا ہے، طاقت کا وجود امن کا نفاذ کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ بدامنی پھیلاتا ہے، طاقت کا وجود تحفظات فراہم کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ تحفظات ختم کرتا ہے، طاقت کا وجود ترقی کے آنے بانے بنتا ہے مگر طاقت کا نشہ ترقی کے سانچے ہی توڑ پھوڑ دیتاہے، طاقت کا وجود ماہرین فن کی دریافت کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ چور و ڈاکو پیدا کرتا ہے، طاقت کا وجود ملکوں کو مضبوط کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ ملکوں کی بنیادیں ہلا دیتا ہے، طاقت کا وجود بھید بھاؤ کی سڑاہن کو صاف کرتا ہے مگر طاقت کا نشہ بھید بھاؤ کے جراثیم کو پروان کو چڑھاتا ہے، طاقت کا وجود حقوق دلاتا ہے مگر طاقت کا نشہ حقوق چھین لیتا ہے۔

طاقت کا نشہ ایک لا علاج بیماری ہے، جس میں افکار واقدار اور معیار بدل جاتے ہیں، ذہن کی سوچ اور سوچنے کا ڈھنگ تبدیل ہوجاتا ہے، بصارت پر دبیز پردے حائل اور بصیرت سے محرومی ہوجاتی ہے، انسانی ضمیر مردہ اور حس ِ لطافت بے جان ہوجاتی ہے۔

طاقت کا نشہ جب سر چڑھ کر بولتا ہے تو ظلم کو انصاف، ستم کو کرم، گالی کو مرہم اور مفلسی کو امیری سمجھا جاتا ہے، پھر نوجوانوں کا مستقبل سیاہ ہوتا ہے، ان کی زندگی کا استحصال اور ان کی طاقت کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔بلاشبہ طاقت کا نشہ ملکوں کو تباہ کردیتا ہے، نسلوں کو برباد کردیتا ہے، تہذیبوں کو مسخ اور حریت رائے کا حق سلب کرلیتا ہے۔

طاقت کا نشہ حسن و قبح کا فرق ختم کردیتا ہے، اچھے بھلے کی تمیز مٹا دیتا ہے، اسی لیے وہ نا اہلوں کو خوب نوازتا ہے، ان کی جرأتیں بڑھاتا ہے، انہیں معصومیت کے تمغے دیتا ہے، اعلیٰ مناصب پر بٹھاتا ہے، جن کے ذریعہ اپنے ناپاک منصوبے کامیاب بناتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ نشہ فرعونی سامراج کو فروغ دیتا ہے، بدعنوانی کو ہوا دیتا ہے، معیشت کو ابتر کرتا ہے اور قوموں کو تاراج کردیتا ہے۔

طاقت کا نشہ بہت گہرا ہے اور اس کی پالیسی بھی حد درجہ زہر آگیں، جب سر عام اس نشہ کا طوطی بولتا ہے تو زندگی کا ہر شعبہ اس کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتا ہے، ذرائع ابلاغ اس کا مطیع، محکمہ امن اس کا ناز بردار، محکمہ تفتیش اس کے اشارۂ ابرو کا پابند، محکمہ انتخابات اس کے کنایوں کا راز داں اور محکمہ انصاف اس کا رہین منت ہوجاتا ہے۔

طاقت کا نشہ سماج کے ہر طبقہ پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کے اثرات لوگوں کے کردار و گفتار میں جھلکتے ہیں، معلمین کا طریق تفہیم جدا ہوجاتا ہے، اہل سیاست کا لب ولہجہ کرختگی اختیار کرلیتاہے، تحریکوں کا ایجنڈا بدل جاتا ہے اور اس نشہ سے متاثر عام آدمی کا طرز سخن بھی زہر آلود ہو جاتا ہے۔

  طاقت کا نشہ ایک غیر محدود سماجی وبا ہے، اگر اہل دانش وبینش اس کا شکار ہوجائیں تو یہ تاریخ میں تحریف، نصاب تعلیم میں زہر افشانی اور دفاتر میں رشوت ستانی کو روا کردیتا ہے ۔اور اگر ارباب حل و عقد اس کے عادی ہوجائیں تو یہ مظلوموں پر ظلم، معصوموں پر بربریت، نہتوں پر ڈاکہ، شریفوں سے چھیڑچھاڑ، صنف نازک کی بے عزتی اور جویان حق کو قتل کی راہ دکھاتا ہے۔

طاقت کا نشہ متعدی اور اس کا نتیجہ تخریب کاری ہے، یہ نشہ اخلاق کا دیوالیہ کردیتا ہے، قوموں کی تقدیر میں خط غلامی کھینچ دیتا ہے، ملکوں کی قسمت میں معاشی بحران چسپاں کردیتا ہے، انسانی سماج میں نفرت کی خندقیں کھود دیتا ہے اور پسماندہ طبقات کی زندگی سے روشن مستقبل کی اصطلاح غائب کردیتا ہے۔

طاقت کا نشہ جذبہ تعمیر کے منافی ہے، جذبہ تعمیر صالح افراد چاہتا ہے اور طاقت کا نشہ فاسد افراد، جذبہ تعمیر عروج چاہتا ہے اور طاقت کا نشہ زوال، جذبہ تعمیر امن چاہتا ہے اور طاقت کا نشہ خوف و ہراس، جذبہ تعمیر تعلیم یافتہ سماج چاہتا ہے اور طاقت کا نشہ جہالت!



No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...