Translate

Saturday, March 6, 2021

آئیے! خلوص نیت کے ساتھ نیا عزم سفر پیدا کریں

 مولانامحمد سرفراز ندوی قاسمی ازہری 


ریسرچ اسکالر: جامعۃ الازہر مصر

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبے سے متعلق کچھ اصولی اور کلی باتوں کی تعلیم دی ہے، عام انسان کو اگر ان اصولی باتوں کا علم ہو جائے، تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے، جیسا کہ اعمال پر اجر و ثواب ملے گا یا نہیں ملے گا؟ اگر ملے گا تو اس کی پہچان کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت مشہور حدیث ہے کہ "إنما الأعمال بالنیات" یعنی اعمال کے قبول ہونے اور قبول نہ ہونے کا دار ومدار نیتوں پر مبنی ہے یعنی اجر وثواب کا تعلق انسان کی اچھی یا بری نیت سے ہے، اگر انسان نے وہ کام اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا ہے، تو یقینا اس پر اجر وثواب ملے گا۔ 

یاد رہے کہ نیت کا تعلق دل سے ہے اور دل کے قصد و ارادہ کو کہتے ہیں، بہت سے محدثین نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں روایت کیا ہے، بعض نے اپنی کتاب کا آغاز ہی اس حدیث سے کیا ہے، اس حدیث شریف سے کتاب کا آغاز کرنے کا مقصد اس بات کی تعلیم دینی ہے، کہ جو کام کرنے جا رہے ہیں وہ بہت ہی اہم کام ہے، لہذا اس کام کے شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت وارادہ کا جائزہ لے لیا جائے، کیونکہ اعمال کا اللہ کے یہاں قبول ہونا نیتوں کے صحیح ہونے پر ہی موقوف ہے، حضرات علماء نے اس حدیث کو اس کے عظیم معانی کی وجہ سے بڑی اہمیت دی ہے لہذا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث فقہ کے ستر ابواب سے تعلق رکھتی ہے، امام احمد بن حنبل رحمۃ علیہ کا قول ہے کہ یہ حدیث دین کے ایک تہائی علم پر مشتمل ہے، ایسا کیوں نہ ہو، کیونکہ اس حدیث میں نیت کی تعلیم اتنے عام اور سادہ انداز میں دی گئی ہے، جس کے سمجھنے کے لئے کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسان اپنے دل سے معلوم کرے کہ اس نے یہ کام کس کے لئے کیا، اللہ تعالی کو خوش کرنے کے مقصد سے کیا ہے یا کوئی اور غرض تھی؟ ایک اور حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو یہی بات سمجھاتے ہوئے معلوم کیا کہ اے وابصہ! تم مجھ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں معلوم کرنے آئیے ہو کہ نیکی کیا ہے اور گناہ کیا ہے؟ تو اے وابصہ! تم اپنے دل سے معلوم کرو، جس سے تمہارا دل مطمئن ہو تو وہ نیکی اور اچھا کام ہے اور جس کے بارے میں دل کے اندر شک وتردد اور پس وپیش ہو تو وہ گناہ ہے، اگرچہ لوگ اس کے بارے میں فتویٰ دیں۔ لہذا مذکورہ حدیث میں ایک اصولی بات کی تعلیم دی گئی ہے جس کو ہر عام وخاص اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ سال 2020 ہم سے رخصت ہو چکا ہے اور نئے سال کا ہم استقبال کرنے جا رہے ہیں، لہذا اس موقع پر ہم بھی ایک مرتبہ اپنی نیتوں کا جائزہ لے لیں، ابھی تک جو کام کرتے چلے آرہے تھے ان پر ایک بار سر سری نظر ڈال لیں، ان میں جو اچھے کام شریعت کے مطابق سال گذشتہ ہم سے بن آئے، ان پر رب کا شکر ادا کریں اور مزید کی توفیق طلب کریں، کیونکہ شکر ادا کرنے پر اللہ تعالی نے اپنے کلام پاک میں مزید کا وعدہ کیا ہے، جو کام غفلت یا بھولے سے خلاف شرع ہم سے سرزد ہوئے ہیں ان پر اللہ تعالی سے معافی مانگیں، یقینا اللہ تعالی کو اپنے بندوں کی توبہ بڑی پسند ہے وہ بہت جلد معاف کر دیتا ہے، امام ترمذی رح نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ بیشک اللہ تعالی بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک جان حلق میں نہ پھنس جائے یعنی آخری سانس تک بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی کے بندے کو ویران جنگل میں اپنی کھوئی ہوئی سواری یعنی اونٹ کے ملنے سے ہوتی ہے۔ ایک انسان کے پاس ویران جنگل میں، جہاں درندوں کے چیر پھاڑ کا ڈر ہو، اس کی سواری سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہوسکتی ہے، اسی لئے مثال دے کر سمجھایا۔ 

اچھی اور بری نیتوں کے درمیان ایک تیسری قسم بھی ہے، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ذکر کیا ہے، اور وہ ہے بے نیتی کے ساتھ کوئی کام کرنا، ہر کام کے شروع کرنے سے پہلے اچـھی نیت ضرور کرنی چاہئے کیونکہ حدیث میں ہے کہ اچھی نیت پر ایک نیکی ضرور مل جاتی ہے، اگر اس کام کو انجام دے دیا تو دو نیکی مل جاتی ہیں ایک اچھی نیت کی وجہ سے اور اس نیت پر عمل کرنے کی وجہ سے۔

اس نئے سال کے آغاز کے موقع پر ہمیں اچھے کاموں کے کرنے کا عزم کرنا ہے، ہر اچھے کام میں اپنی نیتوں کو دیکھنا ہے اور اچھے کاموں کے کرنے میں نیت و ارادہ کرنا ہے کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ "ایک مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے"۔

  اس نئے سال کی آمد کے موقع پر جہاں ایک طرف ہم اپنے کار وبار کا جائزہ لے رہے ہیں، اپنے مکانوں کی ترمیم و تجدید کر رہے ہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کو تعمیر کرنے کی فکر کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب ہمیں اپنے دینی پہلو پر بھی توجہ دینی ہے، گزشتہ سال اگر فرائض کے ادا کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے، تو اس سال کوتاہی نہیں کرنا ہے، نوافل کا اہتمام اگر نہیں ہو سکا ہے، تو اس سال نوافل کا بھی اہتمام کرنا ہے اگر قرآن کی تلاوت نہیں کی تھی، یا تدبر وفکر کے بغیر ہی پڑھا تھا، تو اس نئے سال کی آمد کے موقع پر آپ یہ عزم وارادہ کریں کہ آج سے کچھ نہ کچھ آیتوں کو ترجمہ ومعانی کے ساتھ پڑھنے کا معمول بنانا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے، سال گذشتہ اگر مطالعہ میں کسی طرح کی کمی ہوئی ہے یا بالکل ہی مطالعہ کی توفیق نہ مل سکی تو آپ ایک نئی امنگ اور پورے جوش وجذبے کے ساتھ نئے سال کا استقبال کریں، روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھنے کا معمول بنائیں، سال گذشتہ آپ کی لغت میں نئے الفاظ ومعانی کا اضافہ نہ ہوسکا ہو تو کوئی بات نہیں، اللہ تعالی سے دعا کریں اور کسی دوسری زبان کے سیکھنے کی شروعات کریں۔ اپنے جائز مقاصد کے حصول کے لیے آخری حد تک محنت و کوشش کیجئے اور اپنے نیک اور اچھے کاموں پر جم جائیے کیونکہ اللہ کے رسول علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے "بہترین عمل وہ ہے جو کہ پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ کم ہو۔" 

  الغرض اس نئے سال کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کے ساتھ خود کو بدلنے کی کوشش کیجئے، دنیا میں صرف آپ ہی کے اندر اللہ تعالی نے وہ جادوئی صلاحیت پنہاں کی ہے، جس کی بنیاد پر آپ اپنی نافعیت کو دنیا کے سامنے ثابت کر سکتے ہیں، قرآن کریم میں اللہ تعالی نے دنیا کے اندر رونما ہونے والے انقلابات میں کار فرما قوت کی جانب بہت ہی بلیغ انداز میں اشارہ فرمایا ہے کہ کوئی بھی چھوٹا یا بڑا انقلاب، کسی بھی طرح کی تبدیلی کی ابتداء خود انسانوں کے اندر سے ہوتی ہے، اس انقلاب وتبدیلی کا سرچشمہ خود انسانوں کی اپنی ذات ہے، ان کا اپنا عزم وارادہ ہے کہ وہ اپنی سابقہ غلط اور غیر شرعی روش کو ترک کر دیں اور ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے کا عزم و ارادہ کریں، جو رب کی منشاء کے مطابق ہو، اس کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق ہو: 

 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا 

اللہ تعالی نے انقلاب کا سرچشمہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے، جس کے سوتے اس کے عزم و ارادے سے مربوط ہیں اور اس کی روح اخلاص کے اندر پوشیدہ ہے۔

لہذا نئے سال کے موقع پر ہمیں ایک نئی زندگی کے آغاز کرنے کا عزم کرنا ہے جو نشاط سے پر ہو، جس میں امیدوں کے دریچے ہوں اور ان دریچوں سے کامیاب مستقبل کی ہواؤں کے جھوکے مشام جاں کو معطر کر رہے ہوں۔ کیوں کہ نیا سال بہت سی آرزوؤں اور تمناؤں کا سیلاب لے کر آیا ہے تو ان شاء اللہ ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ کامل محنت وکوشش کرتے ہوئے اپنے مقاصد پر جم جانا ہے اور پورے جوش اور حکمت عملی کے ساتھ آنے والے سال میں رنگ بھرنا ہے۔


No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...