طوبیٰ عرفان اعظمی
امام ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ
’’میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کبھی سیر نہیں ہوتی، جب کسی نئی کتاب پر نظر پڑتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو۔‘‘
واقعہ یہ ہے کہ تاریخ میں ایسی نہ جانے کتنی عظیم شخصیات موجود ہیں جن کی کامیابی کا راز مطالعہ ہے۔
مشہور ہے کہ’’مطالعہ روح کی غذا ہے‘‘ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا روح کے لیے ہر غذا فائدہ مند ہی ہوگی؟ تو معلوم رہے کہ جس طرح جسموں کے لیے ہم بہترین غذا کا انتخاب کرتے ہیں، بہت سوچ سمجھ کر اور غذا کی مفادیت کو جان کر ہم جسم کی غذا منتخب کرتے ہیں، اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ عقل مندی اور ہوشیاری سے ہمیں روح کی غذا کا انتخاب کرنا چاہیے، تاکہ وہ ہمارے دل و دماغ کو تندرست اور روشن بناسکے۔
دوستو! تاریخ کی عظیم شخصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں بھی اپنی عادت میں مطالعہ کو شامل کرنا چاہیے، ہمیں بھی اپنی شخصیت کو سنوارنا چاہیے، خود کو نکھارنا چاہیے، تاکہ انسانیت کو فروغ ہو، ہمدردی کا جذبہ پروان چڑھے اور ہمارے معاشرہ میں ایک خوشگوار ماحول قائم ہو۔
مطالعہ کی اہمیت
’’مطالعہ روح کی غذا ہے‘‘ اس لیے کہ مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے، مطالعہ انسان کے علم میں اضافہ کرتا ہے اور علم انسانیت کی معراج ہے، وہ چیز جو انسان اور حیوان میں فرق کرتی ہے وہ ہے علم۔مطالعہ کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے لگاسکتے ہیں کہ ہمارے سرکار دو عالمﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ پڑھنے ہی سے متعلق تھی، ارشاد ہے؛
{اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ}(پڑھئے اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا)
مطالعہ کے فوائد
بلاشبہ مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، مطالعہ کی عادت وقت کو انمول بناتی ہے، مطالعہ ہماری تنہائی کا سب سے بہترین ساتھی ہے جوشعور و فکر کو جلا بخشتا ہے اور اخلاق کا معیار بلند کرتا ہے، تنگ نظری دور کرتا ہے، جس کے نتیجہ میں انسان کے اندر دوسروں کے لیے ہمدردی کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے، عربی کے ایک مشہور شاعر نے کہا ہے کہ ؎
خَیْرُ الْجَلِیْسِ فِی ہَذَا الزَّمَانِ کِتَابُ
(دورحاضر میں بہترین ہم نشین کتاب ہے)
مطالعہ خواہ کتابوں کا ہو یا اچھے مضامین کا، بہرحال یہ ایک مفید مشغلہ ہے، ماہرین کے مطابق پڑھنے کی عادت انسان کی صحت پر اچھا اثر ڈالتی ہے، مطالعہ کی عادت سے ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے، ڈاکٹروں کے مطابق مطالعہ انسان کو فکروں سے آزاد کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر ہم کسی عظیم شخصیت سے اس کی کامیابی کا راز پوچھیں تو بلاشبہ اس میں ’’مطالعہ‘‘ سرفہرست ہوگا۔
طوبیٰ عرفان اعظمی
آداب ِمطالعہ
ہر چیز کے کچھ آداب اور اصول ہوتے ہیں، اسی طرح مطالعہ کے بھی کچھ اصول وآداب ہیں، جن کو آپ ذہن میں رکھ کر مطالعہ کا پورا پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مطالعہ کے لیے سب سے ضروری ہے کہ آپ جس کتاب کا مطالعہ کریں ٗخواہ وہ درسی ہو یا غیر درسی، اسے اچھی طرح جانچ پرکھ لیں کہ وہ تحریر یا کتاب آپ کے ذہن کے لیے مفید ہے یا نہیں؟ بقول مولانا علی میاں ندویؒ ؛ ’’مطالعہ دو دھاری تلوار ہے جو بگاڑ بھی سکتا ہے اور سنوار بھی سکتا ہے،‘‘ لہٰذا کوشش کریں کہ مطالعہ کسی بزرگ یا عالم دین کی نگرانی ہی میں کیا جائے۔
مطالعہ کرتے وقت جو بات آپ کو پسند آئے یا جو پوائنٹ اہم لگے ٗاسے کسی ڈائری یا کاپی پر ضرور نوٹ کرلیں، تاکہ وہ بات محفوظ ہوجائے اور دوبارہ بھی اسے آسانی سے مطالعہ میں لایا جاسکے، یہ بھی کوشش کریں کہ آپ نے جو کچھ پڑھا یا جو کچھ سیکھا ہے ٗاسے اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بتائیں اور خود بھی اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں، تاہم جو باتیں آپ کو سمجھ نہ آئیں ٗانہیں کسی جان کار سے پوچھ لیں، تاکہ کوئی شبہ باقی نہ رہے اور آپ کو تفصیل سے معلومات حاصل ہوسکیں۔مطالعہ ہمیشہ باریک بینی کے ساتھ کریں، صرف وقت گذاری یا تفریح کی نیت سے بالکل نہ کریں، کیونکہ حدیث میں ہے؛
’’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ‘‘(اعمال کا دار و مدار نیتوں پر موقوف ہے)
مطالعہ کے لیے ہمیشہ ایسی جگہ کا انتخاب کریں ٗجہاں تنہائی اور یکسوئی کے ساتھ سکون بھی ہو، تاکہ مطالعہ کے دوران آپ کا ذہن بار بار اِدھر اُدھر نہ بھٹکے، مطالعہ کے لیے جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں سے قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ روشنی اور تازہ ہوا بھی بآسانی میسر ہو۔
No comments:
Post a Comment