مولانا محمد طارق بدایونی ندوی
ریسرچ اسکالر: ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ
قلم؛ یہ سہ حرفی لفظ ق- ل- م کا مجموعہ ہے ، ماہر لسانیات نے اس کے کئی مفہوم بیان کیے ہیں، مثلاً؛ قینچی، کاٹنا یا تراشنا وغیرہ، نیز اس کو سیاہی اگلنے والا آلہ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کے توسل سے لاکھوں کروڑوں حروف کے ذریعہ با معنی الفاظ تراشے جاتے ہیں ، قلم کی نوک سے لکھے گئے الفاظ نقصان دہ بھی ہوتے ہیں اور نفع مند بھی ثابت ہوتے ہیں۔
حقیقۃً قلم کی درست حیثیت کے لیے ضروری ہے کہ اس کو استعمال کرنے والا مثبت فکر اور پاکیزہ خیالات کا حامل ہو، علاوہ ازیں بالعموم انسانوں میں افکار ونظریات کے اعتبار سے ہم دو طرح کے افراد کا مشاہدہ کرتے ہیں؛
(۱)مصلح قلم کار (۲)مفسد قلم کار۔
پہلی قسم ان حضرات کی ہےجو سماج میں پھیلی برائیوں کے خاتمہ کے خواہاں ہو تےہیں، جیسے؛ فرقہ پرستی، نسل پرستی، قوم پرستی اور زبان پرستی، ایسے لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مزاج شریعت اور مزاج نبوت سے واقفیت کے ساتھ قلم کا استعمال کریں۔اور جہاں تک دوسری قسم کا تعلق ہے تو وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا مقصد مفادات سے جڑا ہوتا ہے، جب وہ لکھتے ہیں تو اپنے قلم کو مادیت پرستی ،خود غرضی ،موقع پرستی اور مفاد پرستی کی جانب موڑ دیتے ہیں ۔
یہ بات قابل وضاحت ہے کہ ’’قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے ‘‘، یہ جملہ سب سے پہلے ۱۸۳۹ء میں ایک مشہور ناول نگار اور اداکار ’’ایڈورڈبلیو لیٹون ‘‘ نے اپنی ایک کتاب میں لکھاہے اور واقعی اس نے اس جملہ کا بجا استعمال کیا ہے ، کیونکہ قلم ایک ایسی طاقت ہےجس کے مقابلہ کی توپ و خنجراور تیشہ و بندوق میں تاب کہاں ؟
اسی طرح ایک مفکر کا قول ہے کہ ’’میں توپوں کی گھن گرج سے زیادہ قلم کی سرسراہٹ سے ڈرتا ہوں‘‘ اور ڈرنا بھی چاہیے کیونکہ اگر قلم کسی غیر جانب دار صحافی کےہاتھ میں ہو تولمحوں میں تمام جرائم اور برائیوں کا انکشاف کر سکتا ہے اور اس میں یہ بھی ہمت ہے کہ وہ سماج میں پھیلی کثافتوں کو بھی خوبیوں سے تبدیل کر سکتا ہے اور ایسی تدابیر اور اصول بھی مرتب کر سکتا ہے جو لوگوں کو فلاح و بہبود سے ہم کنار کر سکیں۔
یہ قلم ہی کی طاقت ہے کہ انسان کی باطنی اصلاح میں بھی اس کو کلیدی کردار حاصل ہے اور مصلحین کرام کے قلم سے نکلی ہوئی تحریروں سے دل کی دنیا بدلنے کا عام دستور رہا ہے۔اسی تعلق سے مولانا جلال الدین رومی کا ارشاد ہے کہ’’انسان اپنی آوازکے بجائے الفاظ کو بلند کرے، کیونکہ لفظوں کی بارش ایک ایسی بارش ہے جو محض گرجتی ہی نہیں بلکہ پھول بھی دیتی ہے۔‘‘قلم سے ہی الفاظ نکلتے ہیں اور مولانا رومی کا اشارہ بھی قلم ہی کی طرف ہے ۔ یقیناً قلم سے اٹھائی گئی آواز پھول اس طور پر دیتی ہے کہ کالے کرتوتوں کو اجاگر کرتی ہے جس کے نتیجہ میں اچھے کارنامے وجود میں آتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے؛ ’’ن والقلم ومایسطرون‘‘ مفسرین کرام اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ قلم ہی وہ شئی ہے جس کی رب نے قسم کھائی ہے، جو بلاشبہ قلم کی اہمیت و افادیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہی وہ قلم ہے جس نے احادیث شریفہ کی تدوین کی ، قرآن مجید کو بھی مدون کیا گیا ، یہ الگ بات ہے کہ قرآن مجید کی حفاظت کی خود اللہ رب العزت نے ذمہ داری لی ہے۔ارشاد ربانی ہے؛’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ اسی طرح رب العالمین نے اپنے کلام کو سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچایا تو ہے لیکن ساتھ ساتھ قلم کو بھی ذریعہ بنایا ہے۔
یہ بات بھی بھلائی نہیں جا سکتی کہ اللہ رب العزت نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور پھر اس کو تمام جہان عالم کی تقدیر لکھنے کا حکم دیا ، اس میں ذرہ برابر شبہ نہیں کہ انسان روز قیامت میں متحیر ہو کر پکار اٹھے گا کہ’’ ان ھذا لشئی عجاب ‘‘ یہ تو بڑی عجیب چیز ہے۔
یہ بھی ذہن نشین کر لیا جائے کہ اسی قلم کی بدولت ہم تک دوسرے ادیان و اقوام اور ان کی مقدس کتب پہنچی ہیں ۔ گویا قلم ایک ایسی بابرکت نسل کے مانند ہے جس کی افزائش تاقیامت جاری رہے گی۔
قلم کا استعمال منفی و مثبت دونوں طرح کیا گیا ہے اور کیا جا رہاہے، درج ذیل کچھ مثالیں نذر قارئین ہیں؛
عبد اللہ بن مقفع نے قرآن کے ہم مثل کتاب لکھنے کی کوشش کی لیکن ناکام و نا مراد رہا ، بلاشبہ اس سے زیادہ قلم کا ناجائز استعمال انسانیت کی تاریخ میں نہیں ہوسکتا۔
کفار مکہ کے ایک شخص نے قرآن مجید کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ’’الفیل ما الفیل وما أدراک ما الفیل...‘‘ جیسی پھسپھسی عبارت لکھی اور پھر اسے بھی شکست سے دوچارہونا پڑا۔ٹھیک اسی طرح اُن مصنفین کی تحریریں بھی ہیں جو فحش فلموں اور فحش ڈراموں وغیرہ میں کتابت کا کام کرتے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے اکثر و بیشتر تحریروں کے نتائج تخریب کاری ہی پر مشتمل ہوتے ہیں ۔
ابھی ۸ ؍دسمبر کا واقعہ ہے کہ تسنیم خلیل کو صرف اس جرم میں حراساں کیا گیا کہ انھوں نے اپنے قلم کو موجودہ حکمرانوں کی اصلاح کے لیے اور ساتھ ساتھ ان کے دجل و فریب کو آشکارہ کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، جس کے نتیجہ میں ان کی والدہ تک کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔قلم کے مثبت استعمال کا شاہکار دور وہ ہے جس میں علم الرجال و حدیث کے ماہرین نے بڑی عرق ریزی سے احادیث نبویہ کو قلم بند کیا ہے۔
قلم کے استعمال کے لیے آج دو طرح کے نظریے پائے جاتے ہیں؛ منفی اورمثبت ۔البتہ ہر دور میں ان قلم کاروں کی افادیت ومعنویت کو سراہا گیا ہے جنھوں نے اپنے قلم سے معاشروں اور قوموں کو درست وصالح راہ کی رہ نمائی کی ہے، تاہم ان افراد کی ارباب علم وفکر نے نہ قدر کبھی کی ہے اور نہ ہی کی جاسکتی ہے جنھوں نے قلم کو تملق ونجی مفادات اور کف گیری کی خاطر استعمال کیا ہے، جس کی موجودہ دور میں سب سے اعلیٰ مثال ملک کی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا ہے۔
No comments:
Post a Comment