ربیع الاول کا پیغام عالم انسانیت کے نام مولانا محمد امام الدین ندوی
ربیع الاول کا مہینہ آگیا یہ مہینہ نہایت ہی بابرکت ہے کیونکہ اس میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی جس وجہ سے ہرسوپھیلی تاریکی چھٹنے لگی، ہر طرف اجالاہی اجالا پھیلنے لگا، ظلم وستم کا دوردورہ ختم ہو گیا، اورامن وامان کی فضا قائم ہوگئی، لوگ اپنے مقصد حیات کو چھوڑکر خدافراموشی اور خود فراموشی کے عمیق غار میں جاچکے تھے انہیں نئی روشنی ملی، امانت داری اوردیانت داری دوردورتک نظر نہیں آرہی تھی اس کی شعا ئیں ہر سو بکھرنے لگیں، خادم ومخدوم کا بھیدبھاؤ ختم ہو گیا، معمولی بات پر صدیوں کے قتل وقتقل اور خوں ریزیوں سدباب ہوگیا، قبیلے کی برتری ختم ہو گٰٰئی اور سب کو بھائی بھائی بنادیا، عورتوں کو اس کا حق اور حیا عصمت وعفت کی چادر ملی، یتیموں اور بیواؤں کو انصاف ملا، خادموں اور غلاموں کے ساتھ نازیبا حرکتیں بند ہو گئیں، پر. خطرراستے مامون ہو گئے۔راہزنراہرو بن گئے ۔ظالم مظلوم کا مسیحا بن گیا ۔طاقتور کمزوروں کا غمگسار بن گیا اور پریشانیوں میں ان کا مددگار بن گیا ۔محتاجوں کی محتاجی دور ہونے لگی ۔خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلانے میں لطف آنے لگا ۔بچیوں کا وجود رحمت بن گئی انہیں بھی دنیا کی بہاریں دیکھنے کا حق ملا ،انہیں زندہ درگور کرنا ظلم عظیم اورباعث عار بن گیا ۔یتیموں کے سرپر دست شفقت رکھنے والے اٹھ کھڑے ہوئےاور انکے مال کے سچے محافظ بن گے۔ بواؤں کی خبرگیری کرنے اورانکی دیکھ بھال کرنے کے لے افراد تیار ہو گے ۔صدیوً لڑنے والے امن کے پیکر وداعی بن گے ۔گلہ بان اور اونٹوں کے چرواہے ملک وملت کے سچے خادم ووفادار بن گے اورملک کے زمام حکومت تھام کر امن وسلامتی کی فضا قایم کرنے والے بن گئے۔
بندوں کو خدا سے رشتہ جو ڑنے کا سلسلہ شروع ہوگیا،لوگ اپنے خالق حقیقی سے آشنا ہو گئے،جاہلیت کی ساری رسمیں مٹ گئی اور جہالت اپنا بستر لپیٹ چلتی بنی۔جھوٹ ،چغلی ،غیبت، سب وشتم، فتراپردازی، بہتان تراشی امانت میں خیانت، دھوکا دھڑی کا جنازہ نکل گیا۔شراب خوری ،قماربازی، بدکاری و زناکاری،سود خوری کا خاتمہ ہوگیا360 خداؤں کے پجاری خدائے واحد کے پرستار بن گئے۔بندوں کو جہنم سے نکل کر جنت میں جانے کا راستہ مل گیا۔انسانوں کو نئی زندگی ملی ظلم و جور کا خاتمہ ہوگیا،دنیا امن کا گہوارہ بن گئی اور یہ سب صرف 63 سال کے قلیل عرصے میں ہوا جو تاریخی انسانی کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے 14 سو سال سے زائد عرصہ گذر گیا ہمارے اندر وہ تمام خرابیاں پیدا ہو گئیں جو آپ کی بعثت سے پہلے تھیں دیگر قومیں ہمارے اوپر ہنس رہی ہیں۔ہمارے رویے نے انہیں اسلام سے بدظن کر دیا ہے ہےوہ اسلام کی حقانیت اور آفاقیت تو سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے عمل سے متنفر ہیں کیونکہ جو بیماریاں دیگر قومیں ہیں ہیں وہی بیماریوں میں یہ مبتلا ہیں۔اخلاق و کردار کا فقدان ہو گیا ہےآپسی رساکشی سر چڑھ کر بولنے لگی اتحاد پارہ پارہ ہو گیا مسلکی جھگڑے تنا ور درخت بن گئے۔ دلوں میں نفرت و کدورت کا غبار جم گیا آپس میں سلام و کلام بند ہوگئے، سلام نکاح توڑنے کا ذریعہ سمجھا جانے لگا دل تو بٹ ہی گئے خانہ خدا بھی بٹ گیا،مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہنے لگا فروعی مسائل حقیقی بن گئے اور حقیقی مسائل ناپید ہوگئے۔آپس میں سب دست وگریباں ہوگئے ۔جو کبھی ایک دسترخان پر کھاتے تھے اب وے اپنوں کی بجاے بجاے خیروں کے دستر خان کی زینت بن گے اور اپنے بھای کے دسترخوان پر کھانا حرام سمجھنے لگے نیزاپنے مسایل غیروں سے سلجھانے لگے خدائے واحد کی بندگی کے بجائےبتوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھنے لگے رسول اکرم کی پاکیزہ سیرت سے ہم کوسوں دور ہو گئے یہی خدا فراموشی نے ہمیں خود فرا موشی کا سبب بنا دیا اس لئے ہماری حکمرانی اور سیادت بھی چلی گئی ۔اور ہم دوسری قوم کے مرہون منت ہو کر رہ گئےاور دردر کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہو گئے۔
ربیع الاول کا پیغام تو بس یہی ہے کہ ہم آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سراپا زندگی کو اپنا نصب العین بنا لیں ،زندگی کےہر شعبہ میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پاکیزہ کردار نظر آئے ہمارا ظاہری اور باطنی شباہت نبی کے طریقے پر ہو،بدعات و خرافات سے مکمل بچنے والے بنیں،ایک مخلص داعی کی حیثیت سے زندہ رہیں۔آپ کا پاکیزہ کردار تمام انسانوں کے لئیے اور قیامت تک کے لیے ہے جو اس کو اختیار کرے گا وہ دنیا سرخ رو رہے گا۔ہمیں رسول کی زندگی کے ہر گوشے کو اپنی زندگی میں ڈھالنا چاہئیےیہی اس ماہ کا پیغام ہے۔دنیا کو آج بھی اس پیغام کی ضرورت ہےجس سےدنیا امن شانتی کا گہوارہ بن جائے گی۔
ربیع الاول کا مہینہ آگیا یہ مہینہ نہایت ہی بابرکت ہے کیونکہ اس میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی جس وجہ سے ہرسوپھیلی تاریکی چھٹنے لگی، ہر طرف اجالاہی اجالا پھیلنے لگا، ظلم وستم کا دوردورہ ختم ہو گیا، اورامن وامان کی فضا قائم ہوگئی، لوگ اپنے مقصد حیات کو چھوڑکر خدافراموشی اور خود فراموشی کے عمیق غار میں جاچکے تھے انہیں نئی روشنی ملی، امانت داری اوردیانت داری دوردورتک نظر نہیں آرہی تھی اس کی شعا ئیں ہر سو بکھرنے لگیں، خادم ومخدوم کا بھیدبھاؤ ختم ہو گیا، معمولی بات پر صدیوں کے قتل وقتقل اور خوں ریزیوں سدباب ہوگیا، قبیلے کی برتری ختم ہو گٰٰئی اور سب کو بھائی بھائی بنادیا، عورتوں کو اس کا حق اور حیا عصمت وعفت کی چادر ملی، یتیموں اور بیواؤں کو انصاف ملا، خادموں اور غلاموں کے ساتھ نازیبا حرکتیں بند ہو گئیں، پر. خطرراستے مامون ہو گئے۔راہزنراہرو بن گئے ۔ظالم مظلوم کا مسیحا بن گیا ۔طاقتور کمزوروں کا غمگسار بن گیا اور پریشانیوں میں ان کا مددگار بن گیا ۔محتاجوں کی محتاجی دور ہونے لگی ۔خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلانے میں لطف آنے لگا ۔بچیوں کا وجود رحمت بن گئی انہیں بھی دنیا کی بہاریں دیکھنے کا حق ملا ،انہیں زندہ درگور کرنا ظلم عظیم اورباعث عار بن گیا ۔یتیموں کے سرپر دست شفقت رکھنے والے اٹھ کھڑے ہوئےاور انکے مال کے سچے محافظ بن گے۔ بواؤں کی خبرگیری کرنے اورانکی دیکھ بھال کرنے کے لے افراد تیار ہو گے ۔صدیوً لڑنے والے امن کے پیکر وداعی بن گے ۔گلہ بان اور اونٹوں کے چرواہے ملک وملت کے سچے خادم ووفادار بن گے اورملک کے زمام حکومت تھام کر امن وسلامتی کی فضا قایم کرنے والے بن گئے۔
بندوں کو خدا سے رشتہ جو ڑنے کا سلسلہ شروع ہوگیا،لوگ اپنے خالق حقیقی سے آشنا ہو گئے،جاہلیت کی ساری رسمیں مٹ گئی اور جہالت اپنا بستر لپیٹ چلتی بنی۔جھوٹ ،چغلی ،غیبت، سب وشتم، فتراپردازی، بہتان تراشی امانت میں خیانت، دھوکا دھڑی کا جنازہ نکل گیا۔شراب خوری ،قماربازی، بدکاری و زناکاری،سود خوری کا خاتمہ ہوگیا360 خداؤں کے پجاری خدائے واحد کے پرستار بن گئے۔بندوں کو جہنم سے نکل کر جنت میں جانے کا راستہ مل گیا۔انسانوں کو نئی زندگی ملی ظلم و جور کا خاتمہ ہوگیا،دنیا امن کا گہوارہ بن گئی اور یہ سب صرف 63 سال کے قلیل عرصے میں ہوا جو تاریخی انسانی کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے 14 سو سال سے زائد عرصہ گذر گیا ہمارے اندر وہ تمام خرابیاں پیدا ہو گئیں جو آپ کی بعثت سے پہلے تھیں دیگر قومیں ہمارے اوپر ہنس رہی ہیں۔ہمارے رویے نے انہیں اسلام سے بدظن کر دیا ہے ہےوہ اسلام کی حقانیت اور آفاقیت تو سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے عمل سے متنفر ہیں کیونکہ جو بیماریاں دیگر قومیں ہیں ہیں وہی بیماریوں میں یہ مبتلا ہیں۔اخلاق و کردار کا فقدان ہو گیا ہےآپسی رساکشی سر چڑھ کر بولنے لگی اتحاد پارہ پارہ ہو گیا مسلکی جھگڑے تنا ور درخت بن گئے۔ دلوں میں نفرت و کدورت کا غبار جم گیا آپس میں سلام و کلام بند ہوگئے، سلام نکاح توڑنے کا ذریعہ سمجھا جانے لگا دل تو بٹ ہی گئے خانہ خدا بھی بٹ گیا،مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہنے لگا فروعی مسائل حقیقی بن گئے اور حقیقی مسائل ناپید ہوگئے۔آپس میں سب دست وگریباں ہوگئے ۔جو کبھی ایک دسترخان پر کھاتے تھے اب وے اپنوں کی بجاے بجاے خیروں کے دستر خان کی زینت بن گے اور اپنے بھای کے دسترخوان پر کھانا حرام سمجھنے لگے نیزاپنے مسایل غیروں سے سلجھانے لگے خدائے واحد کی بندگی کے بجائےبتوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھنے لگے رسول اکرم کی پاکیزہ سیرت سے ہم کوسوں دور ہو گئے یہی خدا فراموشی نے ہمیں خود فرا موشی کا سبب بنا دیا اس لئے ہماری حکمرانی اور سیادت بھی چلی گئی ۔اور ہم دوسری قوم کے مرہون منت ہو کر رہ گئےاور دردر کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہو گئے۔
ربیع الاول کا پیغام تو بس یہی ہے کہ ہم آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سراپا زندگی کو اپنا نصب العین بنا لیں ،زندگی کےہر شعبہ میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پاکیزہ کردار نظر آئے ہمارا ظاہری اور باطنی شباہت نبی کے طریقے پر ہو،بدعات و خرافات سے مکمل بچنے والے بنیں،ایک مخلص داعی کی حیثیت سے زندہ رہیں۔آپ کا پاکیزہ کردار تمام انسانوں کے لئیے اور قیامت تک کے لیے ہے جو اس کو اختیار کرے گا وہ دنیا سرخ رو رہے گا۔ہمیں رسول کی زندگی کے ہر گوشے کو اپنی زندگی میں ڈھالنا چاہئیےیہی اس ماہ کا پیغام ہے۔دنیا کو آج بھی اس پیغام کی ضرورت ہےجس سےدنیا امن شانتی کا گہوارہ بن جائے گی۔
No comments:
Post a Comment