نبیﷺکا طرز دعوت مولانا محمد ارمغان بدایونی ندوی
دعوتی میدان میں داعی کی ذاتی زندگی کی بڑی اہمیت ہے، اور اس کے طرز تخاطب کو بھی کلیدی کردار حاصل ہے۔ نبی اکرمﷺکی ذاتی زندگی کے شب و روز بجائے خود پیغام دعوت تھے، اور آپﷺکا اندازِ گفتگو بھی فطری، مؤثر، دل نشیں اور قابل کشش تھا۔ آپﷺکے طرز دعوت میں بہت تنوع ہے، اس لیے کہ آپﷺ مخاطب کی ذہنی، فکری اور علمی استعداد خاص طور پر ملحوظ رکھتے تھے، اور صحابہ کرام کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے۔اگر مخاطب بدوی ہے تو اس کو اسی کے معیار اور اسی کی زبان میں سمجھاتے تھے، تاکہ اس کے سامنے مسئلہ پوری طرح واضح ہوجائے۔اگر مخاطب اہل کتاب ہیں تو ان سے آسمانی تعلیمات کی روشنی میں بات کرتے اور وہی اسلوب اختیار کرتے تھے جوان کو مانوس کرے۔اگر مخاطب بادشاہ ہے تو اس کے لیے وہی اسلوب اختیار کرتے تھے، جو قابل فہم اور زود اثر ہو، اور عزم و استقلال سے لبریز اور مرعوبیت کے شائبہ سے بھی پرے ہو۔آپﷺکا یہ عمل اس فرمان کی عملی تصویر تھا:’’أنزلوا الناس منازلہم‘‘(لوگوں سے ان کی قدر و منزلت کے مطابق پیش آؤ۔)(سنن أبی داؤد: ۴۸۴۴)
آپﷺکا طرزِ دعوت ٗحکمت، نصیحت اور مجادلۂ حسنہ سے تعبیر تھا، اور حکمت کا پہلو تمام مراحل دعوت میں قدرے مشترک تھا۔ آپﷺکارِ دعوت میں بتدریج افراد کی اسلامی ذہن سازی کے قائل تھے، اور یہی مقصود الٰہی بھی تھا، صحیح بخاری میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے:
’’إنما نزل أول ما نزل منہ سورۃ من المفصل فیہا ذکر الجنۃ والنار حتی إذا ثاب الناس إلی الاسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شیٔ لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر، ولو نزل لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبداـ‘‘(قرآن کریم میں سب سے پہلے مفصل کی ایک سورت نازل ہوئی جس میں جنت و دوزخ کا تذکرہ تھا، یہاں تک کہ جب لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تو پھر حلال و حرام کا حکم نازل ہوا، اور اگر پہلے ہی مرحلہ میں یہ شراب کی ممانعت کا حکم نازل ہوجاتا تو یقینا لوگوں کا رد عمل یہ ہوتا کہ وہ کہتے: ہم شراب نہیں چھوڑیں گے، اور اگر ان کو حکم دیا جاتا کہ تم زنا مت کرو، تو وہ کہتے: ہم زنا نہیں چھوڑ سکتے۔)
(صحیح البخاری: ۴۹۹۳)
آپﷺکا دعوتی اسلوب نہایت نرم لہجہ تھا، اور اس ہدایت کا عملی نمونہ تھا:
’’علیک بالرفق والقول السدید ولا تکن فظا ولا متکبرا ولا حسودا‘‘(نرمی اختیار کرو، محکم بات کہو، اور ترش لہجہ نہ اختیار کرو، اور نہ ہی گھمنڈ کرو اور نہ ہی کسی سے حسد کرو۔)
(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: ۱/۳۱۵)
آپﷺجب لوگوں کو وعظ ونصیحت فرماتے تو مختصر مگر جامع خطبے دیتے اور وہ بھی موقع محل کی پوری رعایت کے ساتھ، آپﷺ صحابہ کرام کو بھی مختصر وعظ و نصیحت کی تلقین فرماتے تھے، سنن ابو داؤد میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’أمرنا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم باقصار الخطب‘‘(ہمیں رسول اللہﷺنے مختصر تقاریر کی ہدایت فرمائی۔)(سنن أبی داؤد: ۱۱۰۸)
آپﷺکے وعظ و نصیحت کا انداز نہایت ناصحانہ، مشفقانہ اور مربیانہ تھا، اسی لیے آپﷺ کا خطاب ایسا عمومی ہوتا تھا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور اصلاح بھی ہوجائے، اسی لیے اکثر روایات کے شروع میں ہمیں ایسے جملے ملتے ہیں:
’’ما بال أقوام‘‘(لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔)
(سنن أبی داؤد: ۴۷۹۰، سنن الترمذی: ۲۲۷۰)
آپﷺکی طبیعت نرم خو اور مانوس کن تھی، اور آپ کا یہ طبعی وصف میدان دعوت میں نمایاں تھا، خود آپ کا فرمان عالی ہے:’’إن اﷲ لم یبعثنی معنتا ولکن بعثنی معلما میسرا‘‘(اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بناکر نہیں بھیجا ہے،بلکہ مجھے سکھانے والا اور آسانی پیدا کرنے والا بناکر مبعوث کیا ہے۔)(صحیح مسلم: ۳۷۶۳)
آپﷺممکنہ حد تک سہولت پسندی کے قائل تھے، تاکہ مدعو اکتاہٹ سے محفوظ رہے،اور اس کی جذبۂ طلب میں اضافہ کے ساتھ انس بھی برقرار رہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:’’ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کان یتخولنا بالموعظۃ فی الأیام مخافۃ السآمۃ علینا‘‘(نبی اکرمﷺہم کو دنوں کے ناغہ کے ساتھ وعظ فرماتے تھے، ہماری اکتاہٹ کے اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔)(صحیح مسلم: ۷۳۰۵)
نبیﷺکا دعوتی مشن ۲۳ ؍سال پرمحیط ہے، لیکن اس میں بھی مختلف مراحل ہیں، آپﷺکی دعوتی زندگی کا پہلا مرحلہ وہ ہے جس میں چھپ کر آپ کی دعوتی سرگرمیاں جاری تھیں، پھر جب متبعین کی تعداد میں اضافہ ہوا تو مکہ میں علی الاعلان دعوتی سرگرمیاں جاری ہوگئیں، مگر انداز نہایت دفاعی اور مثبت تھا، اور بہر صورت صبر و تحمل پر مبنی تھا، پھر جب مکہ کے حالات از حد دگرگوں ہوگئے، تو آپ ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کی، مدینہ میں آپﷺکے دعوتی حدود نہایت وسیع ہوگئے، جہاں آپﷺ نے دس سال کے مختصر عرصہ میں ایک عظیم امانت کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔
بعثت نبوی کے تین سال تک دعوت کا کام مخفی رہا، اور ایک مختصر تعداد حلقہ بگوش اسلام ہوئی، پھر حکم الٰہی ہوا کہ دعوت کے حدود کو وسعت بخشی جائے، لہٰذا آپﷺ نے دعوت و تبلیغ کے مختلف طریقے اختیار کیے، آپﷺ کی دعوت و تبلیغ پر اہل مکہ کا سخت رد عمل ظاہر ہوا، انہوں نے مختلف طریقوں سے اذیتیں دیں، سماجی بائیکاٹ کیا، اور سخت پھبتیاں بھی کسیں، لیکن آپﷺ نے انتہائی صبر و تحمل سے کام لیااور اپنا دعوتی مشن جاری رکھا۔ مکہ مکرمہ کے ان نازک حالات میں آپ ﷺکی دنیوی دل بستگی کے دو اہم مصادر(ابو طالب، خدیجہ) تھے، جن کی سیاسی و معاشی پشت پناہی حضور ﷺ کو حاصل تھی، اور ان کی موجودگی اہل مکہ کی ایذا رسانیوں میں بڑی حد تک حاجب تھی۔ اسی لیے جب سن ۱۰؍ نبوی میں ایک مہینہ کے فاصلہ سے یہ دونوں ہستیاں دار فانی سے رخصت ہوگئیں تو آپﷺ کو طبعاً سخت رنج و غم ہوا اور دو اہم سہاروں کے اٹھ جانے کا شدید قلق رہا، اسی لیے آپﷺ نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال)سے تعبیر کیا ہے۔ ان دونوں کی وفات کے بعد اہل مکہ کی زبانیں آپ ﷺ پر مزید دراز ہونے لگی تھیں۔گویا مکہ کی زمین اپنی وسعتوں کے باوجود آپ پر تنگ ہوگئی تھی اور خیر کی امیدیں کم ہی نظر آرہی تھیں، اسی لیے آپﷺ نے مکہ سے باہر نکل کر پیغام حق کی دعوت کا ارادہ کیا اور ہجرت فرمائی۔
دعوتی میدان میں داعی کی ذاتی زندگی کی بڑی اہمیت ہے، اور اس کے طرز تخاطب کو بھی کلیدی کردار حاصل ہے۔ نبی اکرمﷺکی ذاتی زندگی کے شب و روز بجائے خود پیغام دعوت تھے، اور آپﷺکا اندازِ گفتگو بھی فطری، مؤثر، دل نشیں اور قابل کشش تھا۔ آپﷺکے طرز دعوت میں بہت تنوع ہے، اس لیے کہ آپﷺ مخاطب کی ذہنی، فکری اور علمی استعداد خاص طور پر ملحوظ رکھتے تھے، اور صحابہ کرام کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے۔اگر مخاطب بدوی ہے تو اس کو اسی کے معیار اور اسی کی زبان میں سمجھاتے تھے، تاکہ اس کے سامنے مسئلہ پوری طرح واضح ہوجائے۔اگر مخاطب اہل کتاب ہیں تو ان سے آسمانی تعلیمات کی روشنی میں بات کرتے اور وہی اسلوب اختیار کرتے تھے جوان کو مانوس کرے۔اگر مخاطب بادشاہ ہے تو اس کے لیے وہی اسلوب اختیار کرتے تھے، جو قابل فہم اور زود اثر ہو، اور عزم و استقلال سے لبریز اور مرعوبیت کے شائبہ سے بھی پرے ہو۔آپﷺکا یہ عمل اس فرمان کی عملی تصویر تھا:’’أنزلوا الناس منازلہم‘‘(لوگوں سے ان کی قدر و منزلت کے مطابق پیش آؤ۔)(سنن أبی داؤد: ۴۸۴۴)
آپﷺکا طرزِ دعوت ٗحکمت، نصیحت اور مجادلۂ حسنہ سے تعبیر تھا، اور حکمت کا پہلو تمام مراحل دعوت میں قدرے مشترک تھا۔ آپﷺکارِ دعوت میں بتدریج افراد کی اسلامی ذہن سازی کے قائل تھے، اور یہی مقصود الٰہی بھی تھا، صحیح بخاری میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے:
’’إنما نزل أول ما نزل منہ سورۃ من المفصل فیہا ذکر الجنۃ والنار حتی إذا ثاب الناس إلی الاسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شیٔ لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر، ولو نزل لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبداـ‘‘(قرآن کریم میں سب سے پہلے مفصل کی ایک سورت نازل ہوئی جس میں جنت و دوزخ کا تذکرہ تھا، یہاں تک کہ جب لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تو پھر حلال و حرام کا حکم نازل ہوا، اور اگر پہلے ہی مرحلہ میں یہ شراب کی ممانعت کا حکم نازل ہوجاتا تو یقینا لوگوں کا رد عمل یہ ہوتا کہ وہ کہتے: ہم شراب نہیں چھوڑیں گے، اور اگر ان کو حکم دیا جاتا کہ تم زنا مت کرو، تو وہ کہتے: ہم زنا نہیں چھوڑ سکتے۔)
(صحیح البخاری: ۴۹۹۳)
آپﷺکا دعوتی اسلوب نہایت نرم لہجہ تھا، اور اس ہدایت کا عملی نمونہ تھا:
’’علیک بالرفق والقول السدید ولا تکن فظا ولا متکبرا ولا حسودا‘‘(نرمی اختیار کرو، محکم بات کہو، اور ترش لہجہ نہ اختیار کرو، اور نہ ہی گھمنڈ کرو اور نہ ہی کسی سے حسد کرو۔)
(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: ۱/۳۱۵)
آپﷺجب لوگوں کو وعظ ونصیحت فرماتے تو مختصر مگر جامع خطبے دیتے اور وہ بھی موقع محل کی پوری رعایت کے ساتھ، آپﷺ صحابہ کرام کو بھی مختصر وعظ و نصیحت کی تلقین فرماتے تھے، سنن ابو داؤد میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’أمرنا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم باقصار الخطب‘‘(ہمیں رسول اللہﷺنے مختصر تقاریر کی ہدایت فرمائی۔)(سنن أبی داؤد: ۱۱۰۸)
آپﷺکے وعظ و نصیحت کا انداز نہایت ناصحانہ، مشفقانہ اور مربیانہ تھا، اسی لیے آپﷺ کا خطاب ایسا عمومی ہوتا تھا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور اصلاح بھی ہوجائے، اسی لیے اکثر روایات کے شروع میں ہمیں ایسے جملے ملتے ہیں:
’’ما بال أقوام‘‘(لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔)
(سنن أبی داؤد: ۴۷۹۰، سنن الترمذی: ۲۲۷۰)
آپﷺکی طبیعت نرم خو اور مانوس کن تھی، اور آپ کا یہ طبعی وصف میدان دعوت میں نمایاں تھا، خود آپ کا فرمان عالی ہے:’’إن اﷲ لم یبعثنی معنتا ولکن بعثنی معلما میسرا‘‘(اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بناکر نہیں بھیجا ہے،بلکہ مجھے سکھانے والا اور آسانی پیدا کرنے والا بناکر مبعوث کیا ہے۔)(صحیح مسلم: ۳۷۶۳)
آپﷺممکنہ حد تک سہولت پسندی کے قائل تھے، تاکہ مدعو اکتاہٹ سے محفوظ رہے،اور اس کی جذبۂ طلب میں اضافہ کے ساتھ انس بھی برقرار رہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:’’ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کان یتخولنا بالموعظۃ فی الأیام مخافۃ السآمۃ علینا‘‘(نبی اکرمﷺہم کو دنوں کے ناغہ کے ساتھ وعظ فرماتے تھے، ہماری اکتاہٹ کے اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔)(صحیح مسلم: ۷۳۰۵)
نبیﷺکا دعوتی مشن ۲۳ ؍سال پرمحیط ہے، لیکن اس میں بھی مختلف مراحل ہیں، آپﷺکی دعوتی زندگی کا پہلا مرحلہ وہ ہے جس میں چھپ کر آپ کی دعوتی سرگرمیاں جاری تھیں، پھر جب متبعین کی تعداد میں اضافہ ہوا تو مکہ میں علی الاعلان دعوتی سرگرمیاں جاری ہوگئیں، مگر انداز نہایت دفاعی اور مثبت تھا، اور بہر صورت صبر و تحمل پر مبنی تھا، پھر جب مکہ کے حالات از حد دگرگوں ہوگئے، تو آپ ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کی، مدینہ میں آپﷺکے دعوتی حدود نہایت وسیع ہوگئے، جہاں آپﷺ نے دس سال کے مختصر عرصہ میں ایک عظیم امانت کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔
بعثت نبوی کے تین سال تک دعوت کا کام مخفی رہا، اور ایک مختصر تعداد حلقہ بگوش اسلام ہوئی، پھر حکم الٰہی ہوا کہ دعوت کے حدود کو وسعت بخشی جائے، لہٰذا آپﷺ نے دعوت و تبلیغ کے مختلف طریقے اختیار کیے، آپﷺ کی دعوت و تبلیغ پر اہل مکہ کا سخت رد عمل ظاہر ہوا، انہوں نے مختلف طریقوں سے اذیتیں دیں، سماجی بائیکاٹ کیا، اور سخت پھبتیاں بھی کسیں، لیکن آپﷺ نے انتہائی صبر و تحمل سے کام لیااور اپنا دعوتی مشن جاری رکھا۔ مکہ مکرمہ کے ان نازک حالات میں آپ ﷺکی دنیوی دل بستگی کے دو اہم مصادر(ابو طالب، خدیجہ) تھے، جن کی سیاسی و معاشی پشت پناہی حضور ﷺ کو حاصل تھی، اور ان کی موجودگی اہل مکہ کی ایذا رسانیوں میں بڑی حد تک حاجب تھی۔ اسی لیے جب سن ۱۰؍ نبوی میں ایک مہینہ کے فاصلہ سے یہ دونوں ہستیاں دار فانی سے رخصت ہوگئیں تو آپﷺ کو طبعاً سخت رنج و غم ہوا اور دو اہم سہاروں کے اٹھ جانے کا شدید قلق رہا، اسی لیے آپﷺ نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال)سے تعبیر کیا ہے۔ ان دونوں کی وفات کے بعد اہل مکہ کی زبانیں آپ ﷺ پر مزید دراز ہونے لگی تھیں۔گویا مکہ کی زمین اپنی وسعتوں کے باوجود آپ پر تنگ ہوگئی تھی اور خیر کی امیدیں کم ہی نظر آرہی تھیں، اسی لیے آپﷺ نے مکہ سے باہر نکل کر پیغام حق کی دعوت کا ارادہ کیا اور ہجرت فرمائی۔
No comments:
Post a Comment