محمد صلاح الدین رضوی
مظفر پور ، بہار
دل کی حسرت اگر نکل جائے
وقت رخصت بھی دل مچل جائے
جب بکھر جائے زلف شانے پر
دھوپ چھا ئوں میں پھربدل جائے
سارا عالم خموش بیٹھا ہے
کچھ تو کہئے کہ دل بہل جائے
راہ تکتا ہوں اسکی میں لیکن
آتے آتے نہ وہ بدل جائے
عزم کرتا ہوں ترک الفت کا
دل ناداں اگر سنبھل جائے
چاند تارے بھی توڑ لاؤںگا
قلب ظالم کا جو پگھل جائے
شمع روشن ہو جب کبھی رضوی
کوئی پروانہ آئے جل جائے
مظفر پور ، بہار
دل کی حسرت اگر نکل جائے
وقت رخصت بھی دل مچل جائے
جب بکھر جائے زلف شانے پر
دھوپ چھا ئوں میں پھربدل جائے
سارا عالم خموش بیٹھا ہے
کچھ تو کہئے کہ دل بہل جائے
راہ تکتا ہوں اسکی میں لیکن
آتے آتے نہ وہ بدل جائے
عزم کرتا ہوں ترک الفت کا
دل ناداں اگر سنبھل جائے
چاند تارے بھی توڑ لاؤںگا
قلب ظالم کا جو پگھل جائے
شمع روشن ہو جب کبھی رضوی
کوئی پروانہ آئے جل جائے
No comments:
Post a Comment