عصر حاضر میں صلح حدیبیہ کی معنویت وپیغام مولانا کفیل احمد ندوی
اللہ کے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پوری زندگی بلکہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ کاہر ہر واقعہ اپنے اندرقیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے نصیحت عبرت وموعظت کے بے شمار پہلو رکھتاہے، قرآن کریم کے اندرنبی پاک ﷺ کی پوری زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوہ ونمونہ اور قابل تقلید قراردیاگیا ہے۔
آج ہمارے ملک ِعزیز بھارت میں ہر سمت عجیب افرا تفری کا ماحول ہے، پوراملک اخلاقی امراض وبگاڑ میں مبتلاہے، جب سے ایک فرقہ پرست پارٹی برسراقتدار ہے، اس وقت سے حالات نے مزید سنگین صورتحال اختیارکرلی ہے، اقلیتوں خصوصامسلمانوں کو بے شمار سنگین مسائل کا سامناہے، پورے ملک کے مسلمان خوف ودہشت، اضطراب وبے چینی کاشکار ہیں،انہیں اپنی جان ومال عزت وآبرو اور دین وشریعت کے بارے میں بے اطمینانی کی کیفیت سے گزرناپڑرہاہے،ملک کی اکثریت کے ذہن ودماغ میں مسلمانوں کی نفرت تعصب عناد اور دشمنی کی آگ سلگادی گئی ہے، مسلمانوں کی جان ومال پر بھی چوطرفہ حملے ہیں اور دین وشریعت پر بھی ہر طرح کے اعتراضات واشکالات کاسلسلہ جاری وساری ہے، ہندوستان کے مسلمانوں کے موجودہ حالات عہد نبوی ﷺ کے مکی حالات کے مشابہ ہوچکے ہیں،ہر وقت خوف،ڈر،دہشت،اپنے تعاقب وگرفتاری اور اچانک اچک لیے جانے کااندیشہ-لیکن ایسے حالات میں بھی مسلمانوں کو ہرگز مایوس نہیں ہوناچاہیے، بلکہ سیرت نبوی ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، حضور پاک ﷺ اور صحابہ کرام کو پورے مکی دور میں اور ہجرت مدینہ کے بعد بھی کچھ سالوں تک اسی طرح کے مشکل حالات سے گزرناپڑاتھا، ہندوستان میں جو یہ موجودہ حالات پیداہوئے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہیکہ ملک کی غیرمسلم اکثریت آج بھی اسلام اور اسلام کے محاسن اور اسکی محبت بھری تعلیمات سے ناواقف ہے۔
اس لیے ہندوستان کے موجودہ اسلام ومسلم مخالف حالات کا سب سے بڑاتقاضہ یہ ہیکہ مسلمان ملک کی اخلاقی وسماجی اصلاح وریفارم کی مخلصانہ مہم شروع کریں، خود ہرجگہ زندگی کے ہر شعبہ ومرحلہ میں سچی اور مؤمنانہ اسلامی زندگی کامظاہرہ کریں، غیر مسلموں کے ساتھ اعلی اسلامی اخلاق وکردار کے ساتھ پیش آئیں،اوراسلام کا بھرپور تعارف بھی کرائیں اور اسلام کاعملی نمونہ پیش کریں،اس عمل سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پائی جانے والی دوریاں اور غلط فہمیاں ختم ہونگی،حضور پاک ﷺ کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی تھی کہ کفار اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی تنازعہ اور دشمنی کی فضا کو ختم کرکے غیر مسلموں مشرکوں دشمنوں اور کافروں کو مسلمانوں کے قریب آکر انکی عبادات انکے رہن سہن پیارومحبت اعلی اخلاق وضیافت کے واقعات کے مشاہدہ وتجزیے کا موقع فراہم کریں،مکہ کے مشرکوں کے ساتھ حدیبیہ کی صلح میں یہی جزبہ کارفرماتھا، صلح حدیبیہ کا واقعہ اسلام ومسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، سن چھ ہجری میں حضور پاک ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے رفقاکے ساتھ عمرہ کررہے ہیں اور کلید کعبہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہے، یہ اشارہ غیبی تھا کہ آپ ﷺ عمرہ کارادہ فرمائیں، چنانچہ حضور پاک ﷺ عمرہ کی مکمل تیاریوں کے بعد پندرہ سوصحابہ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے آپ کے ساتھ قربانی کے جانور بھی تھے قریش کو آپ ﷺ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ اور صحابہ کرام کو کومقام”حدیبہ“ میں روکدیا اور مکہ میں داخل ہوکر ارکانِ عمرہ کی ادائیگی کاموقع بھی نہیں دیا حالانکہ حضور پاک ﷺاور صحابہ کرام کو مکہ میں داخل نہ ہونے دینے کا یہ عمل ہراعتبار سے غلط تھا اور عربوں کی روایات کےبھی خلاف تھا، اس موقع پر قریش مکہ اور مسلمانوں کےدرمیان اس بات پر صلح ہوئی کہ
(۱)مسلمان اس سال یہیں سے واپس چلے جائیں، (۲)آئندہ سال انکو صرف تین دن مکہ میں قیام کی اجازت ہوگی،(۳)اگر مکہ کاکوئی فرد مسلمان ہوکر مدینہ جائے گاتو اسے واپس کیاجائے گا لیکن اگر مدینہ سے کوئی شخص مکہ آجائے تو اسے نہیں لوٹایاجائے گا،(۴)چوتھی شرط یہ تھی کہ دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بندی رہے گی،اور آزادانہ سفروتجارت کاسلسلہ جاری رہےگا۔
صحابہ کرام کی ناپسندیدگی اور غم وصدمہ سے نڈھال ہونے کے باوجو حضوررحمت اللعالمینﷺ نے ان شرائط پر صلح کرلی،واپسی میں ”سورۃ الفتح“ نازل ہوئی اور اس صلح کوفتح مبین قرادیاگیا، اور واقعتا یہ صلح اسلام ومسلمانوں کے حق میں کھلی فتح ثابت ہوئی، اس صلح کے نتیجہ میں مسلمانوں کو طویل جنگوں سے نجات ملی، قریش کی طاقت ٹوٹ گئی مختلف قبائل کے ساتھ قائم ان کااتحاد ٹوٹ گیا،پورے جزیرۃ العرب میں مسلمانوں کارعب ودبدبہ قائم ہوا انہیں اطمینان کے ساتھ پورے عالم میں اسلام کی دعوت پہونچانے کاموقع ملا، سب سے بڑھ کر یہ کہ مکہ ومدینہ کے لوگوں کی ایک دوسرے کے یہاں آمدورفت شروع ہوئی،اس طرح قریش اوردیگر مخالفین ومعاندین کو مسلمانوں کی عبادات انکے اخلاق عالیہ انکی معاشرت وطرز زندگی اوراسلامی تعلیمات کے عملی مظاہروں کے مشاہدہ کاموقع ملا، جس سے وہ بہت متاثر ہوئے، انکی غلط فہمیاں دور ہوئیں، قبول اسلام کے لیے ذہن ودماغ کھلتے چلے گئے، اور صرف دوسال کے بعد فتح مکہ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد دس ہزار ہوگئے،اس وقفہ میں بڑے بڑے سرداروں نے اسلام قبول کیااور اسلام تیزی سے پھیلتاگیا۔
غرض کہ صلح حدیبیہ ناکامی کی صورت میں فتح وپیش قدمی کاذریعہ ثابت ہوئی، اور یہ صلح اسلام ومسلمانوں کی ترقی اقبال وعروج فتح وکامرانی اور اسلام کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب ذریعہ بن گئی، اگر بھارت کے مسلمان آج بھی صلح حدیبیہ کے سبق آموز پہلوؤں کو سامنے رکھیں اوراسے اپنے لیے مشعل راہ بنائیں،غیروں کے ساتھ تمام ہی برادران وطن کے ساتھ اچھے اخلاق وکردار کے ساتھ پیش آئیں اپنے اور غیروں کے درمیان حائل اجنبیت کی دیواروں کو توڑدیں، غیروں تک اسلام کاپیغام حکمت کے ساتھ پہونچائیں،انکے سامنے عملااسلام کامظاہرہ کریں،انکی ہر طرح خیرخواہی کریں، غیروں میں اسلام کا تعارف کرائیں اور زوال پزیر ملک کی اصلاح اور ملک کی قدیم اخلاقی وروحانی اقداروروایات کے احیاکی کوششیں کریں تو ملک میں ان کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا اور وہ فتح مبین سے ہم کنار ہوسکتے ہیں،وماذلک علی اللہ بعزیز۔
اللہ کے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پوری زندگی بلکہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ کاہر ہر واقعہ اپنے اندرقیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے نصیحت عبرت وموعظت کے بے شمار پہلو رکھتاہے، قرآن کریم کے اندرنبی پاک ﷺ کی پوری زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوہ ونمونہ اور قابل تقلید قراردیاگیا ہے۔
آج ہمارے ملک ِعزیز بھارت میں ہر سمت عجیب افرا تفری کا ماحول ہے، پوراملک اخلاقی امراض وبگاڑ میں مبتلاہے، جب سے ایک فرقہ پرست پارٹی برسراقتدار ہے، اس وقت سے حالات نے مزید سنگین صورتحال اختیارکرلی ہے، اقلیتوں خصوصامسلمانوں کو بے شمار سنگین مسائل کا سامناہے، پورے ملک کے مسلمان خوف ودہشت، اضطراب وبے چینی کاشکار ہیں،انہیں اپنی جان ومال عزت وآبرو اور دین وشریعت کے بارے میں بے اطمینانی کی کیفیت سے گزرناپڑرہاہے،ملک کی اکثریت کے ذہن ودماغ میں مسلمانوں کی نفرت تعصب عناد اور دشمنی کی آگ سلگادی گئی ہے، مسلمانوں کی جان ومال پر بھی چوطرفہ حملے ہیں اور دین وشریعت پر بھی ہر طرح کے اعتراضات واشکالات کاسلسلہ جاری وساری ہے، ہندوستان کے مسلمانوں کے موجودہ حالات عہد نبوی ﷺ کے مکی حالات کے مشابہ ہوچکے ہیں،ہر وقت خوف،ڈر،دہشت،اپنے تعاقب وگرفتاری اور اچانک اچک لیے جانے کااندیشہ-لیکن ایسے حالات میں بھی مسلمانوں کو ہرگز مایوس نہیں ہوناچاہیے، بلکہ سیرت نبوی ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، حضور پاک ﷺ اور صحابہ کرام کو پورے مکی دور میں اور ہجرت مدینہ کے بعد بھی کچھ سالوں تک اسی طرح کے مشکل حالات سے گزرناپڑاتھا، ہندوستان میں جو یہ موجودہ حالات پیداہوئے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہیکہ ملک کی غیرمسلم اکثریت آج بھی اسلام اور اسلام کے محاسن اور اسکی محبت بھری تعلیمات سے ناواقف ہے۔
اس لیے ہندوستان کے موجودہ اسلام ومسلم مخالف حالات کا سب سے بڑاتقاضہ یہ ہیکہ مسلمان ملک کی اخلاقی وسماجی اصلاح وریفارم کی مخلصانہ مہم شروع کریں، خود ہرجگہ زندگی کے ہر شعبہ ومرحلہ میں سچی اور مؤمنانہ اسلامی زندگی کامظاہرہ کریں، غیر مسلموں کے ساتھ اعلی اسلامی اخلاق وکردار کے ساتھ پیش آئیں،اوراسلام کا بھرپور تعارف بھی کرائیں اور اسلام کاعملی نمونہ پیش کریں،اس عمل سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پائی جانے والی دوریاں اور غلط فہمیاں ختم ہونگی،حضور پاک ﷺ کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی تھی کہ کفار اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی تنازعہ اور دشمنی کی فضا کو ختم کرکے غیر مسلموں مشرکوں دشمنوں اور کافروں کو مسلمانوں کے قریب آکر انکی عبادات انکے رہن سہن پیارومحبت اعلی اخلاق وضیافت کے واقعات کے مشاہدہ وتجزیے کا موقع فراہم کریں،مکہ کے مشرکوں کے ساتھ حدیبیہ کی صلح میں یہی جزبہ کارفرماتھا، صلح حدیبیہ کا واقعہ اسلام ومسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، سن چھ ہجری میں حضور پاک ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے رفقاکے ساتھ عمرہ کررہے ہیں اور کلید کعبہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہے، یہ اشارہ غیبی تھا کہ آپ ﷺ عمرہ کارادہ فرمائیں، چنانچہ حضور پاک ﷺ عمرہ کی مکمل تیاریوں کے بعد پندرہ سوصحابہ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے آپ کے ساتھ قربانی کے جانور بھی تھے قریش کو آپ ﷺ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے آپ ﷺ اور صحابہ کرام کو کومقام”حدیبہ“ میں روکدیا اور مکہ میں داخل ہوکر ارکانِ عمرہ کی ادائیگی کاموقع بھی نہیں دیا حالانکہ حضور پاک ﷺاور صحابہ کرام کو مکہ میں داخل نہ ہونے دینے کا یہ عمل ہراعتبار سے غلط تھا اور عربوں کی روایات کےبھی خلاف تھا، اس موقع پر قریش مکہ اور مسلمانوں کےدرمیان اس بات پر صلح ہوئی کہ
(۱)مسلمان اس سال یہیں سے واپس چلے جائیں، (۲)آئندہ سال انکو صرف تین دن مکہ میں قیام کی اجازت ہوگی،(۳)اگر مکہ کاکوئی فرد مسلمان ہوکر مدینہ جائے گاتو اسے واپس کیاجائے گا لیکن اگر مدینہ سے کوئی شخص مکہ آجائے تو اسے نہیں لوٹایاجائے گا،(۴)چوتھی شرط یہ تھی کہ دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بندی رہے گی،اور آزادانہ سفروتجارت کاسلسلہ جاری رہےگا۔
صحابہ کرام کی ناپسندیدگی اور غم وصدمہ سے نڈھال ہونے کے باوجو حضوررحمت اللعالمینﷺ نے ان شرائط پر صلح کرلی،واپسی میں ”سورۃ الفتح“ نازل ہوئی اور اس صلح کوفتح مبین قرادیاگیا، اور واقعتا یہ صلح اسلام ومسلمانوں کے حق میں کھلی فتح ثابت ہوئی، اس صلح کے نتیجہ میں مسلمانوں کو طویل جنگوں سے نجات ملی، قریش کی طاقت ٹوٹ گئی مختلف قبائل کے ساتھ قائم ان کااتحاد ٹوٹ گیا،پورے جزیرۃ العرب میں مسلمانوں کارعب ودبدبہ قائم ہوا انہیں اطمینان کے ساتھ پورے عالم میں اسلام کی دعوت پہونچانے کاموقع ملا، سب سے بڑھ کر یہ کہ مکہ ومدینہ کے لوگوں کی ایک دوسرے کے یہاں آمدورفت شروع ہوئی،اس طرح قریش اوردیگر مخالفین ومعاندین کو مسلمانوں کی عبادات انکے اخلاق عالیہ انکی معاشرت وطرز زندگی اوراسلامی تعلیمات کے عملی مظاہروں کے مشاہدہ کاموقع ملا، جس سے وہ بہت متاثر ہوئے، انکی غلط فہمیاں دور ہوئیں، قبول اسلام کے لیے ذہن ودماغ کھلتے چلے گئے، اور صرف دوسال کے بعد فتح مکہ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد دس ہزار ہوگئے،اس وقفہ میں بڑے بڑے سرداروں نے اسلام قبول کیااور اسلام تیزی سے پھیلتاگیا۔
غرض کہ صلح حدیبیہ ناکامی کی صورت میں فتح وپیش قدمی کاذریعہ ثابت ہوئی، اور یہ صلح اسلام ومسلمانوں کی ترقی اقبال وعروج فتح وکامرانی اور اسلام کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب ذریعہ بن گئی، اگر بھارت کے مسلمان آج بھی صلح حدیبیہ کے سبق آموز پہلوؤں کو سامنے رکھیں اوراسے اپنے لیے مشعل راہ بنائیں،غیروں کے ساتھ تمام ہی برادران وطن کے ساتھ اچھے اخلاق وکردار کے ساتھ پیش آئیں اپنے اور غیروں کے درمیان حائل اجنبیت کی دیواروں کو توڑدیں، غیروں تک اسلام کاپیغام حکمت کے ساتھ پہونچائیں،انکے سامنے عملااسلام کامظاہرہ کریں،انکی ہر طرح خیرخواہی کریں، غیروں میں اسلام کا تعارف کرائیں اور زوال پزیر ملک کی اصلاح اور ملک کی قدیم اخلاقی وروحانی اقداروروایات کے احیاکی کوششیں کریں تو ملک میں ان کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا اور وہ فتح مبین سے ہم کنار ہوسکتے ہیں،وماذلک علی اللہ بعزیز۔
No comments:
Post a Comment