Translate

Monday, July 27, 2020

رسول اﷲ (ﷺ)بحیثیت شوہر مفتی محمد نجم الدین الرحیمی ندوی

رسول اﷲ (ﷺ)بحیثیت شوہر   مفتی محمد نجم الدین الرحیمی ندوی

سیرت نبوی علیہ السلام کا ہر پہلو نمایاں اور سورج سے زیادہ روشن ہے اور دنیا کی آخری تاریخ تک اسی طرح روشن وتاباں رہے گا، سیرت دراصل ایک ناپیدا کنار سمندر ہے، اس میں جس قدر غوطہ لگایا جائے گا، اسی قدر لعل وگوہر برآمد ہوتا  رہے گا، اﷲ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کو کامل ترین انسان اور آپ (ﷺ)کی ذات اقدس کو بہترین وہمہ گیر اسوہ بنایا۔ ایک سوال کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’گویا پورا قرآن حکیم آپ کے اخلاق وسیرت ہے۔‘‘
اوراق سیرت میں آپﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ گھریلو زندگی کیسی ہوتی ہے اور گھر سے باہر کی زندگی کیسی؟ سیرت ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ آپ کی دعوت اور گھر کی زندگی میں یکسانیت پائی جاتی ہے، گھر سے باہر الگ اور گھر کے اندر کی زندگی الگ نہیں، بلکہ آپ کی زندگی ایک ایسی زندگی ہے جو ہر ایک کے لیے کھلی کتاب ہے، یہاں پر آپ کی گھریلو زندگی کے چند پہلو کی طرف اشارہ پر اکتفا کیا جائے گا۔
آپ ﷺ کی زندگی کو اگر گھر کے ماحول میں ایک شوہر کی حیثیت سے دیکھا جائے تو ایک مثالی شوہر کی حیات طیبہ سامنے آئے گی کہ آپ کی پاک زندگی میں آبگینوں کے ساتھ حسن سلوک اور بے مثال عادلانہ ومنصفانہ معاشرتی زندگی کا اہتمام ہے، آپ ﷺ نے ایک شوہر کی حیثیت سے ازواج مطہرات (رضی اﷲ عنہن)کی ناز برداری بھی فرمائی، آپ کی ازواج مطہرات کی تعداد گیارہ ہے،ان سب کا تعلق مختلف معززقبائل اور شریف خاندانوں سے تھا، اور طبیعت ورنگ ونسل کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے فرق تھا، اور نسوانی فطرت کی اساس پر اگر کوئی واقعہ پیش آجاتا تو آپ ﷺ خوش اسلوبی سے مسئلہ کو حل کرتے اور نسوانی جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے انگیز فرماتے تھے۔ اﷲ کے رسولﷺ نے امت کو یہ تعلیم فرمائی کہ ’’اس آدمی کا ایمان کامل ہے جس کا اخلاقی برتاؤ (سب کے ساتھ) اچھا ہو(اور خاص کر) بیوی کے ساتھ اس کا رویہ لطف ومحبت کا ہو‘‘۔ آپ ﷺ کی اس تعلیم سے ظاہر ہے کہ بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ اور لطف ومحبت کو ’’ایمان کامل‘‘ سے تعبیر کرکے ایسی تاکید فرمائی گویا بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کمال ایمان کی شرط ہے۔
شوہر کا ایک خوشگوار اور اہم فریضہ یہ بھی ہے کہ اگر اس کے کئی بیویاں ہوں تو سب کے ساتھ برابری اور مساوات کا معاملہ کرے۔ آپ ﷺ نے ازواج مطہرات کے درمیان مساوات اور عدل وانصاف کا برتاؤ فرمایا، اور انصاف کے ساتھ ہر ایک کا پورا حق ادا فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’اﷲ کے نبیﷺ اپنی ازواج کے مابین حقوق کی تقسیم میں عدل وانصاف فرماتے تھے‘‘۔ آپ ﷺ نے اسی کی بابت فرمایا کہ ’’اے اﷲ! میری یہ تقسیم ہے ان چیزوں پر جن پر میرا قابو ہے، بس تو مجھے اس چیز پر ملامت نہ کر جو خاص تیرے قبضے میں ہے اور میرے قبضے میں نہیں‘‘۔ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے باہمی تعلقات نہایت خوشگوار تھے۔
اور اس شخص کے بارے میں جو بیویوں کے درمیان انصاف اور مساوات کا سلوک نہیں کرتا،آپ ﷺنے حدیث شریف میں اس آدمی کی نسبت بتایا ہے کہ ’’اگر کسی کے دو بیویاں ہوں اور اس نے ان کے ساتھ انصاف ومساوات کا برتاؤ نہیں کیا تو قیامت کے روز اس حال میں وہ شخص آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گر گیا ہوگا‘‘۔ گھر کے ماحول کو اچھا رکھنے کے لیے اچھا اور معیاری ومثالی برتاؤ اختیار کرنے کی آپ ﷺ کی طرف سے ہدایت ہے کہ ’’تم میں سب اچھا وہ آدمی ہے جو اپنے گھر والوں کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں سب سے اچھا ہوں‘‘۔
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی میں یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ بحیثیت شوہر آپ نے ازواج کو ان کے حقوق ادا فرمائے اور ان کی حتی الامکان دلداری ودل جوئی فرمائی، اور اس عمل کے ذریعہ یہ درس دیا کہ دل جوئی ودل داری کرنا بھی شوہر کے حسن سلوک وحسن معاملہ میں داخل ہے۔ایک مرتبہ کی بات ہے کہ ایک سفر میں ازواج مطہراتؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھیں، انجشہ نامی ایک حبشی غلام حدی خوانی کرتا جاتا تھا اور اونٹ حدی سن کر مست ہوکر تیز چلنے لگتے ہیں تو اس موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’انجشہ! دیکھو، آبگینے ٹوٹنے نہ پائیں‘‘۔اسی طرح آپ ﷺکا معمول یہ تھا کہ کہیں ’’اگر سفرہوتا اورازواج میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کی ضرورت ہوتی تو قرعہ اندازی سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاتا اور سفر میں اس کو ساتھ لے جاتے‘‘۔ یہ قرعہ اندازی صرف آپ ﷺ کی طرف سے دل جوئی اور دلداری کے واسطے ہوتی تھی جب کہ آپ کو کسی کو ساتھ لے جانے کا اختیار تھا۔آپ ﷺ عشاء کے بعد کبھی کبھی ازواج کی دل جوئی کی خاطر قصے سناتے تھے اور ان سے سنتے بھی تھے، احادیث کی کتابوں میں ’’حدیث خرافہ‘‘ اور ’’حدیث أم زرع‘‘ اس کی بہترین مثال ہیں۔
آپﷺ کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ اور ازواج مطہرات کے باہمی تعلقات نہایت محبت اور اخلاص کے تھے، لیکن ان سب کے ساتھ آپ دینی وشرعی امور کی نگرانی بھی فرماتے تھے، دین وشرع کے خلاف کوئی بات ہوتی تو آپ تنبیہ اور سرزنش فرماتے تھے، تنبیہ اور سرزنش کے معاملہ میں آپ کا انداز اور اسلوب خاص تھا کہ مخاطب بات بھی سمجھ لے اور اس پر کچھ زیادہ گراں بھی نہ گزرے، آپ کی یہ تنبیہ اور محاسبہ بھی حقیقت میں آپ کی محبت ہی کا ایک پہلو تھا۔اس کو سمجھنے کے لیے ایلاء کا واقعہ نہایت موزوں اور مناسب ہے۔
ایک مرتبہ کی بات ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ’’حسبک من صفیۃ کذا وکذا‘‘یہ بات سن کر آپ نے تنبیہ فرمائی کہ ’’اے عائشہ! تم نے ایسی بات زبان سے نکال دی ہے کہ اگر وہ سمندر میں بھی ملا دی جائے تو اس کی کڑواہٹ اس کو بھی تلخ کرکے رکھ دے‘‘۔ اسی طرح متعدد مواقع پر آپ نے ازواج مطہرات کی دینی رہنمائی اور دینی نگرانی فرمائی اور خلاف شرع معاملات میں تنبیہ بھی فرمائی۔
  سیر وتفریح سے انسان کے ذہن ودماغ کو سکون اور آرام ملتا ہے، نیک مقصد کی خاطر سیر کرنا شریعت کی نگاہ میں ممنوع نہیں ہے، سیر کی جگہ ایسی ہو جو شرع کی نگاہ میں ممنوع نہ ہو،کیونکہ اس سے زوجین کے باہمی تعلقات پرلطف اور مزید خوشگوار ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی میں ایک پہلو بحیثیت شوہر یہ بھی موجود ہے کہ حضرت عائشہؓ کے کھیل کود اور تفریح کے واقعات احادیث میں موجود ہیں، حدیث میں یہ واقعہ بھی درج ہے کہ آپ علیہ السلام اور حضرت عائشہؓ کے مابین دو دفعہ دوڑ کا مقابلہ ہوا،ایک دفعہ میں تو حضرت عائشہ ؓ آگے نکل گئیں اور دوسری دفعہ میں آپ ﷺ آگے نکل گئے اور وہ پیچھے رہ گئیں، اس وقت آپ نے فرمایا کہ یہ اس دن کا جواب ہے‘‘۔
نبی اکرم ﷺ کی ازواج سے خوشگوار باہمی تعلقات پر زاد المعاد میں لکھا ہے کہ ’’نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ نہایت محبت اور حسن سلوک کا معاملہ کرتے تھے، حضرت عائشہؓ کے پاس انصار کی لڑکیاں جمع ہوجاتیں اور آپ ان کو ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے چھوڑ دیتے، اگر وہ کسی ایسی بات کی خواہش کرتیں جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہوتی تو آپ ﷺ ان کی خواہش پوری کردیتے، وہ جس برتن سے پانی پیتیں آپ بھی اس برتن سے ان کے منھ لگانے کی جگہ سے منھ لگاکر پانی پی لیتے، جس ہڈی کو وہ چوستیں اس ہڈی کو آپ بھی لے کر چوستے، ایک مرتبہ اہل حبشہ مسجد نبوی میں اپنے کرتب دکھارہے تھے، آپ نے حضرت عائشہؓ کے لیے اس کا موقع پیدا فرمایا کہ وہ آپ کے کندھے کی اوٹ سے ان کے کرتب دیکھ لیں، دو مرتبہ آپ سفر کے موقع پر ان کے ساتھ دوڑے بھی، آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں، عصر کی نماز پڑھ کر آپ کا یہ معمول بنا ہوا تھا کہ تمام ازواج کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے احوال دریافت فرماتے، پھر شب میں جس کی باری ہوتی اس کے یہاں قیام فرماتے‘‘۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...