Translate

Monday, July 27, 2020

دنیائے انسانیت پر آپ ﷺ کے احسانات مولانا مفتیمحمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری



اللہ تبارک و تعالی کی بنائی ہوئی اس کائنات ِارض و سماء میں سب سے زیادہ جس ذات وشخصیت کے احسانات اس عالم دنیوی پر ہیں ، وہ اس کائنات کے آخری نبی، ہمارے آقائے نامدار احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ ہیں، آپ ﷺ ہی کے ذریعہ اللہ تعالی نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ِ راست د ِکھایا اور دنیا کو اللہ کی صحیح معرفت نصیب ہوئی، آپ ﷺ سے پہلے عالم ِ انسانیت کی تقریبا ً  پوری آبادی ہر طرح کی شرک و بت پرستی ، اخلاقی گراوٹ ، ظلم و زیادتی ، حرام کاری و بدکاری اور نا زیبا سلوک کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی،اور دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں تھا، جہاں اللہ کی عبادت صحیح طرح سے کی جاتی ہو ، اہل ِ عرب کے ساتھ ساتھ اہل ِیورپ بھی اخلاقی گراوٹ کی انتہاء کو پہونچے ہوئے تھے،حضرت عیسی ؑ کی تعلیمات بھی اپنی اصلی حالت پر نہیں تھی۔(تفصیل کے لیے دیکھیے: لیکی کی کتاب ــ’’تاریخ اخلاق یورپ‘‘History of European Morals, by Lecky)
آپ ﷺ کی محنت سے انسانوں کی بستی ہری بھری ہوگئی اور ہر طرح کے فضائل سے اسے آشنائی نصیب ہوئی، آپ ﷺ کی تعلیمات نے ہر طبقہ کو فائدہ پہونچایا، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، آپ کے ماننے والوں میں ہو یا انکار کرنے والوں میں، اس لحاظ سے قیامت تک آنے والے عالم ِ انسانی پر آپ ﷺ کے اتنے احسانات ہیں جن کا شمار نا ممکن ہے، چند کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے؛کیوں کہ صفحات کی تنگ دامنی تفصیل کی اجازت نہیں دیتی:
(۱)عقیدئہ توحید کی نعمت : آپﷺ کی بعثت کے وقت انسانوں کا عقیدہ انتہائی گراوٹ کا شکار ہوچکا تھا ، مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ لکھتے ہیں :ـــــ’’یہ اپنے سے کہیں زیادہ مجبور و ذلیل ، بے حس و حرکت ،بے جان و مردہ اور بعض اوقات خود اپنی ساختہ پرداختہ چیزوں کے سامنے جھکتا تھا، ان سے ڈرتا اور ان کی خوشامد کرتا تھا، یہ پہاڑوں ، دریائوں ، درختوں ، جانوروں، ارواح و شیاطین اور مظاہر قدرت ہی کے سامنے نہیں؛بلکہ کیڑوں ،مکوڑوں تک کے سامنے سجدہ ریز ہوتا تھا اور اس کی پوری زندگی انھیں سے خوف و امید اور انھیں خطرات میں بسر ہوتی تھی، جس کا نتیجہ بُزدلی، ذہنی انتشار ، وہم پرستی اور بے اعتمادی تھا۔ (نبی رحمت، ص:۶۲۵)  ایسے وقت میں آپ ﷺ نے بحکم ِ خداوندی ساری دنیا کو خدائے واحد کی طرف بلایا اور اسی کی عبادت کی دعوت دی، جس سے عقیدئہ توحید کی تعلیم عام ہوئی، لوگوں کے دلوں سے غیر اللہ کا خوف دور ہوا اور ایک نئی قوت ، نیا حوصلہ ، نئی شجاعت اور نئی وحدت پیدا ہوئی اورپھر اسی (اللہ) کو ہر طرح کا نافع و ضار سمجھا جانے لگا۔
(۲)وحدت ِ انسانی کا تصور : آپ ﷺ کی آمد سے پہلے انسان اپنے فرسودہ خیالات کی بنیاد پر مختلف ذات پات اور اعلیٰ ادنیٰ طبقوں میں بٹا ہوا تھا، اور ان کے درمیان انسانون اور جانوروں ، آقائوں اور غلاموں اور عبد و معبود کا سا فرق تھا، وحدت و مساوات کا کوئی تصور نہیں تھا، ایسے وقت میں آپ  ﷺ نے اللہ کا یہ حکم سنایا: ’’یٰا ایھا الناس انا خلقنٰکم من ذکر و انثی و جعلنٰکم شعوبا ً و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم ‘‘ لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو، خدا کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے(الحجرات:۱۳)۔ اور آپ  ﷺ نے اپنی زبان میں ارشاد فرمایا:لوگو! تمہارا پروردگار ایک ہے اور تمہارے والد بھی ایک ہیں ، تم سب اولاد آدم ہو اور آدم  ؑ مٹی سے بنے تھے، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو تم میں سب سے زیادہ پاک باز ہے، کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں ، مگر تقویٰ کی بنا پر(حدیث)، اس اعلان کے بعد سارے انسانوں کے بھائی بھائی ہونے کا تصور عام ہوااور لوگوں کو بہت راحت ملی۔
(۳)احترام انسانیت:اسلام کے ظہور کے زمانے میںایک لحاظ سے انسان سے زیادہ ذلیل کوئی نہیں تھا،وہ انسان جسے اشرف المخلوقات بنایا گیا ، اس کا وجود بالکل بے قیمت اور بے وزن ہو کر رہ گیا تھا، بعض اوقات پالتو جانورسے بھی بدتر یہ سمجھا جاتا، اس سے کہیں زیادہ اہمیت باطل عقائد کی وجہ سے حیوانات اور بعض درختوں کو دیے جاتے،ان کے لیے انسانوں کی جانیں لی جاسکتی تھیں،اور انسان کے خون اور گوشت پوست کے چڑھاوے چڑھائے جاسکتے تھے، آج بھی بعض بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں میں اس کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہن و دماغ میں یہ نقش بٹھا دیا کہ اس کائنات کی سب سے عظیم اور قیمتی شئی انسان ہے ، اسی کے لیے پوری کائنات بنائی گئی ہے ، وہ اشرف المخلوقات ہے: ’’ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ‘‘وہی (اللہ)ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو اس زمین پر ہے (البقرۃ:۲۹)  اور ایک دوسری جگہ سورہ اسراء آیت ۷ میں فرمایا : ’’و لقد کرمنا بنی آدم و حملنٰھم فی البر و البحر و رزقنٰھم من الطیبٰت و فضلنٰھم علیٰ کثیر ممن خلقنا تفضیلا‘‘  اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ، ان سب سے آگے بڑھ کر یہاں تک کہاں گیا کہ انسان خدا کا کنبہ ہیں، اور خدا کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کو آرام پہونچائے’’الخلق عیال اللہ فاحب الخلق الی اللہ من احسن الی عیالہ‘‘ (مشکوٰۃ بروایت بیہقی)
(۴)تہذیب و تمدن: بعثت ِ نبوی سے پہلے ظلم و زیادتی کی وجہ سے طاقتوروں کا بول بالا تھا، کمزوروں کا گذر ذلت کے ساتھ ہوتا تھا، عورتوں کے ساتھ بھی ظلم ہوتا تھا، اسلام نے عقائد کے ساتھ ساتھ سب کے حقوق بھی بتائے اور معاشرہ کو ایک صاف ستھری ، اخلاق و احترام سے بھر پور، بڑے چھوٹے اور مرد و عورت کے فرق کے ساتھ بہترین تہذیب و تمدن اور عمدہ ثقافت عنایت کی اور نیکی و فضائل کے کاموں پر اجر و ثواب کا وعدہ سنایا اور برائی پر سزا کی وعیدبتائی ، جس کے بعد ایک بہترین امت وجود میں آئی اور دنیا ایک ایسی تہذیب و تمدن سے واقف ہوئی، جس کا  اس نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا تھا، ایک ایسی تہذیب جس نے انسان ہی کو نہیں بلکہ جانوروں تک کو تمام حقوق عنایت کیے، اور اس کی وجہ سے ساری دنیا روشن ہوگئی،رابرٹ بری فالٹ (Robert Briffault) اپنی کتاب ’’تعمیر انسانیت ‘‘ (The making of humanity) میں یوں لکھتا ہے: ’’یورپ کی ترقی کا کوئی شعبہ اور کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے ، جس میں اسلامی تمدّن کا دخل نہ ہو اور اس کی ایسی نمایاں یادگار نہ ہوں ، جنہوں نے زندگی پر بڑا اثر ڈالا ہے ‘‘۔ (ص:۱۹۰)
(۵)مقصد ِزندگی سے آگہی: انسان اپنی منزل مقصود سے بے خبر تھا، اس کی ذہانت اور صلاحیت چھوٹے چھوٹے کاموں میں صرف ہورہی تھی، کامیاب اور بڑا انسان بننے کا صرف یہ مطلب تھاکہ وہ دولت مند بن جائے ، یا طاقتور حاکم بن جائے ، یابڑی تعداد پر حکمرانی کرے، یا یہ کہ من مانی زندگی گذارے، آپ ﷺ نے سارے انسان کو مقصد زندگی سے واقف کرایا ، بقول مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ: ’’محمد رسول اللہ ﷺ نے نسل انسانی کے سامنے اس کی حقیقی منزل لا کر کھڑی کردی، آپ ﷺ نے یہ بات دل پر نقش کردی کہ خالق ِکائنات کی صحیح معرفت، اس کی ذات و صفات اور اس کی قدرت و حکمت کا صحیح علم، ملکوت السماوات و الارض کی وسعت و عظمت اور لا محدودیت کی دریافت ، ایمان و یقین کا حصول، خدا کی محبت و محبوبیت، اس کو راضی کرنا اور اس سے راضی ہوجانا، اس کثرت میں وحدت کی تلاش اور یافت، انسان کی حقیقی سعادت اورکمال ِ آدمیت ہے ، اپنی باطنی قوتوں کو ترقی دینا، ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہونا، انسانوں کی خدمت اور ایثار و قربانی کے ذریعہ خدا کی خوشنودی کا حاصل کرنا، اور کمال و ترقی کے ان اعلیٰ مدارج تک پہنچ جانا، جہاں فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے، انسان کی کوششوں کا حقیقی میدان ہے‘‘۔
 (نبی رحمت ، ص:۶۴۱، ۶۴۲)
یوں تو عالم ِ انسانیت پر ہمارے نبی ﷺ کے بہت سارے احسانات ہیں ، جن کا اعتراف غیرمسلوں نے بھی کیا ہے ،یہاں ہم نے ان احسانات میں سے چند کو ذکرکیا، آج ہم صاف صاف مشاہدہ کررہے ہیں کہ دنیا پھر اسی گذشتہ جاہلیت کی طرف رواں دواں ہے، جس سے ہمارے نبی ﷺ  نے اسے نکالا تھا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نبیﷺ کے احسانات سے اس عالم کو روشناس کرائیں ، ان پر عمل کریں اور نبی ﷺ پر کثرت سے صلوۃ و سلام کا اہتمام کریں ، یہ اپنے نبی ِ محسن ﷺکی بہترین قدر دانی ہے ،کسی شاعر نے کہا:
اک نام ِ مصطفی ہے جو بڑھ کر گھٹا نہیں
ورنہ ہر اک عروج میں پنہاں زوال ہے

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...