محمد مصطفی ﷺکی معرفت مولانامحمد فاروق عبدالسمیع ندوی
اللہ سے محبت کا پہلا زینہ اطاعت رسول ہے، اطاعت کاملہ اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ رسول کی عظمت و محبت دلوں میں رچی بسی ہو، اور عظمت و محبت کا دارو مدار معرفت پر ہے، بدون معرفت عظمت و محبت اور اطاعت رسول کا تصور ہی ناممکن ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امت پر چند حقوق ہیں جو ثابت شدہ ہیں، انکی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے، ان میں سے سب سے پہلا حق معرفت ہے جو دوسرے حقوق کیلیے مدخل کی حیثیت رکھتا ہے ،باقی حقوق کی ادائیگی اسی پر موقوف ہے جیسے کسی کے بارے میں معرفت ہوتی ہے اسی طرح اس کے بارے میں عقیدہ اور عمل ہو تا ہے ،البتہ اس مقام پر اس بات کا اعتراف کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ ا گر رسول گرامی کی معرفت کا ملہ کا حصول نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔
ا س کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی معرفت کا ملہ اس وقت حاصل ہو گی جب آپ کے تما م شؤون (حیثیتوں ) سے پوری آگاہی حاصل ہو جو کہ اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ،بعض شؤون نبی درج ذیل ہیں ۔
دنیوی-اخروی-ظاہری-باطنی -جسمانی- عقلانی- روحانی- قرآن مجید اور باقی آسمانی کتب میں۔
یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انسان آپ کی معرفت کا ملہ کا دعوایدار نہیں ہے۔معرفت نبی ۖکے (Sources)درج ذیل ہیں
۱-قرآن مجید۲-دیگر آسمانی کتب۳-سنت رسول ۴-اقوال اہل بیت۵-اقوال امہات المومنین ۶-اقوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۷-مسلمان مفکرین کی آراء ۸-غیر مسلم مفکرین کی آراء۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں آپ ﷺ کی اجمالی معرفت کے درج ذیل پہلو ہیں ۔
(الف )ختم نبوت :آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں۔ ختم نبوت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے ،ارشاد الٰہی ہے :’’مَا کَانَ مُحَمَّد اَبَآ اَ حَدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِيینَ‘‘'(محمد )تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ص اور خاتم النبین ہیں '۔
خاتم یعنی مہر جیسے خط کے آخر میں اس کے اختتام کی نشاہدہی کر تی ہے اسی طرح آپ ﷺ کام وجودِ مبارک تمام انبیاء عظام کے صحیفہ نبوت کے ختم ہو جانے کی گواہی دیتا ہے، اب اور قیامت تک نہ کو ئی نبی آئے گا اور نہ کو ئی رسول ، آپ ﷺ کے بعدنزولِ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ،البتہ نازل شدہ وحی کی تشریح و تفسیر اور تبیین کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
ختم نبوت کا عقیدہ امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری بھی عائد کر تا ہے کہ وہ اب انسانی معاشرہ میں نبوت کا پیغام دوسروں تک پہنچائے اور اپنے قول وفعل سے دوسروں کو ہدایت کرے، علامہ محمد اقبال نے کتنے خوبصورت انداز میں اس ذمہ داری کی تشریح کی ہے ۔
پس خدا برما شریعت ختم کرد بر رسول ما رسالت ختم کرد
رونق از مامحفل ایام را او رسل راختم وما اقوام را
خدمت ساقی گری با ما گذاشت داد ما آخریں جامے کہ داشت
ترجمہ :خدا نے ہم پر شریعت ختم کر دی ہے (جیسے) رسول اللہ ﷺ پر رسالت ختم کر دی ہے ، محفلِ ایام (دنیا) کی زینت و رونق ہماری وجہ سے ہے (آپ ﷺ تما م نبیوں اور رسولوں میں سے اکرم و افضل ہیں اور ہم امت مسلمہ تمام امتوں میں سے افضل ہیں)اب اللہ تعالیٰ نے ساقی گری کی خدمت ہم پر چھوڑ دی ہے (اب ہمارا فریضہ دوسری امتوں تک پیغام ہدا یت پہنچانا ہے)اللہ تعالیٰ (ہدایت )کا جو آخری جام بنی نوع انسان کو عطا کرنا چاہتا تھا وہ اس نے ہمیں(قرآن مجید کی شکل میں ) عطافرما دیا ۔
(ب)انسان کامل :آپ صورت وسیرت ،خلق وخُلق کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان میں بے مثل ہیں ،اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہر قسم کے عیوب سے پاک و پا کیزہ پیدا کیا ہے۔
اس واقعیت کا اظہار شاعر ِرسول ص،ثنا خوان نبی حضرت حسان بن ثابت نے یہ کہہ کر کیا ہے :
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِنْ کُلِّ عَيبٍ
کَأَنَّکَٔ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآء
آپ ہر عیب سے خالی پیدا کیے گئے ہیں گویا آپ ﷺ کی تخلیق آپ کے منشاء کے مطابق کی گئی ہے
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَينِیْ
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاء
اور آپ ﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ جمیل، عورتوں نے کبھی جنا
شیخ سعدی نے آپ کی اعلیٰ وبرتر شخصیت اور خوبصورت شمائل کے بارے میں فرمایا ہے :
بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہ
کَشَفَ الدُّجٰی بِجَماَلِہ
آپ اپنے کمال کی طاقت سے بلندیوں پر پہنچے آپ ﷺ کے حسن و جمال سے تاریکیاں چھٹ گئیں
حَسُنَتْ جَمِيعُ خِصَالِہ
صَلُّوْ عَلَیہْ وَآلِہ
آپ کے شمائل بہت خوبصورت تھے آپ ص پر اور آپ کی آل پر درود بھیجو؛
اس ذیل میں عظیم شاعر حافظ شیرازی نے فرمایا ہے
یاَ صَاحِبَ الْجَمَالِ وَيا سَيدَ البَشَرِ
مِنْ وَجْھِکَ الْمُنْیرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَرُ
اے صاحب جمال ،اے سیدالبشر! آپ کے چہرہ پر نور سے ہی چاند منورہوا
لاَ یمْکنُ الثَنآء کَمَا کَانَ حَقُّہ
بعد از خدا بزرگ، توئی قصہ مختصر
آپ ﷺ کی ثنا اور نعت کا حق ادا کرنا ممکن نہیں مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعد بزرگ تر آپ ہی کی ذات ہے
(ج)افضل الا نبیا ء والمرسلین :آپ تمام انبیا ء و مرسلین میں سے افضل ہیں اور ا س فضلیت کے کئی اسباب ہیں :
(۱)حضرت عیسیٰ ـ نے آپﷺ کی آمد کی بشارت دی ہے ،ارشاد ربانی ہے
’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ ياتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہ اَحْمَدُ‘‘
'جناب عیسیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہو ں تصدیق کرنے والا ہوں اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کانام احمد ہے۔
اگر پیغمبر اسلام اور دیگر انبیا ء عظام یا حضرت عیسیٰ ـ آپ ﷺ کے ہم رتبہ ہو تے تو اس بشارت کی کیا اہمیت رہتی ہے؟ اسی طرح قرآن مجید میں کئی مقامات پر اور زبور میں بھی آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی ہے ۔
(۲)مخلوق اول :روایات کی روشنی میں آپ خلقت نوری کے اعتبار سے اولین مخلوق ہیں ،فرمان نبوی ﷺ ہے :
’’أول ماخلق اللہ نوری ‘‘'سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نو ر کو خلق کیا ہے '۔
یہ مضمون متعدد، روایات میں آیا ہے ۔
(۳)صاحبِ لولاک:
مشہور حدیث قدسی میں ارشاد ربانی ہے :
’’لولاک لما خلقت الا فلاک‘‘'اے حبیب اگر آپ نہ ہو تے تو ہم افلا ک یعنی کائنات کو خلق نہ کرتے '۔
اس حدیث قدسی کے مطابق آپ وجہِ تخلیق کا ئنات ، مقصودِ کائنات اور اصلِ وجان کائنات ہیں ۔کائنات کی رونق اور عظمت آپ ﷺکی تشریف آوری کی بدولت ہے، علامہ محمد اقبال بھی اسرار و رموز میں فرماتے ہیں؛
اے ظہور تو شباب زندگی جلوہ ات تعبیر ِخواب زندگی
آپ کی تشریف آوری سے زندگی کوشباب نصیب ہوا اورآپﷺ کا ظہور خوابِ زندگی کی تعبیر ہے۔
اگر آپ ﷺ کا ظہور نہ ہو تا تو حیات ِکا ئنات کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو تا۔
(۴)مقام نور ی میں پہلے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم :
آپﷺ مقام نوری میں اس وقت بھی نبی تھے جب حضرت آدم ـ تخلیق کے عمل سے گزر رہے تھے
ارشاد نبوی ہے:
’’کُنْتُ نَبِياً وَآدَمُ بَينَ الْمآ ء وَالطِّينِ ‘‘'میں اس وقت نبی تھا جب آدم ـ پانی اور مٹی کے درمیان تھے '۔
علامہ اقبال نے بھی کہا ہے :
جلوہ او قدسیاں راسینہ سوز بود اندر آب و گل آدم ہنوز
آپﷺ کا جلوہ اس وقت بھی فرشتوں کے سینو ں کو گرما رہا تھا جب حضرت آدم ـپانی اور مٹی کے درمیان تھے
(۵)گزشتہ شرائع منسوخ:
آپﷺ کی شریعت کے بعد تمام گزشتہ شرائع منسوخ کی گئیں اور نزول قرآن کریم کے بعد تمام گزشتہ آسمانی کتابیں منسوخ ہو ئیں ،قیامت تک شریعت محمدیہ اور قرآن کی تعلیمات حاکم ہیں۔
اللہ سے محبت کا پہلا زینہ اطاعت رسول ہے، اطاعت کاملہ اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ رسول کی عظمت و محبت دلوں میں رچی بسی ہو، اور عظمت و محبت کا دارو مدار معرفت پر ہے، بدون معرفت عظمت و محبت اور اطاعت رسول کا تصور ہی ناممکن ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امت پر چند حقوق ہیں جو ثابت شدہ ہیں، انکی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے، ان میں سے سب سے پہلا حق معرفت ہے جو دوسرے حقوق کیلیے مدخل کی حیثیت رکھتا ہے ،باقی حقوق کی ادائیگی اسی پر موقوف ہے جیسے کسی کے بارے میں معرفت ہوتی ہے اسی طرح اس کے بارے میں عقیدہ اور عمل ہو تا ہے ،البتہ اس مقام پر اس بات کا اعتراف کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ ا گر رسول گرامی کی معرفت کا ملہ کا حصول نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔
ا س کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی معرفت کا ملہ اس وقت حاصل ہو گی جب آپ کے تما م شؤون (حیثیتوں ) سے پوری آگاہی حاصل ہو جو کہ اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ،بعض شؤون نبی درج ذیل ہیں ۔
دنیوی-اخروی-ظاہری-باطنی -جسمانی- عقلانی- روحانی- قرآن مجید اور باقی آسمانی کتب میں۔
یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انسان آپ کی معرفت کا ملہ کا دعوایدار نہیں ہے۔معرفت نبی ۖکے (Sources)درج ذیل ہیں
۱-قرآن مجید۲-دیگر آسمانی کتب۳-سنت رسول ۴-اقوال اہل بیت۵-اقوال امہات المومنین ۶-اقوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۷-مسلمان مفکرین کی آراء ۸-غیر مسلم مفکرین کی آراء۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں آپ ﷺ کی اجمالی معرفت کے درج ذیل پہلو ہیں ۔
(الف )ختم نبوت :آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں۔ ختم نبوت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے ،ارشاد الٰہی ہے :’’مَا کَانَ مُحَمَّد اَبَآ اَ حَدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِيینَ‘‘'(محمد )تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ص اور خاتم النبین ہیں '۔
خاتم یعنی مہر جیسے خط کے آخر میں اس کے اختتام کی نشاہدہی کر تی ہے اسی طرح آپ ﷺ کام وجودِ مبارک تمام انبیاء عظام کے صحیفہ نبوت کے ختم ہو جانے کی گواہی دیتا ہے، اب اور قیامت تک نہ کو ئی نبی آئے گا اور نہ کو ئی رسول ، آپ ﷺ کے بعدنزولِ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ،البتہ نازل شدہ وحی کی تشریح و تفسیر اور تبیین کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
ختم نبوت کا عقیدہ امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری بھی عائد کر تا ہے کہ وہ اب انسانی معاشرہ میں نبوت کا پیغام دوسروں تک پہنچائے اور اپنے قول وفعل سے دوسروں کو ہدایت کرے، علامہ محمد اقبال نے کتنے خوبصورت انداز میں اس ذمہ داری کی تشریح کی ہے ۔
پس خدا برما شریعت ختم کرد بر رسول ما رسالت ختم کرد
رونق از مامحفل ایام را او رسل راختم وما اقوام را
خدمت ساقی گری با ما گذاشت داد ما آخریں جامے کہ داشت
ترجمہ :خدا نے ہم پر شریعت ختم کر دی ہے (جیسے) رسول اللہ ﷺ پر رسالت ختم کر دی ہے ، محفلِ ایام (دنیا) کی زینت و رونق ہماری وجہ سے ہے (آپ ﷺ تما م نبیوں اور رسولوں میں سے اکرم و افضل ہیں اور ہم امت مسلمہ تمام امتوں میں سے افضل ہیں)اب اللہ تعالیٰ نے ساقی گری کی خدمت ہم پر چھوڑ دی ہے (اب ہمارا فریضہ دوسری امتوں تک پیغام ہدا یت پہنچانا ہے)اللہ تعالیٰ (ہدایت )کا جو آخری جام بنی نوع انسان کو عطا کرنا چاہتا تھا وہ اس نے ہمیں(قرآن مجید کی شکل میں ) عطافرما دیا ۔
(ب)انسان کامل :آپ صورت وسیرت ،خلق وخُلق کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان میں بے مثل ہیں ،اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہر قسم کے عیوب سے پاک و پا کیزہ پیدا کیا ہے۔
اس واقعیت کا اظہار شاعر ِرسول ص،ثنا خوان نبی حضرت حسان بن ثابت نے یہ کہہ کر کیا ہے :
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِنْ کُلِّ عَيبٍ
کَأَنَّکَٔ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآء
آپ ہر عیب سے خالی پیدا کیے گئے ہیں گویا آپ ﷺ کی تخلیق آپ کے منشاء کے مطابق کی گئی ہے
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَينِیْ
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاء
اور آپ ﷺ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ جمیل، عورتوں نے کبھی جنا
شیخ سعدی نے آپ کی اعلیٰ وبرتر شخصیت اور خوبصورت شمائل کے بارے میں فرمایا ہے :
بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہ
کَشَفَ الدُّجٰی بِجَماَلِہ
آپ اپنے کمال کی طاقت سے بلندیوں پر پہنچے آپ ﷺ کے حسن و جمال سے تاریکیاں چھٹ گئیں
حَسُنَتْ جَمِيعُ خِصَالِہ
صَلُّوْ عَلَیہْ وَآلِہ
آپ کے شمائل بہت خوبصورت تھے آپ ص پر اور آپ کی آل پر درود بھیجو؛
اس ذیل میں عظیم شاعر حافظ شیرازی نے فرمایا ہے
یاَ صَاحِبَ الْجَمَالِ وَيا سَيدَ البَشَرِ
مِنْ وَجْھِکَ الْمُنْیرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَرُ
اے صاحب جمال ،اے سیدالبشر! آپ کے چہرہ پر نور سے ہی چاند منورہوا
لاَ یمْکنُ الثَنآء کَمَا کَانَ حَقُّہ
بعد از خدا بزرگ، توئی قصہ مختصر
آپ ﷺ کی ثنا اور نعت کا حق ادا کرنا ممکن نہیں مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعد بزرگ تر آپ ہی کی ذات ہے
(ج)افضل الا نبیا ء والمرسلین :آپ تمام انبیا ء و مرسلین میں سے افضل ہیں اور ا س فضلیت کے کئی اسباب ہیں :
(۱)حضرت عیسیٰ ـ نے آپﷺ کی آمد کی بشارت دی ہے ،ارشاد ربانی ہے
’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ ياتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہ اَحْمَدُ‘‘
'جناب عیسیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہو ں تصدیق کرنے والا ہوں اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کانام احمد ہے۔
اگر پیغمبر اسلام اور دیگر انبیا ء عظام یا حضرت عیسیٰ ـ آپ ﷺ کے ہم رتبہ ہو تے تو اس بشارت کی کیا اہمیت رہتی ہے؟ اسی طرح قرآن مجید میں کئی مقامات پر اور زبور میں بھی آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی ہے ۔
(۲)مخلوق اول :روایات کی روشنی میں آپ خلقت نوری کے اعتبار سے اولین مخلوق ہیں ،فرمان نبوی ﷺ ہے :
’’أول ماخلق اللہ نوری ‘‘'سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نو ر کو خلق کیا ہے '۔
یہ مضمون متعدد، روایات میں آیا ہے ۔
(۳)صاحبِ لولاک:
مشہور حدیث قدسی میں ارشاد ربانی ہے :
’’لولاک لما خلقت الا فلاک‘‘'اے حبیب اگر آپ نہ ہو تے تو ہم افلا ک یعنی کائنات کو خلق نہ کرتے '۔
اس حدیث قدسی کے مطابق آپ وجہِ تخلیق کا ئنات ، مقصودِ کائنات اور اصلِ وجان کائنات ہیں ۔کائنات کی رونق اور عظمت آپ ﷺکی تشریف آوری کی بدولت ہے، علامہ محمد اقبال بھی اسرار و رموز میں فرماتے ہیں؛
اے ظہور تو شباب زندگی جلوہ ات تعبیر ِخواب زندگی
آپ کی تشریف آوری سے زندگی کوشباب نصیب ہوا اورآپﷺ کا ظہور خوابِ زندگی کی تعبیر ہے۔
اگر آپ ﷺ کا ظہور نہ ہو تا تو حیات ِکا ئنات کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو تا۔
(۴)مقام نور ی میں پہلے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم :
آپﷺ مقام نوری میں اس وقت بھی نبی تھے جب حضرت آدم ـ تخلیق کے عمل سے گزر رہے تھے
ارشاد نبوی ہے:
’’کُنْتُ نَبِياً وَآدَمُ بَينَ الْمآ ء وَالطِّينِ ‘‘'میں اس وقت نبی تھا جب آدم ـ پانی اور مٹی کے درمیان تھے '۔
علامہ اقبال نے بھی کہا ہے :
جلوہ او قدسیاں راسینہ سوز بود اندر آب و گل آدم ہنوز
آپﷺ کا جلوہ اس وقت بھی فرشتوں کے سینو ں کو گرما رہا تھا جب حضرت آدم ـپانی اور مٹی کے درمیان تھے
(۵)گزشتہ شرائع منسوخ:
آپﷺ کی شریعت کے بعد تمام گزشتہ شرائع منسوخ کی گئیں اور نزول قرآن کریم کے بعد تمام گزشتہ آسمانی کتابیں منسوخ ہو ئیں ،قیامت تک شریعت محمدیہ اور قرآن کی تعلیمات حاکم ہیں۔
No comments:
Post a Comment