Translate

Monday, July 20, 2020

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل وصیت کی تھی کہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور جب تک تم ان دونوں نعمتوں کو تھامے رہوگے تو تم گمراہ نہیں ہوسکتے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں نے نہ قرآن کی حقیقت کو سمجھا اور نہ ہی سیرت رسول اکرم سے واقف رہے، بلکہ محض چند نعروں اور جوشیلے بیانات کے سماع ہی کو انہوں نے محبت رسول اور اتباع رسول کا رمز جانا۔
سیرت النبی سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ زمانہ کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کس دور میں ہمیں کس طرح سے لوگوں کے سامنے دین اسلام کا پیغام پیش کرنا ہے۔اس تناظر میں اگر ہم ہندوستانی مسلمان اپنا جائزہ لیںتو ہم سے بہت سی ایسی کوتاہیاں ہوئی ہیں جن کی تلافی آسان نہیں۔ملک کی آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں نے ضروری سمجھا کہ عقائد و ایمانیات پر زور دیا جائے تاکہ لوگوں کا دین محفوظ رہے، اس کی خاطر مدارس کا قیام عمل میں آیا اور مکاتب کا جال پھیل گیا، بلاشبہ یہ ایک اچھی اور قابل مبارک باد پہل تھی، اگر اس وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا نہ کیا جاتا تو آئندہ نسلوں کے ایمان کی ضمانت لینا مشکل تھی۔
موجودہ دور میں جب کہ ہر طرف مادیت کا دور دورہ ہے، ہر کسی پر معاد سے زیادہ معاش کی فکر سوار ہے اور ہر کوئی سہولت پسندی کا خواہاں ہے، ایسے دور میں بھی ایک ایسے ہی فیصلے کی ضرورت ہے جو منجملہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہو۔ اس وقت ضرورت ہے کہ ہم سیرت طیبہ سے رہنمائی لیتے ہوئے ہر میدان میں اپنے جوانوں کو اتاریں، ہر شعبہ میں اپنا نمائندہ پہنچانے کی فکر کریں اور اپنے دائرہ کار کو جائز و ناجائز کے جھگڑوں سے نکال کر وسعت عطا کریں، مگر یہ وسعت سیرت طیبہ کی روشنی کے بغیر انتہائی مضر بھی ہوسکتی ہے، اسی لیے حضور کا اسوہ پیش نظر رکھ کر ہمیں میدان میں آنا چاہیے اور ہر سطح پر بڑھنے والے کرپشن کو دور کرنے کی کوشش کرنا چاہیے، اگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور ہم نے محض ناؤ نوش بعیش کوش ہی کو مقصود زندگی سمجھ لیا تو پھر آئندہ دور میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس ملک میں ہم اپنا وجود بھی باقی رکھ سکیں گے یا نہیں۔
اگر اس وقت ہم نے انصاف کی کرسی تک منصف مسلم نوجوانوں کو پہنچانے کی فکر نہیں کی، اچھے وکلاء کو تیار نہیں کیا، اچھے افسران کو تشکیل نہیں دیا، اچھے اسکالرس کی ہمت افزائی نہیں کی، اچھے اور ہمدرد ڈاکٹروں کو پیدا نہیں کیا، غرض کہ سماج میں جتنے بھی شعبے ہیں، ان سب شعبوں میں اپنے لوگوں کو پہنچانے کی فکر نہیں کی تو بلاشبہ آنے والی زندگی میں ہماری نسلیں غلامی کا طوق اپنے گلوں میں ڈالے پھریں گی اور کوئی ان کی فریاد سننے والا نہیں ہوگا، پھر ہم محض یہی سن سکتے ہیں کہ آٹھ سو سال حکومت کرنے والوں سے آج ان کی مسجد چھین لی گئی، آج ان کے آثار قدیمہ کو منہدم کردیا گیا، آج ان کی عبادات پر پابندی عائد کردی گئی، آج ان کی تہذیب پر ڈاکہ پڑگیا، آج ان پر شب خون ماردیا گیا اور ہندوستان کی زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان پر تنگ کردی گئی۔
اے قوم کے جیالو! ابھی وقت ہے ہوش کے ناخن لینے کا، ابھی وقت ہے ترقی کرنے کا، ابھی وقت ہے زبوں حالی سے ابھرنے کا اور ایک ایسا پر عزم فیصلہ لینے کا جو قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔یا لیت قومی یعلمون!
کلمات       تشکر: خدا کے شکر سے دل کے جذبات معمور اور زبان رطب اللسان ہے کہ سہ ماہی تعمیر افکار کی برقی اشاعت کا سال بحمد اللہ مکمل ہوا، الحمد للہ رسالہ اپنے مقاصد میں بڑی حد تک کامیاب ہے اور قارئین کی دلچسپی کا موضوع بھی مستقل بنا ہوا ہے، ہم بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہیں کہ ہمارے کالم نگاروں کو خدا سلامت رکھے اور نئے اہل قلم کو اس جولان گاہ میں سند قبول عطا فرمائے اور ہم سب کو اخلاص کی دولت سے مالامال کرے۔ آمین ثم آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...