ابتداازربیع الا ول انتہاتا ربیع الاول دنیائے انسانیت کا ہمہ گیراور کامل انقلا ب مولانا سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
کبھی آپ نے ایسا انقلاب دیکھا جس نے سوچ تبدیل کی ہو ،تخریبی فکرکو تعمیر سے ہمکنا ر کیا ہو ،عقائد رذیلہ کو چھوڑ کر اسلامی عقائد زندگی میں راسخ کئے ہوں ،اقدار کو فروغ نصیب ہو ا ہو ،عزائم جواں ہو گئے ہوں ،مقاصد بدل گئے ہوں ،یہاں تک کہ آرزوئیں تمنائیں بدل گئی ہوں ،شب وروز صبح و شام روشن ہو گئے ہوں؟
جی ہاں !ایسا انقلاب ہجری کلینڈر کے تیسرے مہینہ ربیع الاول (پہلی بہار)میں پیدا ہونے والے در یتیم نے برپا کیا اور پھر بہار ہی نہیں بلکہ’’ سدا بہار‘‘ اس پوری دنیا کو بنا دیا جس کا اعتراف پوری انسانیت کو کرنا چا ہئے ،کیونکہ اس ماہ میں انسانیت کو اپنے خالق و ما لک کی جانب سے ایک ابدی پیغام اور زندگی گذارنے کا قانون عطا ہوا، اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ اور بعد میں ان کے اصحاب (محمد رسول اللہ والذین معہ)کی جد و جہد کو شش محنت و مشقت اور ایثار و قربا نی کے نتیجہ میں لکھوکھا مربع میل زمین کے ایک ملک کے رہنے والوں کی زندگیوں میں ایک ایسا انقلا ب عظیم برپا ہو گیا کہ ان کی سوچ بدل گئی ،ان کا فکر بدل گیا ،عقائد اسلامی ہو گئے ،اقدار کو فروغ نصیب ہوگیا عزائم جواں ہو گئے ،مقاصد بدل گئے ، آرزوئیں تمنائیں بدل گئیں ،ان کے شب و روز تبدیل ہو گئے صبح و شام روشن ہو گئے ،یہاں تک کہ انہیں اگر پہلے زندگی عزیز تھی اب مو ت عزیز تر ہوگئی رہزن راہبر بن گئے جو امی محض تھے وہ متعدد علوم و فنون کے موجد بن گئے ذمائم اخلاق میں مبتلا مکارم اخلا ق کے معلم و داعی بن گئے، زانی و نفس پرست عفت و عصمت کے محافظ بن گئے ،بے قید حصول معاش کے عادی اسراف و تبذیر کے خوگر مال و دولت کے امین بن گئے ،یہ اس انقلا ب کی وسعت و ہمہ گیری اور برکت تھی جس کو حضرت محمد ﷺ نے برپا کیا ۔
اس دنیائے رنگ و بو میں انقلابا ت کا دور دورا ہے ،کہیں سیاسی انقلاب ہے تو کہیں معاشی ،کہیں معاشرتی ہے تو کہیں روحانی و اخلاقی ،لیکن جہاں کہیں بھی انقلابات نے قدم رکھا ،تو وہ جزوی انقلا با ت تھے ،وقتی تھے،اس دنیا میں صرف ایک انقلاب کا مل انقلا ب Totel Revolution حضرت محمد ﷺ نے قائم کیا اس کو کا مل اور ہمہ گیر انقلا ب کہا جا تا ہے۔
پھر یہ انقلاب ایک ایسا انقلا ب تھا جو صرف ایک فرد واحد کے اندر تھا اس کی زندگی میں مکمل طور پر جلوہ گر تھا اس کی نظیر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے سوا دنیا کے اندر نہیں ملتی ہے ،ایک فرد واحد ۶۱۰ء عیسوی میں ایک انقلابی دعوت لے کر کھڑاہو تا ہے اور ۶۳۰ ء عیسوی یعنی کل بیس برس کی مدت قلیل میں عرب میں انقلا ب تکمیل پا جا تا ہے ،با قی دوسال اس انقلا ب کی توسیع میں گذرے ،۰۶ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد مختلف سربراہان مملکت کو دعوتی خطوط ارسال کئے گئے ،۰۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا اس کے بعد دو سال کے عرصہ میں جنگ موتہ ہوئی جس میں سلطنت روما جیسی وقت کی سپر طا قت کے ساتھ مسلح تصادم ہوا ،اس کے بعد ۰۹ھ میں خود نبی کریم ﷺ کی قیادت و سیادت میں سفر تبوک ہوا ،اس وقت ۳۰ہزار جاں نثار حضور ﷺ کے جلو میں تھے ،پھر وفات سے چند روز قبل ایک لشکر حضرت اسامہ بن زید ؓکی سربراہی میں ترتیب فرمایا ادھر مرض نے شدت اختیار کی اور ربیع الا ول ۱۱ھ میںنبی کریم ﷺ الرفیق الأعلی کی جانب مراجعت فر مائی۔
اندازہ کیجئے اس اکیس بائیس برس کے قلیل مختصر ترین عرصہ میں نبی اکرم ﷺ نے ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہتی انقلا ب کی از ابتدا تا انتہا بنفس نفیس تکمیل فرمادی، جس کی دنیا میں نہ کوئی نظیر پہلے مو جو د تھی نہ تا قیا مت ملے گی جبکہ تاریخی دنیا میں دو انقلا ب مشہور ہو ئے انقلا ب فرانس اور انقلا ب روم اور یہ دونوں انقلاب جزوی تھے اور ان کی فکر دینے والا اور بر پا کرنے والے الگ الگ تھے ،پھر فکر دینے اور بپا ہو نے میں اچھا خاصا زما نی فصل ہے انقلاب فرانس جس فکر کے نتیجہ میں رونما ہوا ایک طویل عرصہ تک بے شما ر مصنفوںکی کتا بوں کے ذریعہ پھیلتا رہا اسی طرح انقلا ب روس کی اساس کارل مارکس کی کتا ب پر قائم ہوئی لیکن خود مارکس کی زندگی میں ایک گاؤں میں بھی انقلا ب کے عملا برپا ہونے کا امکان تک پیدا نہ ہو سکا ،مارکس جرمنی کا رہنے والا تھا اور انقلاب روس میں آیا اور اس کی موت کے تقریبا پچا س سال بعد آیا وہ بھی روس کے داخلی معاملا ت بگڑنے پر آیا غرض یہ کہ اس عالمگیر انقلاب کی تکمیل صرف ایک بار ہوئی اور وہ نبی کریم ﷺ کے دست مبارک سے ہوئی اور بعد میں رونما ہونے والے انقلابات نے بھی اس سے رہنمائی حاصل کی ،اس انقلا ب کی اسا س کیا تھی اور کس بنیا د پر یہ انقلا ب کا میابی کی منزل تک پہنچا ،اس انقلاب کے لئے کونسا نظریہ اور کونسی فکر اور ذہنی اختراعات نے کام کیا اس انقلاب کی فکر نظریہ اور فلسفہ وحی کے ذریعہ اللہ تعالی نے عطا فرما یا جبکہ دنیوی انقلابا ت انسانی ذہنوں کی پیداوار ہوتے ہیں پہلا نظریہ توحید کامل ترین اور خالص ترین توحید جس کی بنیاد قرآن حکیم ہے اس قرآن کے ذریعہ سے یہ انقلا بی نظریہ لوگوں کے سا منے آنا شروع ہوا اس حقیقت کو نہا یت سادہ اور سلیس انداز میںحالی نے بیان کیا :
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا سا تھ لا یا
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہا دی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
اور نہایت پر شکوہ الفاظ میں شا عر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ نے اس طرح بیان کیا:
در شبستان حرا خلوت گزید
قوم وآئین و حکومت آفرید
اس انقلابی نظریہ کی اول اساس و بنیاد قرآن ہے یعنی دعوت تبلیغ ،انداز ،تبشیر ،تذکیر،حتی کہ تزکیہ اور تربیت قرآن کے ذریعہ ہوئی ،اور نبی کریم ﷺ کی دعوت کا مرکز و محور اور منبع و سر چشمہ قرآن بنا پھر اس دعوت کے تین حصہ شما ر کئے گئے توحید ،رسالت ،آخرت ان میں جہاں تک نطام کا تعلق ہے وہ درحقیقت نظریہ تو حید پر ایمان ہے کیونکہ آخرت میں ایمان انسان کی سیرت و کردار کی تربیت اور صحیح تعمیر کی بینا د بنتا ہے نماز ،روزہ ،زکوۃ ،حج اصل میں اسی تربیتی مراحل کی چیزیں ہیں اشخاص کے سیرت و کردار کو اس خاص سانچہ میں ڈھا لنا جس میں ڈھل کر ایک صحیح اور درست اسلا می انقلا ب آسکے اس تربیت کا نا م ہے ،دل میں چھپے ہو ئے امراض اور روگوں کا مداوا اور علا ج بھی قرآن کریم کے ذریعہ ہی ہوا جس کے لئے قرآنی اور دینی اصطلا ح تزکیہ بنیاد قرار پا ئی ،الغرض ایمان بالآخرت انسان کے جذبہ عمل کو متحرک کر نیکا نہایت مؤثر عامل ہے جبکہ رسالت پر ایمان کا تعلق قانو ن سے ہے حضور ﷺ کو دل و جان سے رسول تسلیم کرنے اور آپ ﷺ کی دی ہو ئی تمام خبروں کی تصدیق کا نام ہی دراصل ایمان ہے اس کے بغیر ہم نہ توحید کو صحیح معنوں میں جان سکتے ہیں ،نہ آخرت کو مان سکتے ہیں اور نہ ہی اعمال صالحہ اور افعال سیئہ کو صحیح طور پر پہچا ن سکتے ہیں یہی مطلوب و مفہوم اور مقصود ہے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد مبارک کا، لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ تم میں سے کو ئی شخص مؤمن ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کی خواہش نفس اس ہدایت کے تابع نہ ہو جا ئے جو میں لے کر آیا ہوں ۔
پھر اس انقلا بی نظریہ اور دعوت کے متضمنات اس کے مضمرات و مقتضیات اور بدیہی نتائج و عواقب کیا تھے ؟جس کے بغیر اس انقلابی فکر کا صحیح ادراک و شعور نہیں ہو سکتا ،توحید کے ذریعہ سے انسانی حاکمیت کی کلی نفی کی گئی یہ سب سے بڑاعظیم انقلا بی نظریہ ہے جس کو مشرکین نے بھی تسلیم کیا ،اور انسانی حاکمیت کے بجا ئے خلافت کا تمغہ عنا یت کیا گیا ،ملکیت کی جگہ امانت کا تصور دیا گیا،کامل معاشرتی مساوات میں پرویا گیا، اس انقلابی تنظیم کی تشکیل و تنظیم کی اساس بھی قرآن نے بیان کی پہلی قرآنی اصطلاح بنیا ن مرصوص سیسہ پلائی ہو ئی دیوار ہے اس کے لئے بنیاد سمع و طا عت کو بنا یا گیا واسمعوا و أطیعوا اور تیسرا عنصر اس میںأشداء علی الکفار رحماء بینھم شامل کیا گیا جس سے یہ تنظیم ایک انقلا بی تنظیم بنی اور اس نے پہلے عرب پھر عجم کو فتح کیا اس سے بڑا انقلاب دنیائے انسانیت میں نہ کبھی آیا ہے نہ آئے گا اور یہ انقلا ب اس ایک شخص نے خدائی تمغہ کو ساتھ لے کر برپا کیا اب بھی اگر انقلا ب کی فکر اور اس کی ضرورت ہے تو اسی طرح سے تکمیل ہو سکتی ہے ورنہ اس کے بغیر کوئی انقلا ب تو درکنا ر معمولی تبدیلی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔
کبھی آپ نے ایسا انقلاب دیکھا جس نے سوچ تبدیل کی ہو ،تخریبی فکرکو تعمیر سے ہمکنا ر کیا ہو ،عقائد رذیلہ کو چھوڑ کر اسلامی عقائد زندگی میں راسخ کئے ہوں ،اقدار کو فروغ نصیب ہو ا ہو ،عزائم جواں ہو گئے ہوں ،مقاصد بدل گئے ہوں ،یہاں تک کہ آرزوئیں تمنائیں بدل گئی ہوں ،شب وروز صبح و شام روشن ہو گئے ہوں؟
جی ہاں !ایسا انقلاب ہجری کلینڈر کے تیسرے مہینہ ربیع الاول (پہلی بہار)میں پیدا ہونے والے در یتیم نے برپا کیا اور پھر بہار ہی نہیں بلکہ’’ سدا بہار‘‘ اس پوری دنیا کو بنا دیا جس کا اعتراف پوری انسانیت کو کرنا چا ہئے ،کیونکہ اس ماہ میں انسانیت کو اپنے خالق و ما لک کی جانب سے ایک ابدی پیغام اور زندگی گذارنے کا قانون عطا ہوا، اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ اور بعد میں ان کے اصحاب (محمد رسول اللہ والذین معہ)کی جد و جہد کو شش محنت و مشقت اور ایثار و قربا نی کے نتیجہ میں لکھوکھا مربع میل زمین کے ایک ملک کے رہنے والوں کی زندگیوں میں ایک ایسا انقلا ب عظیم برپا ہو گیا کہ ان کی سوچ بدل گئی ،ان کا فکر بدل گیا ،عقائد اسلامی ہو گئے ،اقدار کو فروغ نصیب ہوگیا عزائم جواں ہو گئے ،مقاصد بدل گئے ، آرزوئیں تمنائیں بدل گئیں ،ان کے شب و روز تبدیل ہو گئے صبح و شام روشن ہو گئے ،یہاں تک کہ انہیں اگر پہلے زندگی عزیز تھی اب مو ت عزیز تر ہوگئی رہزن راہبر بن گئے جو امی محض تھے وہ متعدد علوم و فنون کے موجد بن گئے ذمائم اخلاق میں مبتلا مکارم اخلا ق کے معلم و داعی بن گئے، زانی و نفس پرست عفت و عصمت کے محافظ بن گئے ،بے قید حصول معاش کے عادی اسراف و تبذیر کے خوگر مال و دولت کے امین بن گئے ،یہ اس انقلا ب کی وسعت و ہمہ گیری اور برکت تھی جس کو حضرت محمد ﷺ نے برپا کیا ۔
اس دنیائے رنگ و بو میں انقلابا ت کا دور دورا ہے ،کہیں سیاسی انقلاب ہے تو کہیں معاشی ،کہیں معاشرتی ہے تو کہیں روحانی و اخلاقی ،لیکن جہاں کہیں بھی انقلابات نے قدم رکھا ،تو وہ جزوی انقلا با ت تھے ،وقتی تھے،اس دنیا میں صرف ایک انقلاب کا مل انقلا ب Totel Revolution حضرت محمد ﷺ نے قائم کیا اس کو کا مل اور ہمہ گیر انقلا ب کہا جا تا ہے۔
پھر یہ انقلاب ایک ایسا انقلا ب تھا جو صرف ایک فرد واحد کے اندر تھا اس کی زندگی میں مکمل طور پر جلوہ گر تھا اس کی نظیر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے سوا دنیا کے اندر نہیں ملتی ہے ،ایک فرد واحد ۶۱۰ء عیسوی میں ایک انقلابی دعوت لے کر کھڑاہو تا ہے اور ۶۳۰ ء عیسوی یعنی کل بیس برس کی مدت قلیل میں عرب میں انقلا ب تکمیل پا جا تا ہے ،با قی دوسال اس انقلا ب کی توسیع میں گذرے ،۰۶ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد مختلف سربراہان مملکت کو دعوتی خطوط ارسال کئے گئے ،۰۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا اس کے بعد دو سال کے عرصہ میں جنگ موتہ ہوئی جس میں سلطنت روما جیسی وقت کی سپر طا قت کے ساتھ مسلح تصادم ہوا ،اس کے بعد ۰۹ھ میں خود نبی کریم ﷺ کی قیادت و سیادت میں سفر تبوک ہوا ،اس وقت ۳۰ہزار جاں نثار حضور ﷺ کے جلو میں تھے ،پھر وفات سے چند روز قبل ایک لشکر حضرت اسامہ بن زید ؓکی سربراہی میں ترتیب فرمایا ادھر مرض نے شدت اختیار کی اور ربیع الا ول ۱۱ھ میںنبی کریم ﷺ الرفیق الأعلی کی جانب مراجعت فر مائی۔
اندازہ کیجئے اس اکیس بائیس برس کے قلیل مختصر ترین عرصہ میں نبی اکرم ﷺ نے ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہتی انقلا ب کی از ابتدا تا انتہا بنفس نفیس تکمیل فرمادی، جس کی دنیا میں نہ کوئی نظیر پہلے مو جو د تھی نہ تا قیا مت ملے گی جبکہ تاریخی دنیا میں دو انقلا ب مشہور ہو ئے انقلا ب فرانس اور انقلا ب روم اور یہ دونوں انقلاب جزوی تھے اور ان کی فکر دینے والا اور بر پا کرنے والے الگ الگ تھے ،پھر فکر دینے اور بپا ہو نے میں اچھا خاصا زما نی فصل ہے انقلاب فرانس جس فکر کے نتیجہ میں رونما ہوا ایک طویل عرصہ تک بے شما ر مصنفوںکی کتا بوں کے ذریعہ پھیلتا رہا اسی طرح انقلا ب روس کی اساس کارل مارکس کی کتا ب پر قائم ہوئی لیکن خود مارکس کی زندگی میں ایک گاؤں میں بھی انقلا ب کے عملا برپا ہونے کا امکان تک پیدا نہ ہو سکا ،مارکس جرمنی کا رہنے والا تھا اور انقلاب روس میں آیا اور اس کی موت کے تقریبا پچا س سال بعد آیا وہ بھی روس کے داخلی معاملا ت بگڑنے پر آیا غرض یہ کہ اس عالمگیر انقلاب کی تکمیل صرف ایک بار ہوئی اور وہ نبی کریم ﷺ کے دست مبارک سے ہوئی اور بعد میں رونما ہونے والے انقلابات نے بھی اس سے رہنمائی حاصل کی ،اس انقلا ب کی اسا س کیا تھی اور کس بنیا د پر یہ انقلا ب کا میابی کی منزل تک پہنچا ،اس انقلاب کے لئے کونسا نظریہ اور کونسی فکر اور ذہنی اختراعات نے کام کیا اس انقلاب کی فکر نظریہ اور فلسفہ وحی کے ذریعہ اللہ تعالی نے عطا فرما یا جبکہ دنیوی انقلابا ت انسانی ذہنوں کی پیداوار ہوتے ہیں پہلا نظریہ توحید کامل ترین اور خالص ترین توحید جس کی بنیاد قرآن حکیم ہے اس قرآن کے ذریعہ سے یہ انقلا بی نظریہ لوگوں کے سا منے آنا شروع ہوا اس حقیقت کو نہا یت سادہ اور سلیس انداز میںحالی نے بیان کیا :
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا سا تھ لا یا
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہا دی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
اور نہایت پر شکوہ الفاظ میں شا عر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ نے اس طرح بیان کیا:
در شبستان حرا خلوت گزید
قوم وآئین و حکومت آفرید
اس انقلابی نظریہ کی اول اساس و بنیاد قرآن ہے یعنی دعوت تبلیغ ،انداز ،تبشیر ،تذکیر،حتی کہ تزکیہ اور تربیت قرآن کے ذریعہ ہوئی ،اور نبی کریم ﷺ کی دعوت کا مرکز و محور اور منبع و سر چشمہ قرآن بنا پھر اس دعوت کے تین حصہ شما ر کئے گئے توحید ،رسالت ،آخرت ان میں جہاں تک نطام کا تعلق ہے وہ درحقیقت نظریہ تو حید پر ایمان ہے کیونکہ آخرت میں ایمان انسان کی سیرت و کردار کی تربیت اور صحیح تعمیر کی بینا د بنتا ہے نماز ،روزہ ،زکوۃ ،حج اصل میں اسی تربیتی مراحل کی چیزیں ہیں اشخاص کے سیرت و کردار کو اس خاص سانچہ میں ڈھا لنا جس میں ڈھل کر ایک صحیح اور درست اسلا می انقلا ب آسکے اس تربیت کا نا م ہے ،دل میں چھپے ہو ئے امراض اور روگوں کا مداوا اور علا ج بھی قرآن کریم کے ذریعہ ہی ہوا جس کے لئے قرآنی اور دینی اصطلا ح تزکیہ بنیاد قرار پا ئی ،الغرض ایمان بالآخرت انسان کے جذبہ عمل کو متحرک کر نیکا نہایت مؤثر عامل ہے جبکہ رسالت پر ایمان کا تعلق قانو ن سے ہے حضور ﷺ کو دل و جان سے رسول تسلیم کرنے اور آپ ﷺ کی دی ہو ئی تمام خبروں کی تصدیق کا نام ہی دراصل ایمان ہے اس کے بغیر ہم نہ توحید کو صحیح معنوں میں جان سکتے ہیں ،نہ آخرت کو مان سکتے ہیں اور نہ ہی اعمال صالحہ اور افعال سیئہ کو صحیح طور پر پہچا ن سکتے ہیں یہی مطلوب و مفہوم اور مقصود ہے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد مبارک کا، لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ تم میں سے کو ئی شخص مؤمن ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کی خواہش نفس اس ہدایت کے تابع نہ ہو جا ئے جو میں لے کر آیا ہوں ۔
پھر اس انقلا بی نظریہ اور دعوت کے متضمنات اس کے مضمرات و مقتضیات اور بدیہی نتائج و عواقب کیا تھے ؟جس کے بغیر اس انقلابی فکر کا صحیح ادراک و شعور نہیں ہو سکتا ،توحید کے ذریعہ سے انسانی حاکمیت کی کلی نفی کی گئی یہ سب سے بڑاعظیم انقلا بی نظریہ ہے جس کو مشرکین نے بھی تسلیم کیا ،اور انسانی حاکمیت کے بجا ئے خلافت کا تمغہ عنا یت کیا گیا ،ملکیت کی جگہ امانت کا تصور دیا گیا،کامل معاشرتی مساوات میں پرویا گیا، اس انقلابی تنظیم کی تشکیل و تنظیم کی اساس بھی قرآن نے بیان کی پہلی قرآنی اصطلاح بنیا ن مرصوص سیسہ پلائی ہو ئی دیوار ہے اس کے لئے بنیاد سمع و طا عت کو بنا یا گیا واسمعوا و أطیعوا اور تیسرا عنصر اس میںأشداء علی الکفار رحماء بینھم شامل کیا گیا جس سے یہ تنظیم ایک انقلا بی تنظیم بنی اور اس نے پہلے عرب پھر عجم کو فتح کیا اس سے بڑا انقلاب دنیائے انسانیت میں نہ کبھی آیا ہے نہ آئے گا اور یہ انقلا ب اس ایک شخص نے خدائی تمغہ کو ساتھ لے کر برپا کیا اب بھی اگر انقلا ب کی فکر اور اس کی ضرورت ہے تو اسی طرح سے تکمیل ہو سکتی ہے ورنہ اس کے بغیر کوئی انقلا ب تو درکنا ر معمولی تبدیلی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔
No comments:
Post a Comment