سیرت نبی پاک ﷺایک نظر میں
نام : محمد، احمد (صلی ﷲعلیہ وسلم )
لقب : آمین، صادق
والد : عبدا ﷲ
والدہ : آمنہ
دادا : عبد المطلب
قبیلہ : قریش
خاندان : بنی ہاشم
نکاح : ۲۵سال کی عمر میں حضرت خدیجہ ؓسے۔
نبوت : ۴۰سال کی عمر مبارک میں۔
نبوت کی جگہ : جبل نور پہاڑی کے غار حرا میں۔
پہلی وحی : سورۃ العلق کی ابتدائی ٥ آیتیں۔
مصائب و آزمائش:
نبی پاکؐ اور صحابہ کرامؓکو زبردست تکالیف و پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، نبی پاکؐ اور صحابہؓ طرح طرح سے ستائے جاتے لیکن اسلام کی دعوت و تبلیغ سے نہیں رکے۔
شعب ابی طالب میں محاصرہ :
مشرکین مکہ نے مل کر۳ سال تک بائکاٹ کیا ۔
عام الحزن :
۱۰نبوی میں پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے محبوب چچا حضرت ابو طالب اور وفا شعار بیوی حضرت خدیجہؓ کا انتقال، پیارے نبی صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے لیے یہ غم کا سال تھا ۔
معراج :
اﷲ نے راتوں رات پیارے نبیﷺ کو مکہ معظمہ سے مسجد اقصیٰ کا سفر کروایا، وہاں آپؐ نے تمام انبیاءؑ کی امامت فرمائی اور پھر وہاں سے ساتوں آسمان کی سیر فرمائی نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اورپنج وقتہ نماز کا تحفہ ا ﷲ نے عطا کیا۔
مکہ میں قیام : ۵۳ سال (نبوت کے بعد ۱۳ سال)
ہجرت : نبوت کے۱۳ سال بعد ا ﷲ کے حکم سے مکہ سے مدینہ ہجرت۔
مدینہ میں قیام : ۱۰سال۔
مواخات : مکہ سے مدینہ گئے ہوئے مسلمانوں (مہاجر) اور مدینہ کے مسلمانوں (انصار) کو آپس میں بھائی بھائی بنانا۔
جنگ بدر :
۲ہجری میں ۳۱۳مسلمانوں اور۱۰۰۰ مشرکین کے درمیان حق و باطل کی جنگ فرشتوں کے ذریعہ ا ﷲ کی غیبی مدد اور اہل حق کی جیت ۔
جنگ احد :
مشرکین مکہ کا بدر کا انتقام، حضرت حمزہؓکی شہادت، نبی پاکﷺ کے چار دندان مبارک شہید۔
غزوہ خندق یا احزاب :
مدینہ کے بہار اروں طرف خندق کھود کر کفار سے حنگ، مسلمانوں کے ساتھ ﷲ کی غیبی مدد و نصرت۔
غزوہ خیبر:
یہود اور مسلمانوں کی جنگ، مسلمانوں کی فتح، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری کے جوہر۔
صلح حدیبیہ:
مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح، مسلمانوں کی کھلی جیت، مسلمانوں اور مشرکین کا میل جول اسلامی اخلاق کا کفار پر زبردست اثر، بڑی تعداد اور اہم شخصیات کا قبول اسلام۔
فتح مکہ :
۸ ہجری میں مشرکین کا صلح حدیبیہ معاہدہ کی خلاف ورزی، مشرکین نے مسلمانوں کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ۱۰ہزار مسلمانوں کی فوج کا مکہ کی فتح ساتھ ہی رحم دلی کا ایسا مظاہرہ کے تمام مشرکین مکہ کو معافی کر دیا گیا۔
حجۃ الوداع :
۱۰ ہجری میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا آخری حج ، دین کی تکمیل۔
وفات :
۱۲ ربیع الاول ۱۱ہجری کو اس دار فانی سے ﷲ رب العزت کی بارگاہ میں حاضری، حضرت عائشہؓ کے سینہ پر سر مبارک رکھ کر روح پرواز کر گئی۔( صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم )
پاک دامن بیویاں :
۱-حضرت خدیجہؓ ۲-حضرت سودہؓ ۳-حضرت عائشہؓ
۴-حضرت حفصہؓ ۵-حضرت زینبؓ ۶-حضرت ام سلمہؓ
۷-حضرت ام حبیبہؓ ۸-حضرت زینبؓ بنت جحش
۹-حضرت صفیہؓ ۱۰-حضرت میمونہؓ ۱۱-حضرت جویریہؓ
پاک دامن بیٹیاں:
۱-حضرت زینبؓ ۲-حضرت رقیہؓ
۳-حضرت ام کلثومؓ ۴-حضرت فاطمہؓ
بیٹے:
۱-حضرت ابراہیمؓ ۲-حضرت قاسمؓ
۳-حضرت عبداﷲؓ (بیٹوں کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا)۔
حوالے :
۱-سیرت النبیؐ، از؛ علامہ شبلی
۲-سیرت رسول اکرمؐ، از؛ مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی
۳-اﷲ کے رسولؐ،از؛ حکیم شرافت حسین
۴-رحمۃ للعالمینؐ، از؛ قاضی سلیمان منصور پوری
۵-رحمت عالمؐ، از؛ علامہ سید سلیمان ندوی
نام : محمد، احمد (صلی ﷲعلیہ وسلم )
لقب : آمین، صادق
والد : عبدا ﷲ
والدہ : آمنہ
دادا : عبد المطلب
قبیلہ : قریش
خاندان : بنی ہاشم
نکاح : ۲۵سال کی عمر میں حضرت خدیجہ ؓسے۔
نبوت : ۴۰سال کی عمر مبارک میں۔
نبوت کی جگہ : جبل نور پہاڑی کے غار حرا میں۔
پہلی وحی : سورۃ العلق کی ابتدائی ٥ آیتیں۔
مصائب و آزمائش:
نبی پاکؐ اور صحابہ کرامؓکو زبردست تکالیف و پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، نبی پاکؐ اور صحابہؓ طرح طرح سے ستائے جاتے لیکن اسلام کی دعوت و تبلیغ سے نہیں رکے۔
شعب ابی طالب میں محاصرہ :
مشرکین مکہ نے مل کر۳ سال تک بائکاٹ کیا ۔
عام الحزن :
۱۰نبوی میں پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے محبوب چچا حضرت ابو طالب اور وفا شعار بیوی حضرت خدیجہؓ کا انتقال، پیارے نبی صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے لیے یہ غم کا سال تھا ۔
معراج :
اﷲ نے راتوں رات پیارے نبیﷺ کو مکہ معظمہ سے مسجد اقصیٰ کا سفر کروایا، وہاں آپؐ نے تمام انبیاءؑ کی امامت فرمائی اور پھر وہاں سے ساتوں آسمان کی سیر فرمائی نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اورپنج وقتہ نماز کا تحفہ ا ﷲ نے عطا کیا۔
مکہ میں قیام : ۵۳ سال (نبوت کے بعد ۱۳ سال)
ہجرت : نبوت کے۱۳ سال بعد ا ﷲ کے حکم سے مکہ سے مدینہ ہجرت۔
مدینہ میں قیام : ۱۰سال۔
مواخات : مکہ سے مدینہ گئے ہوئے مسلمانوں (مہاجر) اور مدینہ کے مسلمانوں (انصار) کو آپس میں بھائی بھائی بنانا۔
جنگ بدر :
۲ہجری میں ۳۱۳مسلمانوں اور۱۰۰۰ مشرکین کے درمیان حق و باطل کی جنگ فرشتوں کے ذریعہ ا ﷲ کی غیبی مدد اور اہل حق کی جیت ۔
جنگ احد :
مشرکین مکہ کا بدر کا انتقام، حضرت حمزہؓکی شہادت، نبی پاکﷺ کے چار دندان مبارک شہید۔
غزوہ خندق یا احزاب :
مدینہ کے بہار اروں طرف خندق کھود کر کفار سے حنگ، مسلمانوں کے ساتھ ﷲ کی غیبی مدد و نصرت۔
غزوہ خیبر:
یہود اور مسلمانوں کی جنگ، مسلمانوں کی فتح، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری کے جوہر۔
صلح حدیبیہ:
مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح، مسلمانوں کی کھلی جیت، مسلمانوں اور مشرکین کا میل جول اسلامی اخلاق کا کفار پر زبردست اثر، بڑی تعداد اور اہم شخصیات کا قبول اسلام۔
فتح مکہ :
۸ ہجری میں مشرکین کا صلح حدیبیہ معاہدہ کی خلاف ورزی، مشرکین نے مسلمانوں کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ۱۰ہزار مسلمانوں کی فوج کا مکہ کی فتح ساتھ ہی رحم دلی کا ایسا مظاہرہ کے تمام مشرکین مکہ کو معافی کر دیا گیا۔
حجۃ الوداع :
۱۰ ہجری میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا آخری حج ، دین کی تکمیل۔
وفات :
۱۲ ربیع الاول ۱۱ہجری کو اس دار فانی سے ﷲ رب العزت کی بارگاہ میں حاضری، حضرت عائشہؓ کے سینہ پر سر مبارک رکھ کر روح پرواز کر گئی۔( صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم )
پاک دامن بیویاں :
۱-حضرت خدیجہؓ ۲-حضرت سودہؓ ۳-حضرت عائشہؓ
۴-حضرت حفصہؓ ۵-حضرت زینبؓ ۶-حضرت ام سلمہؓ
۷-حضرت ام حبیبہؓ ۸-حضرت زینبؓ بنت جحش
۹-حضرت صفیہؓ ۱۰-حضرت میمونہؓ ۱۱-حضرت جویریہؓ
پاک دامن بیٹیاں:
۱-حضرت زینبؓ ۲-حضرت رقیہؓ
۳-حضرت ام کلثومؓ ۴-حضرت فاطمہؓ
بیٹے:
۱-حضرت ابراہیمؓ ۲-حضرت قاسمؓ
۳-حضرت عبداﷲؓ (بیٹوں کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا)۔
حوالے :
۱-سیرت النبیؐ، از؛ علامہ شبلی
۲-سیرت رسول اکرمؐ، از؛ مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی
۳-اﷲ کے رسولؐ،از؛ حکیم شرافت حسین
۴-رحمۃ للعالمینؐ، از؛ قاضی سلیمان منصور پوری
۵-رحمت عالمؐ، از؛ علامہ سید سلیمان ندوی
No comments:
Post a Comment