قربانی -فضائل اوراحکام ومسائل
![]() |
قربانی -فضائل اوراحکام ومسائل
مولانا کفیل احمد ندوی
|
قربانی چونکہ اللہ کے تقرب اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے ہوتی ہےاس لیےاُسے قربانی کہا گیا ہے، جہاں تک اللہ کے حکم پر جانور کو ذبح کرنے،اور اِس طرح اللہ تعالی کا قرب ورِضا حاصل کرنے کا تعلق ہے تو اِس کا سلسلہ بہت قدیم ہے،اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ”ھابیل“ اور ”قابیل“ کی قربانی کا ذکر کیا ہے۔
یہود کی یہ بات اللہ نے قرآن میں ذکر کی کہ انہوں نے کہا کہ جب تک کہ یہ رسول، مقبول قربانی پیش نہ کردیں،اوراُسکوآسمانی آگ آکرنہ کھاجائے ہم انکی رسالت ونبوت کوتسلیم نہیں کریں گے۔(آل عمران: ١٨٣)
قربانی کارواج ہردورہرزمانہ ہرقوم اورہرملت وامت میں رہاہے، تمام آسمانی کتابوں میںاورہرنبی ورسول کوقربانی کاحکم دیاگیاتھا، قربانی کا تعلق ہر دور ہر زمانہ اور ہر شہروملک سے رہا ہے، یہودونصاری اورہندوؤں کے یہاں بھی جانور کو قربان کرنے کا تصور رہا ہے،اللہ نے قرآن میں فرمایا:
وَلِکُلِّ أُمَّۃٍجَعَلْنَا مَنْسَکَا(الحج: ٣٤ )
زمانہ جاہلیت میں جنات وشیاطین،بتوں، دیویوں اور دیوتاؤں کو خوش کرنے،اوراُنسے اپنی مرادیں پوری کرانے کے لئے جانورذبح کرناعام معمول تھا،کفارومشرکین،شرکیہ اڈوں، آستھانوں اور بت خانوں پر جانوروں کو ذبح کرتے تھے، زمانہ جاہلیت میں ایک قربانی”فرع“ کے نام سے ایک قربانی ”عتیرہ“ کے نام سے اورایک ”رجبیہ “ کے نام سے مشہورتھی،اونٹنی کے پہلے بچہ کوبتوں کے نام پرذبح کرتے تھے اُسے ”فرع “کہاجاتاتھا، رجب کے مہینہ میں بتوں کے نام پرجوقربانی کرتے اسکو ”رجبیہ“ اور ”عتیرہ “ کہتے تھے،اسلام کے آنے کے بعد غیراللہ کے نام پرکی جانے والی اِس طرح کی تمام قربانیاں ناجائز وحرام قراردےدی گئیں:وَمَاأھِلَّ لِغَیْرِاللّٰہِ بِہ۔(االمائدہ : ٣)
قربانی کی فضیلت واہمیت جہاں تک ”ذی الحجہ“ کی دس تاریخ کو عید الاضحی کے موقع پر جانور کو قربان کرنے کی مشروعیت کا سوال ہے تو اِس کی ابتداء حضرت ابراہیمؑ کی اُس تاریخی،حیرت انگیز،اور نادرہ روزگار قربانی سے ہوئی جب اُنہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے لختِ جگراور نورِ نظر حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کی پوری کوشش کرلی تھی،اُس وقت حضرت ابراہیمؑ کاامتحان مقصودتھا،انکی تمام محبتوں، الفتوں، دلچسپیوںاورتعلقات کارخ اللہ کی طرف موڑناتھا،جب یہ مقصدپوراہوگیا اوروہ امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اسماعیلؑ کی جگہ جنت کامینڈھاذبح کردیاگیا، لیکن حضرت ابراہیمؑ کی اُس قربانی کو بعدوالوں کے لئے اسوہ ونمونہ،اورقابلِ تقلید عمل قراردےدیاگیا،اورامت محمدیہ علی صاحبہاالف الف تحیۃ وسلام کا،حضرت ابراہیمؑ سے خاص روحانی ومعنوی ربط وتعلق پیداکیاگیا اوراِس امت کو انکی ہرہر اداءکے اختیارکرنے کاحکم ہوا:وَاتَّبِعْ مِلَّةَ اِبرَاھیْمَ حَنِیفا۔(النحل: ١٢٣)
مِلَّةَ أبِیْکُمْ إبراھِیْم ھُوَسَمَّاکُمُ المُسْلِمِین۔
(الحج: ٧٨)
قربانی حضرت ابراہیمؑ کی بھی سنت ہے اورحضرت محمد مصطفیؐ اوردیگرنبیوں کی بھی سنت ہے،کتاب وسنت قربانی کی اہمیت وفضیلت اوراسکےاجروثواب کے ذکرسے بھرے ہوئے ہیں، اس بارے میں بےشمارآیاتِ قرآنیہ کے علاوہ احادیث نبویہ حدتواترکوپہونچی ہوئی ہیں،قربانی،نمازوروزہ کی طرح ہجرتِ مدینہ کے دوسرے سال مشروع ہوئی۔
(الفقہ الإسلامی وأدلتہ-ج: ٣ ص ٥٩٤)
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا:”إنَّا أعْطیْناکَ الکوْثرَ فصَلِّ لِرَبِّکَ وانْحرْ“
(الکوثر: ٢)
علماء فرماتے ہیں کہ اس جگہ"فَصَلِّ لِرَبِّکَ"سے عید کی نماز مراد ہے اور "وانْحرْ" کے ذریعے قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔(ابن کثیر-تفسیرسورۃ الکوثر)
اور چونکہ "وانْحر" امر ہے اس سے قربانی کے وجوب کے قائل علماء استدلال کرتے ہیں،ایک جگہ اللہ نے فرمایا:
قُل إنَّ صَلاتِی وَنُسُکی ومَحْیای ومَمَاتِی لِلّٰہ ربِّ العَالَمِیْن(الأنعام: ١٦٢)
میری نماز میری قربانی میراجینااورمرناسب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔
ایک حدیث میں حضور ﷺ نےارشاد فرمایا: ” جو شخص وسعت کے باوجودقربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ “(سنن ابن ماجہ:باب الأضاحی)
ایک دوسری حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
”عیدالاضحی کے دن اللہ کے نزدیک کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔“
(سنن 1الترمذی: باب ماجافی الأضحی)
ایک حدیث میں قربانی کے اجرکواِن الفاظ میں بیان کیاگیا: ” قربانی کے جانورکے ہربال کے بدلہ ایک نیکی ملتی ہے۔ “(ابن ماجة: باب ثواب الأضحیة)
بہرحال قربانی ایک محبوب وپسندیدہ عمل ہے ، یہ اسلام کی پہچان وشعار ہے تمام نبیوں کی سنت ہے، حضورؐ نے قیامِ مدینہ کے دوران ہرسال قربانی کی، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ” حضورؐ دومینڈھوں کی قربانی کرتےتھے میں بھی دوہی مینڈھوں کی کرتاہوں۔ “(بخاری:٥٥٥٣،مسلم: ١٩٦٦)
حضرت ابن عمرؓفرماتے ہیں کہ حضورؐ نے مدینہ میں دس سال قیام کیا،اس دوران آپؐ نےہرسال قربانی کی۔
(ترمذی: ابواب الاضاحی)
صحابہ کرام وتابعین کامعمول بھی ہمیشہ قربانی کا رہا ہے، حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: ہم نے حدیبیہ کے سال حضورؐ کے ساتھ ایک اونٹ سات لوگوں کی طرف سے،اورایک گائےسات لوگوں کی طرف سے قربان کی۔اسلام کی تاریخ میں کبھی بھی کسی مشکل ودقت کےوقت یا معاشی تنگی کی وجہ سے قربانی کاعمل ترک نہیں کیاگیا ”جواھر الاکلیل“ میں لکھاہے کہ اگرکسی شہرکے لوگ قربانی ترک کردیں تو ان سے قتال کیاجائے گا،قربانی کی مشروعیت کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے انسان کوعطاکردہ متعدد نعمتوں، سالِ گزشتہ سےاس سال تک انسان کوزندگی بخشنے،انسان کی سیئات کومعاف کرنے اورقربانی کی وسعت دینے پراللہ کاشکراداکیاجائے۔
(الفقہ الأسلامی وادلتہ- ج ٣-ص ٥٩٥)
قربانی کا حکم
قربانی کی مشروعیت پر تو سب کا اتفاق ہے، لیکن اُس کی حیثیت اور حکم میں اختلاف ہے،امام ابو حنیفہ، ربیعہ، لیث بن سعد،اوزاعی،اورامام احمد کی ایک روایت میں قربانی واجب ہے،جب کہ حضرت ابوبکر ،حضرت عمر،حضرت بلال،ابومسعودبدری رضی اللہ عنھم اورسعیدبن مسیب، علقمہ، اسود، امام مالک،امام احمد اورشافعی کے نزدیک قربانی سنت ہےاور ابویوسف ومحمدکے نزدیک سنت موکدہ ہے،یاد رہے کہ یہ اختلاف مالدار یعنی صاحب نصاب کے تعلق سے ہے، اگر انسان صاحب نصاب نہیں ہے توکسی کے نزدیک کوئی حکم نہیں ہے۔(شرح مسلم للنووی-ج: ٢ ص:١٥٣-کتاب الأضاحی-باب وقتھا،اورشیخ ابن عثیمینؒ کی تصنیف” أحکام الأضحیة والذکاة“ص ٥ تا٢٠)
قربانی کے وجوب کی شرطیں
کسی بھی شخص پرقربانی واجب ہونے کے لئے چارشرطوں کاپایاجاناضروری ہے:
(۱)مسلمان ہونا،کافر وغیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ہے۔
دلیل:-لأنھا قُرْبَةُٗ والکافِرُ لیْس منْ أھْلِ القُرْبِ۔
(۲)آزاد ہونا،غلام پر قربانی واجب نہیں ہے۔
دلیل:- لأنّ العبْدَلایمْلِک۔
(۳)مقیم ہونا، مسافر کے لیے قربانی کا حکم نہیں ہے۔
دلیل:-عن علی موقوفا”لیس علی الْمسافِر أُضْحِیة۔
(۴)مالدار وصاحب نصاب ہونا،اگرکوئی شخص صاحب نصاب ہے مالدار ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، اگرصاحب نصاب نہیں ہےتوقربانی واجب نہیں،صاحبِ نصاب وہ شخص ہوتاہے جس کے پاس گھراورگھرکےضروری سامان اورروزمرہ استعمال میں آنے والی اشیاء کےعلاوہ سونا،چاندی،زمین،مالِ تجارت، یانقدروپیہ سب ملاکراتنی مقدارکوپہنچ جائے کہ جس سے ساڑھےباون تولہ چاندی خریدی جاسکےتوایساشخص صاحب نصاب ہے،اب جوبھی مردوعورت اتنی مالیت کامالک ہوتواس پرقربانی واجب ہے،یادرہے کہ وجوب قربانی میں قربانی کےآخری وقت کااعتبارہے،اس لئے اگرکوئی شخص ١٣ ذی الحجہ کوبھی غروب سےقبل صاحبِ نصاب ہوگیاتواس پر قربانی واجب ہوگی۔
(”المحلی بالآثارلإبن حزم“ج٦: ص٣٧)
مزیدتفصیل اورائمہ کے اختلاف ودلائل کے لئے دیکھیں:
(الفقہ الإسلامی وأدلتہ“ج٣ص-٦٠٣ تا٦٠٥)
قربانی کےجانور
جب کوئی صاحبِ نصاب شخص قربانی کا ارادہ کرے توسب سے اہم مسئلہ جانورکی خریداری کا ہوتا ہے، شریعت نے قربانی کے جانور،انکےخصائص اورعمریں طے کر دی ہیں،قربانی کے جانور صرف آٹھ جوڑے ہیں،یعنی حلال جانوروں میں سے بھی صرف ان ہی آٹھ کی اجازت ہے اور انمیں سے بھی صرف چوپایوں اور پالتو(گھریلو)کی اجازت ہے جنگلی کی نہیں،اللہ تعالی کاارشاد ہے:
”ثٙمٙانِیةَأزواج مِنَ الضّأنِ اثْنْینِ ومِنَ المعْزِاثْنیْن ومِنالإبلِ إثْنیْن ومن البَقَرِإثْنیْنِ “(الأنعام: ١٤٣ و١٤٤)
یہ آٹھ جانورہیں،دوبھیڑوں میں سے،اوردوبکریوں میں سے، دوانٹوں میں سے اوردوگائیوں میں سے،علماءمحققین بھینس کوگائے کی قسم میں شمارکرتے ہیں،اس لئے اسکی قربانی بھی بلاکراھت جائز ہے،ائمہ کااس بارے میں اختلاف ہے کہ کس جانورکی قربانی سب سےافضل وبہترہے،ائمہ جمہور، اورابوحنیفہ کی رائےیہ ہے کہ سب سے افضل اونٹنی کی پھراونٹ کی،پھرگائے کی پھربیل کی،پھربھیڑاورپھربکری کی ہے، احناف کے یہاں اونٹنی کی اونٹ سے اورگائے کی بیل سے افضل ہے۔(”أحکام الأضحیة والذکاة“ لإبن عثیمین ص ٢٤تا٣٠)
جانوروں کی عمریں
شریعت نے قربانی کےجانوروں کی عمربھی طے کردی ہے تاکہ کسی شخص کواپنی عقل لڑانے کاموقع نہ مل سکے،اونٹ اوراونٹنی کاپانچ سال سے اوپرہوناضروری ہے،گائے بیل بھینس اورپڑوے میں دوسال کاہونالازم ہے،بکرابکری،بھیڑ اودنبہ کے لئےایک سال کاہوناضروری ہے،دنبہ اوربھیڑمیں یہ گنجائش ہے کہ اگریہ چھ ماہ ہی میں اتنے موٹےتازے ہوجائیں کہ سال بھرکے معلوم ہونے لگیں توان دونوں کی قربانی درست ہوگی، قربانی کے لئے ایسے جانورکاانتخاب کیاجائے جوموٹاتازہ قیمتی ومہنگااورخوبصورت ہو، تمام عیوب ونقائص اورامراض وبیماریوں سے پاک ہو، کامل الخلقت ہو، حضوؐ قربانی کے لئے بہترسے بہتر جانور خریدتےتھے۔
(شرح مسلم للنووی ج: ٢-کتاب الأضحیة)
قربانی کے جانوروں میں شرکاءکی تعداد
بکرا بکری اور بھیڑ و دنبہ صرف ایک شخص کی طرف سے کافی ہوگا،اونٹ اونٹنی،گائے بیل، بھینس اورپڑوے میں سات لوگ شریک ہوسکتے ہیں، بعض علماءکے نزدیک گائے اوراونٹ وغیرہ میں دس لوگ بھی شریک ہوسکتے ہیں،امام مالک کے نزدیک بکرا بکری اور بھیڑ و دنبہ آدمی کی طرف سے اوراسکے گھرکے ایسےلوگوں کی طرف سے کافی ہوجائے گا جن کانفقہ شرعااس پرعائدہے۔
(فقہ السنة-ج:٣-ص ١٩٢،وأحکام الأضحیة والذکاة-ص ٢٤ تا٣٠)
قربانی کے جانورکی خدمت
جب کسی شخص نے قربانی کے لیےجانور خریدلیاتواب وہ قربانی کے لیے مخصوص ہوگیا، اب اسکوگھرلاکرباندھنا،اسکی خدمت کرنا،اسکوکھلاناپلانا،موٹاتازہ کرنا، اسکے نشان لگانااورگلے میں قلادہ ڈالنامسنون ومستحب اور باعث اجروثواب ہے،جمہورقربانی کے جانورکے موٹا کرنے کوجائزقراردیتے ہیں اورامام مالک ناجائزقراردیتے ہیں،اس طرح خدمت کرنے سے جانورکی محبت پیداہوگی اورقربانی کےشوق ورغبت میں اضافہ بھی ہوگا۔
(الفقہ الاسلامی وأدلتہ-ج:٣-ص ٦٢٤)
قربانی کےارادہ سے خریدےگئے جانورکوبیچنا،ملکیت سے خارج کرنا،صدقہ یاھبہ کرنا، ذاتی استعمال میں لانا،اس پرسوارہونا،کھیت میں استعمال کرنا،اسکےبال یااون کاٹنا، یا دودھ دوہ کرپیناناجائز ومکروہ ہوگا۔(شرح مسلم للنووی-ج٢:ص-١٥٥-کتاب الأضاحی)
قربانی کے ایام اوراوقا ت
قر بانی کے وقت میں اول دو طرح کا اختلاف ہے،ایک تو اِس میں کہ قربانی کے ایام تین ہیں یاچار،امام ابو حنیفہؒ،مالکؒ اور احمدؒ کے یہاں قربانی کے تین دن ہیں ،دس،گیارہ اور بارہ، امام شافعیؒ کے نزدیک قربانی کے چار دن ہیں،اُن کے نزدیک ١٣ذی ا لحجہ تک قربانی ہو سکتی ہے۔
یہ قول حضرت علیؓ ،حضرت ابن عباسؓ،جبیربن مطعمؒ،حسن بصریؒ،عطاء،عمربن عبدالعزیز،سلیمان بن موسی الاسدی، مکحول اوزاعی اوردائودظاہری کابھی ہے۔
اس پر سب کااتفاق ہیکہ دس ذی الحجہ کو زوال سے پہلے پہلےقربانی کرنا سب سے افضل ہے، اسی طرح ذی الحجہ کی دس تاریخ کو قربانی کے اول وقت میں بھی اختلاف ہے، اِس میں امام ابوحنیفہ نے اہل سواداور اہل حضرمیں فرق کیا ہے،اہلِ حضر جہاں عیدکی نماز پڑھی جاتی ہے،وہاں نمازِعید اور خطبہ کے بعد قربانی جائز ہوگی،اِس میں امام مالک کہتے ہیں کہ اھلِ شہر کے لیے اُس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک کہ امام نماز وخطبہ،اوراپنی قربانی سے فارغ نہ ہوجائے، امام احمد کے نزدیک امام کی نماز کے بعد قربانی کا جواز ہوگا،اور جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی ہو وہاں طلوعِ صبح صادق کے بعد قربانی جاسکتی ہےلیکن سورج نکلنے کے بعد کرنا مستحب وافضل ہے،امام شافعی کےیہاں یہ حکم عام ہے،وہ کہتے ہیں کہ طلوعِ فجر کے بعد جب ایک نماز اوردو خطبوں کا وقت گزر جائےتو سب کے لیے قربانی جائز ہے،اِس میں شہری یا دیہاتی،اور امام کے ذبح کرنے یا نہ کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھیں؛
نووی شرح مسلم-ج٢:ص١٥٣،کتاب الاضاحی اورسیدسابق کی”فقہ السنہ“ج٣:ص-١٩٢اور”الفقہ الاسلامی وأدلتہ“ج:٣ ص-٦٠٥تا٦١١)
ذبح کی حکمتیں اوراسلام کی اصلاحا ت
اسلام سے قبل ذبح کے حوالے سے بھی بہت سی بےاعتدالیاں پائی جاتی تھیں جوآج بھی موجودہیں،اسلام نے لوگوں کوذبح کے اصولِ حسنہ تلقین کئے،جانور کا ذبح کرنا اِس لئے ہوتا ہےتاکہ اُس کا فاسد خون اور گندی رطوبات نکل جائیں، خون نکل جانے سے گوشت پاک ہوجاتاہے،اِس طرح شرعی طریقہ کےمطابق جانورکے ذبح کرنے کو''نحْر'' ”ذبْح“ اور ”ذکاۃ“ کہتے ہیں، ذکاۃ کے معنی طیب کے ہیں کہ اُس سے گوشت پاک ہو جاتا ہے، ذبح دو طرح کا ہوتا ہے، ذبحِ اختیاری اورذبحِ اضطراری، ذبحِ اضطراری میں اگرجانوربےقابوہوجائےتو مقررہ جگہ سے ذبح کرنا ضروری نہیں بلکہ بسم اللہ پڑھ کر ہتھیار چلا دیا جائے جس سے خون نکل جائے تو جانورحلال ہوجائے گا، بہرحال حلال جانور کو شرعی طریقہ کے مطابق ذبح کرنے کے لئےنو(٩) شرطوں کا ہوناضروری ہے،اگر جانور حلال ہےلیکن ذبح کے وقت ان نو شرطوں میں سے کسی ایک کا بھی خیال نہ رکھا گیا،ایک شرط میں بھی کوتاہی ہوئی تب بھی جانور حرام اور مردار کے حکم میں ہوگا،ذبح کا حکم اور یہ شرائط، ذبحِ شرعی کو ذبحِ حرام سے مُمَیِّزکرنےوالے بھی ہیں اور اِس طرح ذبح کرنے سے اسلام کا اظہار بھی ہوتا ہے،گوشت بھی پاک ہو جاتا ہے، اگرجانورکوذبح نہ کیاجائے تو خون کے بقاء کی وجہ سے گوشت ناپاک ہی رہتا ہے،ذبح کے نوشرائط حسبِ ذیل ہیں ؛
ذبح کےشرائط:
(۱)ذبح کرنے والا مُمَیِّزوعاقل ہو، ایساعاقل وسمجھدار کہ ذبحِ شرعی کا قصد و ارادہ کر سکتا ہو،اس لئے جو شخص با شعور نہ ہو،بلکہ مجنون ہو بچہ ہو یا نشے میں ہو، یاایسابوڑھاہو جس کے حواس باقی نہ ہوں تو ایسوں کاذبیحہ درست نہ ہو گا،قصد تذکیہ کی شرط”إلاّماذکیتمْ “(المائدة: ٣) کی وجہ سے ہے، قرآنی آیت کے اس حصہ سے سے ذبح کے قصد کا ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
(۲)ذبح کرنے والا مسلم ہو، مجوسی،پارسی،ہندو یا کسی بھی غیر مسلم کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا،ان سب کاذبیحہ حرام ہے،جہاں تک اہل کتاب کے ذبیحہ کا تعلق ہے تو آیت کریمہ”وٙطٙعٙامُ الّٙذِینٙ اُوتُوالْکِتٙابٙ حِلُّٗ لّٙکُمْ وٙطٙعٙامُکُمْ حِلُّٗ لّٙھُمْ“ (المائدة: ٥)کی وجہ سے انکاذبیحہ حلال ہوگا،یہ حکم اُس وقت ہے جب اہل کتاب صحیح دین پرعامل ہوں،اگروہ شرک وکفرمیں ملوث ہوں توانکاذبیحہ حلال نہ ہوگا موجودہ اہل کتاب کایہی حکم ہے۔
(۳) ذبح کرتے وقت ذبح کی نیت کی جائے،اگر ذبحِ شرعی کی نیت نہ کی توجانور حلال نہ ہوگا،اس کی مثال یہ ہے کہ کسی جانور نے کسی شخص پر حملہ کیا اب اس نے اپنے دفاع و بچائوکی نیت سے حملہ آورجانور کو ذبح کردیا،حملہ کرنے والے جانورپر اپنے دفاع کے لئے گولی چلا دی،یا کسی چیز کو کاٹنے یا مارنے کے لیےچھری یا گولی چلائی جو جانور کولگ گئ تب بھی جانور حلال نہ ہوگا۔
(۴) چوتھی شرط یہ ہے کہ غیر اللہ کے لئے،غیر اللہ کو راضی اور خوش کرنے کے لئے ذبح نہ کیاجائے،جیسے بتوں،دیویوں، اوردیوتاؤں کے نام پر ذبح کرنا، بزرگوں کےنام پر،کسی بادشاہ کسی ولی،یاکسی جن کو خوش کرنے کے لئے،یا کسی کی تعظیم میں ذبح کرنایا والدین کی عظمت کی خاطر ذبح کرنا،اس نوع کے سبھی ذبیحے” وماذُبِحَ عَلیَ النُّصُبْ“(المائدة: ٣) کی وجہ سے مردارکےحکم میں ہوں گے۔
(۵) غیر اللہ کے نام پر ذبح نہ کرنا،یعنی ذبح کے وقت صرف اللہ کا نام لیاجائے،کسی دوسری ذات کانام نہ لیاجائے مثلا ” باسم النبی“ ” باسم محمد “ ” باسم الشیخ عبدالقادر “ ” باسم جبرئیل “ اس طرح غیراللہ کے نام پرذبح کئے گئے جانورمردارکےحکم میں ہوں گے۔
(۶)ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیاجائے اللہ کانام پکاراجائے "واذْکروااسْمَ اللہ علیہ"(المائدة:٤) اگر قصدا بسم اللہ ترک کی توامام ابوحنیفہ کےنزدیک جانورمردارکےحکم میں ہوگا۔
(۷)ایسے دھاردارآلہ سے ذبح کیاجائے جومطلوبہ رگوں اور نالیوں کو کاٹنے والا ہو اور خون بہانے والا ہو،جیسے چھری،چاقو، تلوار،پتھر،شیشہ،تیز دھار والی لکڑی بانس وغیرہ، ناخن اور دانت جسم سے جداہوں توابوحنیفہ کےنزدیک ان سے ذبح کرناجائزہے اوراگرجسم سے لگے ہوں تو انسے ذبح کرنا حرام ہے۔
(۸)مطلوبہ رگوں اور نالیوں کو کاٹنا،یہ چار نالیاں ہیں؛ (۱)حلقوم:سانس کاراستہ جس کے کٹنے سے سانس بند ہو جاتا ہے۔ (۲) مری: یہ کھانے اورپانی کی نلی ہے، اسکےکٹنے سے کھانااورپانی اندرجانابندہوجاتاہے۔(۳) وَدْجَیْن: خون کی دوموٹی اوربھاری رگیں جوحلقوم کوگھیرے ہوئے ہوتی ہیں،یہ چاروں ہی کٹ جائیں توزیادہ بہترہے لیکن تین کاکٹناشرط ہے،امام ابوحنیفہ کے نزدیک حلقوم،مری اورخون کی ایک رگ کا کٹنا ضروری ہے،امام شافعی کے نزدیک حلقوم اورمری کا کٹناواجب اورودجین کاکٹنامستحب ہے،امام مالک کے نزدیک حلقوم اورودجین کاکٹناشرط ہےمری کانہیں،لیث،ابو ثور اورابن المنذرکےنزدیک چاروں کاکٹناضروری ہے۔
(۹)نویں شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والے کو ذبح کی اجازت دی گئی ہو،ممنوع جانوردوطرح کے ہیں،ایک وہ جن کا حق اللہ کےطورپرذبح کرناممنوع ہو، جیسے کہ احرام کی حالت میں ذبح کرناسب کے نزدیک ممنوع ہے، دوم یہ کہ حق آدمی جانورسے متعلق ہو ایسے جانورکو اُسکےمالک کی اجازت کے بغیرذبح کرنا حرام ہے، غرض کہ جانورکے حلال ہونے کے لئے ضروری ہےکہ اسمیں کسی دوسرے کاحق متعلق نہ ہو۔
یہ ذبح کے نو(۹) شرائط ہیں جنکی رعایت لازم وضروری ہے ، ذبح کے وقت اگر مذکورہ شرائط میںسےایک میں بھی کوتاہی کی گئی اورکوئی شرط چھوٹ گیا توجانورمردارہوجائے گا۔
(تفصیل کے لئے دیکھیں ”فقہ السنہ“ج: ۳ص ۱۸۳ تا ۱۸۵اورابن عثیمینؒ کی ”أحکام الاضحیہ والذکاۃ“ص ۵۶ تا۸۷)
ذبح کے آداب ومستحبات
ذبح کے کچھ آداب ومستحبات بھی ہیں جنکی کی رعایت بہتر، مستحب اور افضل ہے،اگرانکی رعایت نہ کی جائے تب بھی قربانی درست ہوگی:
(۱)جانور کو مذبح کی طرف آہستہ آہستہ اورنرمی کے ساتھ پہونچایاجائے ،کھینچ کرنہ پہنچایاجائے۔
(۲)ذبح کے وقت جانور کو قبلہ کی طرف منھ کرکے اِس طرح لٹایاجائے کہ اُسکے پچھلے دونوں پیراور اگلا ایک پیر بندھاہوا ہو، ذبح کے وقت جانورکوبائیں پہلو پر لٹایاجائے کیونکہ اِس طرح ذبح کرنا اسہل وآسان ہے،ذبح کرنے والاکارخ بھی جانب قبلہ ہو۔
(۳) اونٹ کو کھڑا کر کے اور غیر اونٹ کو لٹا کر ذبح کیا جائے، انٹ کوبٹھاکربھی ذبح کیاجاسکتاہے۔
(۴)اونٹ میں نحر اور دیگر جانوروں میںذبح مستحب ہے ، اونٹ میں ذبح اوردیگر میں نحرکابھی جوازہے۔
(۵)چھری تیز ہواورذبح کے وقت سرعت،تیزی اورقوت کے ساتھ چلائی جائے۔
(۶) ایک جانور کو دوسرے کے سامنے ذبح نہ کیاجائے اور نہ ہی جانور کے سامنے چھری تیزکی جائے،چھری چھپاکرلائی جائے تاکہ جانورکی نظرچھری پر نہ پڑسکے۔
(۷)جانورکو اس طرح ذبح کیاجائے کہ ذابح وجانور دونوں جانب قبلہ ہوں،ذبح کرنے والا جانورکے سر کو پکڑ لے اور سر کو اٹھا لے،ذبح کے بعد اگرجانور حرکت کرے تو اسکی حرکت کونہ روکاجائے کیونکہ اِس طرح خون پوری مقدار میں نکل جاتا ہے۔
(۸) چاروں رگوں کو اچھی طرح کاٹاجائے۔
(۹) ذبح کے وقت بسم اللہ کے بعد تکبیر کا اضافہ کیاجائے اوراس طرح دعاپڑھی جائے” بسم اللہ واللہ أکبر “ اس موقع پردرودنہ پڑھاجائے کیونکہ یہ درود کامقام نہیں ہے۔
(۱۰)ذبح کے وقت حصہ داروں کے نام لئے جائیں، حضورؐ ذبح کے وقت دعافرماتے تھے؛”اللھم ھذاعنی وعن لم یضح من امتی“
(۱۱)ذبح کے وقت قبولیت کی دعا کی جائے، حضورؐ اس طرح دعافرماتے تھے؛” اللھم تقبل منی کما تقبلت من حبیبک محمد وخلیلک ابراھیم علیہ السلام“
(۱۲)جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے اسکی گردن جدانہ کی جائے نہ کھال اتاری جائے ، ایساکرناکروہ ہے۔
(۱۳)جواچھی طرح ذبح کرسکتاہواسکےلئےمسنون ومستحب یہی کہ اپنے ہاتھ سے جانورکوذبح کرے،اگرخودذبح نہ کرسکےتودوسرےسے کروالے لیکن جانورکےذبح کے وقت موجودرہے اورذبح کے عمل کامشاہدہ کرے۔
(أحکام الأضحیة والذکاة لإبن عثیمین ص ٨٨ تا٩٣)
مکروہاتِ ذبح
(۱)غیر دھار آلے سے ذبح کرنامکروہ ہے۔
(۲)گردن کو روح نکلنے سے قبل جداکرنایاکھال اتارنا۔
(۳)جانور کے سامنے دھار تیز کرنا۔
(۴) ایک جانورکو دوسرے کے سامنے ذبح کرنا۔
(۵)قبلہ کے علاوہ کسی دوسری طرف رخ کرنا، یہ سب مکروہات ہیں جن سے احتیاط واجتناب بہتر ہے۔
(یہ سارے مکروہات احادیث سے ثابت ہیں ،تفصیل کے لئے دیکھیں”فقہ السنہ“ج: ۳ ص ۱۸۵)
گوشت کی تقسیم
قربانی کرنے والے کو قربانی کاساراگوشت کھالینے، سارے کوذخیرہ کرلینے،اورصدقہ کردینے کااختیارہے،بعض احادیث کی بنیادپربعض علماء ذخیرہ اندوزی اورتین دن کے بعدگوشت گھر میں رکھنے،اورکھانے کوحرام سمجھتے ہیںاورحرمت کےحکم کوباقی سمجھتے ہیں ، جمہورعلماء تین دن کےبعد بھی کھانے اوررکھنے کےجوازکےقائل ہیں اورحرمت کومنسوخ سمجھتے ہیں بعض علماء کہتے ہیں کہ "ممانعت کی علت ضرورت اورفقروفاقہ تھا جب جب علت پائی جائے گی توحکم بھی پایاجائے گا۔
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
قربانی کے ایام میں اگرفقروفاقہ ہوتوذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہوگی۔
گوشت کے سلسلہ میں افضل یہ ہے کہ اسکے تین حصے کئے جائیں،ایک حصہ اہل وعیال کے لئے رکھاجائے، ایک حصہ احباب واقارب کو ہدیہ کیاجائے اورتیسراحصہ فقراء وغرباء کےدرمیان صدقہ کردیاجائے۔
(نووی شرح مسلم:۲ /۱۵۷-۱۵۸)
کھال اوربال وغیرہ کاحکم
قربانی کے جانورکے کسی بھی حصہ، گوشت، کھال، بال، ہڈی وغیرہ کابیچنادرست نہیں ہے،اگرکوئی حصہ فروخت کیا تو اس کی قیمت صدقہ کرناواجب ہوگا،اسی طرح قَصَّاب کواُسکی مزدوری واجرت کے عوض کھال گوشت یاچربی وغیرہ دینابھی نا جائز ہے،جانورکی کھال کااوراس سے تیارکی گئی مختلف چیزوں کااستعمال قربانی کرنے والے کے لئے جائز ہوگا۔
(فقہ السنہ :۳/۱۹۳)


No comments:
Post a Comment