Translate

Friday, July 24, 2020

قربانی کا پیغام مولانا فہیم احمد ندوی

قربانی کا پیغام
مولانا فہیم احمد 
ندوی
قربانی کا پیغام             مولانا فہیم احمد ندوی 




قربانی کا مقصد حلال جانور کو اللہ کے تقرب کے حصول کی خاطر ذبح کرنے کی تاریخ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ھابیل اور قابیل کی قربانی سے ہی شروع ہوجاتی ہے ،یہ سب سے پہلی قربانی تھی جوپیش کی گئی تھی، حق تعالی کاارشاد ہے
’’وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ بْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْقَرَّبَاقُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْ الْاٰخَرِ ‘‘(المائدة)
اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر ؒ نے حضرت ابنِ عباس ؓسے روایت نقل کی ہے کہ ھابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی ، اُس زمانے کے دستور کے مطابق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھالیا،قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا،اس سے معلوم ہوا کہ قربانی حضرت آدم ؑ کے زمانہ سے جاری ہے اور اس کاوجود تقریبًا ہر ملت میں رہا ہے، البتہ اس کی خاص شان اور پہچان حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ سے ہوئی اور اسی کی یادگار کے طور پر امتِ محمدیہ ﷺ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔
قربانی کی حقیقت،عظمت اور اس کے مقصد کو قرآنِ کریم کی کئی آیاتِ مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے ، سورۃ الحج میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
’’وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمْ مِنْ شَعَآئِرِاللّٰہِ لَکُمْ فِیْہَا خَیْرٌ فَاذْکُرُوااسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا صَوَافَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُہَا فَکُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوْاالْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَالِکَ سَخَّرْنٰہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ لَنْ یَّنَا لَ اللّٰہَ لُحُوْ مُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَا لُہُ التَّقْوٰی مِنْْکُمْ کَذَالِکَ سَخَّرَھا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوااللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدَاکُمْ وَ بَشِّرِالْمُحْسِنِیْنَ ‘‘
سورہ حج ہی میں دوسرے مقام پر قربانی کو شعائراللہ میں سے قرار دیتے ہوئے اس کی عظمت بتلائی گئی اور اس کی تعظیم کو دل میں پائے جانے والے تقویٰ خدا وندی کا مظہر قرار دیاگیا ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
’’وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰہِ فَاِنَّہَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ‘‘ 

سابق انبیا کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں قربانی کا تسلسل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت تک پہنچتاہے ، جس کا طریقہ یہ تھا کہ قربانی ذبح کی جاتی اور وقت کے نبی دعاء مانگتے اور آسمان سے ایک خاص کیفیت کی آگ آتی اور اس قربانی کو کھا جاتی تھی جسے قبولیت کی نشانی سمجھا جاتا تھا ،اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:
’’وَلِکُلِّ اُمَّۃٍجَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوْاا سْمَ اللّٰہِ عَلیٰ مَا رَزَقَہُمْ مِّنْ بہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ‘‘
قربانی کی عظمت اور اس کی اہمیت کو احادیث نبوی ﷺ میں بھی کافی وضاحت کےساتھ بیا ن کیا گیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے اس کی بہت ترغیب دلائی ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ اھرَاقِ الدَّمِ وَاِنَّہٗ لیأتی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِہَا وَاَشْعَارِھا وَ اَظْلَافِہَا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ بِالْاَرْضِ فَطِیْبُوْا بِہَا نَفْسًا ۔
ترجمہ!حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابنِ آدم (انسان) نے قربانی کے دن کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جو اللہ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ ہو ،اور قیامت کے دن ذبح کیا ہواجانوراپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا،اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کی بارگاہ میں قبول ہوجاتا ہے،لہٰذا تم قربانی خوش دلی کے ساتھ کیاکرو۔‘‘
’’عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَا ہٰذِہِ الْا َضَاحِیْ ؟ قَالَ :سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامِ، قَالُوْا:  فَمَا لَنَا فِیْہَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ: بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ، قَالُوْا: فَالصُّوْفُ یَا رَسُوْلَ اللّہِ؟ قَالَ: بِکُلِّ شَعْرَۃٍمِنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ ‘‘
ترجمہ! ’’ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہﷺ ! یہ قربانی کیا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ (انکی سنت ) ہے ، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ پھر اس میں ہمارے لئے کیا (اجر و ثواب ) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (جانورکے ) ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ،صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ (دُنبہ وغیرہ اگر ذبح کریں تو ان کی )اُون (میں کیا ثواب ہے )؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہ اُون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔ ‘‘
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ یَوْمِ اَضْحٰی : مَا عَمِلَ آدَمِیٌّ فِیْ ھٰذَالْیَوْمِ اَفْضَلَ مِنْ دَمٍ یُہْرَاقُ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ رَحِمًا تُوصَلُ ‘‘ 
ترجمہ ! ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدالاضحی کے دن ارشاد فرمایا : آج کے دن کسی آدمی نے خون بہانے سے زیادہ افضل عمل نہیں کیا ، ہاں! اگر کسی رشتہ دار کے ساتھ حسنِ سلوک اس سے بڑھ کر ہوتو ہو ۔ ‘‘
ان کے علاوہ بھی اور بہت سی روایات ہیں جن میں قربانی کی حقیقت ،عظمت اور مقاصد بیان کئے گئے ہیں ،اگر مختصر الفاظ میں بیان کریں تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ قربانی سنتِ ابراھیمی کی یادگار ہے اور ایک بات یہ بھی سمجھنے کی ہے کہ ، قربانی کی ایک صورت ہوتی ہے اور ایک روح ہوتی ہے ، صورت تو جانور کاذبح کرنا ہے، اور اس کی روح،ایثارکا جذبہ پیدا کرنا، اور تقربِ الی اللہ ہے،اصل میں قربانی کی حقیقت تو یہ تھی کہ عاشق خود اپنی جان کو خدا تعالی کے حضور پیش کرتا،مگر خدا تعالی کی رحمت دیکھئے اس کو یہ گوارہ نہ ہوا،اس لئے حکم دیا کہ تم جانورکو ذبح کردو ہم یہی سمجھیں گے کے تم نے خود اپنے آپکو قربان کردیا،اس سے پتا چلا کہ قربانی کا اصل مقصد جان کو پیش کرنا ہے ،چنانچہ اس سے انسان میں جاں سپاری اور جاں نثاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے،اور یہی اس کی روح ہے۔
قربانی کا فریضہ تو اکثر مسلمان ہر سال ادا کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ قربانی کے اصل مقصد کو فراموش کئے رکھتے ہیں ، قربانی کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ اپنی جان اپنی اولاد اور اپنے مال کو خداتعالی کے لئے قربان کرنےکے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے  اور اس کے لئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ سے بھی گریزکرنا چاہئے،اسی کے ساتھ قربانی کا یہ بھی مقصد ہے کہ جب بندہ اپنے رب کے نام پرجانور کے گلے پر چھری چلائے تو تصور میں اپنے سرکش نفس پر بھی چھری چلا کر اسے سرکشی سے نجات دلادے ، اپنے نفس کو اللہ تعالی کا فرماں بردار بنانے کے لئے جانور کے ہمراہ اسے بھی ذبح کرڈالے تاکہ وہ تکبر ونافرمانی کے غرور سے چھٹکارہ پاجائے،اپنے دل میں اپنے رب کی اور اس کے بندوں کی محبت پیدا کرسکے ،اللہ تعالی اور اسکے رسول ﷺ کی دل سے اطاعت کرے، اپنے آس پاس کے لوگوں کا اور غریبوں کا خیال رکھے،نادار اور مفلسوں کی مددکرے ،یہ اس قربانی کا اوَّلین و اصل مقصد ہے، مگر ہمارے یہاں تو یہ حال ہے کہ ہم لاکھوں کی قیمت کا جانور خرید کر لاتے ہیں پھر باقاعدہ اس کی نمائش کی جاتی ہے ، عوام ایسے جانور کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،ان کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں ، غریب اور نادار لوگ جو قربانی کی حیثیت نہیں رکھتے وہ یہ سب دیکھ کر اپنے دل مسوس کر رہ جاتے ہیں ، کیا یہی قربانی ہے ؟ جو دوسروں کے دلوں کو رنج پہنچانے کا سبب ہو ، کیا یہ قربانی مقبولِ بارگاہِ رب ہوسکتی ہے ؟
ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔ہم ذرا غورکریں کہ جس شخصیت کے صدقہ میں ہمیں یہ تحفہ ملا ہے اس نے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی امتحانات میں گزری، آخری عمر میں بیٹے کا ملنا ،پھر اسکی قربانی کا حکم ، اور اسے اللہ کی راہ میں قربانی کے لئے پیش کردینا ، یہ بہت ہی بڑا امتحان تھا ،لیکن باپ اور بیٹے دونوں نے اپنے رب کی رضا کے لئے اپنی جبینِ نیاز کو اللہ کے دربار میں خم کردیا ،اللہ تعالی کو ان کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ جب آنکھوں سے پٹی کھولی تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام زندہ سلامت تھے ، مگر خدا ئے کریم اپنے خلیل کے جذبہ ایثاراور وارفتگی کو پسند اور قبول فرماچکا تھا ،اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
’’ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّئْ یَا اِنَّا کَذَالِکَ نَجْزِالْمُحْسِنِیْنَ اِنَّ ھذَالَہوَالْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ ، وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ، وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ‘‘
ترجمہ ! ’’تم نے خواب کو سچ کر دکھا یا،یقینًا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں، یقینا یہ ایک کھلا امتحان تھا،اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے (کر اس بچہ کو بچالیا) دیا اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں یہ روایت قائم کی۔ ‘‘
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اللہ کے پیغمبر جیسا وہ جذبہ اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ، کہ اللہ کے دین اور اس کے حکم کی سر بلندی کے لئے اگر ہمیں بھی کبھی اپنے جگر کے ٹکڑوں کو راہِ خدا میں پیش کرنے کی نوبت آئے تو ہم بھی اللہ کی رضا اور تقوٰی حاصل کرنے کے لئے یہ کام کرگزریں گے یا نہیں ،اگر ہم نے جانور وں کی قربانی کے ساتھ وہی عزم ،وہی جذبہ خلیل اللہ پالیا تو یقین مانئے کہ ہم کامیاب اور اللہ کے نزدیک سرخ رو ہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ اللہ کی جانب سےجوبھی احکام نازل کئے گئے ہیں یا جو مذہبی تہوار ہمیں شریعت نے مرحمت کئے ہیں ان کو عین تقاضہ کے مطابق پورا کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے شریعت کے کسی بھی حکم کو ہماری نادانی کی وجہ سے محض تفریح کا ذریعہ نہ سمجھیں، اپنے اعمال کو درست کرنے کی کوشش کریں،اور جانور کی قربانی کے ساتھ اپنی جھوٹی انا، اور خواہشات ِ نفس کی بھی قربانی کردیں، جو مسلمان آج قربانی کر رہے ہیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عظیم الشان عمل کی یاد کو تازہ کر رہے ہیں ،ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ قربانی سے زیادہ قربانی کے پیغام کو سمجھیں ، اور وقت کے نمرود کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرأت اپنے اندر پیدا کریں ، دین و ایمان اور ملت اسلامیہ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے گریز اور دریغ نہ کریں ، چاہے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑے ، جیلوں کی مشقتیں برداشت کرنی پڑیں، اجنبی سرزمین پر بُود و باش اختیار کرنی پڑے ، حتی کہ اگر اپنی اولاد کو قربان کرنے کا مرحلہ در پیش ہوتب بھی ہمت و حوصلہ سے کام لیا جائے ، خاردار وادیوں ، اور سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چاک کرنا پڑے پھر بھی اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے خود کو مٹاتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں ، حتی کہ کامیابی ہمارے قدم چوم لے ، اللہ ہمیں صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق نصیب فرمائے ، آمین ۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...