حدیث دل محمد نظام الدین ندوی
علمی و فکری ذوق زندہ قوموں کی ایک اہم نشانی ہے، جس طرح انسانی جسم خون کے بغیر بے جان ہے، ٹھیک اسی طرح وہ قوم بھی چوب خشک کی مانند ہے جو علم سے محروم ہو، اور اس کے ذوق سے نا آشنا ہو، انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جمود نہیں رکھا،بلکہ اس کے مزاج میں بعض ایسے اوصاف ودیعت کیے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ ہمیشہ اپنے سامنے تمام طاقتوں کو زیر کرلیتا ہے، اب اگر انسان اس علم سے دور ہو جس میں خدا تعالیٰ کی رہنمائی شامل ہے، تو پھر اس کے یہ اوصاف ساری انسانیت کے حق میں مضر ثابت ہوتے ہیں، اور اگر انسان علم حقیقی کے قریب ہو تو پھر وہ پوری کائنات کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے، امت مسلمہ کو اسی لیے علم حقیقی سے وابستگی کی پہلی وحی میں تلقین کی گئی اور علم سے اس کا رشتہ غیر معمولی مضبوط کیا گیا، تاکہ اس کی رحمت و نافعیت تاقیامت دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلہ میں باقی رہے۔چنانچہ جب تک امت مسلمہ نے اس کا پاس رکھا، تب تک دنیا اس کے ذریعہ ہونے والی ترقیات کی شاہد رہی۔ اور دشمن کی یلغار ہر چہار سمت سے ناکام ہوئی، لیکن جب علمی پسماندگی کا مرض مسلمانوں میں سرایت کرگیا تو دنیا پر اس کا اثر پڑا، انسانی علوم حیوانیت کا درس دینے لگے اور ایک عمومی اضطرابی کیفیت دنیا کے منظرنامے پر عیاں ہونے لگی۔ان حالات میں دنیا کے مختلف خطوں میں اہل علم مسلمان طبقہ پر ضروری ہے کہ اس پسماندگی سے اوپر اٹھنے کے جو طریقے کتاب و سنت کی روشنی میں ممکن ہوسکیں، وہ اختیار کریں، اور اپنے اپنے علاقوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علمی و فکری ذوق پیدا کرنے کا ماحول بنائیں۔
الحمدللہ چک پہاڑ سمستی پور کے علاقہ کے لیے یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی کچھ افراد کو یہ توفیق بخشی کہ سرد ماحول میں فضا کو کچھ حرارت دے سکیں، اور اس کے لیے ’’الہدی اسلامی مکتب‘‘ کا نظام قائم کیا گیا، ایک لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیاجس میںچار الماریوںسے زائدکتابیںجمع ہو گئی ہیں اور علاقہ کی مختلف جگہوں پر بچوں کے معیار کے مطابق اسلامی کوئز کے مسابقہ جات کا نظم بھی کیا گیا، اور اس کے علاوہ بھی کام کی مختلف ایسی شکلیں اختیار کی گئیں، جن سے علمی و فکری ماحول پروان چڑھتا ہے۔
یہ شمارہ جو کہ نذرِ قارئین ہے، دراصل اسی سلسلہ کا امتداد ہے، ہمارا ارادہ ہے کہ اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو ان شاء اللہ ہر تین مہینہ میں ایک علمی و فکری اور اصلاحی ترجمان بھی نکالیں گے، چونکہ ابھی مالی وسائل کی کمی ہے، اس لیے ’’الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘ کے تحت ارادہ ہے کہ ابھی آن لائن برقی میگزین(پی ڈی ایف) کی شکل ہی میں شائع کریں۔ ربیع الاول کی مناسبت سے ’’الہدی‘‘ کا یہ پہلا شمارہ سیرت کے مضامین پر مشتمل ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ شماروں میں بھی آپ تک ایسا مواد فراہم کیا جائے جو آپ کے لیے دلچسپی کا سامان ہو اور ہمارے لیے بھی ذریعہ آخرت ثابت ہوسکے۔
علمی و فکری ذوق زندہ قوموں کی ایک اہم نشانی ہے، جس طرح انسانی جسم خون کے بغیر بے جان ہے، ٹھیک اسی طرح وہ قوم بھی چوب خشک کی مانند ہے جو علم سے محروم ہو، اور اس کے ذوق سے نا آشنا ہو، انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جمود نہیں رکھا،بلکہ اس کے مزاج میں بعض ایسے اوصاف ودیعت کیے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ ہمیشہ اپنے سامنے تمام طاقتوں کو زیر کرلیتا ہے، اب اگر انسان اس علم سے دور ہو جس میں خدا تعالیٰ کی رہنمائی شامل ہے، تو پھر اس کے یہ اوصاف ساری انسانیت کے حق میں مضر ثابت ہوتے ہیں، اور اگر انسان علم حقیقی کے قریب ہو تو پھر وہ پوری کائنات کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے، امت مسلمہ کو اسی لیے علم حقیقی سے وابستگی کی پہلی وحی میں تلقین کی گئی اور علم سے اس کا رشتہ غیر معمولی مضبوط کیا گیا، تاکہ اس کی رحمت و نافعیت تاقیامت دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلہ میں باقی رہے۔چنانچہ جب تک امت مسلمہ نے اس کا پاس رکھا، تب تک دنیا اس کے ذریعہ ہونے والی ترقیات کی شاہد رہی۔ اور دشمن کی یلغار ہر چہار سمت سے ناکام ہوئی، لیکن جب علمی پسماندگی کا مرض مسلمانوں میں سرایت کرگیا تو دنیا پر اس کا اثر پڑا، انسانی علوم حیوانیت کا درس دینے لگے اور ایک عمومی اضطرابی کیفیت دنیا کے منظرنامے پر عیاں ہونے لگی۔ان حالات میں دنیا کے مختلف خطوں میں اہل علم مسلمان طبقہ پر ضروری ہے کہ اس پسماندگی سے اوپر اٹھنے کے جو طریقے کتاب و سنت کی روشنی میں ممکن ہوسکیں، وہ اختیار کریں، اور اپنے اپنے علاقوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علمی و فکری ذوق پیدا کرنے کا ماحول بنائیں۔
الحمدللہ چک پہاڑ سمستی پور کے علاقہ کے لیے یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی کچھ افراد کو یہ توفیق بخشی کہ سرد ماحول میں فضا کو کچھ حرارت دے سکیں، اور اس کے لیے ’’الہدی اسلامی مکتب‘‘ کا نظام قائم کیا گیا، ایک لائبریری کا قیام بھی عمل میں آیاجس میںچار الماریوںسے زائدکتابیںجمع ہو گئی ہیں اور علاقہ کی مختلف جگہوں پر بچوں کے معیار کے مطابق اسلامی کوئز کے مسابقہ جات کا نظم بھی کیا گیا، اور اس کے علاوہ بھی کام کی مختلف ایسی شکلیں اختیار کی گئیں، جن سے علمی و فکری ماحول پروان چڑھتا ہے۔
یہ شمارہ جو کہ نذرِ قارئین ہے، دراصل اسی سلسلہ کا امتداد ہے، ہمارا ارادہ ہے کہ اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو ان شاء اللہ ہر تین مہینہ میں ایک علمی و فکری اور اصلاحی ترجمان بھی نکالیں گے، چونکہ ابھی مالی وسائل کی کمی ہے، اس لیے ’’الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘ کے تحت ارادہ ہے کہ ابھی آن لائن برقی میگزین(پی ڈی ایف) کی شکل ہی میں شائع کریں۔ ربیع الاول کی مناسبت سے ’’الہدی‘‘ کا یہ پہلا شمارہ سیرت کے مضامین پر مشتمل ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ شماروں میں بھی آپ تک ایسا مواد فراہم کیا جائے جو آپ کے لیے دلچسپی کا سامان ہو اور ہمارے لیے بھی ذریعہ آخرت ثابت ہوسکے۔
No comments:
Post a Comment