
ایا صوفیہ-اسلامیت ومغربیت کی کشمکش کا امین ونگہباں
لاطینی زبان میں اسے Sancta Sophia اور ترک زبان میں Ayasofyaکہا جاتا ہے۔ انگریزی میں کبھی کبھار اسے سینٹ صوفیہ بھی کہا جاتا ہے۔
چوتھی صدی عیسوی میں قسطنطین اول نے مسیحی مذہب اختیار کیا جس کے بعد مسیحیت رومی سلطنت کا سرکاری مذہب قرار پایا، اسی نے اپنے نام سے موسوم کرتے ہوئے ایک شہربھی آباد کروایا جسے قسطنطنیہ کہا جاتا تھا، عثمانیوں نے اپنے دور خلافت میں اس کا نام استنبول کردیا۔
قسطنطین اعظم نے یہاں پر ایک چرچ کی تعمیر کروائی جس کی چھت لکڑی کی بنی ہوئی تھی، چوالیس سال بعد ایک فساد میں یہ چرچ نذر آتش کردیا گیا۔
گیارہ سال کے بعد اس کے وقت کے شہنشاہ قسطنطین دوم نے اسی جگہ پھر سے ایک چرچ کی تعمیر کی، اس کی چھت بھی لکڑی کی ہی بنی ہوئی تھی، تقریباً سو سال بعد 532ء کو یہ چرچ بھی ہنگاموں اور فسادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔
اس وقت یہاں کا شہنشاہ جسٹینین اول تھا، اس نے اس چرچ کی تعمیر نو کا ارادہ کیا، اور اس کے لیے اس وقت کے دو سب بڑے آرکیٹیکٹ ملیٹیز ایزیڈوروس اور ٹرالیس ایتھومیوس کا انتخاب کیا، شہنشاہ نے کہا کہ مجھے ایک ایسا چرچ بنا کر دو جیسا نہ کبھی بنا ہو اور نہ کبھی بن سکتا ہو، حکم تعمیل ہوئی اور ان دونوں آرکیٹیکٹ نے ایک عظیم عمارت کا نقشہ تیار کیا، 23 فروری 532ء کو اس کی تعمیر کا آغاز ہوا، تقریباً دس ہزار مزدور دن رات لگے، پانچ سال کی مسلسل مشقت بھری محنت کے بعد 537ء میں یہ عظیم الشان عمارت مکمل ہوئی، ایک شاندار گنبد والی دو منزلہ عمارت جس کی چوڑائی 259 فٹ اور لمبائی 240 فٹ تھی، اس کی اینٹیں افریقہ سے منگوائی گئیں تھیں، چھت میں لگا سنگ مرمر شام سے،اور بیچ کی دیوار میں سونا چاندی اور بے شمار قیمتی پتھروں کا جڑاؤکیا گیا تھا۔27 دسمبر537ء کو شہنشاہ جسٹینین نے پورے تزک واحتشام کے ساتھ اس چرچ میں قدم رکھا، چرچ کی عالیشان عمارت کو دیکھ کر اس نے نہایت غرور کے ساتھ کہا:
اے سلیمان میں نے تم کو پیچھے چھوڑ دیا۔
یہ اشارہ تھا حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم الشان عمارت ہیکل سلیمانی کی عظمت و شکوہ کی جانب۔
جس طمطراق کے ساتھ اس گرجا یعنی ایا صوفیا کا آغاز ہوا اسی جوش ونخوت کے ساتھ مسیحیت کو نافذ بھی کیا گیا۔
ایا صوفیا - بازنطینی حکومت کا نہ صرف غرور تھا بلکہ خدا کی وحدانیت کے خلاف ایک بغاوت بھی تھا، حضرت عیسی کی عیسائیت پر بت پرستی کا دبیز پردہ بھی تھا، مسیحیت کے عنوان سے کلیسا کی بربریت کا گواہ بھی تھا۔انسانیت کے خلاف سازشوں، کمزوروں پر ظلم وستم کے حکموں کا نفاذ یہیں سے ہوتا تھا... یہیں سے خدا کے بندوں کو شاہوں کا غلام بنایا جاتا تھا۔
مسیحی بادشاہ کی تاج پوشی اسی کے پہلو میں ہوتی اور پھر تلوار کی نوک پر مسیحیت کو لوگوں کے اوپر نافذ کیا جاتا، دبے کچلے کمزور لوگ مجبور تھے اپنا سرجھکانے پر، جو سر نہ جھکتا اسے دھڑ سے الگ کردیا جاتا۔
ایا صوفیہ کے دور عروج یا یوں کہیے مسیحیت کا دور عروج وہی ہے جسے خود مغربی مؤرخین تاریک دور(Dark Ages) سے تعبیر کرتے ہیں۔
لیکن جب فاران کی چوٹیوں سے آفتاب ہدایت طلوع ہوا تو اس کی ضیاء پاش کرنوں نے بت پرستی کے اس مرکز کو بھی منور کیا۔
بادشاہوں اور جرنیلوں نے اس کی مضبوط دیواروں سے اپنے سر ٹکرائے، اسے سرنگوں کرنے کے جوش نے کتنے تخت وتاج کو سرنگوں کردیا، لیکن جب محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے پورا ہونے کا وقت آپہنچا تو آپﷺ ہی کے نام نامی والا نوجوان علَم جہاد لےکر اٹھ کھڑا ہوا۔
محمد الفاتح - عمر کے صرف اکیس سال اور جذبہ دنیا کی سب سے بڑی حکومت کو زیر و زبر کرنے کا! جذبہ بتوں کے ایوانوں میں لرزہ پیدا کرنے کا! جذبہ خدا کے بندوں کو خدا کی غلامی میں لانے کا!
نوخیز نوجوان کے اس جذبہ کا خواب مذاق بھی بنا، ٹھٹھا بھی ہوا، کسی نے نادانی اور بچپنہ کہا تو کسی نے ہلاکت وتباہی سے تعبیر کیا، لیکن جوانی کا جنون پوری طرح جوش سے لبریز تھا، اس کی ضد کے سامنے داناؤں کی دانائی اور دور بینوں کی دور بینی دھری رہ گئی اور تاریخ اسلام ہی نہیں تاریخ انسانی میں ایک عظیم باب کا اضافہ ہوگیا۔
1453ء میں قسطنطنیہ فتح ہوا تو یہ عظیم الشان چرچ بھی مسلمانوں کی ملکیت میں آگیا، ایک فاتح ہونے کی حیثیت سے محمد الفاتح کو اس چرچ پر پورا اختیار تھا، وہ چاہتے تو دوسرے بادشاہوں کی طرح اس چرچ کو مسمار بھی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے اعلی اخلاق کا مظاہرہ کیا اور جس عمارت میں بتوں کی پرستش ہوتی تھی اس کو ایک اللہ کی عبادت کے لیے خاص کردیا۔
ایا صوفیہ میں ہزاروں کی تعداد میں عوام اور پادری چھپے ہوئے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ اس چرچ میں ان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا اور اگر کوئی ان کے قریب بھی آئے گا تو آسمان سے ایک فرشتہ تلوار لے کر نازل ہوگا اور دشمنوں کا صفایا کردے گا... لیکن تاریخ نے وہ لمحہ بھی دیکھا کہ عثمانی فوج نے پورے قسطنطنیہ کے ساتھ ایا صوفیہ پر بھی اپنا پرچم لہرا دیا۔
مسلم فوج کو سختی سے ہدایت تھی کہ جو ان سے مقابلہ کے لیے سامنے آئے اسی پر وہ اپنی تلوار کا استعمال کریں اور جو کسی طرح کی مزاحمت نہ کرے اس کو پوری طرح امان دی جائے۔
محمد الفاتح نے نہ صرف امن وامان کی راہ اختیار کی بلکہ جب مسلمانوں کےلیے نماز پڑھنے کا وقت آیا تو اسی ایا صوفیہ میں انھوں نےنماز ادا کی اور بعد میں اسے مستقل مسجد کی حیثیت عطا کردی لیکن اس کے لیے بھی انھوں اعلی ظرفی اور مثالی اخلاق کا مظاہرہ کیا اور ایا صوفیہ کے پادریوں کو اس کے عوض اپنی ملکیت سے ایک خطیر رقم بھی عطا کردی، اس طرح محمد الفاتح نے اس چرچ کو ذاتی طور پر خرید لیا اور پھر اسے مسجد کے لیے وقف کردیا... اس میں قبلہ رخ محراب کی تعمیر کروائی اور مینار بنوائے۔
محمد الفاتح نے ایاصوفیہ کےعوض پادریوں کو جو رقم دی تھی اس کے دستاویز آج بھی اسطنبول کے سرکاری رکارڈ میں موجود ہے۔
ایا صوفیہ - مسلمانوں کے سیاسی عروج و زوال کی ایک داستاں ہے، اکیس سالہ نوجوان محمد الفاتح کے جذبہ جہاد، شوق شہادت اور غیرت ایمانی کا ایک مینار ہے، آدھی دنیا کو اپنے قدموں تلے روندتی ہوئی بازنطینی شہنشاہیت کا عبرتناک انجام ہے۔
ایاصوفیہ بلاشبہ بازنطینی طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے جس سے عثمانی طرز تعمیر نے جنم لیا۔ عثمانیوں کی قائم کردہ دیگر مساجد جیسے شہزادہ مسجد، سلیمان مسجد اور رستم پاشا مسجد ایاصوفیہ کے طرز تعمیر سے متاثر ہیں۔
19ویں صدی میں مسجد میں منبر تعمیرکیا گیا اور وسط میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور چاروں خلفائے راشدین کے ناموں کی تختیاں نصب کی گئیں۔
خلافت عثمانیہ کےسقوط کے بعد ترکی سیکولر راہ پر مصطفی کمال اتاترک کی سربراہی میں گامزن ہوا۔
کمال اتاترک نے اسلامیت کا لباس اتار کر مغربیت کا جامہ زیب تن کرلیا، جسے امت مسلمہ غازی غازی کہہ کر پکارتی تھی اس نے اس امت کی مذہبی زبان ہی کاٹ لی، جو ملک اسلامی شوکت کا بلند مینار تھا وہاں سے اسلامی روایات کو کھرچ کھرچ کر نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا، شعائر اسلام پر پابندی عائد کردی گئی، نمازیں ممنوع قرار پائیں، قرآن کی تلاوت ناقابل معافی جرم مانا گیا۔
1931ء میں ایاصوفیہ سے توحید کی صدائیں خاموش ہوگئیں، فلاح وکامیابی کا آوازہ گھٹ گیا، مسلمانوں کی شان وشوکت کا ستارہ غروب ہوگیا.. ایا صوفیہ کو مقفل کردیا گیا اور مکمل پابندی عائد کردی گئی۔
تقریباً چار سال بعد ایاصوفیہ کا دروازہ دوبارہ کھولا گیا لیکن اس مرتبہ اس کی حیثیت بالکل بدل چکی تھی، اب اس کا تعارف ایک مسجد کی حیثیت سے نہیں تھا بلکہ اس کی پہچان ایک عجائب گھر کی تھی۔
اس طرح مسلمانوں کا سیاسی پرچم پوری طرح سرنگوں ہوگیا۔
طیب اردگان پوری امت مسلمہ کی دعاؤں کے مستحق ہیں اور وہ پورے عالم اسلام کے محسن بھی ہیں کہ انھوں نے ایک بار پھر امت مسلمہ کے سیاسی عروج کی راہ ہموار کی ہے، ان کی کوششوں سے آج آیا صوفیہ پھر سے خدائے واحد کی بندگی کا مرکز قرار پایا ہے۔
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ ایا صوفیہ تقریباً پچاسی سال سے ایک میوزیم تھا، یعنی اسے پانچ صدیوں تک مسجد رہنے والی عمارت کو سیکولرزم کے نام پر عجائب گھر میں تبدیل کردیا گیا تھا، 10 جولائی 2020ء کو اس عمارت کو دوبارہ اس کی سابقہ حالت پر لوٹا دیا گیا... یہاں یہ مغالطہ قطعاً نہیں ہونا چاہیے کہ کسی چرچ کو مسجد میں منتقل کیا گیا ہے، بلکہ مسجد کو دوبارہ مسجد بنایا گیا ہے۔
مسلمانوں کے سیاسی عروج کا یہ نقطہ آغاز ہے، یقیناً اہل ایمان کے دل جذبہ جہاد وغلبہ اسلام کے جوش سے لبریز ہوں گے،آج ایک بار پھر ہم سر اٹھانے بلکہ باطل کی نگاہوں میں جھانکنے کے قابل ہوئے ہیں۔
ایاصوفیہ سے شروع ہونے والے اس انقلاب کو مسجد اقصی تک پہنچا، مسلمان کے ہر گھر میں ایک محمد الفاتح کو پیدا فرما۔آمین!
No comments:
Post a Comment