قربانی کی اہمیت
حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس (مال کی) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ایسا شخص ہرگز ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ)
قربانی رضائے الٰہی کے حصول کا ایک بہتر ذریعہ اور دین اسلام کے تقاضوں کے سامنے تمام تقاضوں اور خواہشات کو دبانے کا نام ہے، اس کا تاریخی سلسلہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی قربانی سے ملتا ہے،دین اسلام میں سنت ابراہیمی کی اس اہم یادگار کو ہر سال تازہ کرنے کا تاکیدی حکم وارد ہوا ہے، جو شخص صاحب حیثیت ہونے کے باوجود اس سنت ابراہیمی کو تازہ نہ کرے تو ایسے شخص کے متعلق مذکورہ بالا حدیث میں زبان نبوت سے سخت الفاظ نکلے ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے شخص کو اس دن خوشی منانے کا اسلامی رو سے کوئی حق نہیں، احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے ہمیشہ قربانی کا اہتمام فرمایا، صحابہ کرام نے بھی اس عمل کی پابندی کی اور اس کو اسلامی شعائر میں شمار کیا گیا۔
دین اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنی ہر چیز کو اللہ پر قربان کرنے والا، اس کے احکامات کے آگے بغیر کسی تردد کے جھک جانے والا بن جائے، اس کے دل سے تمام چیزوں کی وہ عظمت کافور ہوجائے جس عظمت کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اسی طرح اس کے دل سے ان تمام چیزوں کی وہ محبت بھی مٹ جائے جن کی موجودگی عموماً ذکر الٰہی سے غفلت کا سبب بن جاتی ہے، جیسے مال اور اولاد کی محبت، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کو اپنی مرضیات پر قربان کرنے کے لیے نمائندہ کے طور پر سال میں ایک مرتبہ ہر صاحب استطاعت پر ’’قربانی‘‘ واجب کی، قربانی اسی بات کا رمز ہوتی ہے کہ ایک صاحب ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بڑھ کر نہ کسی مذہب میں مقدس سمجھا جانے والا جانور ہے،نہ ہی اس کا اپنے ہاتھوں سے کمایا ہوا مال ہے اور نہ ہی کسی چیز کی محبت حکم الٰہی کے سامنے کوئی معنی رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کہ شرعی حکم کی بنیاد پر انسان اپنے پیسوں سے ایک قیمتی جانور خریدتا ہے، اس کو کھلاتا پلاتا ہے اور انسانی فطرت کے مطابق وہ اس جانور سے مانوس بھی ہوجاتا ہے، مگر اس کے باوجود بھی وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میںاس پر چھری چلادیتا ہے، جس کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کے ایک حکم پرمحض اپنا جانور ہی ذبح نہیں کرتا، بلکہ بالفاظ دیگر اپنی خواہش اور جذبۂ محبت کو بھی قربان کردیتا ہے، قربانی کے اس عمل سے دین اسلام کا بھی یہی مقصد ہے کہ انسان کامزاج ہر چیز کو رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر قربان کرنے والا بن جائے، ارشاد الٰہی ہے: {لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُم}(الحج: ۳۷)(اللہ کو ان کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا، ہاںاس کو تو تمہارے (دل) کا تقویٰ پہنچتا ہے)معلوم ہوا قربانی کا مقصد گوشت وغیرہ نہیں بلکہ اصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور قربانی کے جذبہ کا دلوں میں پایا جانا ہے۔
قربانی کے اسی اہم مقصد کے پیش نظر شریعت اسلامیہ میں ہر صاحب استطاعت پر قربانی واجب ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ چند لوگوں کے علاوہ آج خاصے دین دار حضرات کی نظروں سے قربانی کا یہ عظیم مقصد اوجھل ہوتا جارہا ہے، ان میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جو قربانی کرتے ہیںمگر ان کا مقصد قربانی نہیں بلکہ معاشرہ میں اپنی شہرت ہوتا ہے، اور بعض وہ ہیںجو اہل ایمان کے زمرہ میں شمار ہونے اور کسی بھی درجہ میںدینی لگاؤ کے باوجود اپنے آپ کو اس حیثیت کا نہیں سمجھتے کہ وہ قربانی میں حصہ لیں، جب کہ قربانی میں صرف ہونے والی معمولی رقم سے کہیں زیادہ عید کی دیگر فضول تیاریوں میں وہ ایک خطیر رقم صرف کردیتے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے ایسے لوگوں کو عید کے دن خوشی کے اظہار کا کوئی حق نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں قربان کرنے سے بچتے ہیں اور زبان نبوت سے نکلے ہوئے سخت الفاظ کے باوجود ان کے سروں پر جوں نہیں رینگتی۔
مولانامحمد ارمغان بدایونی ندوی
حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس (مال کی) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ایسا شخص ہرگز ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ)
قربانی رضائے الٰہی کے حصول کا ایک بہتر ذریعہ اور دین اسلام کے تقاضوں کے سامنے تمام تقاضوں اور خواہشات کو دبانے کا نام ہے، اس کا تاریخی سلسلہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی قربانی سے ملتا ہے،دین اسلام میں سنت ابراہیمی کی اس اہم یادگار کو ہر سال تازہ کرنے کا تاکیدی حکم وارد ہوا ہے، جو شخص صاحب حیثیت ہونے کے باوجود اس سنت ابراہیمی کو تازہ نہ کرے تو ایسے شخص کے متعلق مذکورہ بالا حدیث میں زبان نبوت سے سخت الفاظ نکلے ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے شخص کو اس دن خوشی منانے کا اسلامی رو سے کوئی حق نہیں، احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے ہمیشہ قربانی کا اہتمام فرمایا، صحابہ کرام نے بھی اس عمل کی پابندی کی اور اس کو اسلامی شعائر میں شمار کیا گیا۔
دین اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنی ہر چیز کو اللہ پر قربان کرنے والا، اس کے احکامات کے آگے بغیر کسی تردد کے جھک جانے والا بن جائے، اس کے دل سے تمام چیزوں کی وہ عظمت کافور ہوجائے جس عظمت کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اسی طرح اس کے دل سے ان تمام چیزوں کی وہ محبت بھی مٹ جائے جن کی موجودگی عموماً ذکر الٰہی سے غفلت کا سبب بن جاتی ہے، جیسے مال اور اولاد کی محبت، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کو اپنی مرضیات پر قربان کرنے کے لیے نمائندہ کے طور پر سال میں ایک مرتبہ ہر صاحب استطاعت پر ’’قربانی‘‘ واجب کی، قربانی اسی بات کا رمز ہوتی ہے کہ ایک صاحب ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بڑھ کر نہ کسی مذہب میں مقدس سمجھا جانے والا جانور ہے،نہ ہی اس کا اپنے ہاتھوں سے کمایا ہوا مال ہے اور نہ ہی کسی چیز کی محبت حکم الٰہی کے سامنے کوئی معنی رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کہ شرعی حکم کی بنیاد پر انسان اپنے پیسوں سے ایک قیمتی جانور خریدتا ہے، اس کو کھلاتا پلاتا ہے اور انسانی فطرت کے مطابق وہ اس جانور سے مانوس بھی ہوجاتا ہے، مگر اس کے باوجود بھی وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میںاس پر چھری چلادیتا ہے، جس کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کے ایک حکم پرمحض اپنا جانور ہی ذبح نہیں کرتا، بلکہ بالفاظ دیگر اپنی خواہش اور جذبۂ محبت کو بھی قربان کردیتا ہے، قربانی کے اس عمل سے دین اسلام کا بھی یہی مقصد ہے کہ انسان کامزاج ہر چیز کو رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر قربان کرنے والا بن جائے، ارشاد الٰہی ہے: {لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُم}(الحج: ۳۷)(اللہ کو ان کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا، ہاںاس کو تو تمہارے (دل) کا تقویٰ پہنچتا ہے)معلوم ہوا قربانی کا مقصد گوشت وغیرہ نہیں بلکہ اصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور قربانی کے جذبہ کا دلوں میں پایا جانا ہے۔
قربانی کے اسی اہم مقصد کے پیش نظر شریعت اسلامیہ میں ہر صاحب استطاعت پر قربانی واجب ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ چند لوگوں کے علاوہ آج خاصے دین دار حضرات کی نظروں سے قربانی کا یہ عظیم مقصد اوجھل ہوتا جارہا ہے، ان میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جو قربانی کرتے ہیںمگر ان کا مقصد قربانی نہیں بلکہ معاشرہ میں اپنی شہرت ہوتا ہے، اور بعض وہ ہیںجو اہل ایمان کے زمرہ میں شمار ہونے اور کسی بھی درجہ میںدینی لگاؤ کے باوجود اپنے آپ کو اس حیثیت کا نہیں سمجھتے کہ وہ قربانی میں حصہ لیں، جب کہ قربانی میں صرف ہونے والی معمولی رقم سے کہیں زیادہ عید کی دیگر فضول تیاریوں میں وہ ایک خطیر رقم صرف کردیتے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے ایسے لوگوں کو عید کے دن خوشی کے اظہار کا کوئی حق نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں قربان کرنے سے بچتے ہیں اور زبان نبوت سے نکلے ہوئے سخت الفاظ کے باوجود ان کے سروں پر جوں نہیں رینگتی۔

No comments:
Post a Comment