قربانی کا مقصد اور اس کا پیغا م مفتی محمد سراج الہدی ندوی ازہری
عید الاضحی کی آمد آمد ہے، یہ ایسی عید ہے جس کی ایک تاریخ ہے، اس کے کچھ مقاصد ہیں، اس عظیم خوشی میں بہت
سارے پیغامات مضمر ہیں، جوں ہی ماہ ذی الحجہ کی آمد قریب ہوتی ہےحضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ ذہن و دماغ میں گردش کرنے لگتی ہے اور ان کے امتحان و آزمائش کی پوری تصویر گھوم جاتی ہے، ہر موڑ پرحضرت ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، ارشاد الہی ہے: اور جب ا براہیم کو اس کے رب نےکئی باتوں میں آزمایا، پھر اس نےوہ پوری کیں، تب فرمایا: میں تجھ کو سب لوگوں کاپیشوا کروں گا۔ (سورہ بقرہ:124)
حضرت ابراہیم علیہالسلام کو جیسی آزمائشوں سے گذرنی پڑی، ویسی آزمائش کم نبیوں کے حصے میں آئی ہے جس گھرانے میں آپ نے آنکھیں کھولیں وہ گھرانہ مشرکانہ، پوری قوم بت سازی و بت پرستی میں ڈوبی ہوئی، بتوں کے توڑنے کا واقعہ اور نبوت کی بات بادشاہ وقت نمرود تک پہونچی تو اس نے آگ میں ڈالنے کا فیصلہ سنا دیا، آگ سلگائی گئی اور ڈال بھی دیا گیا؛ لیکن آگ پھول کا گہوارہ بن گئی۔(انبیاء:69)
بات یہیں پرختم نہیں ہوئی ترک وطن پر مجبور کیا گیا، اپنے وطن سے نکل کر، قوم کو خیر باد کہتے ہوئے، فرات کے غربی کنارہ سے ہوتے ہوئے ایک بستی میں پہنچے، وہاں سے حران یا فاران پھر فلسطین، وہاں سے نابلس اور وہاں سے مصر پہنچے، جہاں ایک آزمائش کے بعد حضرت ہاجرہ آپ کی زوجیت میں آئیں، بہت دعاؤں کے بعد، جوانی کی فصل بہاراں رخصت ہونے کے بعد، تقریباً 92 سال کی عمر میں، پیرانہ سالی اور بڑھاپے کی حالت میں ایک لڑکا حضرت ہاجرہ کے بطن سے تولد ہوا ، جن کا نام اسماعیل رکھا گیا؛ لیکن اللہ کی طرف سے آزمائش ابھی تھمی نہیں تھی، خوش خبری کی منزل ابھی آئی نہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، ابھی کائنات کو وہ مشاہدات کرنے ہیں جنہیں آج تک نہ کسی نے دیکھا اور نہ ہی سنا ہے؛ لیکن قربان جائیے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر میدان عشق کی ہر پرخا ر و پر خطر وادی کو طے کرتے چلے گئے، عقل حیران ہے، سوچ میں پڑی ہوئی ہے؛ لیکن عشق نے اپنا کام کر دکھایا، یہی عشق ا لہی ہم سب سے بھی مطلوب ہے۔
جب ان کا اکلوتا بچہ نو (۹) سال کا ہوجاتاہے تو لگاتار تین دن خواب میں دکھلایا جاتا ہے کہ بچہ کو اللہ کی راہ میں ذبح کرکے اس کے حضور عشق و محبت کی آخری مثال بھی پیش کردو، نبی تو نبی ہوتے ہیں، بیٹے سے پوری بات بتائی، انہوں نے فوراً لبیک کہا کہ مجھے ذبح کردیجیے اور یہ مشورہ بھی دیا کہ: ابو جان! اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجیے، تاکہ میری محبت غالب نہ آئے، اللہ کے اس نیک بندے نےاپنے صحیح عاشق ہونے کی آخری مثال بھی پیش کردی، دنیا حیران ہے؛ لیکن ایک باپ اپنے اکلوتے بیٹے کو حکم خداوندی کے تحت پیشانی کے بل لٹاتا ہے، چھری بھی اچھی طرح تیز کرلی گئی ہے، آنکھوں پہ پٹی بھی باندھ لی گئی ہے، تاکہ حکم کی تعمیل میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ ہو، جوں ہی معصوم بچے پر چھری چلائی گئی، غیب سے آواز آئی: اےابراہیم تو نےخواب سچ کر دکھایا، ہم نیکی کرنے والوں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔(سورہ صافات: 104، 105)
اور بچے کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا گیا، جو بچہ کا فدیہ ثابت ہوا، یہی سنت ابراہیمی اور ادائے عاشقی اللہ کو اتنی پسند آئی کہ اللہ تبارک و تعالی نے اسے بطور یاد گار باقی رکھا اور اسے باقی رکھنے کی صورت پیدا کردی۔
یہ ہے عید الاضحی کے دن کی قربانی کی تاریخ۔ اس دن اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل یہی ہے کہ اس کے دربار میں جانوروں کی قربانی پیش کی جائے، یہ جانور اپنے بالوں اور کھروں کے ذریعے قیامت کے دن آئیں گے۔
(سنن ترمذی، باب ما جاء فی فضل الأضحية، حديث:1493)
قربانی کی فضیلت کیا ہے؟ قربانی سنت ہے یا واجب ؟ قربانی کن لوگوں پر ہے؟ قرباني كن جانوروں کی کرنی ہے؟ قربانی کے ایام کیا ہیں؟ اس کے گوشت کا مصرف کیا ہے؟ قربانی کس وقت کرنی ہے؟ یہ سب فقہی مسائل ہیں، جو آپ کو فقہی کتابوں میں مل جائیں گے، یا مفتیا ن کر ام سے معلوم ہوجائیں گے۔ ہمیں ابھی یہ معلوم کرنا ہے کہ آخر قربانی کا پیغام کیا ہے؟ کیا اللہ تبارک و تعالی کو جانوروں کا خون بہت پسند ہے کہ اس نے بہانے کا حکم دیا، نہیں نہیں بات ایسی نہیں ہے، اللہ تعالی نے تو صاف صا ف فرما د یا کہ:
اللہ کو نہ تو ان جانوروں کےگوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان کے خون؛ بلکہ اس کےیہاں تو صرف تمہاری پر ہیزگاری اور اخلاص نیت پہنچتےہیں۔(سورہ حج:37)
قربانی سے یا یہ کہاجائےکہ اس سنت ابراہیمی سے بنیادی طور پرہمیں تین اہم پیغاما ت ملتےہیں، پہلا پیغام یہ ہے کہ ہماری دنیوی و اخروی ترقی و کامیابی کا دارو مدار محنت و لگن ، سعی پیہم اور جہد مسلسل کے ساتھ مربوط ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ پڑھ جائیے، ہر موڑ پر انہوں نے ثبات قدمی کا ثبوت پیش کیا، نہ کہیں لڑکھڑائے، ڈگمگائے اور گرے تو اللہ نے انہیں اولو العزم انبیاء میں شامل کیا۔
حکم الہی کے سامنے اپنے آپ کو پیش کردینا اور بلا چوں و چرا سر تسلیم خم کردینا، یہی عبدیت و بندگی ہے، آپ کا ذہن کہتاہے کہ نماز پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں، زکاۃ دینا اپنے کمائے ہوئے مال کو کم کرنا ہے، حج کرنا اپنے آپ کو بدنی و مالی پریشانی میں ڈا ل د ینا ہے، قربانی کرنا جانوروں کا ناحق خون بہانا ہے؛ لیکن آپ نے اپنی عقل کی ایک نہیں سنی اور شریعت کی اتباع کرتے رہے، آپ نے عقل سے کہہ دیا کہ: تیرا معاملہ نفع و ضرر کی بنیاد پر ہے؛ لیکن میرا معاملہ عشق الہی، اتباع نبوی اور سنت کی پیروی کی چاہت سے مربوط ہے اور ہمیں تو یہی کرنا ہے جو دین کہتاہے، شریعت کہتی ہے اور اسلام کا حکم ہے، نفع و ضرر بذات خود کوئی چیز نہیں ہے، یہ اثرات تو اللہ رکھتاہے، وہ چاہے تو بے جان سے جاندار پیدا کردے اور جاندار سے بے جان نکال دے ، وہ تو مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتاہے۔(سورہ آل عمران:27)
اس کا مطلب ہے کہ آپ نے شریعت کے لیے قربانی دی اور اسوۂ نبوی کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور آپ بزبان حال وہ بات کہہ ر ہے ہیں، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:
میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کاپالنے والا ہے، اس کا کو ئی شریک نہیں اور یہی مجھ کو حکم ہوا اور میں سب سےپہلےفرماں بردار ہوں۔ (سورہ انعام:162، 163)۔
قربانی کے اندر ایک دوسرا اہم پیغام یہ مضمر ہےکہ بغیر قربانی کےترقی اور کامیابی و کامرانی نا ممکن ہے، بات فرد کی ہو یا اقوام و ملل کی، سبھوں کے اندر قربانی کے جذبے کا پایا جانا ضروری ہے، تب ہی کوئی فرد یا قوم ترقی کرسکتی ہے، معمولی سی دانوں اور بیجوں کو دیکھیے، ان کی قربانی کی و جہ سے پودے نکلتے ہیں، فصلیں تیار ہوتی ہیں، غلے اور اناج ہمیں نصیب ہوتے ہیں اور بیجوں سے بھار ی بھرکم درخت تیار ہوتے ہیں، جس قوم کے اندر مرمٹنے کا جذبہ پیدا ہوجائے، ایثار و قربانی جیسے بلند اوصاف پیداہوجائیں، تو وہ کامیا ب و کامران ہوگی، عروج و ارتقا کی منزلیں طےکرےگی، یہی وہ اوصاف تھے جن کی بنیاد پر صحابہ کرام نے اپنےگھر بار کو خیرباد کہا اور چہار دانگ عالم میں دعوت اسلام کا ڈنکا بجادیا، ہمیں بھی اللہ و رسول کی خاطر، د ین کی خاطر، انسانیت کی خاطر، مخلوق خداکی خاطر ایثار و قربانی اختیار کرنا چاہیے۔
قربانی کا ایک تیسرا اہم پیغام یہ ہے کہ ہمارے عمل میں اخلاص ہونا چاہیے تب ہی جاکر ہمارے اعمال اللہ کے نزدیک قابل قبول ہوں گے؛ کیوں کہ نہ تو ان جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان کے خون؛ بلکہ اس کےیہاں تو صرف تمہاری پرہیزگاری اور اخلاص نیت پہنچتےہیں۔(الحج:37)
آج ہمارے سماج و سوسائٹی میں قربانی میں بھی بری طرح دکھاوا آگیا ہے، اس میں مقابلے ہوتے ہیں، نام و نمود کے لیے مہنگے مہنگے جانور خریدے جاتے ہیں، اگر صرف نام و نمود کے لیے یا کھانے کے لیے قربانی کی جائے تو علمائے حق نے وضاحت کی ہے کہ ایسے آدمی کی قربانی ہی قبول نہیں ہوگی، یاد رکھیے! اللہ دل ہی کی کیفیت کو معیار بناتا ہے:وہ ہم لوگوں کی صورتوں، شکلوں اور مالوں کی طرف نہیں دیکھتا ہے ، وہ تو ہمارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
(صحیح مسلم ، باب تحریم ظلم المسلم: 2564)
اس لیے مکمل طور سے اپنے کاموں میں اخلاص پیدا کیجیے، تب ہی اخروی کامیابی قدم چھوئےگی۔ ذرا دیکھیےہابیل و قابیل دونوں نے ہی اللہ کے دربار میں قربانیاں پیش کیں؛ لیکن ایک کی مقبول ہوئی اور دوسرے کی مردود، کیونکہ اخلاص کافقدان تھا۔
اللہ ہم سب کو قربانی کے مقاصد اور اس کےپیغام کو سمجھنےکی توفیق دے ،دین پرصحیح چلنے والا بنادے، اور اخلاص کےساتھ زندگی گزانےکی توفیق دے آمین۔
عید الاضحی کی آمد آمد ہے، یہ ایسی عید ہے جس کی ایک تاریخ ہے، اس کے کچھ مقاصد ہیں، اس عظیم خوشی میں بہت
سارے پیغامات مضمر ہیں، جوں ہی ماہ ذی الحجہ کی آمد قریب ہوتی ہےحضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ ذہن و دماغ میں گردش کرنے لگتی ہے اور ان کے امتحان و آزمائش کی پوری تصویر گھوم جاتی ہے، ہر موڑ پرحضرت ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، ارشاد الہی ہے: اور جب ا براہیم کو اس کے رب نےکئی باتوں میں آزمایا، پھر اس نےوہ پوری کیں، تب فرمایا: میں تجھ کو سب لوگوں کاپیشوا کروں گا۔ (سورہ بقرہ:124)
حضرت ابراہیم علیہالسلام کو جیسی آزمائشوں سے گذرنی پڑی، ویسی آزمائش کم نبیوں کے حصے میں آئی ہے جس گھرانے میں آپ نے آنکھیں کھولیں وہ گھرانہ مشرکانہ، پوری قوم بت سازی و بت پرستی میں ڈوبی ہوئی، بتوں کے توڑنے کا واقعہ اور نبوت کی بات بادشاہ وقت نمرود تک پہونچی تو اس نے آگ میں ڈالنے کا فیصلہ سنا دیا، آگ سلگائی گئی اور ڈال بھی دیا گیا؛ لیکن آگ پھول کا گہوارہ بن گئی۔(انبیاء:69)
بات یہیں پرختم نہیں ہوئی ترک وطن پر مجبور کیا گیا، اپنے وطن سے نکل کر، قوم کو خیر باد کہتے ہوئے، فرات کے غربی کنارہ سے ہوتے ہوئے ایک بستی میں پہنچے، وہاں سے حران یا فاران پھر فلسطین، وہاں سے نابلس اور وہاں سے مصر پہنچے، جہاں ایک آزمائش کے بعد حضرت ہاجرہ آپ کی زوجیت میں آئیں، بہت دعاؤں کے بعد، جوانی کی فصل بہاراں رخصت ہونے کے بعد، تقریباً 92 سال کی عمر میں، پیرانہ سالی اور بڑھاپے کی حالت میں ایک لڑکا حضرت ہاجرہ کے بطن سے تولد ہوا ، جن کا نام اسماعیل رکھا گیا؛ لیکن اللہ کی طرف سے آزمائش ابھی تھمی نہیں تھی، خوش خبری کی منزل ابھی آئی نہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، ابھی کائنات کو وہ مشاہدات کرنے ہیں جنہیں آج تک نہ کسی نے دیکھا اور نہ ہی سنا ہے؛ لیکن قربان جائیے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر میدان عشق کی ہر پرخا ر و پر خطر وادی کو طے کرتے چلے گئے، عقل حیران ہے، سوچ میں پڑی ہوئی ہے؛ لیکن عشق نے اپنا کام کر دکھایا، یہی عشق ا لہی ہم سب سے بھی مطلوب ہے۔
جب ان کا اکلوتا بچہ نو (۹) سال کا ہوجاتاہے تو لگاتار تین دن خواب میں دکھلایا جاتا ہے کہ بچہ کو اللہ کی راہ میں ذبح کرکے اس کے حضور عشق و محبت کی آخری مثال بھی پیش کردو، نبی تو نبی ہوتے ہیں، بیٹے سے پوری بات بتائی، انہوں نے فوراً لبیک کہا کہ مجھے ذبح کردیجیے اور یہ مشورہ بھی دیا کہ: ابو جان! اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجیے، تاکہ میری محبت غالب نہ آئے، اللہ کے اس نیک بندے نےاپنے صحیح عاشق ہونے کی آخری مثال بھی پیش کردی، دنیا حیران ہے؛ لیکن ایک باپ اپنے اکلوتے بیٹے کو حکم خداوندی کے تحت پیشانی کے بل لٹاتا ہے، چھری بھی اچھی طرح تیز کرلی گئی ہے، آنکھوں پہ پٹی بھی باندھ لی گئی ہے، تاکہ حکم کی تعمیل میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ ہو، جوں ہی معصوم بچے پر چھری چلائی گئی، غیب سے آواز آئی: اےابراہیم تو نےخواب سچ کر دکھایا، ہم نیکی کرنے والوں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔(سورہ صافات: 104، 105)اور بچے کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا گیا، جو بچہ کا فدیہ ثابت ہوا، یہی سنت ابراہیمی اور ادائے عاشقی اللہ کو اتنی پسند آئی کہ اللہ تبارک و تعالی نے اسے بطور یاد گار باقی رکھا اور اسے باقی رکھنے کی صورت پیدا کردی۔
یہ ہے عید الاضحی کے دن کی قربانی کی تاریخ۔ اس دن اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل یہی ہے کہ اس کے دربار میں جانوروں کی قربانی پیش کی جائے، یہ جانور اپنے بالوں اور کھروں کے ذریعے قیامت کے دن آئیں گے۔(سنن ترمذی، باب ما جاء فی فضل الأضحية، حديث:1493)
قربانی کی فضیلت کیا ہے؟ قربانی سنت ہے یا واجب ؟ قربانی کن لوگوں پر ہے؟ قرباني كن جانوروں کی کرنی ہے؟ قربانی کے ایام کیا ہیں؟ اس کے گوشت کا مصرف کیا ہے؟ قربانی کس وقت کرنی ہے؟ یہ سب فقہی مسائل ہیں، جو آپ کو فقہی کتابوں میں مل جائیں گے، یا مفتیا ن کر ام سے معلوم ہوجائیں گے۔ ہمیں ابھی یہ معلوم کرنا ہے کہ آخر قربانی کا پیغام کیا ہے؟ کیا اللہ تبارک و تعالی کو جانوروں کا خون بہت پسند ہے کہ اس نے بہانے کا حکم دیا، نہیں نہیں بات ایسی نہیں ہے، اللہ تعالی نے تو صاف صا ف فرما د یا کہ:
اللہ کو نہ تو ان جانوروں کےگوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان کے خون؛ بلکہ اس کےیہاں تو صرف تمہاری پر ہیزگاری اور اخلاص نیت پہنچتےہیں۔(سورہ حج:37)
قربانی سے یا یہ کہاجائےکہ اس سنت ابراہیمی سے بنیادی طور پرہمیں تین اہم پیغاما ت ملتےہیں، پہلا پیغام یہ ہے کہ ہماری دنیوی و اخروی ترقی و کامیابی کا دارو مدار محنت و لگن ، سعی پیہم اور جہد مسلسل کے ساتھ مربوط ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ پڑھ جائیے، ہر موڑ پر انہوں نے ثبات قدمی کا ثبوت پیش کیا، نہ کہیں لڑکھڑائے، ڈگمگائے اور گرے تو اللہ نے انہیں اولو العزم انبیاء میں شامل کیا۔
حکم الہی کے سامنے اپنے آپ کو پیش کردینا اور بلا چوں و چرا سر تسلیم خم کردینا، یہی عبدیت و بندگی ہے، آپ کا ذہن کہتاہے کہ نماز پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں، زکاۃ دینا اپنے کمائے ہوئے مال کو کم کرنا ہے، حج کرنا اپنے آپ کو بدنی و مالی پریشانی میں ڈا ل د ینا ہے، قربانی کرنا جانوروں کا ناحق خون بہانا ہے؛ لیکن آپ نے اپنی عقل کی ایک نہیں سنی اور شریعت کی اتباع کرتے رہے، آپ نے عقل سے کہہ دیا کہ: تیرا معاملہ نفع و ضرر کی بنیاد پر ہے؛ لیکن میرا معاملہ عشق الہی، اتباع نبوی اور سنت کی پیروی کی چاہت سے مربوط ہے اور ہمیں تو یہی کرنا ہے جو دین کہتاہے، شریعت کہتی ہے اور اسلام کا حکم ہے، نفع و ضرر بذات خود کوئی چیز نہیں ہے، یہ اثرات تو اللہ رکھتاہے، وہ چاہے تو بے جان سے جاندار پیدا کردے اور جاندار سے بے جان نکال دے ، وہ تو مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتاہے۔(سورہ آل عمران:27)
اس کا مطلب ہے کہ آپ نے شریعت کے لیے قربانی دی اور اسوۂ نبوی کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور آپ بزبان حال وہ بات کہہ ر ہے ہیں، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:
میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کاپالنے والا ہے، اس کا کو ئی شریک نہیں اور یہی مجھ کو حکم ہوا اور میں سب سےپہلےفرماں بردار ہوں۔ (سورہ انعام:162، 163)۔
قربانی کے اندر ایک دوسرا اہم پیغام یہ مضمر ہےکہ بغیر قربانی کےترقی اور کامیابی و کامرانی نا ممکن ہے، بات فرد کی ہو یا اقوام و ملل کی، سبھوں کے اندر قربانی کے جذبے کا پایا جانا ضروری ہے، تب ہی کوئی فرد یا قوم ترقی کرسکتی ہے، معمولی سی دانوں اور بیجوں کو دیکھیے، ان کی قربانی کی و جہ سے پودے نکلتے ہیں، فصلیں تیار ہوتی ہیں، غلے اور اناج ہمیں نصیب ہوتے ہیں اور بیجوں سے بھار ی بھرکم درخت تیار ہوتے ہیں، جس قوم کے اندر مرمٹنے کا جذبہ پیدا ہوجائے، ایثار و قربانی جیسے بلند اوصاف پیداہوجائیں، تو وہ کامیا ب و کامران ہوگی، عروج و ارتقا کی منزلیں طےکرےگی، یہی وہ اوصاف تھے جن کی بنیاد پر صحابہ کرام نے اپنےگھر بار کو خیرباد کہا اور چہار دانگ عالم میں دعوت اسلام کا ڈنکا بجادیا، ہمیں بھی اللہ و رسول کی خاطر، د ین کی خاطر، انسانیت کی خاطر، مخلوق خداکی خاطر ایثار و قربانی اختیار کرنا چاہیے۔
قربانی کا ایک تیسرا اہم پیغام یہ ہے کہ ہمارے عمل میں اخلاص ہونا چاہیے تب ہی جاکر ہمارے اعمال اللہ کے نزدیک قابل قبول ہوں گے؛ کیوں کہ نہ تو ان جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان کے خون؛ بلکہ اس کےیہاں تو صرف تمہاری پرہیزگاری اور اخلاص نیت پہنچتےہیں۔(الحج:37)
آج ہمارے سماج و سوسائٹی میں قربانی میں بھی بری طرح دکھاوا آگیا ہے، اس میں مقابلے ہوتے ہیں، نام و نمود کے لیے مہنگے مہنگے جانور خریدے جاتے ہیں، اگر صرف نام و نمود کے لیے یا کھانے کے لیے قربانی کی جائے تو علمائے حق نے وضاحت کی ہے کہ ایسے آدمی کی قربانی ہی قبول نہیں ہوگی، یاد رکھیے! اللہ دل ہی کی کیفیت کو معیار بناتا ہے:وہ ہم لوگوں کی صورتوں، شکلوں اور مالوں کی طرف نہیں دیکھتا ہے ، وہ تو ہمارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
(صحیح مسلم ، باب تحریم ظلم المسلم: 2564)
اس لیے مکمل طور سے اپنے کاموں میں اخلاص پیدا کیجیے، تب ہی اخروی کامیابی قدم چھوئےگی۔ ذرا دیکھیےہابیل و قابیل دونوں نے ہی اللہ کے دربار میں قربانیاں پیش کیں؛ لیکن ایک کی مقبول ہوئی اور دوسرے کی مردود، کیونکہ اخلاص کافقدان تھا۔
اللہ ہم سب کو قربانی کے مقاصد اور اس کےپیغام کو سمجھنےکی توفیق دے ،دین پرصحیح چلنے والا بنادے، اور اخلاص کےساتھ زندگی گزانےکی توفیق دے آمین۔
No comments:
Post a Comment