عشق کا امتحان ہے قربانی
مولانا محمداعظم ندوی
اللہ تعالی نے انسان کو اس کرئہ ارض پر بسایا:
{ہوالذی انشاکم من الارض واستعمرکم فیہا}(ھود:۶۱)’’وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔‘‘
اسکو عزت عطا فرمائی:
{ولقدکرمنا بنيآدم}(بنی اسرائیل:۷۰)’’یقینا ہم نے بنی آدم کوبزرگی دی۔‘‘
زمین کی ساری چیزوں کو اس کی خدمت پر لگایا:
{ھوالذي خلق لکم ما فی الارض جمیعا} (البقرۃ:۲۹)’’وہی توہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیداکیں۔‘‘
کائنات کو اس کے لیے مسخر فرمادیا:
{الم تروا ان اللہ سخر لکم ما في السماوات ومافي الارض}(لقمان:۲۰) ’’ کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں۔‘‘
یہ سب ہوتا لیکن ان چیزوں سے استفادہ پر قدرت نہ دی جاتی تو ان کی حیثیت دور کے جلوہ سے زیادہ کی نہ ہوتی لیکن یہ نعمت بھی اللہ کی طرف سے عطاکی گئی:
{ولقد مکناکم في الارض وجعلنا لکم فیہا معایش}(الاعراف:۱۰)’’ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا،اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا۔‘‘
اللہ تعالی کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کردیں،خالق کی جانب سے اپنی ایسی محبوب اور منظور نظر مخلوق کو ذبح کرنے کا حکم بجز امتحان کے اور کیا ہوسکتا تھا، قرآن نے خود کہا:
{ان ہذا لہو البلاء المبین} (صافات:۱۰۶) ’’یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔‘‘
خلیل اللہ نے جناب باری میں یہ درخواست نہ رکھی کہ ایک ابن آدم اور وہ بھی میرا جگرپارہ میرے ہاتھوں ذبح ہو ؛ایسی بڑی قربانی مجھ سے نہ لیجئے ،بلکہ حکم الہی کو بجالانے کے لیے بصد شوق تیار ہوگئےاور وارفتگی کا عالم تو دیکھئے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام خودبھی گویا ہیں:
{یاابت افعل ماتؤمر}(صافات:۱۰۲) ’’اباجان!جوکچھ آپ کو حکم دیاجارہا ہے کرڈالیے۔‘‘
کیا شان ہے بسمل کی،گویا چھری گردن پہ ہے اور اس کی آواز یہ ہے ؎
کہ مشق ناز کر! خون دوعالم میری گردن پر
انہوں نے اپنے جذبات محبت کی قربانی دی تو اس کا صلہ یہ ملا کہ یہ عبادت قیامت تک کے لیے’’یادگار خلیل‘‘ بنادی گئی:
{وفدینہ بذبح عظیم}(صافات:۱۰۷)’’اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیہ میں دے کر اس بچہ کوچھڑالیا۔‘‘
اس کی تفسیر میں’’ذِبح‘‘ کو’’ عظیم‘‘کہنے کی ایک وجہ بقول امام عمر وبن عبید یہ بھی ہے کہ’’لانہ جرت السنۃ بہ،وصار دینا باقیا آخر الدھر‘‘(روح المعانی) ’’عظیم اس لیے کہا گیا کہ وہ قربانی قیامت تک کے لیے ایک سنت اورزندہ جاویدعبادت بن گئی۔‘‘
حضور اکرم ﷺ نے بھی اس عبادت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب کرتے ہوئے فرمایا:
’’سنۃابیکم ابراہیم‘‘(سنن ابن ماجہ:۳۱۲۷) ’’یہ تمہارے باپ ابراہیم کا طریقہ ہے۔‘‘
آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
’’من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقربنّ مصلانا‘‘(سنن ابن ماجہ:۳۱۲۳)( جو گنجائش رہتے ہوئے قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے)
ایسے تاکیدی حکم کی بنیاد پر ہی امام ابوحنیفہؒ کے علاوہ امام اوزاعی اور لیث بن سعدکا بھی یہی قول کہ قربانی واجب ہے، امام مالکؒ اور امام احمدؓ کا بھی ایک قول وجوب کاہے،امام ابن تیمیہؒ بھی قربانی کو واجب قرار دیتے ہیں،امام مالکؒ نے فرمایا:
’’لایترکھا،فإن ترکھا بئس ما صنع ‘‘ (عمدۃ القاری۲؍۲۴)’’قربانی نہ چھوڑے، اگر ایسا کرتا ہے تو کتنا برا ہے یہ کام جو اس نے کیا۔‘‘
انہوں نے یہاں تک فرمایا کہ
’’اذا ترکھا اہل بلد قوتلوا علیھا، لانھا من شعائر الاسلام‘‘(رسائل فقہیۃ للشیخ ابن عثیمین:۴)(اگر کسی شہر کے سارے لوگ اسے چھوڑدیں تو اس پر ان سے جنگ کی جائیگی،چونکہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔)
لیکن علامہ ابن حزم ظاہریؒ اپنی عادت کے مطابق یہاں بھی اسی نتیجہ پر پہونچے کہ
’’ھذا مما خالف فیہ الحنفیون جمھور العلماء‘‘(المحلی۷؍۳۵۸)’’قربانی کو واجب قرار دے کر حنفیوں نے جمہور کی مخالفت کی ہے‘‘
اور بعض لوگ آج بھی یہ بات بے محابہ کہہ رہے ہیں۔
قربانی کو اللہ تعالی نے صرف مال خرچ کروانے کا ذریعہ نہیں بنایا ، بلکہ اسے شعار دین بنایا،اب کوئی قربانی کرنے کے بجائے ایام قربانی میں اس سے ہزار گنا بڑھ کر صدقہ وخیرات کرے توبھی قربانی کی فضیلت حاصل نہیں کرسکتا،ناطفی نے واقعات میں لکھاہے:
’’شراء الاضحیۃ بعشرۃ دراھم خیر من التصدق بالف درھم، لان القربۃ التي تحصل باراقۃ الدم لا تحصل بالصدقۃ‘‘(بحوالہ:الجوھرۃ النیرۃ،باب حکم الاضحیۃ)’’دس درہم میں قربانی کا جانور خریدنا ایک ہزاردرہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے،اس لیے کہ جو ثواب جانور کا خون بہانے سے حاصل ہوگا وہ صدقہ سے حاصل نہیں ہوسکتا۔‘‘
افسوس کہ انسان کا خون آج اتنا ارزاں ہوگیا کہ کسی شخصی یا ملکی مفاد کی خاطر ہزاروں لوگوں کو بے دریغ قتل کردیا جاتا ہے ،اس سے قطع نظر مذہبی اعتقاد کے ساتھ یا مذہبی بالادستی کے لیے صرف جانوروں کی نہیں بلکہ انسانوںکی قربانی (Human Sacrifice)بڑے پیمانے پر جاری ہے۔
لیکن مسلمان اپنی ایک عظیم عبادت کو بجالانے کے لیے قربانی کریں تو بعض’’نام نہاددور اندیشوں‘‘کے نزدیک یہ بھی ایک قسم کی دہشت گردی شمار کی جارہی ہے،یہ محض فریب نظر ہے،خود ہمارے برادران وطن اور بعض دیگرغیر مسلم ممالک کے لوگ جو اسلام کے نہیں کسی اورمذہب کے پیروکارہیں؛خوب شوق اور عقیدت کے ساتھ ہزاروں سال سے اس عبادت میں لگے ہوئے ہیں،نیپال میں ہندو مذہب کے آداب قربانی کی ایک رپورٹ دیکھئے:
"Possibly the largest animal sacrifice in the world occurs during Gadhimai festival in Nepal. In the 3 day long sacrifice in 2009 it was speculated that more than 250,000 animals were killed while 5 million devotees attended the festival"
(http://edition.cnn.com/2009/WORLD/asiapcf/11/24/nepal.animal.sacrifice/index.html))
(غالبا دنیا میں جانوروں کی سب سے بڑی قربانی ’’گادھی مائی تہوار‘‘ کے دوران نیپال میں ہوتی ہے،ایک اندازہ کے مطابق ۲۰۰۹ء میں صرف تین دنوں میں ڈھائی لاکھ (ایک تہائی ملین) جانوروں کی بلی دی گئی،جبکہ پانچ ملین(پچاس لاکھ) عقیدت مند اس میں شریک ہوئے۔)
اسلام میں یہ عبادت اللہ کے حضور قیام وقعود،دعاء ومناجات اور رکوع وسجود سے مربوط کردی گئی ہے،اگر کوئی دوگانہ عید کی ادائیگی سے پہلے ہی قربانی کرلے تو وہ محض گوشت کھانے کی تیاری ہے، قربانی سے اس کا کوئی تعلق نہیں، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ومن نحر قبل الصلاۃ فانما ھو لحم قدّمہ لاھلہ،لیس من النسک في شیء‘‘(بخاری:۹۶۵)
شاہ ولی اللہؒ نے بجافرمایا:
’’لان الذبح لایکون قربۃ الا بتشبہ الحاج، وذلک بالاجتماع للصلاۃ‘‘
’’چونکہ ذبح حاجیوں کی مشابہت اختیار کرنے سے ہی کارثواب بن سکتا ہے، اور یہ نماز کے لیے جمع ہوکر ہی حاصل ہوسکتاہے۔‘‘(حجۃاللہ البالغۃ۱؍۴۸۱)
احناف صرف ایسے دیہات کے لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیتے ہیں جن پر عید کی نماز بھی واجب نہیں،لیکن بہتران کے لیے بھی نہیں۔
اور صرف یہی نہیں کہ ایام قربانی کو یہ فضیلت حاصل ہوگئی اور بس،بلکہ ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی اسکی خصوصیات ظاہر ہونے لگتی ہیں ، ان دنوں میں کوئی عبادت کرتا ہے تو اسکی فضیلت زبان نبوت سے سنئے:
’’ما من ایام العمل الصالح فیہا احب الی اللہ من ہذہ الایام‘‘ یعنی ایام العشر،قالوا: یا رسول اللہ! ولا الجہاد في سبیل اللہ؟قال: ’’ولا الجہاد في سبیل اللہ إلا رجل خرج بنفسہ ومالہ فلم یرجع من ذلک بشیء‘‘ (ابوداود:۲۴۴۰)
(سال میں کوئی دن ایسا نہیں کہ اس میں اللہ تعالی کو کار خیر اتنا پسند ہو جتنا کہ ان دنوں(ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں) میں، لوگوں نے کہا: اللہ کے راستہ میں جہاد بھی اتنا پسندیدہ نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: (ان دنوں میں) جہاد بھی اتنا پسندیدہ نہیں سوائے اس کے کوئی شخص اپنی جان اور مال کے ساتھ اس طرح نکل گیا ہو کہ پھر کچھ لیکر نہ لوٹا ہو یعنی شہید ہوگیا ہو)
شب قدر کی راتیں جس طرح مبارک ہیں اسی طرح ذی الحجہ کے یہ دس دن،اور بعض علماء نے لکھا ہے کہ مجموعی اعتبار سے یہ دس دن رمضان کے آخری عشرہ سے زیادہ فضیلت والے ہیں لیکن خاص شب قدر سے بڑھ کر کسی دن یا رات کو فضیلت حاصل نہیں۔(مرعاۃ المفاتیح:۵؍۸۸)
اللہ تعالی کے ارشاد:’’ولیال عشر‘‘(الفجر:۲) میں بھی اکثر مفسرین کے نزدیک انھیں دس دنوںکی قسم کھائی گئی ہے۔(ابن کثیر)
اور یوم عرفہ (۹؍ذی الحجہ) کو اور بھی زیادہ خصوصیت حاصل ہے،آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’صیام یوم عرفۃ احتسب علی اللہ ان یکفر السنۃ التي قبلہ والسنۃ التی بعدہ‘‘( مسلم:۱۱۶۲،باب استحباب ثلاثۃ ایام) ( عرفہ کے دن کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد یعنی دوسال کے گناہوں کو معاف کرواتا ہے۔)
اس لئے حاجیوں کے علاوہ عام لوگوں کے لیے اس روزہ کی بڑی اہمیت ہے،حیرت ہے کہ ہم اپنے طور پر کتنے دنوں اور راتوں کی فضیلت ٹھیرالیتے ہیں اور بڑے ذوق وشوق سے ان پر جان ودل نچھاور کرتے ہیں،اور جس موقع سے پکار پکار کرکچھ دینے کو بلایا جارہا ہے ہم سکون کی چادروں میں لپٹے پڑے ہیں۔
ہمیں اس ربانی اور ایمانی موسم کی قدر کرتے ہوئے قربانی کے ساتھ ساتھ دیگر مالی وبدنی نفلی عبادتیں بھی بڑے اہتمام سے بجالانے کی کوشش کرنی چاہئےاور یہ ہمیشہ یاد رہے کہ عزم صادق کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا ؎
تقدیر باندازئہ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں وہ قطرہ ہے جو گوہر نہ ہوا تھا
اللہ تعالی نے انسان کو اس کرئہ ارض پر بسایا:
{ہوالذی انشاکم من الارض واستعمرکم فیہا}(ھود:۶۱)’’وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔‘‘
اسکو عزت عطا فرمائی:
{ولقدکرمنا بنيآدم}(بنی اسرائیل:۷۰)’’یقینا ہم نے بنی آدم کوبزرگی دی۔‘‘
زمین کی ساری چیزوں کو اس کی خدمت پر لگایا:
{ھوالذي خلق لکم ما فی الارض جمیعا} (البقرۃ:۲۹)’’وہی توہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیداکیں۔‘‘
کائنات کو اس کے لیے مسخر فرمادیا:
{الم تروا ان اللہ سخر لکم ما في السماوات ومافي الارض}(لقمان:۲۰) ’’ کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں۔‘‘
یہ سب ہوتا لیکن ان چیزوں سے استفادہ پر قدرت نہ دی جاتی تو ان کی حیثیت دور کے جلوہ سے زیادہ کی نہ ہوتی لیکن یہ نعمت بھی اللہ کی طرف سے عطاکی گئی:
{ولقد مکناکم في الارض وجعلنا لکم فیہا معایش}(الاعراف:۱۰)’’ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا،اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا۔‘‘
اللہ تعالی کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کردیں،خالق کی جانب سے اپنی ایسی محبوب اور منظور نظر مخلوق کو ذبح کرنے کا حکم بجز امتحان کے اور کیا ہوسکتا تھا، قرآن نے خود کہا:
{ان ہذا لہو البلاء المبین} (صافات:۱۰۶) ’’یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔‘‘
خلیل اللہ نے جناب باری میں یہ درخواست نہ رکھی کہ ایک ابن آدم اور وہ بھی میرا جگرپارہ میرے ہاتھوں ذبح ہو ؛ایسی بڑی قربانی مجھ سے نہ لیجئے ،بلکہ حکم الہی کو بجالانے کے لیے بصد شوق تیار ہوگئےاور وارفتگی کا عالم تو دیکھئے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام خودبھی گویا ہیں:
{یاابت افعل ماتؤمر}(صافات:۱۰۲) ’’اباجان!جوکچھ آپ کو حکم دیاجارہا ہے کرڈالیے۔‘‘
کیا شان ہے بسمل کی،گویا چھری گردن پہ ہے اور اس کی آواز یہ ہے ؎کہ مشق ناز کر! خون دوعالم میری گردن پر
انہوں نے اپنے جذبات محبت کی قربانی دی تو اس کا صلہ یہ ملا کہ یہ عبادت قیامت تک کے لیے’’یادگار خلیل‘‘ بنادی گئی:
{وفدینہ بذبح عظیم}(صافات:۱۰۷)’’اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیہ میں دے کر اس بچہ کوچھڑالیا۔‘‘
اس کی تفسیر میں’’ذِبح‘‘ کو’’ عظیم‘‘کہنے کی ایک وجہ بقول امام عمر وبن عبید یہ بھی ہے کہ’’لانہ جرت السنۃ بہ،وصار دینا باقیا آخر الدھر‘‘(روح المعانی) ’’عظیم اس لیے کہا گیا کہ وہ قربانی قیامت تک کے لیے ایک سنت اورزندہ جاویدعبادت بن گئی۔‘‘
حضور اکرم ﷺ نے بھی اس عبادت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب کرتے ہوئے فرمایا:
’’سنۃابیکم ابراہیم‘‘(سنن ابن ماجہ:۳۱۲۷) ’’یہ تمہارے باپ ابراہیم کا طریقہ ہے۔‘‘
آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
’’من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقربنّ مصلانا‘‘(سنن ابن ماجہ:۳۱۲۳)( جو گنجائش رہتے ہوئے قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے)
ایسے تاکیدی حکم کی بنیاد پر ہی امام ابوحنیفہؒ کے علاوہ امام اوزاعی اور لیث بن سعدکا بھی یہی قول کہ قربانی واجب ہے، امام مالکؒ اور امام احمدؓ کا بھی ایک قول وجوب کاہے،امام ابن تیمیہؒ بھی قربانی کو واجب قرار دیتے ہیں،امام مالکؒ نے فرمایا:
’’لایترکھا،فإن ترکھا بئس ما صنع ‘‘ (عمدۃ القاری۲؍۲۴)’’قربانی نہ چھوڑے، اگر ایسا کرتا ہے تو کتنا برا ہے یہ کام جو اس نے کیا۔‘‘
انہوں نے یہاں تک فرمایا کہ
’’اذا ترکھا اہل بلد قوتلوا علیھا، لانھا من شعائر الاسلام‘‘(رسائل فقہیۃ للشیخ ابن عثیمین:۴)(اگر کسی شہر کے سارے لوگ اسے چھوڑدیں تو اس پر ان سے جنگ کی جائیگی،چونکہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔)
لیکن علامہ ابن حزم ظاہریؒ اپنی عادت کے مطابق یہاں بھی اسی نتیجہ پر پہونچے کہ
’’ھذا مما خالف فیہ الحنفیون جمھور العلماء‘‘(المحلی۷؍۳۵۸)’’قربانی کو واجب قرار دے کر حنفیوں نے جمہور کی مخالفت کی ہے‘‘
اور بعض لوگ آج بھی یہ بات بے محابہ کہہ رہے ہیں۔
قربانی کو اللہ تعالی نے صرف مال خرچ کروانے کا ذریعہ نہیں بنایا ، بلکہ اسے شعار دین بنایا،اب کوئی قربانی کرنے کے بجائے ایام قربانی میں اس سے ہزار گنا بڑھ کر صدقہ وخیرات کرے توبھی قربانی کی فضیلت حاصل نہیں کرسکتا،ناطفی نے واقعات میں لکھاہے:
’’شراء الاضحیۃ بعشرۃ دراھم خیر من التصدق بالف درھم، لان القربۃ التي تحصل باراقۃ الدم لا تحصل بالصدقۃ‘‘(بحوالہ:الجوھرۃ النیرۃ،باب حکم الاضحیۃ)’’دس درہم میں قربانی کا جانور خریدنا ایک ہزاردرہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے،اس لیے کہ جو ثواب جانور کا خون بہانے سے حاصل ہوگا وہ صدقہ سے حاصل نہیں ہوسکتا۔‘‘
افسوس کہ انسان کا خون آج اتنا ارزاں ہوگیا کہ کسی شخصی یا ملکی مفاد کی خاطر ہزاروں لوگوں کو بے دریغ قتل کردیا جاتا ہے ،اس سے قطع نظر مذہبی اعتقاد کے ساتھ یا مذہبی بالادستی کے لیے صرف جانوروں کی نہیں بلکہ انسانوںکی قربانی (Human Sacrifice)بڑے پیمانے پر جاری ہے۔
لیکن مسلمان اپنی ایک عظیم عبادت کو بجالانے کے لیے قربانی کریں تو بعض’’نام نہاددور اندیشوں‘‘کے نزدیک یہ بھی ایک قسم کی دہشت گردی شمار کی جارہی ہے،یہ محض فریب نظر ہے،خود ہمارے برادران وطن اور بعض دیگرغیر مسلم ممالک کے لوگ جو اسلام کے نہیں کسی اورمذہب کے پیروکارہیں؛خوب شوق اور عقیدت کے ساتھ ہزاروں سال سے اس عبادت میں لگے ہوئے ہیں،نیپال میں ہندو مذہب کے آداب قربانی کی ایک رپورٹ دیکھئے:
"Possibly the largest animal sacrifice in the world occurs during Gadhimai festival in Nepal. In the 3 day long sacrifice in 2009 it was speculated that more than 250,000 animals were killed while 5 million devotees attended the festival"
(http://edition.cnn.com/2009/WORLD/asiapcf/11/24/nepal.animal.sacrifice/index.html))
(غالبا دنیا میں جانوروں کی سب سے بڑی قربانی ’’گادھی مائی تہوار‘‘ کے دوران نیپال میں ہوتی ہے،ایک اندازہ کے مطابق ۲۰۰۹ء میں صرف تین دنوں میں ڈھائی لاکھ (ایک تہائی ملین) جانوروں کی بلی دی گئی،جبکہ پانچ ملین(پچاس لاکھ) عقیدت مند اس میں شریک ہوئے۔)
اسلام میں یہ عبادت اللہ کے حضور قیام وقعود،دعاء ومناجات اور رکوع وسجود سے مربوط کردی گئی ہے،اگر کوئی دوگانہ عید کی ادائیگی سے پہلے ہی قربانی کرلے تو وہ محض گوشت کھانے کی تیاری ہے، قربانی سے اس کا کوئی تعلق نہیں، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ومن نحر قبل الصلاۃ فانما ھو لحم قدّمہ لاھلہ،لیس من النسک في شیء‘‘(بخاری:۹۶۵)
شاہ ولی اللہؒ نے بجافرمایا:
’’لان الذبح لایکون قربۃ الا بتشبہ الحاج، وذلک بالاجتماع للصلاۃ‘‘
’’چونکہ ذبح حاجیوں کی مشابہت اختیار کرنے سے ہی کارثواب بن سکتا ہے، اور یہ نماز کے لیے جمع ہوکر ہی حاصل ہوسکتاہے۔‘‘(حجۃاللہ البالغۃ۱؍۴۸۱)
احناف صرف ایسے دیہات کے لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیتے ہیں جن پر عید کی نماز بھی واجب نہیں،لیکن بہتران کے لیے بھی نہیں۔
اور صرف یہی نہیں کہ ایام قربانی کو یہ فضیلت حاصل ہوگئی اور بس،بلکہ ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی اسکی خصوصیات ظاہر ہونے لگتی ہیں ، ان دنوں میں کوئی عبادت کرتا ہے تو اسکی فضیلت زبان نبوت سے سنئے:
’’ما من ایام العمل الصالح فیہا احب الی اللہ من ہذہ الایام‘‘ یعنی ایام العشر،قالوا: یا رسول اللہ! ولا الجہاد في سبیل اللہ؟قال: ’’ولا الجہاد في سبیل اللہ إلا رجل خرج بنفسہ ومالہ فلم یرجع من ذلک بشیء‘‘ (ابوداود:۲۴۴۰)
(سال میں کوئی دن ایسا نہیں کہ اس میں اللہ تعالی کو کار خیر اتنا پسند ہو جتنا کہ ان دنوں(ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں) میں، لوگوں نے کہا: اللہ کے راستہ میں جہاد بھی اتنا پسندیدہ نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: (ان دنوں میں) جہاد بھی اتنا پسندیدہ نہیں سوائے اس کے کوئی شخص اپنی جان اور مال کے ساتھ اس طرح نکل گیا ہو کہ پھر کچھ لیکر نہ لوٹا ہو یعنی شہید ہوگیا ہو)
شب قدر کی راتیں جس طرح مبارک ہیں اسی طرح ذی الحجہ کے یہ دس دن،اور بعض علماء نے لکھا ہے کہ مجموعی اعتبار سے یہ دس دن رمضان کے آخری عشرہ سے زیادہ فضیلت والے ہیں لیکن خاص شب قدر سے بڑھ کر کسی دن یا رات کو فضیلت حاصل نہیں۔(مرعاۃ المفاتیح:۵؍۸۸)اللہ تعالی کے ارشاد:’’ولیال عشر‘‘(الفجر:۲) میں بھی اکثر مفسرین کے نزدیک انھیں دس دنوںکی قسم کھائی گئی ہے۔(ابن کثیر)
اور یوم عرفہ (۹؍ذی الحجہ) کو اور بھی زیادہ خصوصیت حاصل ہے،آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’صیام یوم عرفۃ احتسب علی اللہ ان یکفر السنۃ التي قبلہ والسنۃ التی بعدہ‘‘( مسلم:۱۱۶۲،باب استحباب ثلاثۃ ایام) ( عرفہ کے دن کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد یعنی دوسال کے گناہوں کو معاف کرواتا ہے۔)
اس لئے حاجیوں کے علاوہ عام لوگوں کے لیے اس روزہ کی بڑی اہمیت ہے،حیرت ہے کہ ہم اپنے طور پر کتنے دنوں اور راتوں کی فضیلت ٹھیرالیتے ہیں اور بڑے ذوق وشوق سے ان پر جان ودل نچھاور کرتے ہیں،اور جس موقع سے پکار پکار کرکچھ دینے کو بلایا جارہا ہے ہم سکون کی چادروں میں لپٹے پڑے ہیں۔
ہمیں اس ربانی اور ایمانی موسم کی قدر کرتے ہوئے قربانی کے ساتھ ساتھ دیگر مالی وبدنی نفلی عبادتیں بھی بڑے اہتمام سے بجالانے کی کوشش کرنی چاہئےاور یہ ہمیشہ یاد رہے کہ عزم صادق کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا ؎
تقدیر باندازئہ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں وہ قطرہ ہے جو گوہر نہ ہوا تھا

No comments:
Post a Comment