محمد طارق بدایونی
اعتکاف حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ یہ شرعی طور پر مقرر کی گئی ہے اور نبی اللہﷺ اپنے وصال تک اس کی پابندی فرماتے رہے۔ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپﷺ مسجد کو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے لازم پکڑ لیتے، طاعتِ الٰہی میں اپنا وقت گزارتے، اس میں رب کی بہت سے حکمتیں اور خدائی معرفت کے راز پوشیدہ ہیں، جنھیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔
بے شک تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور نیت کا تعلق دل سے ہے۔ جب دل درست ہوگا تو اعمال بھی درست ہوں گے اور جب دل میں فساد ہوگا تو اعمال میں بھی فساد آئے گا۔ جیسا کہ رسولِ خدا ﷺ کا ارشاد ہے:
وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً، إذا صَلَحَتْ، صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذا فَسَدَتْ، فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألا وهي القَلْبُ۔[صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینیہ، رقم الحدیث: ۵۲]
(سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔)
رمضان المبارک کے ان خصوصی فضیلت والے ایّام میں مسلمانوں کو اپنے قلوب کی اصلاح کرنے، اسے عبادت کے لیے تیار کرنے، لغویات سے دور رکھنے، دنیاوی مشاغل اور فکروں سے روک لینے، فضول شہوت رانیوں اور حد سے زیادہ خواہشات پالنےسے بچنے کی غرض سےاسلام میں اعتکاف کو مشروع کیا گیا ہے؛ تاکہ انسان بالکل یکسوئی کے ساتھ رب العالمین کی جانب متوجہ ہو جائے اور ہر طرح کی فکروں سے بالکل بے نیاز ہو کر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جائے۔
جب انسان بالکل تنہا ہو کر اپنے رب کی عبادتوں میں لگ جاتا ہے، دنیاوی مشغولیات اور اس میں پیدا ہونے والے انتشار و خلفشار سے دور رہ کر اپنا دل پاک کر لیتا ہے تو دیگر تمام نجاستوں، فضول باتوں اور زندگی کی دشواریوں، پریشانیوں سے بچے رہنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
انسان جب ان سب چیزوں سے چھٹکارا پا لیتا ہے اور اس کا دل خدا کی عبادت اور ذکر میں لگ جاتا ہے اور اپنے آپ کورب العالمین کی من مرضی کے مطابق اس کی عبادت میں ڈھال لیتا ہے تو اس کے اثرات ما بعد رمضان زندگی پر مرتب ہوتے ہیں، اس کی عبادتوں کا ثواب گذشتہ نیکیوں کے مقابلے میں بڑھ جاتا ہے؛ کیوں کہ اب اس کے خشوع و خضوع کی کیفیت میں بھی اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔
پورے ماہِ مبارک کا اعتکاف بھی رسول اللہﷺ سے ثابت ہے۔ پہلے اور دوسرے عشرے کا اعتکاف مستحب ہے جب کہ آخری عشرے کا اعتکاف سنّت ہے۔ البتہ رسول اللہﷺ نے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا پھر درمیان (دوسرے) عشرے کا اعتکاف کیا؛ لیکن وہ شبِ قدر کی تلاش میں تھا پھر آپ کو مطلع کیا گیا کہ یہ رات آخری عشرے میں ہے تو آپﷺ نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا، پھر آپﷺ کا تا حیات آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا معمول بن گیا۔ حدیث پاک میں وارد ہے:
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقُلْتُ: أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ، فَخَرَجَ، فَقَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ:" اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ الْأُوَلِ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ فَاعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نُسِّيتُهَا وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ، وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ شَيْئًا، فَجَاءَتْ قَزْعَةٌ فَأُمْطِرْنَا فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقَ رُؤْيَاهُ".[صحیح البخاری، ابواب صفۃ الصلاۃ، باب السجود علی الأنف و السجود علی الطین، رقم الحدیث: ۸۱۳]
(حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں ابو سعید خدری ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی کہ فلاں نخلستان میں کیوں نہ چلیں سیر بھی کریں گے اور کچھ باتیں بھی کریں گے۔ چناں چہ آپ تشریف لے چلے۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے راہ میں کہا کہ شب قدر سے متعلق آپ نے اگر کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ گئے، لیکن جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں (شب قدر) وہ آگے ہے۔ چنانچہ آپ نے دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف کیا اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی۔ جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں وہ (رات) آگے ہے۔ پھر آپ نے بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ دوبارہ کرے۔ کیونکہ شب قدر مجھے معلوم ہو گئی لیکن میں بھول گیا اور وہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے اور میں نے خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا۔ مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی۔ مطلع بالکل صاف تھا کہ اتنے میں ایک پتلا سا بادل کا ٹکڑا آیا اور برسنے لگا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا اثر دیکھا۔ آپ کا خواب سچا ہو گیا۔)
تاہم علمائے کرام فرماتے ہیں کہ پورے مہینے کا اعتکاف آپﷺ کے عمل کی اتباع میں کرنا اور بھی زیادہ باعثِ اجر و ثواب ہے؛ لیکن یہ آپﷺ کا معمول نہ تھا۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ پورے مہینے کا اعتکاف کو سنتِ نبوی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے اور نہ یہ کہ یہ رسول اللہ کی مٹی ہوئی سنت ہے۔
جب آپﷺ اعتکاف فرماتے تو آپ رمضان المبارک کی اکیسویں شب کو سورج چھپنے سے پہلے مسجد میں داخل ہو جاتے، مسجد میں ایک جانب اپنا خیمہ لگواتے، جس میں آپﷺ اللہ عزّ و جل کے لیے تنہا ہوتے، اپنی کمر کس لیتے، اپنے گھر والوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتے اور خوب عبادت فرماتے۔ آپﷺ جب معکتف ہوتے تو گھر نہ جاتے سوائے ضرورت حاجت کے لیے یعنی قضائے انسانی کی وجہ سے۔ ہاں البتہ آپﷺ مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر ضرور مسجد سے باہر حضرت عائشہ کے حجرے میں نکال لیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ آپﷺ کے بال سنوار دیتیں اور کنگھی کر دیتی تھیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
كان رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم يدني إلي راسه وهو مجاور، فاغسله، وارجله، وانا في حجرتي، وانا حائض، وهو في المسجد۔ [سنن ابن ماجہ، کتا ب الصیام، باب ماجاء فی المعکتف یغسل رأسہ و یرجلہ، رقم الحدیث: ۱۷۷۸]
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے۔)
اعتکاف کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ رسولِ خداﷺ وہ رسول اللہ کے معمول میں شامل تھا، اور اس کی خوب ترغیبات احادیث میں وارد ہیں، اس کے باوجود لوگ اعتکاف سے گریز کرتے ہیں، وہ معتکف ہونا نہیں چاہتے؛ جب کہ اعتکاف نفس کا تزکیہ کرنے والا ہے، عبادتوں میں اصلاح کا ضامن ہے، اللہ سے قرب کا ذریعہ ہے، درجات بلند کرنے کی راہ ہے۔
زہریؓ کہتے ہیں: مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اعتکاف کو ترک دیتے ہیں اس کے باوجود کہ نبی اللہﷺ نے کبھی اس کو ترک نہیں کیا حتی کہ آپﷺ اللہ کو پیارے ہو گئے۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سنّتِ نبوی کو زندہ کرے جو بعض جگہوں (خصوصاً بعض گاؤں وغیرہ میں)پر تو بالکل معدوم سی ہو گئی ہے۔ ان فضیلت والے ایام میں رسول اللہ کی اقتدا میں مسجدوں میں خود کو محصور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اس لیے خود کو تیار کرنا چاہیے، اپنے دل کو سمجھانا چاہیے۔ جو شخص اپنے دل کی اصلاح کرنا چاہتا ہے، اپنی زائد خواہشات کو توڑنا چاہتا ہے تو وہ اللہ کے گھر کا انتخاب ضرور کرے، جہاں وہ اور اس کا رب اکیلا ہو، رب سے سرگوشی کرے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اعتکاف کے لیے کسی کو قبول فرما لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نیت اللہ کے لیے خالص کر لے، زیادہ سے زیادہ نمازوں، دعا و استغفار میں وقت گزارے، قرآن مجید کی تلاوت کرتا رہے، شبِ قدر کا انتظار کرتا رہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے؛ تاکہ وہ اس وقت حاصل کر سکے جب کہ وہ دل کی پاکیزگی کے ساتھ اللہ کی اطاعت و عبادت میں مشغول ہو۔ آنے جانےوالے لوگوں سے بلا ضرورت بات کرنے سے گریز کرے؛ کیوں کہ بلا ضرورت راتیں گذارنا، دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں لگے رہنا، ضرورت سے زیادہ قیل و قال کرنا اعتکاف کے معنیٰ کھو دیتا ہے۔ بے شک حقیقی اعتکاف وہی ہے جس میں انسان اپنا پورا وقت اللہ رب العزت کے لیے فارغ کر لے۔
اللھم تقبل صیامنا و قیامنا و رکوعنا و سجودنا و تلاوتنا... اللھم نسألک عملاً صالحاً یقربنا إلیک برحمتک یا ارحم الراحمین
No comments:
Post a Comment