محمد مصطفی ندوی (لاتیہار، جھارکھنڈ)
حضرت مولانا یحییٰ نعمانی کی تصنیف ’سوانح معاویہؓ ‘اردو سوانحی وتاریخی لٹریچر میں ایک نہایت گرانقدر اور قیمتی اضافہ ہے، بلا مبالغہ کہاجاسکتا ہے کہ اردو میں ایسی سوانحی وتاریخی کتابیں اب تک معدودے چند ہی تصنیف کی گئی ہیں، اور نہیں معلوم کہ خاص اس موضوع پر عربی زبان میں بھی کوئی ایسا کام ہوا ہے یا نہیں۔
اس کتاب کو منظر عام پر آئے ابھی دو تین ہفتے ہی ہوئے ہیں، اس مختصر سے عرصہ میں یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لی گئی، اور نہایت مقبول ہوئی، خیال ہوتا ہے کہ اس کتاب کا ایسا اجمالی مختصر تعارف کرادیا جائے جس سے اس کتاب کا اجمالی خاکہ قارئین کے سامنے آجائے۔
اس کتاب کی سب سے امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتاب حضرت معاویہؓ کی زندگی کے تمام ادوار سے نہایت تحقیقی اور تفصیلی طور پر اعتنا کرتی ہے، جب کہ بالعموم حضرت معاویہؓ کی زندگی پر لکھی جانے والی تحریریں سیدنا حضرت علیؓ کے ساتھ ان کے اختلاف سے شروع ہوکر حضرت حسنؓ کے ساتھ ہونے والی صلح تک ہی محدود رہتی ہیں، یا اگر ان کی زندگی کے دوسرے حصوں پر گفتگو کرتی بھی ہیں تو نہایت اختصار کے ساتھ۔
یہ کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہے، پہلا باب ’خاندانی پس منظر، پیدائش اور قبول اسلام‘کے عنوان سے ہے، اس کا موضوع اس کے عنوان سے ہی ظاہر ہے، مطالعہ کرنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت کچھ نیا ہوگا، جس سے ان کے علم میں کئی جہات کا اضافہ ہوسکتا ہے، دوسرا باب ان کی بابت معتبر احادیث میں وارد رسول اکرم ﷺ کی دعاؤں کی بابت ہے، جس میں ان احادیث پر نہایت قیمتی محدثانہ کلام کیا گیاہے۔
تیسرا، چوتھا اور پانچواں باب خلفائے ثلاثہ کے عہد میں ان کی نمایاں خدمات سے اعتنا کرتے ہیں، اور یہ تینوں ابواب اس کتاب کے نہایت قیمتی حصے ہیں، ان میں حضرت معاویہؓ کی خلافت صدیقی میں بعض ذمہ داریوں (مثلا دار الخلافہ میں فرامین واحکام کی تحریر اور جماعت مجاہدین کی امارت وغیرہ)کا تذکرہ ہے، اس ضمن میں فتح بصری واجنادین میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے، پھر چوتھا باب عہد فاروقی میں بطور امیر شام ان کی خدمات، کارناموں بالخصوص اسلامی فتوحات میں ان کے عظیم کردار سےایسی مؤرخانہ بحث کرتا ہے کہ پڑھنے والا حیرت میں رہ جاتا ہے، اس باب میں دوچیزیں قاری کے لیے نہایت کشش کا باعث ہیں، ایک اس وقت کی سب سے بڑی اسلام دشمن حکومت رومن امپائر کے خلاف حضرت معاویہ ؓکی قیادت وامارت میں کیا جانے والا وہ مسلسل جہاد، جو اسلامی تاریخ کا ایک عظیم سنگ میل ہے، اور جس نے مستقبل کی عظیم اسلامی فتوحات کے لیے راہیں ہموار کی تھیں، اس کی تفصیلات آپ کے سامنے اس عظیم شخصیت کی عظمت کا ایک اہم پہلو سامنے لاتا ہے، اور دوسرا حضرت عمرؓ کی نگاہ میں حضرت معاویہؓ کا مقام، جس کے نتیجے میں وہ اس عہد میں ترقی کرتے کرتے تقریبا پورے اقلیم شام (جس میں آج کئی ممالک آتے ہیں) کے امیر بنائے گئے تھے۔ یہ عہد بقول مصنف حضرت معاویہؓ کے کارناموں کا آغازِ شباب ثابت ہوا تھا، یہ باب اس کی نہایت دلربا منظر کشی کردیتاہے۔
پانچواں باب خلافت عثمانی میں حضرت معاویہؓ کی خدمات سے بحث کرتا ہے، جس کے چند ذیلی عناوین سے آپ کے سامنے اس باب کا آئینہ آجائے گا: سرحدوں کے تحفظ کے اقدامات، عموری کامیاب مہم، فتح آرمینیہ، صدر مقام دبیل کی فتح، ملطیہ ااور اس میں فوجوں کی تعیناتی، ملک آرمینیہ کی رومیوں سے آزادی، فتح طرابلس، اسلامی بحریہ کی تاسیس، قبرص پر (بحری) حملہ اور فتح، معرکہ ذات الصواری، مسلمانوں کی ایک تاریخ ساز فتح۔ یہ وہ چند عناوین ہیں جو بتاتے ہیں کہ عہد عثمانی کے پر امن دور میں حضرت معاویہ کے زیر قیادت کیسا عظیم جہاد اقلیم شام کے بری سرحدی خطوں سے لے کر بحر متوسط اور بحر ابیض کے جزائر تک کیا گیا تھا، جس میں ان کی ذہانت اور ان کی اقدامی صلاحیتوں نے کیسی عظیم کامیابیاں حاصل کی تھیں، یہ جہادی سرگرمیاں اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والی فتوحات خلافت راشدہ کی عسکری کامیابیوں میں کیسا ممتاز مقام رکھتی تھیں ، اور ترایخ اسلامی کا کیسا عظیم سنگ میل ہیں یہ سب کچھ بھی کتاب آپ کو ساتھ ساتھ بتاتے چلتی ہے۔
اس کے بعد چھٹا باب ’فتنۂ کبریٰ اور شہادت عثمان‘ کے عنوان سے ہے، یہ باب جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے ہماری تاریخ کے نہایت الم ناک حصہ سے بحث کرتا ہے، جب جھوٹے پروپیگنڈے کے سایہ تلے خلافت راشدہ کے سورج کو عین وسط النہار میں گہن لگانے کی وہ مکر بھری سازش ہوئی جس نے پوری خلافت کو خرخشے میں ڈالدیا، کتاب نہایت مستند تاریخی حوالوں سے باغیوں کی چالوں اور سازشوں کا تذکرہ کرتی ہے، بتاتی ہے کہ کس طرح پورے عالم اسلام میں جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا، یہاں تک کہ اس وقت کے عظیم صحابہ کے نام سے جھوٹے خطوط تمام علاقوں میں بھیجے گئے، خلیفۂ اسلام کے خلاف کی گئی یہ سازش کیسی منظم اور بڑی تھی، جس کے نتیجے میں عین دار الخلافہ میں خلیفۂ اسلام کو اس کے گھر کے اندر شہید کردیا گیا، یہ سب کچھ نہایت تفصیل کے ساتھ آپ اس باب میں پڑھ سکتے ہیں۔
اس کے بعد ساتواں باب ہے: ’حضرت معاویہؓ سیدنا حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے دور میں‘یہ دور جس طرح حضرت معاویہؓ کی زندگی کا سب سے نازک اور حساس دور ہے اسی طرح یہ باب اس کتاب کا بھی نہایت حساس باب ہے، یہ باب اس عہد کے واقعات کو پوری تاریخی امانت داری کے ساتھ بیان کرتا ہے، حضرت معاویہؓ کا موقف بیان کرتا ہے، سیدنا علی مرتضیٰ کا موقف بیان کرتا ہے، بتاتا ہے کہ حضرت معاویہؓ کے موقف کی بنیادیں کیا تھیں، حضرت علیؓ کو درپیش مشکلات کیا تھیں، اس باب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاضل مصنف نے اس تصنیف کو پیش کرنے کے لیے کیسی تحقیق وجستجو، دقیقہ رسی اور عرق ریزی سے کام لیا ہے، اور کاتبِ تقدیر نے ان کو کس قدر فکری سلامتی اور اعتدال ومیانہ روی سے نوازا ہے، یہ باب کیا ہے؟ تحقیق وجستجو، روایات کی چھان پھٹک اور نتائجِ تحقیق کی ترتیب وپیش کش کا ایک شاہکار ہے، جس کو پڑھ کر قاری پر یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ سیدنا علیؓ اس مشکل وقت میں امت مسلمہ کے لیے کیسی رحمت ثابت ہوئے، ان سے اختلاف کرنے والوں کی اجتہادی بنیادیں کیا تھیں، اور کیوں یہ بات بالکل تاریخی حقیقت ہے کہ سیدنا علیؓ کا موقف ہی ’صواب‘ تھا، اور ان کے مخالفین کا موقف ’خطا‘ تھا، اور دوسرے لوگ بھی کیوں اس سلسلہ میں مخلص اور معذور تھے، کتاب کا یہ باب حضرت علیؓ کی اخلاقی عظمت، شرافت نفسی اور اعتدال کا ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے، صحابۂ کرام میں باوجود اختلافات کی شدت کے باہمی محبت واحترام کے ایسے بے نظیر نمونے پیش کرتا ہےجن کے آگے جبین عقیدت خم اور زبان گنگ ہوجاتی ہے۔پھر اس باب میں اس عہد کی بابت گڑھے گئے جھوٹے افسانوں کا علمی جائزہ لے کر ان کے تار وپود بکھیرنے کا کام بھی مصنف کے قلم سے بحسن وخوبی انجام پایا ہے، جو قارئین کے لیے ایک بیش بہا علمی تحفہ ہے۔
آٹھواں باب حضرت حسنؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین ہونے والی صلح سے بحث کرتا ہے، اس سلسلسہ کے تمام مراحل پر نہایت تحقیقی گفتگو کرتا ہے، اور تاریخ اسلامی کے اس عظیم واقعہ کے مبارک نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔
کتاب کے اگلے دس ابواب (نو تا اٹھارہ) حضرت معاویہؓ کے عہد خلافت وحکمرانی کی مختلف جہات سے بحث کرتے ہیں، یہ تحریر چونکہ نہ چاہتے ہوئے بھی خاصی طویل ہوگئی ہے اس لیے ہم ان کی بابت کچھ نہ عرض کرکے ان کے عناوین ذکر کردیتے ہیں، جس سے آپ کو ان ابواب کی بابت ایک اندازہ ہوجائے گا، یہ عناوین ملاحظہ ہوں:نواں باب: امیر المؤمنین اپنے دور خلافت میں۔ دسواں باب: رومن امپائر سے جہاد اور فتوحات، گیارہواں باب: بیزنطینی افریقہ کی فتوحات، بارہواں باب: مشرقی محاذ کی فتوحات، تیرہوں باب: امیر المومنین حضرت معاویہؓ کا نظام حکومت، چودہواں باب: مالیاتی نظام، پندرہواں باب: فوجی اور دفاعی نظام، سولہواں باب: محکمۂ عدل، سترہواں باب: پولیس اور چند دوسرے شعبے، اٹھارہواں باب: نظارت نافعہ یا پبلک سروس۔ یہ نو ابواب بڑے کتابی سائز کی اس کتاب کے دو سو صفحات پر مشتمل ہیں، اس مختصر تحریر میں ان کی بابت کیا عرض کریں، بس اپنا یہ احساس درج کردیتے ہیں کہ ان ابواب کو پڑھتے ہوئے علامہ شبلیؓ کی کتاب الفاروق کا دوسرا حصہ یاد آجاتا ہے، جس میں انھوں نے خلافت فاروقی کے کارناموں اور حکومتی شعبوں نیز انتظامی خوبیوں کی تفصیلات درج کی ہیں۔
انیسواں باب تین فصلوں پر مشتمل ہے، پہلی فصل: یزید کی ولیعہدی، دوسری فصل: آخری ایام، تیسری فصل: خصوصیات وکمالات، جسمانی حلیہ، معمولات اور ازواج واولاد۔ یوں یہ کتاب اختتام کو پہنچتی ہے۔
کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار مصنف کے تحریر کردہ مقدمہ کا یہ اقتباس ذہن ودماغ میں تازہ ہوتا رہتا ہے: ’’ حضرت معاویہؓ کی سوانح ان کے تاریخ ساز کارناموں کی وجہ سے بھی اسلامی تاریخ کے ذمہ ایک قرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام کے سامنے سب سے بڑا خطرہ بیزنطینی رومن امپائر تھا ۔ رومی سلطنت رسول اللہ ﷺ کے آخری دور میں ہی اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر سامنے آچکی تھی۔ ہر وقت اس کی طرف سے خطرہ لگا رہتا تھا ۔مسلمانوں کے دل مدینے کے اندر بھی ہر آن چوکنا اور اندیشناک رہتے تھے۔ یہ اس وقت کی سب سے بڑی فوجی ومعاشی طاقت تھی، عرب کے شمال سے لے کر شام ومغربی افریقہ تک اس کی قلم رو وسیع تھی۔بحر روم اس کی عسکری جولانیوں کی آماج گاہ تھا۔ حضرت معاویہؓ چالیس سال تک رومیوں کے مقابل محاذ پر اسلام کی حفاظت ودفاع فرماتے رہے۔ اور جب یہ مجاہد بادشاہ اس دنیا کو خیرباد کہہ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوا؛ تو آرمینیہ سے لے کر شام تک، اور شام سے لے کر مصر اور مغربی افریقہ تک کے ممالک مسلمانوں کے تابع آچکے تھے۔ اور عظیم مملکت روم سُکڑ سمٹ کر اپنے پایۂ تخت قسطنطنیہ کی خیر منا رہی تھی۔ یہ آفتاب نصف النہار جیسی روشن حقیقت ہے کہ اس سب سے بڑے دشمن کا مقابلہ اور اس کو پسپا وکمزور کرنے میں سب سے بڑا کردار حضرت معاویہ کا ہی تھا۔ اکیلا یہ کارنامہ اس قابل تھا کہ مسلمان اس کو سدا یاد رکھتے اور ممنون رہتے‘‘۔
الغرض کتاب اس قابل ہے کہ اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والا ہر فرد اس کا مطالعہ کرے۔
No comments:
Post a Comment