محمد طارق بدایونی
میقات یا حِل سے احرام باندھ کر طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کو عمرہ کہا جاتا ہے۔ یہ حج کے مخصوص ایام یعنی مقررہ دنوں (نویں ذی الحجۃ سے تیرہویں ذی الحجۃ تک) کے علاوہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ اس میں وقت یا سال کی کوئی تحدید نہیں ہے اور زندگی میں ایک بار کرنا سنّتِ مؤکدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ۔ (البقرۃ: ۱۹۶)
حضرت عائشہؓ کی ایک روایت میں ہے:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟، قَالَ:" نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ۔ [سنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب الحج جھاد النساء، رقم الحدیث: ۲۹۰۱]
(یا رسول اللہ! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج اور عمرہ ہے“۔)
عمرہ کی فضیلت کے متعلق کثرت سے احادیث وارد ہیں۔ ایک موقع پر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ۔ [سنن نسائی، کتاب مناسک الحج، باب فضل العمرۃ، رقم الحدیث: ۲۶۳۰]
(ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے (صغیرہ)گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔)
جہاں تک رمضان کا تعلق ہے تو اس ماہ میں عمرہ خاص فضیلت کا حامل ہے اور مستحب ہے۔ رسولِ خداﷺنے ارشاد فرمایا:
فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ۔[صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل العمرۃ فی رمضان، رقم الحدیث: ۳۰۳۸]
(رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔)
یا یوں فرمایا:
فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي ۔[صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل العمرۃ فی رمضان، رقم الحدیث: ۳۰۳۹]
(رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی) کو پورا کر دیتا ہے۔)
یعنی رسول اللہ کی معیت میں عمرہ کرنا انفرادی طور پر عمرہ کرنے سے زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ اب ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ مالکِ حقیقی سے جا ملے ہیں؛ لیکن ایک فضیلت جو دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا اور مسجدِ حرام میں جا کر اعتکاف کرنا فضلِ کبیر اور فوزِ عظیم ہے۔ اس لیے جو شخص اتنی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ مکۃ المکرمۃ کا سفر کر سکے تو اسے چاہیے کہ وہ تمام اسباب مہیا کرے، راستے کی حفاظت کا بند و بست کرے اور امکان بھر کوشش کرے کہ وہ رمضان المبارک میں وہاں پہنچ کر عمرہ کرے اور مسجدِ حرام میں اعتکاف کرے۔ (نوٹ: جب انسان مستطیع ہو جائے تو اس پر حج فرض ہو جاتا ہے، اس لیے پہلے حج فرض ہے۔)
ہر مسلمان کو یہ چیز خوشی دیتی ہے، اس کے دل کو ٹھنڈا کر دیتی ہے اور اس کے شوق کو گرما دیتی ہے کہ جب وہ ہر سال رمضان المبارک کے موقع پر عمرہ کرنے والے ہجوم کو مکۃ المکرمہ سے نشر ہونے والے مناظر کو دیکھتا ہے، کیسے لوگ صفا و مروہ کی سعی کر رہے ہیں! کیسے لوگ تکبیر و تحمید کا نعرہ لگا رہے ہیں! کیسے لوگ ایک ساتھ جمع ہو کر فرائض و واجبات ادا کر رہے ہیں، کیسے قیام اللیل میں اللہ سے رو رو کر اپنے حاجات بیان کر رہے ہیں، کیسے خوب صورت آواز میں حسنِ ادائی کے ساتھ امام کعبہ لوگوں کو تراویح پڑھا رہے اور کیسے لوگوں کے ہجوم کے ہجوم اعتکاف میں اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کیے ہوئے ہیں!!!
ہر سال لاکھوں کی تعداد میں زائرین رمضان المبارک میں مسجدِ حرام کا قصد کرتے ہیں، وہاں عمرہ کرتے ہیں اور اعتکاف میں بیٹھ جاتے ہیں، نمازوں کی ادائی کے لیے جمع ہوتے ہیں، دعا و مناجات کرتے ہیں، استغفار کرتے ہیں، قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یہ سب اس طلب کے ساتھ ہوتا ہے کہ اللہ اس ماہ میں اجر میں اضافہ فرما دے گا، اور دنوں کے مقابلے میں ثواب کو بڑھا دے گا۔ خاص طور پر آخری عشرے کے مناظر تو زیارت کو بھوک کو بے حد و حساب بڑھا دیتے ہیں۔
مسجدِ حرام میں اعتکاف کرنے والوں کے لیے چند اہم احکام
‘‘مسجدِ حرام یا مسجدِ نبوی میں اعتکاف کرنے والے افراد کے لیے بغیر ضرورت کے مسجد کی چار دیواری سے باہر جانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، البتہ قضائے حاجت کے لیے حرم سے باہر جانے کی اجازت ہے ، بیت الخلامیں رش کی صورت میں وہیں انتظار کرنے کی بھی اجازت ہے ، نیز اگر کوئی کھانا پہنچانے والا نہیں ہے اور حدودِ مسجد کے اندر سحر وافطار کا انتظام بھی نہ ہو تو حرم سے باہر جاکر کھانا لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر حرم میں کھانا لاکر کھانے کی اجازت نہ ہو تو حرم سے باہر بیٹھ کر کھانے کی بھی اجازت ہے، تاہم مذکورہ ضروریات کے علاوہ حدودِ مسجد سے باہر معمولی وقت کےلیے رکنے کی بھی اجازت نہیں ہے، مثلاً: باہر رک کر باتیں کرنا یا گپ شپ کرتے ہوئے کھانا کھانا۔
آج کل عموماً مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کے اندر سحر اور افطار کے لیے کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے مل جاتاہے، اس لیے اگر اندر ہی انتظام ہو اور اس سے ضرورت پوری ہوجائے تو کھانے کے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور اگرمسجد کے اندر ملنے والی سادہ غذا سے حاجت پوری نہ ہو یا وہ طبیعت کے موافق نہ ہو اور کوئی کھانا لاکر دینے والا بھی نہ ہو تو معتکف کے لیے خود باہر جاکر کھانا لانے کی اجازت ہوگی۔ اور کھانا اندر لانے کی اجازت نہ ہونے کی صورت میں باہر ہی کھانے کی بھی اجازت ہوگی۔
ملحوظ رہے کہ مسجد حرام میں اعتکاف کرنے والے افراد طواف کرسکتے ہیں، اسی طرح سے مسجد نبوی میں اعتکاف کرنے والے افراد کے لیے حدودِ مسجد کے اندر سے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پیش کرنے کی بھی شرعاً اجازت ہے۔ البتہ مواجہہ شریف پر سلام پیش کرکے مسجد کی حدود ہی میں واپس پلٹ جائیں، باہر کی طرف سے نہ نکلیں۔
مسجد حرام اور مسجد نبوی کی شرعی حدود کے نشانات وہاں موجود ہیں، حرمین شریفین کی عمارت کے اختتام پر صحن سے پہلے پہلے تک حدودِ مسجد ہے، مسجدِ نبوی میں عمارت کے ساتھ جہاں تک سفید ماربل لگا ہوا ہے اسے بھی مسجد کا حصہ سمجھاجاتاہے، دونوں مسجدوں کے صحن میں مذکورہ ضروریات کے علاوہ نہ جائیں، اسی طرح حرم مکی میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کی جگہ شرعی مسجد میں شامل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم’’ [دیکھیے: دار الافتاء، جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی، پاکستان، فتویٰ: 143909200525]
مسجد حرام میں عورت کا اعتکاف
رمضان المبارک میں اگر خواتین عمرہ کرنے جائیں تو ان کے لیے بھی یہ اجر و ثواب میں اضافے کا سبب ہے؛ تاہم عورتوں کے لیے یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ حؤمسجدِ حرام یا مسجدِ نبویﷺ میں جا کر بیٹھیں؛ کیوں کہ نبی اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ گھر کے اس حصّے میں اعتکاف کریں جسے انھوں نے مسجد بنا لیا ہے، نماز کے لیے خاص کر لیا ہے۔
مبسوط السرخسی میں ہے:
(قال): ولا تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها وقال الشافعي - رحمه الله تعالى -: لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة الرجال والنساء فيه سواء قال: لأن مسجد البيت ليس له حكم المسجد بدليل جواز بيعه والنوم فيه للجنب والحائض، وهذا؛ لأن المقصود تعظيم البقعة فيختص ببقعة معظمه شرعا، وذلك لا يوجد في مساجد البيوت.
(ولنا) أن موضع أداء الاعتكاف في حقها الموضع الذي تكون صلاتها فيه أفضل كما في حق الرجال وصلاتها في مسجد بيتها أفضل فإن النبي - صلى الله عليه وسلم - لما «سئل عن أفضل صلاة المرأة فقال: في أشد مكان من بيتها ظلمة» وفي الحديث أن «النبي - صلى الله عليه وسلم - لما أراد الاعتكاف أمر بقبة فضربت في المسجد فلما دخل المسجد رأى قبابا مضروبة فقال: لمن هذه فقيل لعائشة وحفصة فغضب وقال: آلبر يردن بهن وفي رواية يردن بهذا، وأمر بقبته فنقضت فلم يعتكف في ذلك العشر» فإذا كره لهن الاعتكاف في المسجد مع أنهن كن يخرجن إلى الجماعة في ذلك الوقت؛ فلأن يمنعن في زماننا أولى. [باب الإعتكاف :٣/١١٩:ط دار المعرفة ]
No comments:
Post a Comment