Translate

Thursday, March 13, 2025

فی سبیل اللہ کے مصداق کون لوگ ہیں؟ (1)محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔استاد/ مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

فی سبیل اللہ کے مصداق کون لوگ ہیں؟ 
                        (1)

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استاد/ مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

زکوٰۃ کا ساتواں مصرف قرآن نے فی سبیل اللہ بتایا ہے ، فی سبیل اللہ سے کون لوگ مراد ہیں؟ کیا اس سے مراد صرف مجاہدین ہیں یا اس میں اور بھی لوگ بوقت ضرورت شامل ہوسکتے ہیں ؟ اس سلسلہ میں قدیم و جدید مفسرین ،علماء اور اہل علم نے جو کچھ لکھا ہے ، ہم اس کی تلخیص پیش کرتے ہیں ، امید کہ قارئین اس تحریر سے استفادہ کریں گے اور آیت کے مالہ و ما علیہ کا سمجھنا ہمارے لئے آسان ہوگا ۔ 
  راه خدا کا لفظ عام ہے ۔ تمام وہ نیکی کے کام جن میں اللہ کی رضا ہو ، اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس حکم کی زکوۃ کا مال ہر قسم کے نیک کاموں میں صرف کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن حق یہ ہے ، اور ائمہ سلف کی بڑی اکثریت اسی کی قائل ہے، کہ یہاں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے ، یعنی وہ جدوجہد جس سے مقصود نظام کفر کو مٹانا اور اس کی جگہ نظام اسلامی کو قائم کرنا ہو۔ اس جدوجہد میں جو لوگ کام کریں ان کو سفر خرچ کے لیے ، سواری کے لیے ، آلات و اسلحہ اور سروسامان کی فراہمی کے لیے زکوٰۃ سے مدد دی جا سکتی ہے ، خواہ وہ بجائے خود کھاتے پیتے لوگ ہوں اور اپنی ذاتی ضروریات کے لیے ان کو مدد کی ضرورت نہ ہو ۔ اسی طرح جو لوگ رضا کارانہ اپنی تمام خدمات اور اپنا تمام وقت ، عارضی طور پر مستقل طور پر اس کام کے لیے دے دیں ، ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی زکوٰۃ سے وقتی یا استمراری امانتیں دی جا سکتی ہیں ۔ یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ ائمہ سلف کے کلام میں بالعموم اس موقع پر غزو کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو قتال کا ہم معنی ہے ، اس لیے لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ زکوۃ کے مصارف میں فی سبیل اللہ کی جو مد رکھی گئی ہے وہ صرف قتال کے لئے ہے،لیکن در حقیقت جهاد في سبيل کے لیے مخصوص ہے ۔ فی سبیل اللہ ، قتال سے وسیع تر چیز کا نام ہے اور اس کا اطلاق ان تمام کوششوں پر ہوتا ہے، جو کلمہ کفر کو پست اور کلمہ خدا کو بلند کرنے اور اللہ کے دین کو ایک نظام زندگی کی حیثیت سے قائم کرنے کے لیے کی جائیں ، خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے ابتدائی مرحلے میں ہوں یا قتال کے آخری مرحلے میں ۔ (سورة التوبة حاشیہ نمبر)
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے "فی سبیل اللہ" کی تفسیر میں اس کے وسیع مفہوم کو بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق، "فی سبیل اللہ" سے مراد عام طور پر جہاد فی سبیل اللہ لیا جاتا ہے، یعنی وہ افراد جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں، مگر اس کا دائرہ صرف عسکری جہاد تک محدود نہیں، بلکہ اس میں وہ تمام دینی و رفاہی کام بھی شامل ہیں جو اسلام کی خدمت اور اشاعت کے لیے کئے جاتے ہیں۔
وہ فرماتے ہیں کہ اس زمرے میں دینی مدارس، اسلامی دعوتی سرگرمیاں، دینی تعلیم کے فروغ کے منصوبے، حج پر جانے والے نادار افراد، مساجد اور دیگر فلاحی و تعلیمی ادارے بھی آسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا مقصد واقعی دین کی خدمت ہو، نہ کہ ذاتی یا تجارتی مفاد۔
یہ تفسیر فقہاء کی آراء پر مبنی ہے، اور جدید دور میں بھی بہت سے علماء اس وسیع مفہوم کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ زکوٰۃ کے مصرف کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ علامہ ابن نجیم مصری رح لکھتے ہیں: 
ساتواں مصرف فی سبیل اللہ ہے، جمہور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد مجاہدین ہیں اور بعض نے علوم دینیہ کے طلبہ کو بھی اس میں شامل رکھا ہے، ( البحر الرائق: ۲۴۲*)
ڈاکٹر وهبة الزحيلي رح اپنی تفسير " التفسير المنير" میں لکھتے ہیں- *وفي سبيل الله* وهم في رأي الجمهور الغزاة المجاهدون الذين لا حق لهم في ديوان الجند، يُعطون ما ينفقون في غزوهم كانوا أغنياء أو فقراء؛ لأن السبيل عند الإطلاق هو الغزو، وهو المستعمل في القرآن والسنة. وأما من له شيء مقدر في الديوان فلا يعطى؛ لأن من له رزق راتب يكفيه، فهو مستغن به. ولا يحج أحد بزكاة ماله، ولا يغزو بزكاة ماله، ولا يُحج بها عنه، ولا يُغزى بها عنه، لعدم الإيتاء المأمور به. وعلى هذا الرأي : لا يُعطى الجيش الحالي من الزكاة لأن الجنود والضباط تصرف لهم اليوم رواتب شهرية دائمة، وإنما يمكن المساهمة عند الضرورة أو الحاجة العامة في شراء السلاح، أو إعطاء المتطوعة في الجهاد. وقال أحمد في أصح الروايتين عنه: الحج في سبيل الله، فيعطى مريد الحج من الزكاة لما روى أبو داود عن ابن عباس: «أن رجلاً جعل ناقة في سبيل الله، فأرادت امرأته الحج، فقال لها النبي : اركبيها، فإن الحج من سبيل الله .
 وأجاب الجمهور بأن الحج سبيل الله، ولكن الآية محمولة على الجهاد، قال مالك : سبل الله كثيرة، وقال ابن العربي ولكني لا أعلم خلافاً في أن المراد بسبيل الله ههنا الغزو، ومن جملة سبيل الله، إلا ما يؤثر عن أحمد وإسحاق فإنهما قالا : إنه الحج. وفسر بعض الحنفية سبيل الله بطلب العلم، وفسره الكاساني بجميع القرب ، فيدخل فيه جميع وجوه الخير مثل تكفين الموتى وبناء القناطر والحصون وعمارة المساجد ؛ لأن قوله تعالى : وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ عام في الكل. والخلاصة المراد بسبيل الله : إعطاء المجاهدين ولو كانوا أغنياء عند الشافعية، وبشرط كونهم فقراء عند الحنفية، والحج من سبيل الله عند أحمد والحسن وإسحاق. واتفق العلماء إلا ما يروى عن بعضهم أنه لا يجوز صرف الزكاة لبناء المساجد والجسور والقناطر وإصلاح الطرقات، وتكفين الموتي وقضاء الدين، وشراء الأسلحة ونحو ذلك من القرب التي لم تذكر في الآية، -
*ترجمه*
"وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ" سے مراد، جمہور علماء کے نزدیک وہ مجاہدین ہیں جو سرکاری فوج میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ انہیں ان کے جہاد کے اخراجات دیے جائیں گے، چاہے وہ مالدار ہوں یا فقیر، کیونکہ "سبیل" کا عام مفہوم جہاد ہے، اور یہی مفہوم قرآن و سنت میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن جو لوگ حکومت سے باقاعدہ تنخواہ حاصل کر رہے ہیں، انہیں زکوٰۃ نہیں دی جائے گی، کیونکہ وہ اس تنخواہ سے مستغنی ہیں۔ اسی طرح، زکوٰۃ کے مال سے نہ کوئی حج کرے گا، نہ کسی کا حج کرایا جائے گا، اور نہ ہی کوئی زکوٰۃ کے مال سے جہاد کرے گا یا کسی اور کو جہاد کے لیے بھیجا جائے گا، کیونکہ اس میں وہ "ایتا" (ادا کرنا) شامل نہیں جو شریعت میں مطلوب ہے۔
اس بنا پر، موجودہ دور میں سرکاری فوج کو زکوٰۃ نہیں دی جائے گی، کیونکہ ان کے لیے مستقل ماہانہ تنخواہیں مقرر ہیں۔ البتہ اگر کوئی شدید ضرورت یا عمومی حاجت پیش آئے، تو اسلحہ خریدنے یا رضاکار مجاہدین کی مدد کے لیے زکوٰۃ خرچ کی جا سکتی ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق، "حج بھی سبیل اللہ میں شامل ہے"، اس لیے حج کا ارادہ رکھنے والے کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، جیسا کہ ابو داؤد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی اللہ کے راستے میں دینے کی نذر مانی تھی، لیکن اس کی بیوی حج کرنا چاہتی تھی، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "اس پر سوار ہو جاؤ، کیونکہ حج بھی اللہ کے راستے میں شامل ہے"۔
جمہور علماء کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ حج بھی اللہ کا راستہ ہے، مگر اس آیت میں مراد خاص طور پر جہاد ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "اللہ کے راستے کئی ہیں"، لیکن ابن عربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ "مجھے اس بارے میں کوئی اختلاف معلوم نہیں کہ یہاں اللہ کے راستے سے مراد جہاد ہے"، سوائے امام احمد اور اسحاق کے، جو حج کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔
بعض احناف نے "سبیل اللہ" کی تفسیر دینی علم کے حصول سے کی ہے، جبکہ علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے اسے تمام نیکی کے کاموں پر عام کیا ہے، جس میں میتوں کی تجہیز و تکفین، پلوں اور قلعوں کی تعمیر، مساجد کی آبادی وغیرہ شامل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان "وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ" تمام امور کو شامل ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ:
شافعیہ کے نزدیک "سبیل اللہ" کا مطلب مجاہدین کو زکوٰۃ دینا ہے، چاہے وہ مالدار ہوں۔
احناف کے نزدیک شرط یہ ہے کہ مجاہد فقیر ہو۔
امام احمد، حسن بصری اور اسحاق رحمہم اللہ کے نزدیک حج بھی "سبیل اللہ" میں شامل ہے۔
جمہور علماء کا اجماع ہے کہ زکوٰۃ کو مساجد، پلوں، راستوں کی مرمت، میتوں کے کفن، قرض کی ادائیگی، اسلحہ کی خریداری، اور دیگر نیکی کے کاموں میں خرچ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ امور آیت میں مذکور نہیں ہیں۔______________________
*مولانا ابو الأعلى مودودی رح لکھتے ہیں:*
راہ خدا کا لفظ عام ہے۔ تمام وہ نیکی کے کام جن میں اللہ کی رضا ہو اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس حکم کی رو سے زکوٰۃ کا مال ہر نیک کام میں صرف کیا جاسکتا ہے لیکن حق یہ ہے اور ائمہ سلف کی بڑی اکثریت اسی کی قائل ہے کہ یہاں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے یعنی وہ جدوجہد جس سے مقصود نظام کفر کو مٹانا اور اس کی جگہ نظام اسلامی کو قائم کرنا ہو۔ اس جدوجہد میں جو لوگ کام کریں ان کو سفر خرچ کے لیے، سواری کے لیے آلات واسلحہ اور سروسامان کی فراہمی کے لیے زکوٰۃ سے مدد دی جاسکتی ہے خواہ وہ بجائے خود کھاتے پیتے لوگ ہوں اور اپنی ذاتی ضروریات کے لیے ان کو مدد کی ضرورت نہ ہو۔ اسی طرح جو لوگ رضا کارانہ اپنی تمام خدمات اور اپنا تمام وقت عارضی طور پر یا مستقل طور پر اس کام کے لیے دیدیں ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی زکوٰۃ سے وقتی یا استمراری اعانتیں دی جاسکتی ہیں۔ یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ ائمہ سلف کے کلام میں بالعموم اس موقع پر غزو کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قتال کا ہم معنی ہے اس لیے لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مصارف میں فی سبیل اللہ کی جو مد رکھی گئی ہے وہ صرف قتال کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن درحقیقت جہاد فی سبیل اللہ قتال سے وسیع تر چیز کا نام ہے اور اس کا اطلاق ان تمام کوششوں پر ہوتا ہے جو کلمہ کفر کو پست اور کلمہ خدا کو بلند کرنے اور اللہ کے دین کو ایک نظام زندگی کی حیثیت سے قائم کرنے کے لیے کی جائیں خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے ابتدائی مرحلے میں ہوں یا قتال کے آخری مرحلے میں۔______________________
*مولانا امین احسن اصلاحی رح لکھتے ہیں:*
وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ "، یہ ایک جامع اصطلاح ہے جس کے تحت جہاد سے لے کر دعوت دین اور تعلیم دین کے سارے کام آتے ہیں۔ وقت اور حالات کے لحاظ سے کسی کام کو زیادہ اہمیت حاصل ہوجائے گی کسی کو کم لیکن جس کام سے بھی اللہ کے دین کی کوئی خدمت ہو۔ وہ فی سبیل اللہ کے حکم میں داخل ہے۔______________________
*سید قطب شہید رح لکھتے ہیں:* وفی سبیل اللہ (اور راہ خدا مٰں) یہ ایک وسیع مد ہے۔ اس میں سے ہر اس موقع پر خرچ کیا جاسکتا ہے جس میں اسلامی معاشرے کی بھلائی ہو جیسا کہ لفظ فی سبیل اللہ کی وسعت سے معلوم ہوتا ہے
_____________________
حضرت مفتی شفیع رحمۃ اللہ علیہ معارف القرآن میں فرماتے ہیں: 
للفُقَرَ آءِ الَّذِينَ أُحْصِرُ وا فِي سَبِيلِ اللهِ (الى قوله ) فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ ، یہاں فقراء سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو دینی مشغولیت کی وجہ سے دوسرا کوئی کام نہیں کر سکتے۔
(معارف القرآن ج۲ ص 642) 
علامہ إبن الباز رح لکھتے ہیں :
الصحيح أن المراد بقوله سبحانه: وَفِي سَبِيلِ اللّهِ [التوبة:60] عند أهل العلم هم الغزاة والجهاد في سبيل الله، فلا تصرف في المساجد ولا المدارس عند جمهور أهل العلم.
وذهب بعض المتأخرين إلى جواز صرفها في المشاريع الخيرية، ولكنه قول مرجوح؛ لأنه يخالف ما دلت عليه الأدلة، ويخالف ما مضى عليه أهل العلم.
______________________
درست بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان "وَفِي سَبِيلِ اللّهِ" [التوبة:60] سے مراد اہلِ علم کے نزدیک مجاہدین اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ لہٰذا، جمہور اہلِ علم کے مطابق زکوٰۃ کو مساجد یا مدارس میں خرچ نہیں کیا جا سکتا۔
بعد کے بعض علماء نے اسے فلاحی منصوبوں میں خرچ کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن یہ ایک کمزور قول ہے، کیونکہ یہ شرعی دلائل کے خلاف ہے اور ان اصولوں سے متصادم ہے جن پر اہلِ علم کا پہلے سے اجماع چلا آ رہا ہے۔۔
نوٹ / مضمون کا اگلا اور آخری حصہ کسی اور دن ملاحظہ فرمائیں ۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...