Translate

Tuesday, March 11, 2025

سحری و افطارمحمد طارق بدایونی

سحری و افطار
محمد طارق بدایونی

سحری: رات کے اخری حصہ میں (جسے سحر کہا جاتا ہے) روزہ کی نیت سے کھانا پینا سحری کرنا کہلاتا ہے۔
افطار: غروبِ آفتاب کے بعد روزہ کھولنا، طیبات میں سے کچھ کھانا پینا افطار کرنا کہلاتا ہے۔

اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:
إن فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحور۔ [سنن نسائی، کتاب الصیام، باب فصل ما بین صیامنا و صیام أھل الکتاب، رقم الحدیث: ۲۱۶۸ و مسلم، رقم الحدیث: ۲۵۵۰]
(ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے،وہ ہے سحری کھانا۔)
ایک دوسری روایت میں ہے:
تسحروا فإن في السحور بركة۔ [صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب برکۃ السحور من غیر إیجاب، رقم الحدیث: ۱۹۲۳]
(سحری کھاؤ کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔)
ایک مرتبہ یہ ارشاد فرمایا:
السحور اكله بركة، فلا تدعوه ولو ان يجرع احدكم جرعة من ماء، فإن اللّٰه عز وجل وملائكته يصلون على المتسحرين۔ [مسند احمد بن حنبل، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند ابی سعید الخدریؓ ، رقم الحدیث: ۱۱۰۸۶]
سحری کھانا باعث برکت ہے، اس لیے اُسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو؛ کیوں کہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لیے اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں۔
 پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سحری کھایا کرتے تھے اور سحری کے کھانا (الغداء المبارک) مبارک کھانا کہا کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: قرّبی إلینا الغداء المبارک۔ [مجمع الزوائد و منبع الفوائد، ج: ۳، ص: ۱۵۱، رقم الحدیث: ۴۸۴۸]
 ایک حدیث کے الفاظ ہیں:
عليكم بغداء السحور، فإنه هو الغداء المبارك۔ [سنن نسائی، کتاب الصیام، باب تسمیۃ السحور غداءً، رقم الحدیث: ۲۱۶۶]
(تم صبح کا کھانا (سحری کو)لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے۔)
 علمائے کرام نے سحری کے حوالے سے بہت سے احکام اور بڑے فوائد نقل کیے ہیں:
1. اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور رسول اللہﷺ کا حکم ہے۔ 
2. یہ کھانے میں برکت کا سبب ہے اور روزے دار کو روزہ رکھنے میں مددگار ہوتی ہے نیز یہ کہ کھانے میں برکت سے بڑھ کر کون سی نعمت ہے جو اطاعتِ الٰہی میں مدد گار ہو! حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ :
 استعينوا بطعام السحر على صيام النهار ، وبقيلولة النهار على قيام الليل ۔ [المستدرک علی الصحیحین، ج: ۲، ص: ۵۸، الاستعانۃ بطعام السحر علی الصیام و بالقیلولۃ علی القیام، رقم: ۱۵۹، سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی السحور، رقم الحدیث: ۱۶۹۳] 
 (دن کے روزے میں سحری کھانے سے مدد لو، اور قیلولہ سے رات کی عبادت میں مدد لو)
3. یہ اہلِ کتاب کے روزوں کے خلاف ہے اور ہر چیز میں ان کی مخالفت مطلوب ہے۔

واضح ہو کہ سحری کھانے کا مطلب پیٹ بھر بھر کے کھانا نہیں ہے؛ بلکہ سنّت کی پابندی اور فضیلت کا حصول ہے۔ یہ مقصد کم کھانے سے بھی حاصل ہو جائے گا۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: 
مَن أرادَ أنْ يصومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بشيءٍ۔ [اخرجہ احمد بن حنبل: ۱۴۹۵۰]
(جو روزہ رکھنا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ سحر میں کچھ کھا لے۔)
نعم سحور المؤمن التمر۔ [سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: ۲۳۴۷]
(مؤمن کی بہترین سحری کھجور ہے۔)
اور جیسے گذشتہ حدیث میں آیا تھا کہ:
ولو أن يجرع أحدكم جرعة من ماء۔
 (خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو۔)
اور جہاں تک افطار کا معاملہ ہے تو وہ غروبِ شمس کے بعد ہے۔ بہتر یہ ہے کہ روزے دار افطار کرتے وقت احتیاط سے کام لے اور اس تحقیق کے بعد افطار کرنا شروع کرے کہ سورج غروب ہو چکا ہے۔ تر کھجور سے روزہ کھولنا، افطار کرنا زیادہ مناسب ہے اگر وہ میسر نہ آئے تو روزے دار سوکھی کھجور کو ترجیح دے اور اگر وہ بھی موجود نہ ہو تو پانی سے افطار کرے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ: 
کَان رسولُ اللّٰهِ صلَّى اللّٰهُ عليهِ وآلهِ وسلَّمَ يُفطرُ على رطباتٍ قبل أن يصلي فإن لم تكنْ رطباتٍ فتمراتٌ فإن لم تكن تمراتٌ حسا حسواتٍ من ماءٍ۔ [اخرجہ ابو داؤد : ۲۳۵۶، و الترمذی: ۶۹۶، و أحمد: ۱۲۶۷۶ باختلاف یسیر]
  نیز یہ کہ طاق عدد میں افطار کرنا مستحب ہے۔ تین یا پانچ یا پھر سات۔ 
عن أنس رضی اللہ عنہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحبّ أں یفطر علی ثلاث تمرات أو شیء لم تصبہ النار۔ (الجامع الصغیر، حدیث نمبر: 6979) 
یعنی رسول اللہﷺ تین کھجوروں سے افطار کرنا پسند فرماتے تھے یا ایسی چیز سے جو آگ پر نہ بنائی گئی ہو۔
 افطار کے وقت دعا کا ورد کرنا مستحب ہے۔ رسول اللہﷺ بھی افطار کے وقت دعا پڑھا کرتے تھے۔ 
 اللّٰھم لک صمنا و علی رزقک أفطرنا، ذھب الظمأ و ابتلّت العروق و ثبت الأجر إن شاء اللہ، فتقبل منّا إنّک أنت السمیع العلیم۔
 افطار کرنے میں جلدی کرنا سنّت ہے جب کہ یہ علم ہو جائے کہ سورج غروب ہو گیا ہے اور سحری میں شب کے آخری حصّہ تک تاخیر کرنا سنّت ہے۔ ارشادِ نبویﷺ وارد ہے:
 لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ۔ [صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل السحور و تأکید استحبابہ.... ، رقم الحدیث: ۲۵۵۴]
 (لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔)
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ :
كان (النبیﷺ)لا يصلي المغرب وهو صائم حتى يفطر، ولو على شربة من ماء۔[سلسلۃ احادیث صحیحہ، البانی، رقم الحدیث: ۸۷۰]
(جب آپﷺ روزے دار ہوتے تو نماز مغرب پڑھنے سے پہلے افطاری کرتے، اگرچہ وہ پانی کا ایک گھونٹ ہوتا۔) 

کسی شخص کو شبہ ہو کہ آیا طلوعِ فجر ہوئی ہے یا نہیں تو اسے چاہیے کہ وہ کھانا پینا کر لے اور جب اسے مکمل یقین ہو جائے کہ فجر طلوع ہو چکی ہے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔ (البقرۃ: ۱۸۷)
اگر کسی شخص نے اس شک میں کھا لیا کہ سورج غروب نہیں ہوا ہے اور یہ شک باقی رہا تو اس شخص کا روزہ نہیں ہوگا۔ 
اسی طرح بادل یا غبار کی وجہ سے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہو چکا ہے روزہ افطار کر لیا، بعد میں معلوم ہوا کہ ابھی دن باقی تھا۔ اسی طرح گھڑی پر وقت غلط ہونے یا کسی کے غلطی سے وقت سے پہلے اذان دینے کی وجہ سے وقت سے پہلے روزہ افطار کر لیا تو بھی قضا لازم ہو گی۔ 
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ غلطی/خطا کی صورت میں روزہ ہو جائے گا؛ کیوں کی خطا معاف ہو جاتی ہے، وہ لوگ حضرت عمرؓ کا قول ‘‘ایسی صورت میں قضا نہیں ہے’’ کو دلیل بناتے ہیں لیکن ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ ایسی صورت میں قضا لازم ہوگی کفارہ نہیں ہوگا۔ اب چاہے غلطی پر شبہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ یہ جان لینا بھی مناسب ہے کہ ائمہ اربعہ کے قول پر عمل ہے۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...