مفتی محمد اعظم ندوی
صبر محض ایک معمولی عادت یا مجبوری کا نام نہیں، بلکہ وہ جوہر ہے جس پر کامیابی کی عمارت قائم ہوتی ہے، وقت کی سنگلاخ راہوں میں وہی چراغ روشن رہتے ہیں جو صبر کے تیل سے جلائے گئے ہوں، وہی افراد اور قومیں بامِ عروج پر پہنچتی ہیں، جو صبر کے زینے طے کرتی ہیں، اسی راستہ کو عبور کرکے وہ عظمت کی چوٹیوں تک پہنچتی ہیں۔
اور اگر کوئی ایک زمانہ ایسا ہو، جو انسان کو صبر کی معراج پر پہنچا دے، جو اس کے ضبط وبرداشت کو آزما کر کندن بنا دے، جو اسے آزمائشوں کے طوفان میں ثابت قدمی کی قوت عطا کرے—تو وہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے!
رمضان محض روزے رکھنے اور راتوں کو جاگنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہے، جہاں بھوک اور پیاس کی شدت پر قابو، نیند کی قربانی پر لذت، اور خواہشات کی لگام کو کھینچنا سکھایا جاتا ہے، یہ وہ مہینہ ہے، جہاں انسان کی حقیقی کامیابی کا راز مضمر ہے، جہاں صبر کی ہر آزمائش کا سامنا کر کے بندہ اللہ کے خاص قرب میں داخل ہوتا ہے، اور جس کے بعد اس کے روحانی سفر کی منزل مزید واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔
صبر ضبطِ نفس کا نام ہے، اور روزہ اس کی عملی تصویر، روزہ دار دن بھر کھانے پینے سے رک کر اپنے جسم کو آزماتا ہے، غصہ کو قابو میں رکھ کر اپنے جذبات کو سنوارتا ہے، اور ہر اس عمل سے اجتناب کرتا ہے جو اس کو روحانیت کے بلند مقام سے نیچے گرا دے، یہی وہ حوصلہ ہے جو اسے متقی بناتا ہے، اور یہی وہ صبر ہے جس کا انعام بے حساب اجر کی صورت میں ربِ کائنات نے خود اپنے ذمہ لے لیا ہے۔
روزہ ایک جامع تربیتی نظام ہے، جو انسان کے کردار کو سنوارتا ہے، اس کے عزم کو صیقل کرتا ہے، اور اسے اس بلندی پر پہنچاتا ہے، جہاں سے دنیا کے ہنگامے محض سراب نظر آتے ہیں اور حق کی راہیں اس کے لیے کھلتی جاتی ہیں۔
یہ صبر ہی ہے جو روزہ دار کو سحر کے وقت بستر کی گرمی چھوڑ کر عبادت کی طرف مائل کرتا ہے، جب رات کا سکون انسان کو تھپکی دیتا ہے اور نیند کی شیرینی آنکھوں کو بوجھل کر دیتی ہے، تب وہی کھڑا ہو سکتا ہے جس کا دل صبر سے معمور ہو۔
یہی صبر ظہر کی دھوپ میں جب حلق خشک ہوتا ہے، بدن نڈھال ہوتا ہے، اور خوردو ونوش کی دبی خواہش بیدار ہونے لگتی ہے، تب روزہ دار کو قوت عطا کرتا ہے، وہ چاہے تو ایک لمحہ میں پیاس بجھا سکتا ہے، لیکن نہیں—اسے معلوم ہے کہ جو لوگ اپنے نفس کو لگام دے کر رکھتے ہیں، ان کے لیے رب کی معیت لکھی جا چکی ہے!
یہی صبر شام کے وقت آزمائش کی آخری گھڑیوں میں آکر انسان کو آزماتا ہے، جب دسترخوان سجا ہوتا ہے، خوشبوئیں اشتہا کو بھڑکاتی ہیں، لیکن وہ انتظار کرتا ہے، اس لمحہ کا، جب رحمت کی گھڑی آ پہنچے گی، اور وہ حکمِ خداوندی کے مطابق افطار کرے گا۔
اور یہی صبر اسے تراویح کی لمبی رکعتوں میں تھامے رکھتا ہے، تھکن بدن کو مضمحل کر دیتی ہے، لیکن وہ قیام کو ترک نہیں کرتا، وہ رکوع و سجود میں اپنے رب کے حضور حاضر رہتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گیا، تو یہی راتیں اس کے لیے مغفرت کا پروانہ بن جائیں گی۔
رمضان میں ایک رات ایسی آتی ہے، جس کی عظمت و شان کا ادراک کرنا بھی انسانی عقل کے بس کی بات نہیں، یہ وہ رات ہے جس میں تقدیریں لکھی جاتی ہیں، قسمتوں کے دروازے کھلتے ہیں، اور مغفرت کی بارش ہوتی ہے۔
لیکن یہ رات بھی صرف صبر کرنے والوں کے حصہ میں آتی ہے، جو لوگ جلدی سو جاتے ہیں، جو عبادت میں اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں، جو نیند کو عبادت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اپنی دلچسپیوں اور خوش گپیوں میں وقت گنواتے ہیں وہ اس رات کی سعادت سے محروم رہتے ہیں، لیکن جو صبر کے ساتھ راتوں کو جاگتے ہیں، جو دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں، جو گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں، وہی ہیں جو ہزار مہینوں سے بہتر اس رات کی برکتوں کو سمیٹ لیتے ہیں۔
آخرکار، اس صبر کی سب سے بڑی جزا وہ جنت ہے، جس کا وعدہ اللہ نے صابرین سے کیا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں صبر کی آزمائشوں کا اختتام ہوتا ہے، جہاں بھوک اور پیاس کی تکلیفیں دائمی نعمتوں میں بدل جاتی ہیں، اور جہاں یہ اعلان ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے دنیا میں صبر کیا، اور آج وہی کامیاب ہیں!
روزہ داروں کے لیے جنت میں خاص دروازہ ہے—"باب الریّان"— جس سے صرف وہی لوگ داخل ہوں گے، جنہوں نے اس دنیا میں صبر کے ساتھ روزے رکھے، یہ اس بات کا اعلان ہے کہ جو لوگ صبر کے معرکہ میں کامیاب ہوئے، ان کے لیے انعام بھی ویسا ہی بے نظیر رکھا گیا ہے۔
رمضان تو آتا ہے اور چلا جاتا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کے لیے صبر کی روش اپنا لے، جو بندہ رمضان میں اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ کر صبر کے زیور سے آراستہ ہو جائے، جو اپنی زبان، اپنے اعمال اور اپنے جذبات پر ضبط سیکھ لے، وہ رمضان کے بعد بھی اسی روش پر گامزن رہے گا، اور اپنی انفرادی، خانگی اور اجتماعی زندگی میں اس کو برت کر دکھائے گا۔
اصل کامیابی یہی ہے کہ رمضان کی اس تربیت کو مستقل طور پر اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا جائے کہ رمضان گزر جائے، لیکن صبر باقی رہے؛ روزے ختم ہو جائیں، لیکن ضبطِ نفس کی کیفیت دائمی ہو جائے؛ تراویح کی رکعتیں مکمل ہو جائیں، لیکن قیام اللیل کی عادت برقرار رہے؛ افطار کے دسترخوان سمٹ جائیں، لیکن سخاوت اور غم خواری کا سلسلہ جاری رہے۔
کاش ہم میں سے ہر مسلمان خود کو مخاطب کرکے کہہ سکے کہ اے مومن انسان! اگر تُو کامیابی چاہتا ہے، اگر تُو عزت، بلندی اور فلاح کا طالب ہے، اگر تُو چاہتا ہے کہ اللہ کی معیت نصیب ہو، کہ اس کی محبت تیرے حصہ میں آئے، اور جنت کے دروازے تیرے لیے کھل جائیں—تو پھر رمضان کو اپنی زندگی میں صبر کی دائمی تربیت کا ذریعہ بنا لے، یہ مہینہ آتا ہے تاکہ تجھے سکھائے کہ بھوک و پیاس محض آزمائشیں نہیں، بلکہ وہ زینہ ہیں جو تجھے کامیابی کے اعلیٰ مقام پر پہنچا سکتے ہیں، یہ مہینہ آیا ہے تاکہ تجھے بتائے کہ ضبط، حوصلہ اور ثابت قدمی کے بغیر کوئی سعادت ممکن نہیں، یہ مہینہ آیا ہے تاکہ تیرے وجود میں وہ روحانی طاقت پیدا کر دے، جو تجھے ہمیشہ کے لیے دنیا کی خواہشات کا اسیر بننے سے روک دے۔، پس اگر تُو حقیقت میں رمضان کا فیض حاصل کرنا چاہتا ہے، تو صبر کی دولت کو اپنا سرمایہ بنا لے—کہ اسی میں تیری دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے!
Eremaad daily 14 March 2025
No comments:
Post a Comment