محمد طارق بدایونی
گرچہ روزہ امساک کا نام ہے یعنی مفطرات و طیبات سے پرہیز کرنا، رک جانا؛ تاہم بعض کام عادات میں شامل ہوتے ہیں، جن کی انجام دہی بھی ضروری ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان میں مختصر سی آسانیاں، سہولتیں رکھی ہیں کہ جن سے روزے پر کوئی اثر نہ پڑے۔ بے شک وہ اللہ تعالیٰ کا روزے داروں پر احسان ہے کہ وہ ان کے لیے آسانیاں چاہتا ہے، حرج کو ختم کر دیتا ہے اور مشقت دو ر کر دیتا ہے۔ ذیل میں ایسی ہی چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے:
1. کھانے پینے سے متعلق:
روزے دار کو اپنا لعاب نگلنے کی اجازت ہے؛ لیکن تھوک قصداً جمع کر کے نگلنا مکروہ ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:
وَيُكْرَهُ لِلصَّائِمِ أَنْ يَجْمَعَ رِيقَهُ فِي فَمِهِ ثُمَّ يَبْتَلِعَهُ كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ۔ [الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۱۹۹]
مصلحتاً کسی چھوٹے بچے کو چبا کر کھلانا جائز ہے اور اسی طرح ضرورت کے وقت کھانا پکاتے ہوئے چکھنے کا بھی جواز ہے ؛ بشرطیکہ کچھ بھی پیٹ میں نہ پہنچے۔ [ابن عابدین نے رد المحتار میں بیان کیا ہے کہ اگر کوئی مجبوری نہ ہو اگر کھانا چکھا جائے تو روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔ دیکھیے: در المحتار علی الدر المختار ۲؍۴۱۶]
روزے دار کے لیے پانی کے استعمال کی اجازت ہے؛ البتہ پینے کی قطعاً نہیں۔ بلا مبالغہ کلی کرنا یا ناک صاف کرنے کے لیے ناک میں پانی ڈالنا وغیرہ جائز ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا۔[سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارۃ و سننہا، باب المبالغۃ فی الاستنشاق و الاستنشار، رقم الحدیث: ۴۰۷]
(تم مکمل طور پر وضو کرو اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو، اِلا یہ کہ تم روزے سے ہو۔)
حدیث پاک میں صرف مبالغہ کا استثنا ہے۔
اگر کلی کرتے یا ناک صاف کرتے ہوئے پانی حلق میں اتر جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا، قضا لازم ہوگی؛ لیکن کفارہ نہیں ہے اور اگر کلی کرنے کے دوران میں روزہ یاد نہیں تھا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ [دیکھیے: الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۲۰۲]
روزے دار کو نہانے کی بھی اجازت ہے، تیراکی، تبرید کے لیے دیر تک پانی میں رہنے نیز گرمی سے بچنے کے لیے سر پر پانی یا پانی سے تر کپڑا بھی رکھنے کاجواز ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی پاکﷺ کو ایک دن دیکھا گیا کہ آپﷺ اپنے سر پر پانی ڈال رہے تھے؛ تاکہ گرمی سے راحت پا سکیں اور آپ روزے سے تھے۔ [اخرجہ احمد بن حنبل: ۲۳۶۹۹، ]
روزہ کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے؛ بلکہ یہ تو سنّت ہے۔ خواہ مسواک تر ہو یا خشک، خواہ زوال سے پہلے کی جائے یا زوال کے بعد۔ حضرت عامر بن ربیعہ کا بیان ہے کہ انھوں نے نبی اللہﷺ کو روزے کی حالت میں بے شمار بار مسواک کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ترمذی، کتاب الصیام، رقم الحدیث: ۷۲۵، نیز دیکھیے: سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: ۲۳۶۴] ایک موقع پر مسواک کرنے کے بارے میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ۔[صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ، رقم الحدیث: ۸۸۷]
(اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے ان کو مسواک کا حکم دے دیتا۔)
نوٹ: علما نے لکھا ہے کہ یہ حکم عام ہے اور صائم و غیر صائم دونوں کو شامل ہے۔
مسواک کرنے کے سلسلے میں یہ جان لینا بھی افادے سے خالی نہ ہوگا، فقہا نے لکھا ہے کہ اگر مسواک کرتے وقت دانتوں یا مسوڑھوں سے خون نکل آئے تو اسے تھوک دیا جائے تو بھی روزہ میں فساد پیدا نہیں ہوگا؛ گرچہ خون کا رنگ لعاب پر غالب ہی کیوں نہ آ جائے۔ اگر تھوک غالب ہو اور روزے دار اپنے اختیار سے اسے نگل جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔ قضا لازم ہوگی؛ البتہ کفارہ نہیں ہوگا۔ [دیکھیے: الفتاوی الہندیہ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم و ما لا یکرہ، ج:۱، ص: ۱۹۹]
جہاں تک ٹوتھ پیسٹ یا ٹوتھ پاؤڈر کا تعلق ہے؛ گرچہ بعض علما نے اس کی اجازت اس وجہ سے دی ہے کہ یہ مسواک کے مثل ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اسے حلق میں اس کے اثرات جانے کے شک کی وجہ سے مکروہ ہی کہتے ہیں۔ اس لیے روزہ کی حالت میں اس کا استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ذائقہ معدے تک پہنچ ہی جاتا ہے۔ نیز بعض علمائے عرب تو اس کو مبالغہ مضمضہ (غرارہ کی قبیل سے) کی ایک شکل بیان کرتے ہیں، اس لیے اس کے ذرّات سے بچنا ناممکن ہے۔
بخور کا استعمال، اپنے جسم کو خوشبو سے معطر کرنا، بالوں کو درست کرنا (کاڑھنا)، کنگھی کرنا نیز جدید کاسمیٹکس کے سامان استعمال کرنا، عورتوں کا میک اپ(زیب و زینت) کرنا وغیرہ سب جائز ہے۔ حضرت عائشہؓ آپﷺ کا سر مبارک دھو دیتیں اور کنگھی کر دیا کرتی تھیں؛ جب کہ رسولﷺ معتکف ہوتے۔ [سنن ابن ماجہ، کتا ب الصیام، باب ماجاء فی المعکتف یغسل رأسہ و یرجلہ، رقم الحدیث: ۱۷۷۸]
روزہ کی حالت میں علاج کی بھی اجازت ہے؛ لیکن صرف ایسا علاج جس میں کھانا پینا نہ ہو اور دوا معدے تک نہ پہنچے۔ جیسے رگ یا گوشت میں انجکشن لگوانا۔ چیک اپ یا بطور عطیہ تھوڑی مقدار میں خون نکلوانا وغیرہ۔
ویکس انہیلر کا استعمال بھی درست ہے؛ چوں کہ اس کو محض سونگھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور خوشبو سونگھنے سے روزہ میں فساد نہیں آتا ہے۔ البتہ دمہ کا مریض، جسے سانس میں تکلیف ہوتی ہے۔ ایسے مریض کے لیے انہیلر کا استعمال جائز نہیں ہے، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؛ کیوں کہ اس انہیلر کے ذریعہ دوا سانس کی نالی سے پھیپھڑوں میں پہنچائی جاتی اور حلق میں چوں کہ سانس اور خوراک کی نالیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں تو دوا کا کچھ حصّہ خوراک کی نالی میں پہنچ جاتا ہے۔
2. جماع سے متعلق:
جہاں تک رمضان المبارک کی راتوں کا تعلق ہے تو عام راتوں کی طرح ان میں بھی کھانا پینا، عورتوں سے مباشرت میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ.......۔ (البقرۃ: ۱۸۷)
(تمہارے لیے یہ بات جائز کردی گئی ہے کہ روزہ کے دنوں میں رات کے وقت اپنی بیویوں سے خلوت کرو۔ تم میں اور ان میں چولی دامن کا ساتھ ہے (یعنی ان کی زندگی تم سے وابستہ ہے۔ تمہاری ان سے) اللہ کے علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہے کہ تم اپنے اندر ایک بات کا خیال رکھ کر پھر اس کی بجا آوری میں خیانت کررہے ہو (یعنی اپنے ضمیر کی خیانت کر رہے ہو۔ کیوں کہ اگرچہ اس بات میں برائی نہ تھی مگر تم نے خیال کرلیا تھا کہ برائی ہے) پس اس نے (اپنے فضل و کرم سے تمہیں اس غلطی کے لیے جو اب دہ نہیں ٹھہرایا) تمہاری ندامت قبول کرلی اور تمہاری خطا بخش دی اور اب ( کہ یہ معاملہ صاف کردیا گیا ہے) تم (بغیر کسی اندیشہ کے) اپنی بیویوں سے خلوت کرو اور جو کچھ تمہارے لیے (ازدواجی زندگی میں) اللہ نے ٹھہرا دیا ہے، اس کے خواہش مند ہو۔ اور (اسی طرح رات کے وقت کھانے پینے کی بھی کوئی روک نہیں) شوق سے کھاؤ پیو۔ یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) کالی دھاری سے الگ نمایاں ہوجائے (یعنی صبح کی سب سے پہلی نمود شروع ہوجائے) پھر اس وقت سے لے کر رات (شروع ہونے) تک روزے کا وقت پورا کرنا چاہیے۔)
اور جہاں تک رمضان المبارک کے دنوں کے وقت کا تعلق ہے تو روزے دار کے لیے وطی کے مقدمات (ابتدائی ترغیبی عمل)کی اجازت رکھی گئی ہے۔ جیسے بوسہ لینا، گلے لگانا، کسی عضو کو چھونا، ہاتھ پھیرنا وغیرہ۔ اس سے روزے میں کوئی فساد واقع نہیں ہوتاحضرت عائشہؓ کا فرماتی ہیں کہ:
انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ۔[صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب بیان أنّ القبلۃ فی الصوم.......، رقم الحدیث: ۲۵۷۶]
(رسول اللہﷺبوسہ لیتے تھے اور وہ روزے سے تھے اور اپنی حاجت کو خوب قابو میں رکھنے والے تھے۔)
واضح ہو یہ کام بھی ضبط کی حد تک رہیں، اگر خود پر اعتماد نہ ہو تو یہ عمل جائز ہونے کے باوجود مکروہ ہوگا اور اس کا روزہ کی سلامتی پر اثر پڑے گا۔ اعتماد نہ ہونے کا مطلب ہے کہ انزال کا اندیشہ ہو یا ان ابتدائی ترغیبی اعمال سے حدود پار ہو جانے کا ڈر ہو ؛ اگر خدا نخواستہ کسی نے ایسا کیا تو بلاشبہ اس نے حرام کام کیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں ہے:
أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ، فَنَهَاهُ. فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ۔ [سنن ابی داؤد، کتاب الصیام، باب کراھیتہ للشابّ، رقم الحدیث: ۲۳۸۷]
(ایک شخص نے نبی اکرمﷺ سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی اور ایک دوسرا شخص آپﷺ کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپﷺ نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا۔ جسے منع فرمایا تھا، وہ جوان تھا۔)
نوٹ: بوڑھے کو اس لیے اجازت دے دی کہ وہ قابلِ ضبط ہوتے ہیں اور جوان کو اس لیے اجازت نہیں دی کہ ان کے لیے ضبط مشکل ہوتا ہے۔
نیز یہ چیز بھی روزے پر اثر انداز نہیں ہوتی کہ انسان ناپاکی کی حالت میں صبح کرے اور روزے کی نیت کر لے۔ مثلاً: اگر کسی شخص پر غسل واجب تھا، صبح صادق سے قبل غسل نہ کر سکا پھر سحری کھا کر یا بنا کھائے روزہ کی نیت کر لی تو اس کا روزہ درست ہوگا؛ البتہ جلد از جلد غسل کر لینا چاہیے۔ حضرت عائشہ و امّ سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ۔ [صحیح مسلم، کتاب الصوم، باب صحۃ صوم من طلع علیہ الفجر و ھو جنب، رقم الحدیث: ۲۵۸۹]
(نبی ﷺ احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپﷺ روزہ رکھتے۔)
No comments:
Post a Comment