محمد طارق بدایونی
اسلام میں ‘‘علم’’ کی بڑی اہمیت ہے اور رمضان المبارک میں اس کا خاص مقام ہے۔ جس طرح رمضان ماہِ صیام و قیام ہے اسی طرح یہ ماہِ علم و قلم، ماہِ قرأت و کتابت بھی ہے۔ یہ رشتہ بڑا گہرا ہے۔ یہ مہینے علم سے ہی شروع ہوا، انسان سے ناخواندگی کے خاتمہ کے ساتھ آغاز ہوا۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا، آپﷺ غارِ حرا میں تھے، حضرت جبرئیل علیہ السلام وحیِ خداوندی کے ساتھ حاضر ہوئے، رسول اللہ سے پڑھنے کا مطالبہ ہوا اور اس طرح رسالتِ محمدیہ شروع ہوئی۔ رسول اللہﷺ نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ آپﷺ ان پڑھوں اور پڑھے لکھوں سب کے استاد بن گئے۔ لوگوں کو راہِ ہدایت کی تعلیم دی، خدائی آیات سنائیں اور لوگوں کی زندگیاں سنواریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ (الجمعۃ: ۲-۳)
(وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انھی میں سے اٹھایا، جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے؛ حالاں کہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ اور (اس رسول کی بعثت) ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی ان میں سے نہیں ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔)
حضرت جبرئیل علیہ السلام کے نزول، رسول اللہ سے قرأت کا مطالبہ اور آپﷺ پر پہلی وحی کا نزول کا پورا قصّہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ، الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، فَكَانَ يَخْلُ وَبِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ، وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔ [صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بدء الوحی إلی رسول اللہﷺ، رقم الحدیث: ۴۰۳]
(رسول اللہﷺکی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچےخواب آنے سے ہوا۔ رسول اللہﷺ جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر (دوبارہ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے (مقررہ) تعداد میں راتیں تحنث میں مصروف رہتے، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں، (اس کے بعد) آپ پھر خدیجہ ؓ کے پاس واپس آ کر، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد (سامان خور و نوش) لے جاتے، (یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق (کا پیغام) آ گیا، اس وقت آ پ غار حراء ہی میں تھے، چنانچہ آپ کے فرشتہ آیا اور کہا: پڑھیے! آپ نے جواب دیا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، آپ نے فرمایا: تو اس (فرشتے) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ (اس کا دباؤ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ‘‘اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا’’۔)
یوں رمضان المبارک میں پڑھنے کے حکم کے نازل وحی کا آغاز ہوا، اس کے بعد قلم کا ذکر آیا جو پر کتابت کا آلہ ہے۔ اس کا ذکر سورۃ القلم میں ہے جو کہ قرآن مجید کے نزول کے ابتدائی سورتوں میں سے ایک ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
ن۔ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ۔ (القلم: ۱-۴)
(ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔ تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔)
یہ نکتہ پیغامِ محمدی کی عظمت بیان کرتا ہے۔ یہ نہج علم و ایمان کا پیغام دیتا ہے۔ یہ طریقہ پیغامِ قلم و بیان ہے اور یہ منہاج قرأت و کتابت اور تکریمِ انسان کی عظمت کی دلیل ہے۔
ماہِ رمضان المبارک میں علم کا ایک مظہر یہ ہے کہ یہ مہینہ رسول خداﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کے مابین قرآن کی دور کا مہینہ تھا۔ ہر سال حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لاتے قرآن مجید سننے سنانے کا دور چلتا، غور و فکر ہوتا اور اس چیز کی تصدیق ہوتی جس کے اثبات کا رب العالمین نے حکم دیا ہے اور وہ چیزیں منسوخ ہو جاتیں جن کے منسوخ کرنے کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہوتا۔ جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:
يَمْحُو اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهٗ أُمُّ الْكِتَابِ۔ (الرعد: ۳۹)
(اللہ جو کچھ چاہتا ہے، مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔)
لیکن جس سال رسول اللہ کا وصال ہوا، اس سال قرآن مجید کا یہ دور دو مرتبہ ہوا۔
حضرت ابن عباس سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
کَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَجْوَدَ النَّاسِ وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔ [صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبیﷺ، رقم الحدیث: ۳۵۵۴]
( رسول اللہﷺسب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپﷺ سے جبرائیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپﷺ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہﷺ خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔)
ماہِ رمضان میں علم کے مظاہر میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نبی اللہﷺ نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے معاملے میں یہ موقف اختیار فرمایا کہ ان میں سے ہر شخص مدینہ منورہ کے دس لڑکوں کو پڑھنا لکھنا سکھائے وہی اس کی آزادی کا فدیہ ہے اور تمام صحابہ کرام اس پر متفق ہو گئے۔ یہی وجہ تھی کہ جب اسلامی ریاست کی تشکیل ہوئی اور اس کا قیام عمل میں آیا تو مال و اسلحہ کی اشد ضرورت تو تھی ہی؛ لیکن ضرورتِ علم و تعلیم و تعلم کے ہتھیار کو بھی فراموش نہیں کیا گیا؛ بلکہ اسے دیگر تمام ضرورتوں پر فوقیت دی گئی۔ رسول اللہﷺ نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ علم کا حصول ہر ایک کے لیے رکنِ رکین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں بنیادی میخ ہے، ان کی طاقت و قوت اور شانِ بلند کے لیے سب سے ضروری شے ہے۔
بے شک علم کی ضرورت ہر زمانے میں رہی ہے اور ہے، بلا علم کوئی بھی قوم کبھی ترقی کے خواب اپنے لیے نہیں بُن سکتی۔ علم ہی وہ دولت ہے جو خرچ کی جائے تو اس میںاضافہ ہوتا ہے۔ علم کا حصول ہر مسلمان پر لازم ہے۔ رسول اللہﷺ پر پہلی وحی بھی علم پر موقوف تھی۔
جب ہم سیرتِ نبویہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ رسول اللہﷺ رمضان المبارک ہی کے مہینے میں پڑھنے کا حکم ملا تھا اور اسی مہینے میں پہلی وحی کا نزول ہوا تھا؛ جب کہ رسول اللہﷺ پڑھنا نہیں جانتے تھے کہ پھر آپﷺ لوگوں کے معلم بن گئے اور آپﷺ نے خود اعلان فرمایا: وإنما بعثت معلما۔ [مشکوٰۃ المصابیح، کتاب العلم، رقم الحدیث: ۲۵۷]
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم علم سے بالکل بھی بے اعتنائیت نہ برتیں۔ ہر شخص علم کا ضرورت مند ہے، ہر ایک کو کچھ نہ کچھ سیکھنا ہے، خواہ وہ فن قرأت و کتابت ہو یا دنیاوی ضروریات کے تکمیل کے لیے کوئی اور فن۔ ہمیں چاہیے کہ جب رمضان المبارک آ جائے تو ہماری علمی دل چسپی بڑھ جائے، پڑھنا لکھنا سیکھیں، قرآن پر تدبر کریں، علمی حلقوں میں بیٹھیں اور کوشش ہونی چاہیے کہ ہر رمضان میں کوئی نہ کوئی نیا دینی علم حاصل ہو جائے جس سے ہماری آخرت سنور جائے۔
ذرا غور کیجیے کہ نبی اللہﷺ کو مال و اسباب اور اسلحہ جات کی ضرورت تھی؛ لیکن بدر کے قیدیوں کی آزادی کا بدلہ مدینہ کے لڑکوں کو علم سکھانا ضروری جانا؛ کیوں کہ مادّی طاقت یا عددی طاقت وہ حیثیت نہیں رکھتی جو علمی طاقت رکھتی ہے۔ صحابہ کرام میں ہر فن کے ماہرین، ہر زبان کے ماہرین موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ جہاں کہیں بھی کوئی پیغام بھیجتے تو وہاں کی زبان پر قدرت رکھتے والے کو ہی ارسال فرماتے۔ نیز یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ علم ہی کی بنیاد پر طاقت میسر آتی ہے۔ کیا اب دنیا کوئی ایسی قوم ہے جو بلا علم طاقت کا مظاہرہ کر سکے۔ مال و دولت ہو یا جنگی ساز و سامان سب کی پیدائش علم ہی کے راستے سے ہو کر گذرتی ہے۔
No comments:
Post a Comment