Translate

Tuesday, March 4, 2025

تجارت قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مطالعہ محمدامام الدین ندوی خادم مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی۔

تجارت قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مطالعہ

         محمدامام الدین ندوی 
خادم مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی۔


       مولانا آفتاب عالم قاسمی پروفیسراکچھیاوٹ کالج مہوا ویشالی،وپروپرائیٹرتاج اسٹیل گانھی چوک مہوا کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ۔آپ بافیض معلم کے ساتھ کامیاب تاجر بھی ہیں۔تعلیم وتعلم سے وابستگی کے ساتھ پیشہ تجارت سے بھی منسلک ہیں۔ مولانا نے اپنی زندگی کے تیس برس سے اوپر اہالیان ویشالی اور ان کے نونہالوں کو دینی غذا فراہم کرنے میں صرف کئے ہیں۔آپ نہایت خلیق،متقی،پرہیزگار ہیں۔اسلامی شعار،وتشخص کےپابند ہیں۔وضع قطع مکمل عالمانہ ہے ۔نرم گفتار واعلی کردار کے حامل ہیں۔جہاں رہتے ہیں عالمانہ لباس ہی میں نظرآتے ہیں۔چہرہ پر ہمیشہ تبسم رقص کرتاہے۔بزرگوں کے فیض یافتہ اور تربیت یافتہ ہیں۔مدرسہ اسلامیہ فتح پور کاوا اور مدرسہ اسلامیہ چہرہ کلاں میں آپ نے برسوں خدمات انجام دی ہیں۔فی الحال اکچھیاوٹ کالج مہوا میں بہ حیثیت پروفیسر مامورہیں۔تاج اسٹیل کے مالک اور مدنی مسجد مہوا کے صدر ہیں۔اس مسجد کی تعمیر وترقی میں آپ بھی خشت اول کی حیثیت رکھتے ہیں۔
    مولانا باذوق ہیں۔درس وتدریس،امامت وخطابت،نیز تجارت کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف بھی آپ کا محبوب مشغلہ ہے۔
آپ کی تازہ ترین تصنیف" تجارت قرآن وحدیث کی روشنی میں" منظر عام پر آچکی ہے۔تجارت کے پیشے سے آپ ایک طویل عرصے سے جڑے ہوئے ہیں۔تجارت کے نشیب وفراز سے بہ خوبی واقف ہیں ۔تجارت کے اصول وضوابط سے بھی خوب واقف ہیں۔دینی ودنیاوی نفع وضرر سے بھی باخبر ہیں۔
     تجارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور انسانی ضرورت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا مال فروخت کیا ہے۔اس تجارت میں کافی منافع ہوا ہے۔آپ کی صداقت و،امانت،دین داری ودیانت داری ،اور محنت کو دیکھ کر حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپ کر رفیق حیات تسلیم کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کی ہے یہ اس بات کی غماز ہے کہ انسان تجارت کے پیشے سے منسلک ہو ۔تجارت میں مہارت حاصل کرے۔اپنا ایک مقام اور وزن پیدا کرے۔مسلمان،تجار کی صف میں اپنی ایمانی شناخت کو برقرار رکھیں۔
    کتب احادیث و فقہ میں محدثین وفقہا رحمھم اللہ نے ایک باب قائم کیا ہے " کتاب البیوع" ۔اس باب میں بزنس کے اصول ضوابط،بزنس کےتمام طریقے بیان کئے ہیں ۔مدرسہ کے لائن سے جو لوگ اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور عالم،فاضل،مفتی،قاضی،کی سند "پڑھ" کر لیتے ہیں انہیں اس باب سے داخل ہوکر ہی جانا پڑتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ علماءاپنی عملی زندگی میں اس پیشے کو اختیار نہیں کرتے ہیں۔
    تجارت میں صداقت،امانت،خوش خلقی،معاملات کی صفائ،نرم روی،ونرم گفتاری،کا خاص عمل دخل ہے۔اس سے مال کے خریدوفروخت میں دشواری نہیں ہوتی ہے۔
   تجارت میں دینی ودنیاوی دونوں فائدے ہیں۔عقلمند قومیں تجارت کو ہی اپنا ذریعہ معاش بناتی ہیں۔اور اسی میں ان کی ترقی مضمر ہوتی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جس نے بھی اچھی اور سچی تجارت کی ہے وہ ہمیشہ ترقیوں کے زینے طے کرتا رہا ہے۔
      اسلام کا مزاج بھی تجارت کو اپنانے اور اسے فروغ دینے کا ہے۔اس لئے قرآن وحدیث،فقہ وسیر میں اس کی تاکید بھی ہے۔اکابر صحابہ،تابعین،محدثین،مفسرین،ائمہ مجتہدین،علما وصلحانے اسے اپنا پیشہ بنایاہے۔تجارت ان کے ایمان ویقین،عقیدے کی پختگی،فرائض وواجبات،حقوق اللہ،وحقوق العباد،کی ادائیگی میں کبھی مخل نہیں ہوئی۔
 مولانا آفتاب عالم قاسمی مدظلہ العالی ایک اچھے معلم کے ساتھ ایک کہنہ مشق تاجر بھی ہیں۔کتاب البیوب کو بھی خوب سمجھاہے۔اس کے تقاضے بھی ان کے پیش نظر رہے ہیں۔اس لئے میدان تالیف وتصنیف میں اپنا موضوع " تجارت قرآن وحدیث کی روشنی میں " چنا اورچھ سو بتیس صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب تصنیف کرکے عوام الناس پر بڑا احسان فرمایا۔یہ اردو زبان میں ایک منفرد،مدلل ومفصل کتاب ہے۔یہ کل چھ ابواب پر محیط ہے۔
      فاضل مصنف نے اسے چند ابواب میں اس طرح منقسم کیا ہے۔
باب اول-تجارت قرآن کی روشنی میں۔
    اس باب میں تجارت سے متعلق قرآن کریم کی بہت سی آیتوں کو جمع کیا ہے۔ان آیتوں کے سلیس ترجمے اور تشریح بھی کی ہیں جن سے تجارت کی اہمیت وافادیت کا پتہ چلتا ہے۔لفظی تحقیق بھی کی ہے ۔آیت کے مذاق کے مطابق بعض احادیث بھی نقل کی ہے۔بعض آیتوں کے شان نزول بھی بیان کئے ہیں اس سے کتاب کی جامعیت بڑھ گئی ہے۔
 باب دوئم-تجارت احادیث کی روشنی میں۔
اس باب میں تجارت سے متعلق" ستر" سے زائد احادیث بہ حوالہ نقل کیا ہے۔ان کے ترجمے اور تشریح بھی اچھے اور اچھوتے انداز میں پیش کی ہےجس سے تجارت کی ضرورت کو سمجھا جاسکتاہے۔انسان کی پسماندگی کو دور کرنے میں تجارت کتنی معاون اور مددگار ہے ان فرمان نبوی سے بہ خوبی واقفیت حاصل کی جاسکتی ہے۔فاضل مصنف نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ احادیث مبارکہ بھی ہمیں پیشہ تجارت سے منسلک ہونے کی تلقین کرتی ہے۔
٣-تیسراباب " تجارت علم کی روشنی میں" قائم کیا ہے۔اس کے ضمن میں ستر سے اوپر احادیث مبارکہ نقل کی ہے۔کہیں کہیں قرآنی آیات کا بھی حوالہ دیا ہے۔یہ تمام احادیث تجارت ہی سے متعلق ہیں۔ان سے بھی پیشہ تجارت سے وابستگی کی غیر معمولی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
    ہر شعبہائے زندگی میں ہمیں علم کی ضرورت ہو تی ہے۔بعض چیزوں کا علم ہمیں پڑھ کر ہوتاہے۔بعض کا سن کر بعض کا دیکھ کر ۔بغیر علم کےہمیں کوئی چارا نہیں۔بغیر علم اور واقفیت کے کسی کام میں ہاتھ ڈالنے سے خسارہ اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بسااوقات مایوسی ہاتھ لگتی ہے۔بزنس میں بھی علم اور سلیقے کو بڑاعمل دخل ہے۔
 مولانانے علم کاتذکرہ کرکے غالبا اسی طرف اشارہ فرمایاہے۔
      مفتی محمد ثناءالھدی قاسمی مدظلہ العالی نائب ناظم امارت شرعیہ بار،اڑیسہ،جھار کھنڈ رقم طراز ہیں" کسی کام کے کرنے کے لئے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔معاملہ،عبادت کاہویا معاملات کا،بغیر علم کے کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس لئے ہمیں ان کاموں کے کرنے کا علم اورسلیقہ بھی ہونا چاہئے۔ اہمیت وفضیلت جاننے کے باوجود جس چیز کی تجارت انسان کرنا چاہتاہے اس کا علم نہ ہوتو مایوسی،محرومی،بلکہ کبھی کبھی بربادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس لئے مولانانے کتاب کے تیسرے باب تجارت کے لئے علم کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔" (خیال خاطرصفحہ ٣٣)
      کتاب کے چوتھے باب میں چہل حدیث کو جگہ دی گئی ہے ۔یوں تو اس عنوان سے بہت سی کتابیں موجود ہیں جو چہل حدیث کے نام سے موسوم ہیں جس میں مختلف عنوان کی احادیث درج کی گئ ہیں۔اس کتاب میں بھی چہل حدیث شامل کیا گہا ہے۔اس کی خوبی یہ ہے کہ اس کی چالیسوں احادیث تجارت سے متعلق ہیں۔یہ اس کتاب کی بلکہ چہل حدیث والے باب کی انفرادی خصوصیت ہے۔ایک ہی عنوان کی چالیس احادیث تجارت کی اہمیت افادیت کو نمایاں کرتی ہیں اور پیشہ تجارت اختیار کرنے پر زور دیتی ہیں۔
     باب پنجم کا نام " تجارت اور ہمارے بزرگان دین " رکھاہے۔اس باب کے تحت تقریبا ٣١/ بزرگان دین کے ذکرجمیل بیان کئے ہیں۔اس باب کا آغاز یار غار نبی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شروع کیا ہے اوردیگر اصحاب نبی،تابعی،تبع تابعی،ائمہ حدیث وفقہ،سے گزرتے ہوئے قاطع بدعت،حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نوراللہ مرقدہ پر ختم کیا ہے۔
     اس میں بعض بزرگوں نے تجارت کو ذریعہ معاش بنایاہے۔اپنی روزی روٹی کا مسئلہ اسی پیشے سے حل کیا ہے۔اور دین کی خدمات بھی خوب کی ہیں۔بعض بزرگوں نے تجارت کی فضیلت بیان کی ہے اور تجارت سے منسلک ہونے پر زور دیاہے۔
      اس باب کو بھی کتاب میں جگہ دینے کا مصنف کا منشا تجارت کو فروغ دینا اور مسلمانوں کو پیشہ تجارت سے وابستہ کرنے کی دعوت دینا ہے۔
          باب ششم میں فاضل مصنف نے " اسلامی معاشی نظام ایک تقابلی مطالعہ" کے عنوان سے اسلام کے معاشی نظام پر سیر حاصل بحث کی ہے۔اس کے کام یاب پہلو کا تذکرہ کیا ہے۔اس باب میں بھی بہت سی آیات واحادیث کو جگہ دی ہے۔مصنف نے تجارت کو اسلام کے معاشی نظام کا جزء لاینفک ثابت کیا ہے۔یہی اسلام کا مزاج بھی ہے اور یہ بھی مقصودحیات ہےہے۔ یہ بات مشاہدے میں ہے کہ جس نےپیشہ تجارت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایاہے اسے ترقی ملی ہے۔آدمی تجارت کرے اور سود سے بچے،مناسب قیمت پر بیع وشرا کرے تو یقینا اس میں دینی ودنیاوی منافع حاصل ہوں گے۔
     تجارت کے ذریعہ بھی دین کی خدمت کی جاسکتی ہے۔دین کوفروغ مل سکتا ہے۔
   بعض مسلم تجار راتوں رات امیر بننے کے خیال میں اپنا سب کچھ گنواں بیٹھتے ہیں۔بہت سے تاجر ترش مزاج ہوتے ہیں بہت جلد غصہ ہوجاتے ہیں۔گراہکوں سے الجھ جاتے ہیں۔بعض مسلم تاجر بات بات میں جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ گراہک کواعتماد ہواورسامان خرید لے۔بعض تجار سامان کی قیمت دوچند کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اپنے ہیں اس لئے یہ رعایت کردی ہے۔
     اس سے بزنس میں نقصان اور خسارہ ہوتاہے۔اللہ کی رحمت روٹھ جاتی ہے۔بعض تاجر تو دکان ہی لیٹ سے کھولتےہیں۔یہ بھی بےبرکتی کاسبب ہے۔
     مسلم تجار کی دکان میں جائیے اور ان سے سامان دکھانے کو بولئیے تو دو چار سیٹ دکھائیں گے اگر آپ کو پسند نہ ہوا اور مزید دکھانے کے لئے بولئیے تو ترش روہوجاتےہیں اور ناک بھنو چڑھانے لگتے ہیں۔اگر نہیں لئجئے تو اندر ہی اند آگ بگولہ ہوجاتے ہیں بسا اوقات زبان سے اپنی خفگی کا اظہار بھی کردیتے ہیں۔بسا اوقات آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔نہیں لینا تھا تو کیوں الٹوائے؟ 
         بعض مسلم تاجر بد خلقی کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔اس سے گراہک بدک جاتے ہیں ۔خود بھی نہیں جاتے اور جانے والے کو روکتے بھی ہیں۔اس طرح کسٹمر کٹ جاتے ہیں۔
    اس کے برخلاف غیر مسلم تجار اپنے گراہکوں کو اپنےمفروضہ وفرسودہ عقیدے کے مطابق لکشمی ( دولت کی دیوی) سمجھتے ہیں ۔اپنے کسٹمر سے اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں۔آپ ان کی دکان میں جائیں اور جتنا سامان دیکھنا ہو دیکھ لیں وہ دکھانے سے نہیں اکتاتے ہیں۔اور نہ ہی کسی طرح کی انہیں ناگواری ہوتی ہے۔خدا نہ خواستہ آپ کو مطلوبہ سامان ان کی دکان میں نہ ملے اور آپ واپس ہوجائیں تو بھی انہیں گرانی نہیں ہوتی ۔وہ آپ سے مخاطب ہوں گے اورکہیں گے کہ آتے رہئیے گا۔آپ ان کی خوش خلقی سے،نرم گفتاری سے متاثر ہوں گے اور دوبارہ ضرور جائیں گے۔اگر کسی سامان پرمعمولی منافع ملتا ہو تو بھی وہ آپ کو دے دیں گے۔یہ صفت مسلم تجار میں کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
    اس لئےاس کتاب کا مطالعہ ہر مسلم تاجر کو کرنا چاہئےتاکہ انہیں پتہ چلے کہ کیا کرناہے اور کیا نہیں کرناہے۔سچے تاجر کےحق میں جومزدہ سنایا گیا ہے اس کے وہ کیسے حق دار بنیں گے؟. 
         اس کتاب کے سب سے اخیر میں فعال ومتحرک،جواں سال عالم مولانا محمد نذرالھدی قاسمی استاد مدرسہ اسلامیہ چہرہ کلاں وجنرل سکریٹری نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی کا قیمتی مضمون ہے جو "مولانا آفتاب عالم قاسمی زندگی کی شاہ راہ پر" کے عنوان سے سپردقرطاس کیا ہے۔ مضمون بہت جامع ہے۔
      اس کتاب کو حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نہایت جامع اور علم افزا "پیش لفظ" سے زینت بخشی گئی ہے تو وہیں حضرت مفتی محمد ثناء الھدی قاسمی مدظلہ العالی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ و ہفتہ روزہ نقیب کےمدیر اعلی کے"خیال خاطر" سے پر رونق بنائی گئی ہے۔
     فاضل مصنف کا ایک اہم مضمون" آئینہ کتاب " کے عنوان سےکتاب میں شامل کیا گیا ہے۔: درحقیقت" تجارت قرآن وحدیث کی روشنی میں " اردو زبان میں ایک قیمتی ومنفرد سرمایہ ہے ۔اسے ہر آدمی اپنے گھر کے کتب خانے میں برائے مطالعہ ضرور رکھے۔اور ہر شخص اس کتاب سے مستفید ہوں بالخصوص مسلم تجار ۔
  اس کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں قرآنی آیات،احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم،بزرگان دین کے تجارتی احوال،شامل کیےگئےہیں جو کتاب کی عظمت نیزصاحب کتاب کی شخصیت،ان کی استعداد،اور ذوق سلیم کو اجاگر کرتے ہیں۔کتاب کی طباعت دیدہ زیب اور اوراق عمدہ ہیں۔
اللہ تعالی ہمیں اس سے بار بار مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائےاور صاحب کتاب کو جزائے جزیل عطا فرمائے۔آمین۔
    اللہ تعالی نے یہ چند سطور اپنے فضل سے تحریر کروادئے ورنہ میں تو اس لائق نہیں ہوں کہ بہت کچھ اس پر رقم کروں

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...