ماہ مبارک میں مدارس کے سفراء کا حال زار
تحریر : عبدالغفار سلفی، بنارس
ماہ رمضان ایک طرف جہاں نیکیوں کے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے ، ہر طرف صیام و قیام، تلاوت و عبادت، صدقات و خیرات، ہمدردی و غمگسارِی کا ایک خوشنما ماحول لے کر آتا ہے وہیں دوسری طرف اس مہینے کا ایک منظر یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ مہینہ آتے ہی ہر جگہ ملک بھر کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سفراء کرام کا تانتا لگ جاتا ہے. ان سفراء میں سے بیشتر انتہائی معمولی تنخواہوں پر مدارس میں تعلیم و تدریس کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں، یہ لوگ اگر رمضان میں چندہ نہ کریں تو ان مدارس کے نظماء ان کا جینا حرام کر دیتے ہیں، ان کی تنخواہیں تک روک لیتے ہیں. خود یہ نظماء اور عہدے داران تو اپنے اپنے گھروں میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے ماتحت کام کرنے والے یہ مدرسین بیچارے جھولا اور رسید تھامے ملک بھر کی خاک چھانتے پھرتے ہیں، سفر کی صعوبتیں اٹھاتے ہیں، کئی جگہوں پر تو ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک بھی ہوتا ہے، فقراء و مساکین کی طرح انہیں دھتکارا جاتا ہے لیکن یہ بیچارے بڑے صبر و عزیمت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں.
سفراء کرام کے حالات دیکھ کر کبھی کبھی بہت ترس آتا ہے. سخت گرمی کے اس موسم میں کئی جگہوں پر انہیں گھنٹوں لائن میں کھڑے رہنا پڑتا ہے اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب سیٹھ جی کے ایرکنڈیشنڈ کمرے تک ان کی رسائی ہوتی ہے تو یہ کہہ کر انہیں خائب و خاسر لوٹا دیا جاتا ہے کہ نئے چندے کی گنجائش نہیں ہے.. خود اپنے گھروں پر مہمانوں کو شوق سے کھلانے والے یہ سفراء مساجد میں بن بلائے مہمان کی طرح بڑی شرمندگی کے ساتھ سحری اور افطاری زہر مار کرتے ہیں. نہ ان کا روزہ سکون سے گزرتا ہے نہ یہ تراویح پڑھ پاتے ہیں، نہ رمضان کی عبادت کی لذتیں انہیں مل پاتی ہیں، نہ اس ماہ مبارک میں یہ سکون سے اپنے بال بچوں کے ساتھ رہ پاتے ہیں. سال بھر کولہو کے بیل کی طرح اپنی فیملی سے دور رہ کر زندگی گزارنے والے ان مدرسین کو سال میں ایک سالانہ لمبی چھٹی ملتی ہے تو وہ بھی چندے کی نذر ہو جاتی ہے، ان کے بچے اپنے باپ کے ساتھ اور ان کی بیویاں اپنے شوہروں کے ساتھ سکون سے بیٹھ کر افطار و سحری کی سعادت سے بھی محروم رہ جاتی ہیں.
کبھی کبھی ان سفراء سے بات کرو تو ان کا درد سمجھ میں آتا ہے، ان کے دکھوں کی داستان سنو تو کلیجہ چھلنی ہو جاتا ہے. یہ اتنی قربانیاں نہ دیں تو دین کے قلعے یہ مدارس اسلامیہ بند ہو جائیں. اتنی جفا کشی اور قربانیوں کے بعد بھی ان سفراء کے مقدر میں امت کی طعن و تشنیع کے تیر ہوتے ہیں، سیٹھوں کی بد اخلاقی اور غیر انسانی سلوک انہیں اندر تک توڑ دیتا ہے مگر یہ بیچارے مجبور ہوتے ہیں، ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا.
حضرات! زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے. اس کی ادائیگی کا ہم نے یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ طریقہ کیوں اپنایا ہوا ہے. آپ کے فریضے کو آپ کے لیے آسان کرنے والے لوگ کیا اسی سلوک کے حقدار ہیں کہ یہ در در کی یوں ٹھوکریں کھائیں. کیوں نہیں ہم اس کی کوئی ایسی آسان صورتحال بناتے جو سب کے لیے آسان اور باعث سکون ہو.
آئے دن یہ بات بھی زیر بحث آتی ہے کہ آیا یہ مدارس زکوٰۃ کے حقدار ہیں بھی یا نہیں، علم و تحقیق کے شناور بڑی جانفشانی کے بعد یہ تحقیقات منظر عام پر لاتے ہیں کہ یہ مدارس سرے سے مصارف زکات میں آتے ہی نہیں. لیکن حقیقی صورتحال یہ ہے کہ ہندوستان کے بیشتر مدارس اسلامیہ زکوٰۃ ہی کی بدولت چل رہے ہیں اور یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ زکوٰۃ کے سلسلے میں جو احتیاط اور جو قیود و شرائط علماء بیان کرتے ہیں مدارس کے سلسلے ان کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے. لیکن ہندوستان کے ماحول میں یہ مدارس کیسے چلائے جائیں اس پر انتہائی سنجیدگی سے ہم سب کو غور کرنے کی ضرورت ہے.. اگر علماء کی اکثریت اس بار پر متفق ہے کہ یہ مدارس اسلامیہ عمومی طور پر زکوٰۃ کے حقدار نہیں ہیں تو پھر واقعتاً اس کا متبادل کیا ہے اس پر بھی بات ہونی چاہیے. کیا ہماری وہ عوام جو ان مدارس کو زکوۃ اتنی کد و کاوش کے بعد دیتی ہے کیا وہ زکوٰۃ کے بجائے عام صدقہ خیرات سے ان مدارس کی کفالت کر سکے گی؟ اور اگر نہیں کر سکے گی تو پھر یہ مدارس چلیں گے کیسے؟ اس پر بھی کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد ہونے چاہئیں .
مدارس دین کے قلعے ہیں، گاؤں گاؤں قریہ قریہ انہیں کے وجود سے دینی شعور باقی ہے، امت کو یہی مدارس علماء، دعاۃ، مفتی، خطیب سب فراہم کر رہے ہیں. مادیت اور الحاد کے اس دور میں ان کا وجود بھی نہ رہے گا تو ہماری دینی شناخت کیسے باقی رہے گی. یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے ختم ہو جائے گا، اس پر بہت سنجیدگی سے غور کرنے اور اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے.
ملک کے بعض صوبوں میں ہونے والی باہمی جماعتی اٹھا پٹک کی سزا بھی یہ مدارس اور ان کے سفراء بھگت رہے ہیں. کہیں سے اس قسم اعلان آتا ہے کہ اس بار یہاں سفراء کو آنے کی اجازت نہیں تو کہیں دعوتی مراکز کو زکوۃ دینے سے صاف منع کیا جاتا ہے. ان مسائل کا شکار ہو رہے ہیں یہ بیچارے سفراء جنہیں طویل اسفار کر کے آنے کے بعد ٹکا سا جواب دے کر لوٹا دیا جاتا ہے.
کیوں نہیں امت کے اصحاب ثروت کوئی ایسی صورت نکالتے کہ کم از کم جو بڑے بڑے مدارس ہیں وہ اس حد تک خود کفیل ہو جائیں کہ ان کے اساتذہ کو یوں یوں در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں. چھوٹے مدارس کو مقامی طور پر ہی اتنا مستحکم کر دیا جائے کہ ان کے مدرسین کو سفر کی یہ صعوبتیں نہ اٹھانی پڑیں. جو مدارس انتہائی پسماندہ علاقوں میں ہیں وہاں اطراف و اکناف کی خوشحال بستیاں ان کی کفالت کی ذمہ داری لے لیں. بہرحال کوئی ایسی صورتحال نکالی جائے جس سے یہ سفراء جن میں سے بیشتر علماء کرام ہوتے ہیں ان کی عزت نفس پر لگنے والے یہ حملے بند ہو جائیں اور ان کی زندگیوں میں بھی سکون آ جائے..
دعا ہے رب العالمین ہمارے مدارس کی حفاظت فرمائے، ان کے نظم و نسق کے لیے ہمیں بہتر انتظام کرنے کی توفیق دے، ان میں کام کرنے والے اساتذہ و ملازمین کی زندگیوں میں سکون اور عافیت لائے اور انہیں وہ عزت و وقار عطاء فرمائے جس کے وہ حقدار ہیں. آمین
No comments:
Post a Comment