محمد طارق بدایونی
رمضان المبارک صرف روزے کا ہی مہینہ نہیں ہے، نہ آرام و راحت کا مہینہ ہے اور نہ سستی و کاہلی اور نیندیں پوری کرنے کا مہینہ ہے جیسا کہ آج کل لوگ ماہِ رمضان کے آتے ہی اپنے کاموں میں تساہلی برتنے لگتے ہیں، ذمّہ داری کے وقتوں میں کمی کر تے ہوئے روزہ کا حربہ اپناتے ہیں۔ بلکہ یہ مہینہ تو کام میں دل چسپی، کمائی، ایثار، سنجیدگی اور جاں فشانی کا مہینہ ہے، صبر و استقامت کا مہینہ ہے، جد و جہد اور جہاد فی سبیل اللہ کا مہینہ ہے، عالی ہمتی، عملِ پیہم اورعزمِ مصمم کے ساتھ عالی مقاصد کی تکمیل کا مہینہ ہے۔ نیز یہ کہ عبادت کی نیت کے ساتھ خالص اللہ کے لیے اپنے کاموں میں اضافہ کر لینے کا مہینہ ہے۔
بے شک راہِ خدا میں جہاد اسلام کی معراج ہے، اگر اس مہینے میں ایسی ضرورت پیش آجائے تو یاد رکھیے! اس کی فضیلت سال بھر کے دنوں کے مقابلے میں ماہِ مبارک کی ساعتوں کی بڑی فضیلت ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَأَعْلَى الْجَنَّةِ۔[صحیح البخاری، کتاب الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، رقم الحدیث: ۲۷۹۰]
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کئے ہیں ‘ ان کے دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی حصہ اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے۔
ماہِ مبارک میں راہِ خدا میں جد و جہد، اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر مقابلے، لوگوں کی نفع رسانی کے لیے معرکے سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ باعث ِ اجر و ثواب ہیں؛ کیوں کہ رمضان المبارک میں جہاد فی سبیل اللہ باقی تمام مہینوں کے مقابلے سب سے زیادہ افضل ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو شانِ اسلام اور مسلمانوں کی فتح و نصرت کا باعث بنے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ سب سے افضل جہاد بہ وقتِ ضرورت میدانِ جنگ میں کی گئی کوشش ہے۔ تاہم مالی امداد بھی جہاد ہی کی ایک قسم ہے۔ ضرورت کے اعتبار سے زبان و قلم اور دیگر چیزیں بھی جہاد ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔ (الصف: ۱۰-۱۱)
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمھیں عذابِ الیم سے بچا دے؟ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہےاگر تم جانو!)
ہجرت کے دوسرے سال میں روزوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا اور آپﷺ کا وصال گیارہ (۱۱) ہجری میں ہوا۔ اس حساب سے پیارے نبی محمد مصطفیٰﷺ نے رمضان المبارک کے نو (۹) مرتبہ روزے رکھے۔ عہدِ نبویﷺ میں یہ ماہِ مبارک کبھی بھی سیر و تفریح کا مہینہ نہیں رہا، کبھی میں کھانے پینے کا مہینہ نہیں تھا، کبھی بھی راحت و آرام یا نیند پوری کرنے کا مہینہ نہیں تھا؛ بلکہ اس ماہ میں مختلف کاموں کی تکمیل کی جاتی اور عظیم سرگرمیاں انجام دی جاتیں، دور دراز علاقوں سے وفود آتےان کا استقبال کیا جاتا۔ اسی ماہ میں کئی جہاد ہوئے، بڑی بڑی فتوحات ہوئیں۔ اسی مہینے غزرہ بدر الکبریٰ پیش آیا جس نے حق اور باطل کے درمیان واضح طور پر فرق کر دیا اور اس دن کو ‘‘یوم الفرقان’’ کا نام دیا گیا۔ اسی ماہ میں فتحِ مکہ کا واقعہ بھی پیش آیا، اصنامِ عرب کو تہس نہس کیا گیا اس طور پر کہ پورے خطۂجزیرۃ العرب سے بت پرستی کا قلع قمع کر دیا گیا اور پورا عرب اسلام کی روشنی سے جگمگا اٹھا۔
اسی مہینے میں رسول اللہﷺ نے مختلف سریے روانہ فرمائے۔ جیسے: سریۂعمرو بن عدی الخطمی، عصماء بنت مروان الیہودی کے قتل کے لیے؛ کیوں کہ وہ مسلمانوں کو بڑی ایذائیں پہنچانے والی تھی۔سریۂ زید بن حارثہ، فاطمہ بنت ربیعہ کے قتل کے لیے؛ جو وادئ قریٰ میں تھی۔سریۂ عبداللہ بن عتیک، خیبر میں سلام بن ابو الحقیق کا قصہ پاک کرنے کے لیے ؛ کیوں کہ اس نے غزوۂ خندق کے موقع پر رسول اللہﷺ کے خلاف مہم سازی کی تھی۔
الغرض پوری اسلامی تاریخ اس طرح کے فیصلہ کن معرکوں سے بھری ہوئی ہے، جو ماہِ مبارک میں پیش آئے اور ان سب میں سب سے اہم معرکۂ جالوت ہے، جو اہلِ ایمان اور صلیبیوں کے درمیان پیش آیا۔ یہ معرکہ صلیبیوں کی طاقت توڑنے، سرزمینِ مسلم سے ان کی پسپائی اور ان کی کمک کو روکنے میں فیصلہ کن تھا۔
۱۳۹۳ھ میں فلسطینی مسلمانوں اور ناپاک یہودیوں کے درمیان دسویں رمضان کو ہونے والی جنگ فیصلہ کن تھی۔ اسی طرح ابھی گذشتہ برس پورے رمضان غاصبوں کے مقابلے میں فلسطینی شہزادے مورچے پر ڈٹے رہےکہ وہ نمایاں طور پر فیصلہ کن معرکہ ثابت ہوئے، جس کے اثرات سے پورے دنیا نے حمایت کی، ان جیالوں کی بدولت دنیا کی ہر قوم نے جہاد کا حقیقی مفہوم جانا، خود بھوکے رہے قیدیوں کو کھلایا، اپنی جان کی کوئی پروا نہ کی ان کی جانوں کو سب سے قیمتی ہیرا جانا۔
اس لیے جان لینا چاہیے کہ ماہِ مبارک مسلمانوں کے لیے ہر جگہ، ہر زمانے میں جہاد و عمل کا مہینہ رہا ہے۔ فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر، خیر و نیکی کی تعلیم، دعوتِ اسلامی کو پھیلانے کے کام، اٹل موقف اور شان دار بہادری کا مہینہ رہا ہے۔
اللہ سے دعا کہ یا الہ العالمین تو ہمیں سیدھے راستے پر چلا، تعلیمِ خیر اور نشر و اشاعتِ دعوت کے ساتھ قائم رکھ اور لوگوں کے لیے نافع بنا۔ آمین
No comments:
Post a Comment