محمد طارق بدایونی
یہ بات واضح ہے کہ ماہِ مبارک کے روزے رکھنا ہر اس انسان پر فرض ہیں جو مسلم ہو، مکلف ہو۔ جان بوجھ کر کوئی روزہ ترک کر دینا جائز نہیں ہے اِلّا یہ کہ وہ غیر مکلف یعنی بچہ، پاگل ہو یا پھر وہ لوگ جنھیں کتاب و سنت کی رو سے ان کی آسانی کے پیشِ نظر ترک کر دینے کا اختیار دیا گیا ہو۔ یہ اختیار صرف دفعِ مضرت کی خاطر ہے جیسے مسافر اور مریض کو اختیار دیا گیا ؛ لیکن اس کی قضا کرنی ہوگی۔
1. مسافر: اگر روزے دار کو سفر کرنا پڑے؛ لیکن وہ سفرِ معصیت نہ ہو، اس کی مسافت اتنی ہو کہ اسے فقہی اصطلاح میں مسافر بنا دے تو اسے رخصت دی گئی ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے لیکن مقیم ہونے کی حالت میں ایّامِ رمضان کے علاوہ میں ان چھوٹے ہوئے روزوں کو پورا کر لے۔ نیز یہ بھی جان لینا چاہیے کہ سفر میں روزہ رکھنا واقعی دشوار ہو تو چھوڑنا چاہیے اور اگر سفر آسان ہو، روزہ رکھنے میں کوئی دشواری نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں:
كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ۔ [صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب جواز الصوم و الفطر فی شھر رمضان .......، رقم الحدیث: ۲۶۱۸]
(ہم رمضان المبارک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ جہاد پر نکلتے تو ہم میں سے بعض روزے دار ہوتے اور بعض روزہ نہ رکھنے والے بھی، نہ صائم مفطر پر کسی طرح کا نقد کرتا اور نہ مفطر صائم پر، ان کا نظریہ تھا جو طاقت اور ہمت پا کر روزہ رکھ لے تو یہ بہتر ہے اور جو کمزوری محسوس کرکے روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔)
حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کی روایت میں ہے کہ:
أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنْ الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلَافٍ، وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ وَهُوَ مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ أَفْطَرَ وَأَفْطَرُوا۔ [صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح فی رمضان، رقم الحدیث: ۴۲۷۶]
(نبی کریمﷺ (فتح کے لیے) مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ (دس یا بارہ ہزار کا) لشکر تھا۔ اس وقت آپ کو مدینہ میں تشریف لائے ساڑھے آٹھ سال پورے ہونے والے تھے۔ چناں چہ نبی کریمﷺ اور آپ کے ساتھ جو مسلمان تھے، مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ نبی کریمﷺ بھی روزے سے تھے اور تمام مسلمان بھی؛ لیکن جب آپ مقام کدید پر پہنچے جو قدید اور عسفان کے درمیان ایک چشمہ ہے تو آپ نے روزہ توڑ دیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔)
2. وہ لوگ جنھیں روزہ رکھنا نہایت مشکل ہو یا پھر بڑے نقصان کا اندیشہ ہو۔ مثلاً: کوئی ایسی بیماری لاحق ہو کہ انسان روزہ رکھنے کے سبب صحت یابی کی امید کھو دے گا اور نہ رکھنے کی صورت میں اسے صحت یابی نصیب ہوگی ۔ اسی طرح کوئی حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت جسے اپنی جان کا خطرہ ہو یا پھر ایسا کوئی کام ہو جس میں تاخیر کی صورت میں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے اور اس کام کو روزہ رکھ کر انجام دینا ممکن نہ ہو تو اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھیں لیکن بعد میں قضا ضرور کر لیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔ (البقرۃ: ۱۸۵)
(ہاں جو کوئی بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ دوسرے دنوں میں چھوٹے ہوئے روزوں کی گنتی پوری کرلے۔)
لیکن اگر ایسی کوئی پریشانی نہیں ہے اور روزہ رکھنے کے سلسلے میں ایسی کوئی بڑی دشواری بھی نہیں ہے تو روزہ ترک کرنا، بہت بڑا گناہ، اس کی قضا اور بعض صورتوں میں ضمان بھی ہے۔
3. ایسا شخص جو روزہ رکھنے سے عاجز ہو۔ جیسے کوئی بہت ضعیف شخص، جو روزہ رکھنے کی طاقت جمع نہیں کر پاتا یا ایسا مریض، جسے دائمی مرض لاحق ہے اور صحت یابی کی کوئی امید نظر نہ آتی ہو تو ایسے لوگوں پر روزہ واجب نہیں ہے اور نہ کفارہ ہے؛ لیکن انھیں روزانہ ایک مسکین کو اس رخصت کے عوض پیٹ بھرکھانا کھلانا ضروری ہوگا؛ گویا یہی اس کا کفارہ ہے۔ اصطلاح میں اسے فدیہ (بدل) کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ۔ (البقرۃ: ۱۸۴)
(اور جو لوگ ایسے ہوں کہ ان کے لیے روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہو تو اس کے لیے روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دینا ہے۔)
اسی طرح اگر کوئی شخص لا علاج بیماری میں سفر کرتا ہے اور اس کی صحت یابی کی کوئی امید بھی نہیں ہے تو وہ روزہ نہ رکھے، ایسے شخص پر قضا نہیں ہے؛ کیوں کہ وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہے۔ نہ اس پر فدیہ ہے؛ کیوں کہ اس نے خاص عذر یعنی سفرِ شرعی کی وجہ سے روزہ ترک کیا ہے؛ تاہم اس کا بدل (فدیہ) احتیاطاً ادا کرتا ہے تو وہ کارِ ثواب ہے۔
4. مصلحتاً دوسرے کے لیے فائدے کے لیے روزہ چھوڑ دینا۔ جیسے: حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو اپنے بچہ کے لیے خدشہ ہو اور غالب گمان ہو کہ بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا روزے کے اثرات کا ڈر ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے؛ لیکن حاملہ کو بچے کی پیدائش کے بعد اور دودھ پلانے والی کو عام دنوں میں ان روزوں کی قضا کرنے ہوگی؛ البتہ کفارہ نہیں ہوگا۔
فوجی، مجاہد حالتِ جنگ میں روزہ چھوڑ سکتا ہے؛ لیکن قضا لازم ہوگی، البتہ کفارہ ادا نہیں کرنا ہوگا۔ علما نے اس کی اجازت دی ہے؛ تاہم اگر جنگ نہیں ہےیا کوئی پولیس اہلکار، جو شہری دفاع میں لگا ہوا ہے اگر روزہ یہ سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے کہ اسے روزہ نہ رکھنے کی ضرورت ہے؛ کیوں کہ وہ کو لوگوں کے لیے امن و امان کے قیام میں لگا ہوا ہے تو اس پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہوں گے۔
آخر میں یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ جو بھی رخصت دی جاتی ہے وہ غالب گمان کی صورت میں ہے۔ مثلاً اگر مرضعہ کو اپنی جان یا بچہ کی جان کے خوف پر بس تردد ہے، غالب گمان نہیں ہے تو اس کا روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہوگا۔
نیز کچھ چیزیں یہ بھی جان لیجیے:
اگر کسی کو شدید قسم کی بھوک پیاس لگے اور نہ کھانے پینے سے ہلاکت یا عقل کے زائل ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں روزہ توڑنا جائز ہوگا، بعد میں قضا لازم ہوگی؛ البتہ کفارہ نہیں ہوگا۔
سانپ یا کوئی زہریلا جانور وغیر کاٹ لے اس سے روزے دار کی جان یا کسی عضو کی ہلاکت یا عقل کے جانے نقصان ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔ اس صورت میں کفارہ نہیں ہوگا؛ لیکن قضا واجب ہوگی۔
اگر کوئی ؛ مثلا شرپسند لوگ پکڑ لیں، زبردستی کھانے پینے پر مجبور کریں اور نہ کھانے کی صورت میں قتل یا جسم کے کسی حصّے کے تلف ہو جانے یا ان کے بہت زیادہ پٹائی کرنے کا اندیشہ ہو تو بھی روزہ توڑ دینا جائز ہے۔
No comments:
Post a Comment