روزہ، رمضان اور قرآن مجید کا باہمی ربط و تعلق
محمد قمر الزماں ندوی
استاد / مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
یہ حقیقت ہے کہ ماہ رمضان کی اہمیت و فضیلت کے بے شمار اور انگنت پہلو ہیں، لیکن اس ماہ مقدس کی سب سے اہم خصوصیت قرآن مجید سے اس کی نسبت خاص ہے ،جس کی بناء پر اس مہینہ کو قرآنی مہینہ کہا جاتا ہے ۔ روزہ، رمضان اور قرآن مجید باہم لازم و ملزوم ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے مضبوط اور گہرا تعلق ہے ۔ کسی کو کسی سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔قران مجید نے خود صراحت کر دیا ہے کہ شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ،، کہ رمضان المبارک کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا ۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
تاریخ کے مطالعے سے یہ بات سامنے اتی ہے اور یہ حقیقت واضح اور واشگاف ہوتی ہے کہ الہامی ہدایت اور قرآنی صحیفوں (کتابوں) اور روزہ کا باہم بڑا گہرا ربط اور قریبی تعلق ہے ،اللہ تعالٰی نے بنی نوع انسان (انسانیت) کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جو صحیفے اور ہدایت (نامہ)وقتا فوقتا نازل فرمائی ہے ،اسے کسی نہ کسی پہلو سے روزے سے خصوصی تعلق اور نسبت حاصل رہی ہے ۔
حضرت موسٰی علیہ السلام نے *کوہ طور* پر جو ایام گزارے اور جن میں ان کو تورات سے نوازا گیا،ان دنوں آپ علیہ السلام روزے سے تھے ،اس کی پیروی میں یہود چالیس دن روزہ رکھنا اچھا خیال کرتے ہیں، اور چالیسویں کا روزہ ان پر فرض ہے ۔( مستفاد از ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۹۸ء)
حضرت عیسٰی علیہ السلام نے بھی نزول انجیل کے زمانے میں جب کہ وہ چالیس دن صحرا و بیاباں یعنی جنگل میں تھے ،روزہ رکھا ۔ (دیکھئے حوالئہ سابق)
ابتدائے نزول قرآن اور سیرت محمدی کا بھی روزہ سے گہرا رشتہ اور نسبت و تعلق ہے ،آئیے اس حوالے سے بھی ہم روزہ اور رمضان کی اہمیت و فضیلت کو اس ماہ مقدس میں سمجھتے ہیں ۔
اس تاریخ کا سب سے واضح باب ہمیں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتا ہے ۔ آغاز نزول قرآن سے قبل کے ایام آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ سے زیادہ غار حرا کے اندر تنہائیوں میں عبادت الہی، تحنف و مراقبہ یاد خدا اور ذکر و فکر میں گزارتے ۔ آپ اعتکاف فرماتے، جس کا ایک جزء روزہ بھی تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم روزہ اور ذکر و فکر کے اسی عالم میں تھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر آئے اور انسانی تاریخ میں قرآن کے مبارک اور مسعود دور کا آغاز ہوا ۔
ان تینوں جلیل القدر انبیاء کی زندگی ،شب و روز اور ان کی سیرت کے اس پہلو پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول ہدایت ربانی اور روزے اور اعتکاف میں باہم بڑا گہرا ربط اور مضبوط تعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روزہ اور اعتکاف حامل قرآن بننے کا بڑا موثر ذریعہ ہے، ذرا اس حقیقت پر نظر رکھئے کہ *نبی* اللہ تعالی کی خاطر دنیا سے کٹتا ہے اور صرف اپنے مالک اور آقا سے لو لگاتا ہے ،دنیا سے کٹنا اور آقا و مولیٰ سے لو لگانا ہی اعتکاف ہے ،اور جسم وروح کی تربیت و طہارت کے لئے کچھ خاص حدود کے اندر غذا اور نفس کی دوسری لذتوں سے الگ اور کنارہ کش ہوتا ہے اور یہی روزہ ہے ۔ اس طرح وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے، کہ اسے امانت الہی کے اٹھانے کے لائق سمجھا جاتا ہے، اور الہامی ہدایت اس پر نازل کی جاتی ہے، پھر وہ اس ہدایت کو لیکر انسانیت کی طرف لوٹتا ہے اور انسانیت کی نئی تشکیل کرنے اور معاشرہ کی اصلاح میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ اگر دل کی نگاہ سے دیکھا جائے، تو رمضان المبارک ہر سال امت کو انسانی تاریخ کے اسی انقلاب آفرین لمحے اور مبارک و ہمایوں ساعات کی یاد تازہ کراتا ہے، اور ہر سال اس رشتہ کو استوار کرنے کا وظیفہ انجام دیتا ہے ۔
تیس دن کے روزے انسان کے اندر وہ روحانی بالیدگی، للہیت ،اسپرٹ، تقویٰ و طہارت اور خلوص و صداقت اور صبر و استقامت پیدا کرتے ہیں، جن کے بغیر انسان حامل قرآن نہیں بن سکتا، آخری عشرے کا اعتکاف ،آغاز نزول قرآن کے وقت اعتکاف نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی یاد تازہ کراتا ہے ،جبکہ پورے رمضان، تراویح میں قرآن مجید کی تلاوت اور دوسرے لمحات میں بھی قرآن کریم سے شغف و تعلق، امت کے اصل مشن اور اس کی حقیقی امانت داری کے احساس کو بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔
(مستفاد ، ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۹۸ء)
ماہ رمضان در اصل قرآن کا مہینہ ہے اور اس کی یہی صفت ہے جسے خود زمین و آسمان کے مالک اور اس کتاب کے نازل کرنے والے نے نمایاں فرمایا ہے۔
چنانچہ قرآن مجید کی سورہ نمبر ۲ میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو رمضان کے مہینے میں اتارا ۔ *شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن* الخ
رمضان کا مہینہ وہ جس میں قرآن نازل کیا گیا ۔
اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ قرآن میں اور رمضان کے مہینے میں خصوصی مناسبت اور تعلق ہے ،اس مہینے میں پورے مہینے روزہ رکھا جاتا ہے ،ذکر و عبادت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ،ایسے پاکیزہ ماحول میں قرآن کی تلاوت، تراویح میں قرآن کو سننا ۔ یہ چیزیں لوگوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن سے قریب ہوں اور قرآن کے پیغام اور احکام کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں، کیونکہ اسی ہدایت نامہ پر عمل کرکے وہ دین و دنیا کی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور اس ہدایت نامہ پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے تو دونوں جہان میں ناکام و نامراد ہو جائیں گے۔ علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا کہ
وہ زمانہ میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
غرض رمضان کا یہ مقدس مہینہ تاریخی اعتبار سے قرآن کے نزول کا مہینہ ہے اور تربیت کے اعتبار سے قرآن کو اپنے دل و دماغ میں اتارنے کا مہینہ ہے ۔
یہاں ایک اور پہلو سے گفتگو مناسب معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ *قرآن مجید* سے استفادہ کی بنیادی شرط کیا ہے ؟جب ہم اس پہلو سے غور و فکر کرتے ہیں تو قرآن اور روزے کے تعلق اور ربط پر مزید روشنی پڑتی ہے ۔قرآن نے اپنے سے استفادہ کی شرط اور پہلی شرط تقویٰ کو قرار دیا ہے ۔ *ھدی للمتقین* میں اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قرآن کے فہم اور اس کی برکات و فیوض کا دروازہ جس قفل اور کنجی سے کھلتا ہے ،وہ صفت تقویٰ ہے اور جن چیزوں کو حصول تقویٰ کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ،ان میں سر فہرست ۰۰ روزہ ۰۰ ہے ،روزے کی اولین حکمت یہی بیان کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ اہل ایمان متقی اور پرہیز گار بن سکیں ۔ یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ۔
اس بات کو ذرا دوسرے طریقے پر ادا کیا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن تک رسائی کے بھی چند آداب ہیں، اور ان میں دو چیزیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں ۔ ایک جسمانی اور دوسری اخلاقی اور روحانی۔ ہم قرآن اس وقت تک چھو بھی نہیں سکتے جب تک ہم جسمانی طور پر پاک نہ ہوں ،لا یمسه الا المطھرون ، (الواقعہ) جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا ، اور اس پاکی کے معنی یہ ہیں کہ نجاست کی حالت نہ ہو اور وضو یا غسل کے ذریعہ طہارت جسمانی حاصل ہو ۔ اگر جسمانی طہارت کے بغیر قرآن کو ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا تو قرآن کی روح،اس کے پیغام،اس کے احکام کے فہم اور اس کے فیوض و برکات سے اس وقت تک استفادہ ممکن نہیں، جب تک روح،تقویٰ یعنی خوف خدا کی کیفیت سے آشنا نہ ہو ۔ جس طرح وضو اور غسل جسمانی طہارت کا سامان فراہم کرتے ہیں اسی طرح روزہ روح اور اخلاق کی نعمت سے مالا مال کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ باب القرآن ہے اور رمضان شھر القران ہے ۔
روزہ ،رمضان اور قرآن کا باہم گہرا ربط، خصوصی مناسبت اور مضبوط تعلق ہے ۔
علماء نے لکھا ہے کہ رمضان المبارک کی فضیلت کے دو بڑے اسباب ہیں، ایک تو یہ کہ یہ ماہ صیام ہے، اس ماہ میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو روزہ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ روزہ ان پر فرض ہے، جو کوئی سفر یا مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے وہ دوسرے دنوں میں رکھے اور جو جان بوجھ کر روزہ توڑ دے، وہ کفارے کے طور پر ساٹھ روزے اور اگر اس کی سکت نہ ہو تو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلائے۔
رمضان المبارک کی فضیلت کی دوسری وجہ اور سبب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے، اسی مبارک مہینہ میں قرآن مجید نازل ہوا۔ یعنی انسانی زندگی کے لیے کامل الہی دستور اور انسانی عمل کے لیے ربانی منشور اسی مہینہ میں عطا کیا گیا، صرف قرآن ہی نہیں بلکہ تمام تر صحیفے اسی ماہ مقدس میں نازل ہوئے۔۔
حدیث میں آتا ہے روزہ اور قرآن دونوں قیامت کے دن مومن بندہ کی سفارش کریں گے۔ روزہ اللہ کی بندگی ہے اور قرآن کی تلاوت اللہ سے شرف ہم کلامی ہے، جو مومن اللہ کی بندگی اور اس سے ہم کلامی کا شرف حاصل کررہا ہو اللہ تعالیٰ کے یہاں ضرور اس کی سفارش ہونی چاہیے۔
رمضان شریف صرف نزول قرآن کا مہینہ نہیں ہے ،بلکہ اس کی حفاظت و اشاعت کا بھی مہینہ ہے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خصوصی قرآن کے دور کے لیے تشریف لاتے تھے، آخری سال تو دو دور کیا۔ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے اور حفاظ کرام کو حفاظت کا ذریعہ اور آلہ بنایا ہے، قرآن پاک کی حفاظت کا ایک بڑا ذریعہ رمضان المبارک اور تراویح اور قیام لیل یعنی تہجد میں اس کی تلاوت ہے، جہاں اس مہینہ ہر طرف تلاوت کا ماحول ہوتا ہے۔۔ (مستفاد از خطبات جمعہ از سعود عالم قاسمی)
مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح اپنی معروف و مقبول کتاب ۰۰ارکان اربعہ۰۰ میں روزہ، رمضان اور قرآن کے اس خصوصی ربط و تعلق اور مناسبت خاص کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں :
*اللہ تعالی نے روزے رمضان میں فرض کئے ہیں، اور دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں برکتوں اور سعادتوں کا اجتماع بڑی حکمت اور اہمیت کا حامل ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن مجید نازل ہوا،اور گم کردہ راہ انسانیت کو ۰۰ صبح صادق۰۰ نصیب ہوئی ،اس لئے یہ عین مناسب تھا کہ جس طرح طلوع صبح صادق روزہ کے آغاز کے ساتھ مربوط کر دی گئی ہے، اسی طرح اس مہینہ کو بھی جس میں طویل اور تاریک رات کے بعد پوری انسانیت کی صبح ہوئی ،پورے مہینہ کے روزے کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے ،خاص طور پر اس وقت جب کہ اپنی رحمت و برکت، روحانیت اور نسبت باطنی کے لحاظ سے بھی یہ مہینہ تمام مہینوں سے افضل تھا،اور بجا طور پر اس کا مستحق تھا کہ اس کے دنوں کو روزوں سے اور رات کو عبادت سے آراستہ کیا جائے، روزہ اور قرآن کے درمیان بہت گہرا تعلق اور مناسبت ہے، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تلاوت کا زیادہ سے زیادہ اہتمام فرماتے تھے ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے، لیکن رمضان میں جبرئیل علیہ السلام آپ سے ملنے آتے اس زمانہ میں سخاوت کا معمول اور بڑھ جاتا ،رمضان کی ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرئیل آتے اور قرآن مجید کا دور کرتے* ( متفق علیہ)
غرض ان تفصیلات کا حاصل اور خلاصہ و لب لباب یہ نکلا کہ ہم رمضان کے روزوں کو صرف عبادت اور تقویٰ کی تربیت ہی قرار نہ دیں ،بلکہ اس عظیم الشان نعمت ہدایت پر بھی خدائے واحد کا شکر ادا کریں، جو قران کی شکل میں اس ہستی نے عطا فرمائی ہے، واقعہ یہ ہے کہ ایک عقلمند انسان کے لئے کسی نعمت کی شکر گزاری اور کسی احسان کے اعتراف کی بہترین صورت اگر ہوسکتی ہے تو صرف یہی کہ وہ اپنے آپ کو اس مقصد کی تکمیل کے لئے زیادہ تیار کرے،جس کے لئے عطا کرنے والے نے وہ نعمت عطا کی ہو۔ ہم کو قرآن اس لئے دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور مرضی کا راستہ جان کر خود اس پر چلیں اور دنیا کو اس پر چلائیں ۔ اس مقصد کے لئے ہم کو تیار کرنے کا بہترین ذریعہ روزہ ہے ،لہذا نزول قرآن کے اس مہینہ میں ہماری ذمہ داری صرف عبادت اور صرف اخلاقی تربیت ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ خود اس نعمت قرآن کی بھی صحیح اور موزوں شکر گزاری ہے ۔
اسی تاریخی حقیقت کو *و لتکبروا اللہ علی ما ھداکم* میں واضح کیا گیا ہے اور روزے کا ابدی مقصد قرار دیا گیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہذا ضروت ہے کہ ہم قرآن مجید کو ریشم کے غلافوں سے نکالیں، اس کی تلاوت کریں ،اس میں غور و فکر اور تدبر کریں ،اس کے حیات آفریں پیغام کو سمجھیں اور عام کریں ،اس کی روشنی میں سفر حیات طے کریں ،اس کے لائے ہوئے اصول اخلاق ،اس کی دی ہوئ معاشرتی اقدار ،اس کے وضع کردہ سیاسی قوانین، اس کے عطا کردہ اقتصادی و معاشی تصورات اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں اور زندگی کا پورا نظام اور اصول و ضوابط اس کی ہدایت کے مطابق منظم و مرتب کریں ۔
قرن اول اور خیر القرون کے مسلمانوں اور ہمارے اسلاف نے اپنی زندگیوں اور شب و روز کے معمولات میں قران مجید کو حکمرانی کا یہی مقام دیا تھا اور اسی کے نتیجہ میں وہ دنیا کے حکمراں بنے تھے ۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
آج بھی رمضان اور اس کے روزے اور اس کی عبادتیں اور تلاوت و تسبیحات جس امر کی یاد دہانی کراتی ہیں، وہ یہی ہے کہ کیا ہم قرآن مجید کو اس کا اصل اور صحیح مقام دینے کو تیار ہیں؟ ہر ہر فرد بھی ،ملت اسلامیہ اور پوری انسانیت بھی کیا اس کے لئے تیار ہے ؟
ماہ نزول قرآن اور رمضان المبارک کے پاکیزہ اور متبرک مہینے گزارتے وقت یہی وہ کانٹے کی بات ہے جسے ہر مسلمان کو اپنے دل سے اور امت مسلمہ کو اپنے اجتماعی ضمیر سے پوچھنا چاہیے، اور اپنا محاسبہ کرنا چاہیے، کیونکہ ہمارے مستقبل کا دار و مدار اور انحصار اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اسی سوال کے صحیح جواب پر ہے ۔
مشہور محدث امام دار الھجرہ حضرت امام مالک رح نے کیا پتے کی بات کہی ہے کہ اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی سے ہوسکتی ہے، جس سے اس کے اول کی اصلاح ہوئی تھی ۔ یعنی قرآن!
و ھذا کتاب انزلناہ مبارک فاتبعوہ و اتقوا لعلکم ترحمون،
اور یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ،ایک برکت والی کتاب ۔ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔
ایک آخری اور ضروری بات جس کی طرف اشارہ اور جس کی وضاحت ضروری ہے کہ قرآن کریم سے ہدایت اسی وقت مل سکتی ہے جب کے تلاوت کیساتھ اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے، اس میں غور و فکر کیا جائے اور پھر اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے، دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جسے سمجھ کر نہ پڑھا جاتا ہو یہ صرف کتاب اللہ کا معاملہ ہے کہ اکثر لوگ اسے سمجھ کر نہیں پڑھتے۔ اگر ہم کوئی خط اور تحریر نہیں سمجھتے تو دوسروں کے پاس اس کو سمجھنے کے لیے جاتے ہیں ،اہل علم سے رجوع کرتے ہیں۔ مگر اللہ کا ہدایت نامہ اور گرامی نامہ اسے نہ تو ہم خود سمجھتے ہیں اور نہ علماء سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو اس کی زبان جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں کفار کے لیے کہا گیا ہے افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوبھم اقفالھا۔ کیا وہ لوگ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے، کیا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔ ؟
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن پاک کا سمجھنا اور اس میں تدبر کرنا صرف علماء کا کام ہے عوام اس کے مکلف نہیں ہیں، یہ بہت بڑا دھوکا ہے، قرآن مجید کا سینکڑوں زبان میں ترجمہ عوام اور غیر عربی داں لوگوں کے لیے ہی تو کیا گیا ہے، تاکہ وہ اس کے معنی اور پیغام کو سمجھیں ہاں یہ ضروری ہے کہ علماء اور اہل علم کی نگرانی میں سمجھیں اور پڑھیں اپنی طرف سے رائے اور قیاس نہ قائم کرنے لگیں اور صرف ترجمہ پڑھ کر مفسر نہ بننے لگیں ۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی بھرپور توفیق عطا فرمائے آمین
نوٹ۔ مختلف کتابوں کے مطالعہ کے بعد آج کا یہ خطاب جمعہ تیار کیا گیا ہے، اسے ایک امانت سمجھ کر ائمہ اور خطباء کی خدمت میں پوسٹ کریں تاکہ وہ اس کی روشنی میں قرآن کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں ۔
No comments:
Post a Comment