Translate

Thursday, March 6, 2025

روزوں کی فضیلت محمد طارق بدایونی

روزوں کی فضیلت
محمد طارق بدایونی

 روزہ چاہے فرض ہو یا نفلی؛ بہرحال دنیوی و اخروی اعتبار سے اس کی بہت سی خصوصیات ہیں اور بہت سی فضیلتیں ہیں۔ ذیل میں کچھ چیزیں ذکر کی جا رہی ہیں:
اوّل: روزے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خاص کیا ہے اور اس کی جزا دوسری عبادات سے بڑھا دی گئی ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:
 عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة عشر امثالها إلى سبعمائة ضعف، قال الله عز وجل: إلا الصوم فإنه لي، وانا اجزي به، يدع شهوته وطعامه من اجلي۔
(حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل بڑھا دیا جاتا ہے۔ نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے۔ وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔)
بے شک تمام اعمال کا ثواب دس گنا سے سات سو گناہ تک بڑھا دیا جاتا ہے؛ لیکن یہ تعداد صرف یہیں تک محدود نہیں ہے، یہاں کثرت مراد ہے، اللہ تعالیٰ تو وہ ہے جو بلا کسی عدد اور انحصار کے عطا کرتا ہے اور جہاں تک روزے کا سوال ہے، وہ تو صبر سے متعلق ہے؛ بلکہ روزہ خود ہی نصف صبر ہے اور کسی بھی عبادت میں صبر کا اظہار اس طرح نہیں ہوتا جس طرح کے روزے میں صبر کا اظہار اور امتحان ہوتا ہے؛ کیوں کہ روزے کی حالت میں انسان بھوکا پیاسا رہ کر شہوات و لذات نفس کی قربانی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ۔ (الزمر: ۱۰)
(صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بےحد و حساب ملتا ہے)
حضرت سفیان بن عیینہؒ نے مذکورہ حدیث کی تشریح میں کہا ہے: 
”ھذا من أجود الأحادیث و أحکمھا، إذا کان یوم القیامۃ: یحاسب اللہ عبدہ، و یؤدی ما علیہ من المظالم من سائر عملہ، حتی لا یبقی إلا الصیام، فیتحمل اللہ-عزّ وجلّ- ما بقی علیہ من المظالم، و یدخلہ بالصوم الجنۃ“۔
پتہ یہ چلا کہ روزے دار کا ثواب مالکِ حقیقی اللہ عزّ وجلّ کے پاس موجود ہے، محفوظ ہے۔ اس کی جزا سوائے اللہ رب العالمین کے کوئی نہیں جانتا، وہ اس کی مرضی جتنا چاہے دے نیز یہ کہ روزے کی تکمیل اور اس کے اکمال کے بعد اس کے کم کرنے کی کوئی صورت نہیں، کوئی راہ نہیں۔
  تو اے لوگو! روزہ کتنی عمدہ عبادت ہے اور اس کا مقصد بلندی اور تقویٰ ہے۔

دوم: روزہ دنیا و آخرت میں آدمی کے لیے سعادت ہے۔ دنیا میں اس کے خوب صورت، پاکیزہ نتائج ہیں جن کا ظہور اس طرح ہوتا ہے کہ روزے دار کو وقتِ افطار خوشی ہوتی ہے:
1. اس وجہ سے خوش ہوتا ہے کہ با توفیقِ الٰہی اس نے اس دن کا روزہ مکمل کر لیا، اللہ نے اسے اس کی قوت دی اور اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمایا۔
2. اس وجہ سے بھی خوش ہوتا ہے کہ اب تک جو طیبات اس پر حرام تھیں سب حلال کر دی گئی ہیں۔
اور آخرت کے اعتبار سے اس کے لیے سعادت یہ ہے کہ وہ جب اس کی ملاقات اس کے رب سے ہوگی تو وہ اپنے اسی روزے کی وجہ سے خوش ہوگا؛ کیوں کہ اس کا ثواب اس کے رب کی طرف سے ملے گا جو یوم قیامت اس کے رب اور اس کے درمیان مخصوص ہے۔ پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا ارشاد ہے کہ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک وقتِ افطار دوسرے اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ (للصائم فرحتان: فرحۃ عند فطرہ، و فرحۃ عند لقاء ربّہ)

سوم: جو نوجوان شادی کرنے سے قاصر ہوں یا جن کی شادی ابھی تک کسی وجہ سے نہیں ہو پائی ہے، عمر نکلتی جا رہی ہے، ان کی جنسی خواہشات کو دبانے، کمزور کرنے میں یہی روزہ معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خواہشات اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر طبعی طور پر رکھی ہیں اور افزائشِ نسل کے لیے ضروری بھی ہیں۔ 
 چناں چہ ایک موقع پر نبی اکرمﷺ نے نوجوانوں کو شادی کا شوق دلایا، انھیں اس کی تلقین فرمائی، اس کی فضیلت بتاتے ہوئے دینی و دنیاوی فوائد بتلائے کہ یہ بد نظری سے بچاؤ اور شرم گاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور جو نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے روزے رکھنا چاہیے؛ کیوں کہ روزے جنسی خواہش کو توڑ دیتے ہیں، شہوت کو کچل دیتے ہیں، نئی عمر کے بھڑکتے شعلوں کو بجھا دیتے ہیں۔ 
اس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کہ دینی و مذہبی حصار کمزور پڑنے لگے، بے حیائی و اختلاطِ مرد و زن عام ہو جائے، نت نئے فتنے اور اس کے اسباب ظاہر ہونے لگیں اور فساد کی راہیں آسان ہو جائیں اور آج ہمارے معاشرے کا حال بالکل یہی ہے۔ ہم اسلامی معاشرے کے نام پر کلنک بن کر رہ گئے ہیں، بے حیائی عام بات اور فیشن بن گئی ہے، فساد کی تمام راہیں آسان بنا دی گئی ہیں جب کہ نکاح کو نہایت مشکل امر۔ ارشادِ نبویﷺ ہے:’’يا معشر الشباب! عليكم بالباءة، فإنه اغض للبصر، واحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فإنه له وجاء‘‘۔
اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیوں کہ یہ نظر کو نیچی اور شرم گاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور جو نہ کر سکتا ہو(یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو) تو وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے؛ کیوں کہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصّی بنا دینے کے ہے۔

چہارم: روزہ گناہوں کا کفارہ اوران سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔ بندے کو آگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈھال اور جنت میں پہنچانے کا سبب ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: 
فتنة الرجل في اهله وماله وولده وجاره، تكفرها الصلاة والصوم والصدقة۔
انسان کے اہلِ خانہ، مال و اولاد اور پڑوسی سب فتنہ ہیں اور نماز، روزہ، صدقہ... ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔ 
ایک جگہ نبی اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من صام يوما في سبيل اللّٰه، باعد الله بذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا۔
جس نے جہاد کے سفر میں ایک روز بھی روزہ رکھا تو اللہ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا۔
مزید ایک موقع یہ ارشاد فرمایا کہ یوم قیامت قرآن مجید اور روزہ بندے کی شفاعت کرائے گا:
الصيام والقرآن يشفعان للعبد يقول الصيام: اي رب إني منعته الطعام والشهوات بالنهار فشفعني فيه ويقول القرآن: منعته النوم بالليل فشفعني فيه فيشفعان. 
روزہ اور قرآن بندے کے لیے سفارش کریں گے، روزہ عرض کرے گا، رب جی! میں نے دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے اسے روکے رکھا، اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما اور قرآن عرض کرے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا، اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما، ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔
نیز ایک بار رسول اللہﷺ نے اس دروازے کا ذکر فرمایا جس سے صرف روزے دار جنّت میں داخل ہو سکیں گے:
إن في الجنة بابا، يقال له: الريان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة، لا يدخل منه احد غيرهم، يقال: اين الصائمون؟ فيقومون، لا يدخل منه احد غيرهم، فإذا دخلوا اغلق، فلم يدخل منه احد۔
جنت میں ایک دروازہ ہے، جسے ریان کہتے ہیں۔ قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزے دار ہی جنّت میں داخل ہوں گے۔ ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہوگا۔ پکارا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی اندر نہیں جا پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا۔
یہ کچھ فضائل اور خصوصیات تھیں، اس کے علاوہ بھی احادیث مبارکہ میں بہت سی خصوصیات اور فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ آپ مزید خصوصیات اور فضائل جاننے کا شوق رکھتے ہیں تو اپنے قریبی کسی عالم سے رابطہ کیجیے۔ یا اس تعلق سے بہت سی کتابیں دست یاب ہیں ان کا مطالعہ کیجیے۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...