Translate

Thursday, March 20, 2025

آخری عشرہ محمد طارق بدایونی

آخری عشرہ
محمد طارق بدایونی

 جس طرح ماہِ رمضان المبارک دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتا ہے اسی طرح اس مہینے کا آخری عشرہ کی گذشتہ عشروں کے مقابلے میں زیادہ فضیلت والا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہﷺ اس عشرے میں خصوصی اعمال میں اضافہ فرما دیتے اور اپنے آپ کو تمام دنیوی کاموں سے الگ کر کے بالکل فارغ فرما لیتے، خود کو قیام اللیل، تہجد و دیگر نوافل، ذکرِ الٰہی اور دعا و مناجات میں لگ جاتے تھے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: 
كان النّبيﷺ إذا دخلت العشر أحيا الليل، وشد المئزر، وأيقظ أهله۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی فضل العشر الأواخر من شھر رمضان، رقم الحدیث: ۱۷۶۸)".
(جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرمﷺ رات کو جاگتے اور کمر کس لیتے، اور اپنے گھر والوں کو جگاتے۔)
وضاحت: عبادت کے لیے کمر کس لینے یا عورتوں سے بچنے اور دور رہنے سے کنایہ ہے۔

اور ایک روایت میں ہے:
انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ، أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ۔ (صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، باب الاجتھاد فی العشر الاواخر من شھر رمضان، رقم الحدیث: ۲۷۸۷)
(جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے، گھر والوں کو جگاتے اور خوب کوشش کرتے اور کمر ہمت کس لیتے۔)

حضرت عائشہؓ سے ایک اور روایت مروی ہے:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ۔ (صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، باب الاجتھاد فی العشر الاواخر من شھر رمضان، رقم الحدیث: ۲۷۸۸)
(رسول اللہﷺ رمضان کے آخری دس (10) دنوں میں اس قدر جدوجہد اور سعی و کوشش کرتے کہ باقی دنوں میں اس قدر محنت اور کوشش نہ کرتے۔)

 رمضان المبارک کی کے آخری عشرے کی بہت سے خصوصیات ہیں جو کسی دوسرے دنوں کو حاصل نہیں۔ یہ جہنم سے خلاصی کا عشرہ ہے ۔ رسول اللہ ایسے مخصوص اعمال اس دنوں میں انجام دیتے جو دوسرے مہینوں میں آپ نہیں کیا کرتے تھے۔

اعتکاف:
انھی اعمال میں سے ایک اعتکاف ہے۔ آپﷺ آخری دس یوم مسجد (اعتکاف) میں گزارتے، آپ کا کھانا پینا سب مسجد ہی کے اندر ہوتا۔ مسجد کو ایسے لازم پکڑ لیتے کہ خارجی تعلقات ختم کر دیتے اور اپنے دنوں کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے خالص فرما لیتے۔ یہ عمل رسول اللہﷺ اپنے وصال تک ہر سال کرتے تھے کہ آپ اپنے رب کے ساتھ تنہا ہوتے، خود کو طاعتِ رب اور اس کے ذکر اور اس سے دعا و مناجات میں مقید کر لیتے۔

شب بیداری:
رمضان کی راتوں کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار فرماتے۔ حضرت علی سے مروی ایک روایت میں ہے:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَكُلَّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ يُطِيقُ الصَّلَاةَ۔ (المعجم الاوسط، جلد: ۷، ص: ۲۵۳، رقم الحدیث: ۷۴۲۵)
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ مجھے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی آمد سب سے زیادہ پسند ہے۔ میں راتوں کو تہجد و نوافل ادا کرتا ہوں، اہل و عیال کو نماز کے لیے جگاتا ہوں ، اگر وہ اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔
بلاشبہ رمضان المبارک میں مومنین کے لیے دو معرکے سر کرنا ہوتے ہیں: ایک کہ وہ دن میں روزہ رکھ کر اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ راتوں کو قیام و دعا کے لیے مجاہدہ کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے لیے دو طرح کی جد و جہد، مورچوں کا سامنا ہوتا ہے اور یہ کیا ہی خوب کوشش ہے!! اگر وہ ان دونوں کے حقوق ادا کرنے میں کامیاب ہو گئے، صبر و ثبات سے کام لیا تو اس کا اجر و ثواب بے حد و حساب ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان مبارک راتوں کو غنیمت جانے، ان میں قیام کرے، نوافل ادا کرے، دعا و مناجات کرے، مصحف کی تلاوت کرے؛ کیوں کہ خاص کر رمضان المبارک میں اور خاص کر اس کے آخری عشرے میں یہی رسول اللہ کا معمول تھا، یہی صحابہ کا معمول تھا اور یہی سلف صالحین کی عادت رہی ہے۔ 

لیلۃ القدر:
انھیں ایّام میں شبِ قدر بھی ہے، جس کا تلاش کرنا آخری عشرہ کی طاق راتوں میں مستحب ہے۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:
تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ (صحیح البخاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر، رقم الحدیث: ۲۰۱۷)
(رسول اللہﷺنے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔)

ایک دوسری روایت میں ہے:
الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، فِي سَابِعَةٍ تَبْقَى، فِي خَامِسَةٍ تَبْقَى۔ (صحیح البخاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر، رقم الحدیث: ۲۰۲۱) 
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو، جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔یعنی اکیسوئیں یا تئیسوئیں یا پچیسوئیں راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو۔)

 اور آخری سات راتیں بڑی اہم ہیں اور ان میں سے بھی ستائیسویں (۲۷) شب کو زیادہ امید کی جاتی ہے کہ شبِ قدر ہو۔ ان راتوں میں مستحب یہ ہے کہ کثرت سے دعائیں کی جائیں اور خاص کر اس دعا کو جو نبی اللہﷺ نے حضرت عائشہ کو سکھائی تھی؛ جب کہ انھوں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ اللہ کے رسولﷺ اگر مجھے شبِ قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟، اس کا ورد کیا جائے:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔ (دیکھیے: سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء، باب الدعا بالعفو و العافیۃ، رقم الحدیث: ۳۸۵۰)
(اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے۔)

صدقۃ الفطر:
ان دنوں میں صدقۃ الفطر بھی ہے۔ یہ اس شخص کو دیا جاتا ہے جو صاحبِ استطاعت نہ ہو، یہ واجب ہے اور ضروری ہے کہ نمازِ عید سے قبل ادا کر دیا جائے، انھیں دنوں میں بہت سے مسلمان زکوٰۃ اپنے مال پر زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ صاحبِ حیثیت کو چاہیے کہ وہ اپنے عزیز و اقارب کا خیال رکھے، ان پر نفقات کر بڑھا دینا چاہیے، فقراء و مساکین کو صدقے دینا چاہیے، بیواؤں اور یتیموں کی امداد کرنی چاہیے؛ تاکہ وہ بھی خوش ہو کر عید کی خوشیاں منا سکیں، اپنی ضرورت کا احساس کھو کر فرحت کے دو پل پا سکیں، اپنی آنسو بھری آنکھوں میں چمک لا سکیں۔

بہرحال رمضان کا آخری عشرہ نیکیوں میں مزید اضافے کا موسم ہے؛ لہذا جو سال کے دوسرے دنوں میں غلطیاں کوتاہی کر چکا ہو تو اسے چاہیے کہ ان دونوں میں اللہ کے سامنے رو دھو کر، گڑگڑا کر تضرع کے ساتھ اپنے مغفرت کرا کر نارِ جہنم سے خلاصی پا لے۔ 
وفق اللہ الجمیع لما یحبہ و یرضاہ اللہ علی نبینا محمد و آلہ و صحبہ وسلم۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...