محمد طارق بدایونی
نفلی نمازیں، دعا و تسبیحات اور تہجد و دیگر عبادات سب قیام اللیل ہمیں شامل ہیں۔ قیام اللیل سنّت ہے اور اس کی بڑی فضیلتیں وارد ہیں۔ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہمیشہ اس کی پابندی کی ہے خصوصاً ماہِ رمضان المبارک میں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے حق میں واجب تھی جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت سے علم ہوتا ہے:
يٰٓأَيُّهَا ٱلْمُزَّمِّلُ قُمِ ٱلَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِّصْفَهٗ أَوِ ٱنْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ ٱلْقُرْءَانَ تَرْتِيلًا۔ (المزمل: ۱-۴)
(اے ادڑھ لپیٹ کر سونے والے، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو؛ مگر کم، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔)
قیام اللیل کا وقت نمازِ فجر اور عشا کے مابین ہے۔ یہ نیند سے بیدار ہو کر ادا کرنا ضروری نہیں ہے، اس کا بعد نمازِ عشا سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ شب کے درمیانی حصّے میں اس کو ادا کرنا بہتر ہے اور سب سے افضل یہ ہے کہ رات کے آخری حصّے میں یعنی اوقاتِ سحر میں ادا کی جائے۔
قیام اللیل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد وارد ہے:
إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ۔ (المزمل: ۲۰)
(اے نبیﷺ! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو اور تمہارے ساتھ تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے۔)
مزید ارشاد ہے:
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔ (الاسراء: ۷۹)
(اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمھیں مقامِ محمود پر فائز کر دے۔)
ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا گیا:
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔ (الذاریات: ۱۷-۱۸)
(وہ راتوں کو کم ہی سوتے تھے اور پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے۔)
اور ایک موقع پر رسولِ خداﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ".[سنن نسائی، کتاب قیام اللیل و تطوع النھار، باب فضل صلاۃ اللیل، رقم الحدیث: ۱۶۱۴]
(اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ہے۔)
رمضان المبارک کو فضیلت اور اجر و ثواب کے لحاظ سے خاص مقام حاصل ہے۔ اس کے نمایاں پہلو ہیں، اجر و ثواب میں اضافہ ہے اور اس کی راتیں دیگر راتوں کے مقابلے میں ممتاز ہیں۔ ماہِ مبارک کے سلسلے میں فرمانِ نبویﷺ ہے:
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔[صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب من صام رمضان ایماناً و احتساباً و نیۃً، رقم الحدیث:۱۹۰۱]
(جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔)
رمضان المبارک میں رسول اللہﷺ کی سرگرمیاں مزید بڑھ جایا کرتیں خاص کر رمضان کے آخری عشرے میں، آپﷺ راتوں کو جاگتے، اہلِ خانہ کو نیند سے بیدار فرماتے اور مستعدی کے ساتھ عبادات میں لگ جاتے اس طور پر کہ آپ کا پورا وقت عبادت کے لیے فارغ ہوتا۔
رمضان المبارک میں قیام اللیل کے لیے کوئی خاص عمل کی شرط نہیں کہ جس کے بغیر عبادت درست نہ ہو۔ لیکن انسان عبادت کے لیے یکسو ہے، چست ہے، توانا ہے تو ماہِ مبارک کی راتوں میں عبادت کو طول دینا افضل ہے۔ لیکن اگر توانا نہ ہو تو عبادات کو مختصر کرنا زیادہ بہتر ہے۔
گرچہ رمضان المبارک کی راتوں میں کوئی خاص عمل کی شرط ہے نہ نمازوں کی کوئی متعین تعداد کہ ان میں اضافہ یا کمی کی جائے تو غلط سمجھا جائے۔ اگر کوئی ایسا گمان رکھتا ہے تو وہ خطا پر ہے۔ ایک موقع پر جب رسولِ خداﷺ سے ایک اعرابی (دیہات کا رہنے والا) نے صلاۃ اللیل کے سلسلے میں دریافت کیا تو آپﷺ نے کہ دو دو کر کے پڑھ لو؛ لیکن کوئی خاص تعداد متعین نہیں فرمائی۔
اور صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے: آپﷺ رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا نہیں! [صحیح البخاری، کتاب التھجد، باب قیام النبیﷺ باللیل فی رمضان و غیرہ، رقم الحدیث: ۱۱۴۷] لیکن نمازوں کو طول دیتے تھے، لمبی لمبی رکعتیں پڑھتے تھے، ترتیل میں حسنِ ادائی و خوبی اور خشوع و خضوعِ للہ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ یہ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ارکان کی ادائی میں بھی طول فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپﷺ قیام اللیل نصف اللیل سے شروع فرماتے اور مسلسل طلوعِ فجر پر اختتام فرماتے، اس طرح آپ پانچ گھنٹوں میں کل تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ اس بیان سے یہ مقصود ہے کہ قیام اللیل میں قرأت و ارکان میں طوالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
صحابۂکرامؓ ، تابعین اور سلف صالحین رمضان المبارک کی راتوں میں نماز، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن مجید اور دعا و تسبیحات سے مسجدوں کو آباد رکھتے تھے، ان کے ان اعمال سے شہد کی مکھیوں کی گونج کی طرح مسجد گونج اٹھتی تھی۔ وہ قیام اللیل میں اللہ سے استعانت و مناجات کیا کرتے تھے، انھیں رب سے مانگنے میں ایسی خوشی میسر آتی جو یقیناً خوب صورت خوابوں میں کہاں؟!!
یہ جان لینا بھی افادہ سے خالی نہیں کہ”قیام اللیل تنہا ادا کرنی چاہیے اور اگر جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہیں تو اس میں اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ باقاعدہ جماعت کا اہتمام نہ ہو یعنی دو یا تین سے زائد مقتدی نہ ہوں؛ کیوں کہ اگر مقتدی تین سے زائد ہوئے تو یہ تداعی کے ساتھ نوافل کی جماعت ہوگی جو کہ مکروہِ تحریمی ہے، لہذا اگر تنہا قیام اللیل ادا کریں یا بغیر تداعی کے دو ، تین افراد مل کر جماعت کریں تو اس میں نفل نماز کی نیت کرلیں۔
اور اگر رمضان میں جماعت کے ساتھ قیام اللیل کرنا ہو تو اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد تراویح پڑھتے ہوئے تراویح کی کچھ رکعت چھوڑدی جائیں، اور پھر ان رکعات کو رات میں باجماعت پڑھ لیا جائے، اس میں کسی قسم کی قباحت بھی نہیں ہوگی اور قیام اللیل کا ثواب بھی مل جائے گا، اور اس میں نیت بھی تراویح کی کی جائے گی۔
دیگر ائمہ کے نزدیک چوں کہ نفل باجماعت بھی مشروع ہے؛ اس لیے حرمین میں حنبلی مسلک کی رو سے قیام اللیل کی جماعت ہوتی ہے۔فقط واللہ اعلم“ [دیکھیے: دار الافتاء الجامعۃ الاسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، کراچی پاکستان، فتویٰ نمبر: 144008200825]
(نوٹ: کل”صلاۃ التراویح“ سے متعلق ملاحظہ فرمائیے!)
No comments:
Post a Comment