Translate

Wednesday, March 19, 2025

فتحِ مکہ محمد طارق بدایونی

فتحِ مکہ
محمد طارق بدایونی

 جیسا کہ ماہِ مبارک مکۃ المکرمہ وحی کی ابتدا، قرآن مجید کے نزول کے آغاز کا گواہ ہے، اسی طرح یہ شرک کے خاتمے اور عقیدۂ توحید کی حقانیت کا گواہ ہے؛ چوں کہ یہ عربوں کا مرکز تھا اور رسول اللہ کا شہر بھی، حج و عمرہ کا مقام ہے اور مسلمانوں کے لیے بارئ تعالی کے لیے خود کو مکمل طور پر سپرد کر دینے کا سب سے اہم مقام بھی۔ بے مکۃ المکرمہ مسلمانوں کا قبلہ ہے اور امن و سکون کی سب سے بہترین جگہ بھی۔ 
 
 در حقیقت یہ ایک ایسی جگہ ہے جس کی طرف ہر مسلمان کا دل کھنچا چلا جاتا ہے، جاتا ہے۔ اس لیے اس جگہ کا اسلام کے نور سے روشن ہو جانا، اس میں اسلام کا جھنڈا بلند ہونا تاریخِ اسلام میں رونما ہونے والے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اسی وجہ سے اس مقام پر اسلامی کی روشنی پھیل جانے کو ‘‘فتحِ مکہ’’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ۲۰؍رمضان المبارک کو پیش آیا تھا۔ اس شہر کے لوگوں کو ایک عقیدہ پر متحد کیا گیا اور توحید کے علم کے زیرِ سایہ لوگوں نے پناہ لی اور عربوں کی جاہلیت اور مخالفتِ اسلام کا خاتمہ ہوا۔
 
واقعہ یہ پیش آیا کہ جب ۷ھ میں قریش نے رسولِ خداﷺ مکہ میں داخل ہونے سے روک لیا تو حدیبیہ کے مقام پر ایک معاہدہ ہوا، پھر قریش نے اس کی عہد شکنی کی تو رسول اللہﷺ نے فتحِ مکہ کے لیے تیاری کی اور لوگوں کو تیاری کا حکم دیا۔ دراں حالیکہ قریش کو اس بات کی اطلاع نہیں ہونے دی اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی:
 اللّھم خُذ العیونَ و الأخبارَ عن قریشٍ حتی نبغتھا فی بلادھا۔ [تفصیل کے لیے دیکھیے: السیرۃ النبوۃ لابن ھشام، ۲؍۳۹۸]
 (اے اللہ! جاسوسوں اور خبروں کو قریش تک پہنچنے سے روک اور پکڑ لے؛ تاکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے سر پر یک دم جا پہنچیں۔)

 چناں چہ دعا قبول ہوئی اور مسلمانوں کی تیاریوں اور ان کے نکلنے کی کوئی خبر قریش تک نہ پہنچ سکی حتی کہ حاطب ابن ابی بلتعہ نے ایک خط لکھ کر قریش کو مسلمانوں کے نکلنے اور دفعۃً جا پہنچنے کی خبر دے بھیجی۔ اللہ تعالیٰ نے بہ ذریعہ وحی رسول اللہ کو اس کی خبر کی اور پھر قریش تک پہنچنے سے پہلے اس کو پکڑ لیا گیا، حاطب اپنے ارادے میں ناکام ہوا۔ الغرض دس(۱۰) رمضان المبارک کو رسولِ خداﷺ دس ہزار کے لشکرِ اسلامی کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر مکہ کی طرف نکلے۔ قریش مزاحمت سے قاصر تھے۔ کیا شان تھی کہ رات کے اندھیرے میں جنھیں نکالا گیا تھا وہ دن کے اجالے میں فاتحانہ داخل ہو رہے تھے۔

 رسول اللہ صحابہ کرام کے ساتھ مکہ تواضع کے ساتھ داخل ہوئے کہ پیٹ گھوڑوں کی پیٹھ سے چپکا جاتا تھا، مسجدِ حرام میں حاضری دی، حجرِ اسود کو چوما، بیت اللہ کا طواف کیا، حاکمِ اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا، دشمنوں کو بخشش کا پروانہ دیا اور جیسے جیسے بیت اللہ ارد گرد موجود بتوں کو اپنی کمان سے ٹھوکر مارتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔ (الاسراء: ۸۱)
(حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔)
 آپﷺ کی ٹھوکر سے بت منہ کے بل اوندھے گرے جاتے تھے؛ ارے ٹھوکر تو دیر کی بات آپﷺ تو بس اشارہ فرماتے تھے، آپ کے بغیر چھوئے بت گرتے چلے جاتے۔

پھر آپﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، دروازہ بند کیا، نماز پڑھی اور تمام گوشوں میں تکبیر و تحمید کہی پھر دروازہ کھولا، سامنے قریش تھے انھیں آپﷺنے یوں مخاطب فرمایا:
 يا معشر قريش ، إن الله قد أذهب عنكم نخوة الجاهلية ، وتعظمها بالآباء ، الناس من آدم ، وآدم من تراب ۔ (مکمل واقعہ ملاحظہ کیجیے: السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ۲؍۴۱۲)
(اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کر دیا۔ سارے لوگ آدم سے ہیں اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔)

اس پر مزید آپﷺ نے انھیں خطاب کرتے ہوئے یہ آیتِ کریمہ تلاوت فر مائی:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ۔ (الحجرات: ۱۳)
 (لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں؛ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔)

اس کے بعدبخشش کا پروانہ دیتے ہوئے فرمایا:
 اے قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے، میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا؟ انھوں نے بہ یک زبان ہو کر کہا: آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے صاحب زادے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ‘‘جاؤ آج تم سب آزاد ہو!’’ (إِذْھَبُوْا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاء)

 جب مکۃ المکرمہ اور بیت اللہ بتوں اور مجسموں کی غلاظت سے پاک ہو گیا اور ایمانی نور سے روشن ہو گیا، تو اس کے بعد آپﷺ نے ان بتوں کو نیست و بابود کرنے کی مہم چھیڑی جو ابھی تک مکۃ المکرمہ کے مضافات میں موجود تھے۔ چناں چہ حضرت خالد بن الولید کو رمضان المبارک کی ۲۵؍تاریخ کو طائف میں عزّیٰ کوو ڈھانے کے لیے بھیجا، جہاں انھوں نے ایک سیاہ فام عورت کا قصہ پاک کیا۔ جب وہ لوٹے اور سارا واقعہ رسولِ خداﷺ کو بتایا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ عزّیٰ تھی اور اب اس کی کبھی عبادت نہیں کی جائے گی۔

 اسی طرح عمرو بن العاصؓ کو سواع (ہذیل کا بت)کو ڈھانے کے لیے بھیجا ، جو مکہ سے تین میل کے فاصلے پر واقع تھا، انھوں نے اسے توڑ ڈالا اور اس کا نام و نشان مٹا دیا۔

 سعد الاشہلیؓ کو مناۃ (اسلام لانے سے قبل اوس و خزرج کا بت جو قدید میں واقع تھا) نامی بت گرانے کے لیے بھیجا، انھون نے اسے ڈھا کر اس کا قصہ پاک کر دیا۔

 اس طرح رسول اللہﷺ نے پورے ملک کو ایک جھنڈے تلے جمع فرما دیا، بت پرستی کا خاتمہ فرمایا، شرک سے پاک کیا اور سب کو عقیدہ توحید پر ماہِ مبارک ہی میں اکٹھا فرما دیا۔

افسوس صد افسوس! جس مہینے میں اتنے مجاہدہ، محنت و مشقت کی گئیں، آج کے مسلمان اسے راحت و آرام اور سستی و نیند کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ اللہ ہمیں توفیقِ عمل بخشے۔ آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...