Translate

Saturday, March 8, 2025

روزوں کے آداب محمد طارق بدایونی

روزوں کے آداب
محمد طارق بدایونی

 ہر عبادت اپنے ادب و آداب رکھتی ہے اور یہی آدابِ عبادت اس کی درستی اور اللہ رب العزت کے یہاں قبولیت کا راز ہوتے ہیں۔ عبادت وہی قبول ہوتی ہے جو خالص اللہ جل جلالہٗ و عم نوالہٗ کے لیے ہو۔ چناں چہ کلمۂ شہادت کا ادب و راز اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا دل و زبان سے اقرار ہے، نماز کا ادب اس میں خشوع و خصوع پیدا کرنا ہے، زکوٰۃ کا ادب تواضع کے ساتھ مستحق تک پہنچانا ہے، حج کا ادب بے حیائی و فحاشی، فسق و نفاق، جنگ و جدال سے رک جانا ہے اور معاملات کا ادب رواداری اور ہر چیز میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: 
رحم اللّٰه رجلاً سمحاً إذا باع، وإذا اشترى، وإذا اقتضى۔
(اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔)
الغرض! جہاں تک روزے کا معاملہ ہے تو اس کے بہت سے آداب ہیں: روزے دار کو چاہیے کہ وہ تقویٰ اختیار کرے، خوف خدا کے ساتھ اعمال صالحہ انجام دے، اس کی ہر نیکی، ہر خیر کا کام طاعتِ رب کے لیے ہو اور اپنے روزے کی حفاظت کرے؛ کیوں کہ یہ سب اس ماہ میں اجر و ثواب اور حسنات میں اضافے کا سبب ہیں۔
 روزے کا ادب یہ ہے کہ انسان روزہ اخلاص نیت کے ساتھ اللہ کے لیے رکھے، حصولِ اجر و ثواب میں شوق پیدا کرے، نمازِ پنجگانہ کا پابند ہو جائے،نماز کے اوقات میں باجماعت ادا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرے، کثرت سے نوافل پڑھے، نمازِ تراویح با قاعدہ جماعت کے ساتھ ادا کرے اور تہجد و چاشت وغیرہ کی دیگرنمازیں بھی مسلسل پڑھتا رہے۔
 روزے کا ادب یہ ہے کہ انسان سخی ہو جائے، لوگوں کا محسن بن جائے، جو میسر آئے وہ خرچ کرے جیسا کہ اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے۔ آج ہمارے دور میں محتاجوں کی ایک بڑی تعداد ہے، مسلمان مجاہدین و مہاجرین اور ایسے ہمارے بھائی جن پر ظلم کیا جا رہے ہیں ہر جگہ موجود ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے تو انھیں خوب دیں اور بدلے کی امید صرف اور صرف اللہ سے ہو، اللہ نے ہمیں ایمان کی دولت دی ہے، صحت دی ہے، ہم امن و امان کے بسیرے میں ہیں، مال کی ہمارے پاس وافر مقدار موجود ہے گویا کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے جس سے اللہ نے ہمیں محروم رکھا ہو تو ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے کمزور، مسکین، غریب محتاج بھائیوں کو دیں، ان کی ضرورتوں کو پورا کریں اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کریں۔ صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے: 
نبی کریمﷺ اعمالِ خیر کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپﷺ کی یہ سخاوت اس وقت مزید بڑھ جاتی تھی جب جبرائیل علیہ السلام آپﷺ سے رمضان میں ملاقات فرماتے۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگر نبی کریمﷺ سے سوال کیا جاتا تو ضرور عنایت فرمایا کرتے تھے۔
روزے کا ادب یہ ہے کہ ماہِ رمضان میں قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کی جائے، اسے سیکھنے سکھانے کے حلقے لگائے جائیں، تجوید و معانی قرآن کی محفلیں سجائی جائیں، لوگوں کے درمیان قرآنی علوم و فنون پر بحث و مباحثے ہوں، ان کے مابین علومِ قرآن کو عام کیا جائے۔ پیارے نبیﷺ رمضان میں قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت فرمایا کرتے تھے اور حضرت جبریل علیہ السلام میں آپﷺ کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔
روزے کا ادب ہے کہ انسان اپنے روزے کی فساد سے حفاظت کرے، اپنے اعضاء و جوارح کو روزے کو مجروح کرنے سے بچائے رکھے، فسق و فجور، لغو باتوں، چھوٹ، غیبت اور دیگر بری باتوں سے زبان کی حفاظت کرے، حرام و ناجائز سننے سے اپنے کانوں کو بچائے رکھے اور بد نظر سے اپنی آنکھوں کو محفوظ رکھے۔

 یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ صرف کھانا پینا بند کر دینا روزہ ہے، یہ تو روزہ کا سب سے بنیادہ حصّہ ہے۔ جب کہ اس کا حقیقی مقصد تقویٰ اور قربِ الٰہی کا حصول ہے اور قربِ الٰہی صرف مباحات سے پرہیز کرنے سے مکمل نہیں ہوتا قربِ الٰہی تو تمام تر محرمات کے ترک کر دینے سے حاصل ہوتا ہے؛ لہذا جو شخص حرام چیزوں کا مرتکب ہوتا ہے اور مباحات سے پرہیز کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اللہ کا قرب حاصل ہو جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص فرائض سے منہ پھیرے اور نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرے!
 رسولِ خداﷺ نے ارشاد فرمایا: 
من لم يدع قول الزور والعمل به، فليس للّٰه حاجة في أن يدع طعامه وشرابه.
( اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا(روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔)
 ایک دوسری حدیث میں ہے: 
رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع، ورب قائم ليس له من قيامه إلا السهر۔
 (بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتااور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔)
ایک موقع پر یہ ارشاد فرمایا: 
الصيام جنة، فإذا كان يوم صوم احدكم، فلا يرفث يومئذ ولا يسخب، فإن سابه احد او قاتله، فليقل: إني امرؤ صائم۔
(روزہ ڈھال ہے! لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور وغل کرے۔اگر کوئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔)
 حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب روزہ رکھو تو کان، آنکھ اور زبان کا بھی جھوٹ و غیبت اور حرام کاموں سے روزہ رکھ لو، اپنے پڑوسی کو نقصان پہنچانا چھوڑ دو اور جس دن روزے دار ہو تو اپنے آپ پر وقار اور سکون طاری کر لو یعنی جس دن روزہ ہو اور اور روزوں کے بعد کے دن میں فرق صاف واضح ہونا چاہیے۔
اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ روزے آداب کو لازم پکڑے اور ماہِ رمضان کے فضائل پر عمل پیرا ہو، جو شخص ایسا کرے گا تو اس کی روح ان اعمال سے مانوس ہو جائے گی اور ما بعد رمضان وہ اس کی فطرت کا حصّہ بن جائیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...