Translate

Wednesday, March 12, 2025

جن چیزوں سے روزہ باطل ہو جاتا ہےمحمد طارق بدایونی

جن چیزوں سے روزہ باطل ہو جاتا ہے
محمد طارق بدایونی

 روزہ فرض عبادت ہے۔ اگر کسی عبادت میں رکن چھوڑ دیا جائے یا عبادت کی شرط کو چھوڑ دیا جائے تو عبادت باطل ہو جاتی ہے، اس کا اجر جاتا رہتا ہے، اس کے حسن و کمال میں کمی آجاتی ہے۔ جیسے نماز میں رکن چھوڑ دینے کی صورت میں نماز نہیں ہوگی یا کوئی شخص نماز بغیر وضو و تیمم (کیوں کہ یہ نماز کے لیے شرط ہے) کے ادا کرے تو بھی نماز نہیں ہوگی۔ یہی معاملہ روزے کا ہے۔
 بہت سی چیزیں ہیں تو روزے کو باطل کر دیتی ہیں اگر روزے دار جان بوجھ کر ان میں سے اپناتا ہے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔ ذیل میں کچھ بنیادی چیزیں بیان کی جاتی ہیں:
1. کھانا پینا: اگرجان بوجھ کر روزے دار کچھ کھا پی لے کہ اسے علم ہو کہ اس کا روزہ ہے تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔ یہ کتاب و سنت اور اجماعِ اہل علم سے ثابت ہے۔ اب اسے توبہ و استغفار کرنا ہوگا اور پورے دن بھوکا رہے گا اور اس کی قضا واجب ہوگی۔ اگر روزہ واجب تھا تو؛ کیوں کہ اللہ نے رات کو کھانے پینے، جماع کرنے کی اجازت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِثُمَّ أَتِمُّوا الصِّیَامَ إِلیَ اللَّیْلِ۔ (البقرۃ: ۱۸۷)
(نیز راتوں کو کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہیِ شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری نمایاں نظر آ جائے تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پورا کرو۔)
رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: 
من أفطر يوما من رمضان من غير رخصة ولا مرض، لم يقض عنه صوم الدهر كله وإن صامه۔ [سنن ترمذی، کتاب الصیام عن رسول اللہﷺ، باب ماجاء فی الافطار متعمداً، رقم الحدیث: ۷۲۳]
(جس نے بغیر کسی شرعی رخصت اور بغیر کسی بیماری کے رمضان کا کوئی روزہ توڑ لیا تو پورے سال کا روزہ بھی اس کو پورا نہیں کر پائے گا چاہے وہ پورے سال روزے سے رہے۔)
یہاں کھانے پینے کے معنیٰ میں ہر وہ چیز شامل ہے جس سے جسم کی نشو و نما ہوتی ہے۔ جیسے ایسے انجکشن بلا ضرورت لگوانا جو غذا اور خون کی جگہ لے لیتے ہیں۔ (علما کہتے ہیں کہ ضرورت کے وقت انجکشن لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ تاہم طاقت کے انجکشن لگوانے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔)
2. جماع کرنا: روزہ کی حالت میں جماع حرام ہے، اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ جس نے دن میں جان بوجھ کر جماع کیا، اس کا روزہ باطل ہو گیا۔ اگر رمضان کا مہینے چل رہا ہے تو جماع کے بعد بقیہ دن میں بھوکا پیاسا رہے گا، توبہ کرنی ہوگی، استغفار کرنا ہوگاا اور قضاء و کفارہ دونوں اس کے ذمّے لازم ہوں گے۔ (کفارہ: مسلسل ۶۰؍ روزے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو ۶۰؍مسکینوں کو صبح و شام کھانا کھلانا یا ایک ہی مسکین کو ۶۰؍دن تک صبح و شام کھانا کھلانا–صدقہ فطر کی مقدار غلہ یا اس کی قیمت- کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اگر کوئی شخص واقعی اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو یہ کفارہ اس سے خود بخود ساقط ہو جائے گا)۔ 
حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک روایت وارد ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریمﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریمﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریمﷺ نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انھوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریمﷺ نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ! وہ صاحب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریمﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انھوں نے پوچھا: کیا اپنے سے زیادہ محتاج پرصدقہ کر دوں؟ اس پر نبی کریم ﷺ ہنس دیے اور آپ کے سامنے کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے اور پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے بچوں ہی کو کھلا دینا۔ [صحیح البخاری، کتاب کفّارات الأیمان، باب قولہ تعالیٰ ‘‘قد فرض اللہ لکم تحلہ أیمانکم و اللہ مولاکم و ھو العلیم و الحکیم’’۔ رقم الحدیث: ۶۷۰۹] 
 اگر کسی شخص کا مادہ منویہ صرف بوس و کنار کی وجہ سے یا مشت زنی کے سبب خارج ہوگیا تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا؛ لیکن اس پر قضا نہیں ہے؛ البتہ مشت زنی کا دوہرا گناہ بھی ہوگا۔
اسی طرح فحش فلم دیکھنے یا فحش ناول وغیرہ پڑھنے سے مادہ منویہ کا خروج ہوا تو روزہ تو فاسد نہیں ہوگا البتہ گناہ دوہرا ہوگا۔
اسی طرح اگر کسی شخص کو سوتے ہوئے احتلام ہوگیا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا؛ کیوں کہ اصول یہ کہ اگر اپنے عمل کا دخل ہو تو روزہ فاسد ہو جائے گا اگر اپنے عمل کا دخل نہ ہو تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ ‘‘تحفۃ الفقہا’’ میں ہے:
و کذلک لو نظر إلی فرج امرأۃ شھوۃ فأمنی أو تفکر فأمنی لا یفسد صورمہ؛ لأنہ حصل الإنزال لا بصنعہ فلا یکون شبیہ الجماع لا صورۃ و لا معنیً۔ [کتاب الصوم، ۱؍۳۵۳، ط: دار الکتب العلمیۃ]
3. قے کرنا: اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قے (پلٹی) کرتا ہے، یعنی کسی بھی وجہ سے وہ اپنا معدہ خالی کرتا ہے تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔ اگر وہ فرض روزے سے تھا تو اس پر قضا واجب ہوگی اور اگر قے خود بخود ہوئی ہے تو کوئی حرج نہیں روزہ باقی رہے گا۔ رسو ل اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: 
مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ ۔[سنن الترمذی، کتاب الصیام عن رسول اللہﷺ، باب ما جاء فیمن استقاء عمداً، رقم الحدیث: ۷۲۰]
(جسے قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء لازم نہیں۔ اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو اسے روزے کی قضاء کرنی چاہیے۔)
اسی طرح حجامہ (پچھنا، سینگی لگوانا) کروانے کا حکم ہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؛ کیوں کہ اس عمل میں جسم سے فاسد خون نکلا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:أفطر الحاجم و المحجوم۔ [سنن الترمذی، کتاب الصیام عن رسول اللہﷺ، باب کراھیۃ الحجامۃ للصائم، رقم الحدیث: ۷۷۴]
(سینگی لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ نہیں رہا۔)
 علما کہتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہو گیا ؛ کیوں کہ بعض صحابہ کرام نے پچھنا لگوانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ حتی کہ بعض صحابہ نے رات کو پچھنا لگوایا ہے۔  
 بہتر یہی ہے کہ غروبِ آفتاب کے بعد حجامہ کروایا جائے۔ اس میں ہمیں احتیاط کرنی چاہیے۔
نوٹ: قے کی مختلف صورتیں ہیں، اور اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹنے کی صورت میں قضا ہے لیکن کفارہ نہیں ہے۔ بہرحال جب کبھی ایسا کوئی واقعہ پیش آئے تو کسی عالم سے ضرور رابطہ کیجیے۔
4. حیض و نفاس: اگر کسی عورت کو حیض یا نفاس آ جائے اور وہ روزے دار ہو تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔ پاک ہو جانے کے بعد وہ ان روزوں کی قضا کرے گی۔ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ کَانَ یُصِیْبُنَا ذٰلِکَ، فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَ لَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاۃِ۔ [صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب وجوب قضاء الصوم علی الحائض، رقم الحدیث: ۷۶۳]
جو عورت حیض و نفاس کی حالت ہو، اسے کھانا پینا چاہیے، یعنی روزے داروں کی مشابہت کی وجہ سے تنہائی میں بھوکی پیاسی نہ رہے؛ البتہ اگر حائضہ دن کا کچھ حصّہ گزرنے کے بعد پاک ہو جائے تو اب بقیہ دن میں کھانے پینے سے اُسے روزے داروں کی مشابہت کی وجہ سے رُکے رہنا چاہیے۔
بہرحال جب کوئی یہ بھول جائے کہ اس کا روزہ ہے! اور کھا پی لے یا جماع کر پھر جب اور جیسے ہی اس کو یاد آ جائے تو اسے فوراً رک جانا چاہیے، اس کا روزہ باقی رہے گا، اس پر کوئی قضا نہیں ہوگی؛ کیوں کہ اس نے خود ارادہ کر کے روزہ نہیں توڑا ہے اس لیے اس کا روزہ برقرار ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: 
مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ۔ [صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب اکل الناسی و شربہ و جماعہ لا یفطر، رقم الحدیث: ۲۷۱۶]
(جس نے روزہ کی حالت میں بھول کر کھا پی لیا، وہ اپنا روزہ پورا کرے؛ کیوں کہ اس کو اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔)

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...