Translate

Monday, March 10, 2025

روزے کی نیت محمد طارق بدایونی

روزے کی نیت
محمد طارق بدایونی

 کسی بھی صحت مند عبادت کے لیے نیت کا ہونا شرط ہے اور اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے۔ اگر نیت درست ہے تو وہ عمل قبول کیا جائے گا؛ تاہم نیت کے بغیر عبادتِ رب ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
  وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ۔ (البینۃ: ۵)
 (اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے۔)
 اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
 إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: ۱)
 (تمام اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ملے گا۔) 
اہلِ علم کے نزدیک ‘‘نیت’’ کے دو معنیٰ ہیں:
1. عبادات اور عادات کے درمیان فرق کرنا۔ جیسے: غسلِ جنابت کو تبرید و تنظیف کے لیے کیے گئے غسل سے فرق کیا جاتا ہے۔ 
2. عبادات میں بعض کو بعض سے فرق کرنا۔ جیسے: ظہر و عصر کی نماز میں فرق کرنا، ماہِ رمضان کے روزوں کو دوسرے مہینوں کے روزوں سے ممتاز و نمایاں کرنا۔
روزہ چاہے فرض ہو یا نفلی وغیرہ؛ چناں چہ وہ عبادت ہے اور یہ بغیر نیت کے درست نہیں ہے۔ البتہ یہ دوسرے عبادات سے اس لیے مختلف ہے کہ اس میں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، بس ایک خاص وقت کے لیے کھانے پینے اور جماع کرنے سے رکنا ہوتا ہے اور اسی سے نیت ثابت ہو جاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نیت خالصۃً للہ ہو، زبان سے الفاظ کا ادا کرنا ضروری نہیں، نیت یہی ہے کہ آپ نے ارادہ کیا؛ گرچہ یہ دوسری عبادات کے مقابلے میں احکاماً مختلف ہے۔
ماہِ رمضان کا روزہ ہو یا اس کے علاوہ ، اس کی نیت رات میں کرنی ہوگی کہ وہ کیسا روزہ رکھنا چاہتا ہے یعنی رمضان کا روزہ ہے یا قضا، نذر کا روزہ ہے یا کفارہ یا پھر بس نفلی روزہ اس کے بغیر روزہ درست نہیں ہوگا۔ نبی اللہﷺ کا ارشاد ہے:
من لم يبيت الصيام قبل الفجر فلا صيام له۔ [سنن نسائی، کتاب الصیام، باب ذکر اختلاف لخبر حفصۃ فی ذلک، رقم الحدیث: ۲۳۳] ایک دوسری روایت میں قبل طلوع الفجر کے الفاظ آئے ہیں۔
(جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہو گا)
یہ ضروری نہیں کہ آدمی رات سے ہی روزہ کی نیت کر لے اور اس نیت کے ساتھ سوئے کہ وہ کل روزہ رکھے گا؛ گرچہ اس کے اس ارادے کا بھی ضرور ثواب ملے گا کہ وہ اس بات کا مشتاق ہے کہ آنے والے دن میں روزہ دار ہو۔ تاہم بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اگر فجر سے پہلے نیت نہیں کی تو روزہ نہیں ہوگا۔
حالاں کہ اگرکوئی شخص روزے کی نیت سے سحر میں کھاتا پیتا ہے تو یہی کافی ہے۔ در اصل مسئلہ یہ ہے کہ روزے کی نیت غروبِ آفتاب کے بعد سے لے (کل) دوسرے دن نصف النہار شرعی ( یعنی سحری کا وقت جس وقت ختم ہوتاہے اس وقت سے لے کر سورج غروب ہونے کے وقت کو برابر دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو درمیانی وقت نصف النہار شرعی کہلاتاہے) سے پہلے تک کرسکتے ہیں، اس کے بعد کی گئی نیت شرعاً معتبر نہیں اور نہ ہی ایسی نیت سے روزہ ہوتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اگر روزہ کی نیت کر لینے کے بعد نیت کے خلاف کوئی کام کیا یعنی کچھ کھایا، پیا یا جماع کر لیا تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا مشکوک ہو جاتا ہے تو یہ درست نہیں ہے؛ کیوں کہ صبح صادق (سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے) تک کھانا پینا یا جماع کرنا جائز ہوتا ہے۔ البتہ کسی شخص نے صبحِ صادق کے بعد کوئی ایسا عمل کیا جو روزہ کے منافی ہو تو اب روزہ فاسد ہو جائے گا۔ علامہ ابن عابدین نے الدر المختار کے حاشیہ میں یہی بات لکھی ہے:
(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل) فلاتصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى لا) بعدها ولا (عندها) اعتبارا لأكثر اليوم۔ [۲؍۳۷۷]
علما کا بیان ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کی نیت رات سے ہی کر لینا زیادہ بہتر ہے اور اگر کسی شخص نے رات کو نہ کی ہو تو زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل بھی کر سکتا ہے؛ لیکن شرط یہی ہے کہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ 
بے شک شرعی روزوں اور اس کا ثواب جس وقت نیت کی ہے اسی وقت سے ملنا شروع ہو جاتا؛ کیوں کہ ہر شخص کو وہی ملتا ہے جو اس نے نیت کی ہوتی ہے۔  
 اگر کسی شخص نے رات کو روزے کی نیت کی پھر دن میں پاگل مجنون ہو گیا یا پورے دن بے ہوشی طاری رہی تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا؛ کیوں کہ روزے کا تعلق نیت کے ساتھ پرہیز کرنے سے ہے اور اس صورت میں یہ ممکن نہیں ہے تو صرف اور صرف نیت کر لینا کافی نہیں ہوگا۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:
 عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة عشر امثالها إلى سبعمائة ضعف، قال الله عز وجل: إلا الصوم فإنه لي، وانا اجزي به، يدع شهوته وطعامه من اجلي۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل الصیام، رقم الحدیث: ۲۷۰۷)
(حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل بڑھا دیا جاتا ہے۔ نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک (بڑھا دی جاتی ہے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے (کیونکہ) وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔)
اس حدیث میں ترک طعام و شراب کا فرمایا گیا ہے؛ جب کہ جنون اور پورے دن بے ہوشی میں ترکِ طعام و شراب نہیں ہے، اس لیے اس کا روزہ درست نہیں ہوگا۔
اے اللہ یہ ماہِ رمضان ہم پر خوب برکات کا نزول فرما، بہ حسن و خوبی اس کے قیام صیام ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...