محمد طارق بدایونی
رمضان المبارک تمام مہینوں میں امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں بعض امور کو خاص کیا گیا ہے، اعمال کو فضیلت دی گئی ہے، ثواب میں اضافہ کیا گیا ہے اور اس ماہ کے فضائل کو شمار کرنا ممکن نہیں اور اس کی کرامات کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔
علمائے کرام نے جو اس ماہ کی خصوصیات بیان کی ہیں، ان میں سے بعض کو ذیل میں نقل کیا جا رہا ہے:
1. یہ پورا مہینہ روزوں کے لیے خاص کیا گیا ہے اور یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے۔ کتاب و سنت میں ہے اور اس پر اجماع بھی ہے کہ ہر صاحبِ استطاعت، ذمّے دار مسلمان پر اس ماہ کے روزے فرض ہیں؛ جب کہ اس ماہ کے علاوہ سال میں کسی بھی دن کا روزہ فرض نہیں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ۔ (پس جو کوئی تم میں سے یہ مہینہ پائے تو چاہیے کہ اس میں روزہ رکھے۔)
2. یہ وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن مجید، کتاب ہدایت کا نزول ہوا۔ خواہ اس سے لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر قرآن مجید کا نزول مراد لیا جائے، خواہ یہ مراد لیا جائے کہ قرآن مجید اسی مہینے میں پیارے نبی محمدﷺ پر نازل ہونا شروع ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ۔ (یہ رمضان کا مہینہ ہے، جس میں قرآن کا نزول (شروع) ہوا۔ وہ انسانوں کے لیے رہ نما ہے، ہدایت کی روشن صداقتیں رکھتا ہے اور حق کو باطل سے الگ کردینے والا ہے۔)
3. یہی وہ مہینہ ہے جس میں جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنّم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ شیاطین کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور اعمال صالحہ کی کثرت ہوتی ہے، نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ مؤمنین بندوں پر اللہ تعالیٰ کے جود و کرم (سخاوت) کی برکھا ہوتی ہے اور اپنے فرشتوں پر روزے داروں پر فخر کرتا ہے۔ اس سلسلے رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے: اذا دخل شهر رمضان، فتحت ابواب الجنة، وغلقت ابواب النار، وصفدت الشياطين۔ (جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں۔)
ایک جگہ ارشاد فرمایا: إذا كان اول ليلة من شهر رمضان، صفدت الشياطين ومردة الجن، وغلقت ابواب النار فلم يفتح منها باب، وفتحت ابواب الجنة فلم يغلق منها باب، وينادي مناد يا باغي الخير اقبل، ويا باغي الشر اقصر، ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة۔ (جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطان اور سرکش جن جکڑ دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ اور شر کے طلب گار! رک جا اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں (تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو) اور ایسا (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔)
4. اسی ماہ میں شبِ قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔ (ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں اتارا اور تم کیا سمجھے کہ لیلۃ القدر کیا شے ہے؟ لیلۃ القدر ایک عہدِ رحمت و دورِ برکت ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، ملائکہ سماوی و روحِ الٰہی کا اس میں ہر طرف سے نزول ہوتا ہے۔ سلام ہے اس پر یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جائے۔
5. رمضان کا پورا مہینہ نیکیوں کا موسمِ بہار ہے، اس میں اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ اعمالِ خیر کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپﷺ کی یہ سخاوت اس وقت مزید بڑھ جاتی تھی جب جبرائیل علیہ السلام آپﷺ سے رمضان میں ملاقات فرماتے۔
ایک روایت ہے: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا۔(جس کسی نے کسی روزے دار کو افطار کروایا تو اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا روزے دار کے لیے ہوگا اور روزے دار کے اپنے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔)
6. رمضان المبارک میں جنّت کو سجا دیا جاتا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں: یزین اللہ فی کل یوم جنتہ ویقول: یوشک عبادی الصالحون أن یلقوا عنہم المؤونۃ والأذی ثم یصیروا إلیک۔
ایک دوسری حدیث میں ہے: إن الجنۃ تجَدّد و تَزَیّن من الحَول إلی الحَول لدخول شھر رمضان، و تقول: اللھم اجعل لی فی ھذا الشھر من عبادک سُکّاناً۔
7. بے شک ماہِ رمضان صبر و شکر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب، بدلہ جنّت ہے۔ صبر کی تین قسمیں ہیں: ۱؎ طاعتِ الٰہی میں صبر۔ ۲؎ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے میں صبر۔ ۳؎ خدا کے فیصلوں (ایسے فیصلے جن میں انسان کی آزمائش ہو، اسے تکلیف اٹھانی پڑے) پر صبر اور روزے کی صفت یہ ہے کہ صبر کی یہ تینوں قسمیں اس میں جمع ہو جاتی ہیں؛ کیوں کہ روزہ رکھنا اللہ تعالی کی اطاعت ہے، روزے دار شہوت سے بچتا ہے اس لیے کہ اس پر غروبِ آفتاب تک اس کوحرام کر دیا گیا ہے۔ بھوک و پیاس پر صبر کرتا ہے، جس سے اس کا نفس و بدن کمزور ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے روزہ کو آدھا صبر قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے: اَلصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ۔ (روزہ نصف صبر ہے۔)
8. یہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے خاص طور سے روزے دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ثلاثة لا ترد دعوتهم: الصائم حتى يفطر، والإمام العادل، ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام، ويفتح لها ابواب السماء، ويقول الرب: وعزتي لانصرنك ولو بعد حين۔ (تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی: ایک روزہ دار، جب تک کہ روزہ نہ کھول لے، امام عادل اور مظلوم اس کی دعا اللہ بدلیوں سے اوپر تک پہنچاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ رب العالمین فرماتا ہے: میری عزت (قدرت) کی قسم! میں تیری مدد کروں گا، بھلے کچھ مدت کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔)
ایک موقع پر یہ ارشاد فرمایا کہ رمضان میں مسلمان کی دعا قبول کی جاتی ہے: لكل مسلم دعوة مستجابة يدعو بها في رمضان۔
اس لیے روزہ رکھنے والوں کو اس کی آمد پر خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ماہِ مبارک میں بخیر و عافیت پہنچا دیا۔ مبارک ہو ان لوگوں کے لیے جو ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں تو جس نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا۔
No comments:
Post a Comment