Translate

Wednesday, March 5, 2025

روزوں کی فرضیت کے مراحل محمد طارق بدایونی

روزوں کی فرضیت کے مراحل
محمد طارق بدایونی

امتِ مسلمہ کو ماہِ رمضان کے روزوں کے ذریعے فضیلت ضرور بخشی ہے؛ لیکن روزے صرف اس امّت کی خصوصیات میں سے نہیں ہیں اور نہ ہی پہلی مرتبہ اس امّت پر فرض کیے گئے ہیں نیز یہ کہ یہ کوئی شریعتِ اسلامی میں نئی چیز بھی نہیں ہے۔ تاریخ ادیان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ امّتوں پر بھی روزے فرض کیے جا چکے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید کی یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے:
 یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔(البقرۃ: ۱۸۳)
 (مسلمانو! جس طرح ان لوگوں پر جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں روزہ فرض کر دیا گیا تھا، اسی طرح تم پر بھی فرض کر دیا گیا ہے؛ تاکہ تم میں پرہیزگاری پیدا ہو۔)
یہ قانون سازی میں ایک تشبیہ ہے کہ پہلے بھی یہ قانون تھا، اور اس کا مقصد تقویٰ ہی ہے اور اس امت کے لیے اس قانون کا مقصد بھی تقویٰ ہے۔ 
یہ امّت محمدیہ کے مؤمنین کے لیے تسلّی کا سامان بھی ہے، ان کے لیے ایک نشانِ راہ ہے کہ یہی ان لوگوں کا راستہ ہے جنھوں نے مالکِ حقیقی، حاکمِ اعلیٰ کی پیروی کی۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے؛ بلکہ یہ وہی چیز فرض کی گئی ہے جو ان سے پہلوں پر عائد کی گئی تھی۔
 اس لیے مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ان کا گذشتہ قوموں سے مسابقہ ہے ، اسے بوجھل چیز نہ جانیں، اسے مشقت نہ جانیں، اس پر عمل کریں اور دوسروں کو ترغیب دیں، اس سے خوش ہوں، ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں، اس کی ادائی میں جلدی کریں، اس کے لیے محنت کریں ایسی محنت کہ روزے کا جو حق ہے اس کے مطابق ادائی ہو سکے اور گذشتہ قوموں سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ 
 پہلی مرتبہ جب رسول اللہ ﷺ نے اجتماعی طور پر روزہ رکھنے کا حکم صادر فرمایا تو یومِ عاشورا کا روزہ تھا۔ حدیث پاک میں ہے:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْفَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ثُمَّ أَمَرَ بِصَوْمِهِ۔
(ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراءکے دن روزہ رکھتے ہیں ۔ اس کے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعوں پر فتح عنایت فرمائی تھی چنانچہ اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں ۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام سے تمہاری بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور آپ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔)
اس طرح یہ پہلی بار امّت مسلمہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا، اور اس طرح اجتماعی طور معین وقت کی پابندی پر ان کی تربیت کی گئی اور اس طرح رمضان المبارک کے روزوں کے استقبال کے لیے مسلمانوں کو تیار کیا گیا۔
 علما نے بیان کیا ہے کہ ماہِ رمضان کے روزے ایک مرتبہ میں امّتِ محمدیہ پر فرض نہیں کر دیے گئے ؛ بلکہ ہجرت کے دوسرے سال میں اس کی فرضیت کا حکم نازل ہوا۔ 
 اس کی فرضیت کے مراحل اس طرح ترتیب دیے گئے کہ:
1. ایام معدودات:
ارشاد ہے: اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ.......۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ گنتی کے چند دن سے مراد اتوار اور جمعرات کا روزہ ہے۔ ایک قول کے مطابق ایّام بیض کے روزے ہیں، جو کہ ہر مہینے میں تین دن رکھے جاتے ہیں اور بعض لوگ اس میں یوم عاشوراء کا روزہ بھی شامل کرتے ہیں۔ اہلِ علم کہتے ہیں کہ یہ روزے پہلے نفلی تھے پھر فرض کر دیے گئے اور بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ پہلے واجب تھے؛ بہرحال اس پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ روزِ ماہِ رمضان کی فرضیت سے منسوخ ہو گئے۔
2. اختیار: یہ اختیار دیا گیا کہ یا تو روزے رکھیں یا پھر غریبوں، مسکینوں کو ہر روزے کے بدلےکھانا کھلا دیں۔ جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے: 
وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ-وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ (البقرۃ: ۱۸۴)
(اور جو لوگ ایسے ہوں کہ ان کے لیے روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہو (جیسے نہایت بوڑھا آدمی کہ نہ تو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے نہ یہ توقع رکھتا ہے کہ آگے چل کر قضا کرسکے گا) تو اس کے لیے روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دینا ہے۔ پھر اگر کو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ کر (یعنی زیادہ مسکینوں کو کھلائے) تو یہ اس کے لیے مزید اجر کا موجب ہوگا۔ لیکن اگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو تو سمجھ لو کہ روزہ رکھنا تمہارے لیے (ہر حال میں) بہتر ہے۔)
3. رمضان المبارک کے روزے: یہ ہر شخص پر فرض حتمی طور پر فرض کیے گئے سوائے ان لوگوں کے جو شرعی عذر رکھتے ہوں، اس صورت میں ان کے لیے روزہ چھوڑنا اور بعد میں قضا کر لینا جائز قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ یُرِیْدُ اللهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلٰى مَا هَدٰكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ (البقرۃ: ۱۸۵)
(یہ رمضان کا مہینہ ہے، جس میں قرآن کا نزول (شروع) ہوا۔ وہ انسانوں کے لیے رہ نما ہے، ہدایت کی روشن صداقتیں رکھتا ہے اور حق کو باطل سے الگ کردینے والا ہے۔ پس جو کوئی تم میں سے یہ مہینہ پائے تو چاہیے کہ اس میں روزہ رکھے۔ ہاں جو کوئی بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ دوسرے دنوں میں چھوٹے ہوئے روزوں کی گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے۔ سختی و تنگی نہیں چاہتا اور یہ (جو بیماروں اور مسافروں کے لیے روزہ قضا کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو یہ) اس لیے ہے کہ (حکمت الٰہی نے روزے کے فوائد کے لیے دنوں کی ایک خاص گنتی ٹھہرا دی ہے تو تم اس کی) گنتی پوری کرلو (اور اس عمل میں ادھورے نہ رہو) اور اس لیے بھی کہ اللہ نے تم پر راہ (سعادت) کھول دی ہے تو اس پر اس کی بڑائی کا اعلان کرو۔ نیز اس لیے کہ (اس کی نعمت کام میں لا کر) اس کی شکر گزاری میں سرگرم رہو۔)
4. تخفیف: پھر مسلمانوں کے لیے آسانی پیدا کی گئی؛ کیوں کہ تیسرے مرحلہ میں جو روزے فرض کیے گئے تھے ان میں وقت کا بڑا مسئلہ تھا وہ اس طور پر کہ بعد نمازِ مغرب یا بعد جب روزہ رکھنے والا سو جائے گا تو اس کا روزہ شروع ہو جائے گا اس صورت میں اٹھ کر کھانا پینا حرام قرار دیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی نے افطار کیا اور پھر وہ کچھ کھائے پیے سو گیا تو اب اس کے لیے آئند غروبِ شمس تک کھانا پینا حرام ہو گیا۔ گرچہ اس دوران میں کوئی کچھ کھا پی لیتا تو روزہ ٹوٹ جاتا۔ اسی طرح عورتوں سے جنسی تعلقات کی صورت میں بھی یہی حکم تھا۔ ظاہر یہ مسلمانوں کے لیے دشوار تھا۔  
اس پر عمل جاری تھا کہ ایک صحابی کی بے ہوشی کا معاملہ پیش آیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے حکم میں تخفیف کی ، راتوں کا کھانا پینا اور جماع جائز قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ۔ (البقرۃ: ۱۸۷)
(تمہارے لیے یہ بات جائز کردی گئی ہے کہ روزہ کے دنوں میں رات کے وقت اپنی بیویوں سے خلوت کرو۔ تم میں اور ان میں چولی دامن کا ساتھ ہے (یعنی ان کی زندگی تم سے وابستہ ہے۔ تمہاری ان سے) اللہ کے علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہے کہ تم اپنے اندر ایک بات کا خیال رکھ کر پھر اس کی بجا آوری میں خیانت کررہے ہو (یعنی اپنے ضمیر کی خیانت کر رہے ہو۔ کیوں کہ اگرچہ اس بات میں برائی نہ تھی مگر تم نے خیال کرلیا تھا کہ برائی ہے) پس اس نے (اپنے فضل و کرم سے تمہیں اس غلطی کے لیے جو اب دہ نہیں ٹھہرایا) تمہاری ندامت قبول کرلی اور تمہاری خطا بخش دی اور اب ( کہ یہ معاملہ صاف کردیا گیا ہے) تم (بغیر کسی اندیشہ کے) اپنی بیویوں سے خلوت کرو اور جو کچھ تمہارے لیے (ازدواجی زندگی میں) اللہ نے ٹھہرا دیا ہے، اس کے خواہش مند ہو۔ اور (اسی طرح رات کے وقت کھانے پینے کی بھی کوئی روک نہیں) شوق سے کھاؤ پیو۔ یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) کالی دھاری سے الگ نمایاں ہوجائے (یعنی صبح کی سب سے پہلی نمود شروع ہوجائے) پھر اس وقت سے لے کر رات (شروع ہونے) تک روزے کا وقت پورا کرنا چاہیے۔
 مبارک ہو ان لوگوں کے لیے جن پر یہ ماہِ مبارک سایہ فگن ہے۔ جو روزے رکھ رہے ہیں اور اپنے رب کی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ ہم سب کو قیام و صیام کو بہ حسن و خوبی ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...