Translate

Sunday, March 16, 2025

نمازِ تراویح محمد طارق بدایونی

نمازِ تراویح
محمد طارق بدایونی

 نمازِ تراویح سنّتِ مؤکدہ ہے۔ یہ عبادت ماہِ رمضان المبارک کا سب سے بڑا مظہر اور سب سے نمایاں علامت ہے۔ اس نماز کو رسول اللہﷺ اور صحابۂکرام رضوان اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا ہے۔ رسولِ خداﷺ نے اس کی فرضیت کے خدشے سے ترک بھی کیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی جاتی ہے کہ ایک رات رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اور نمازِ تراویح ادا کی، صحابۂکرامؓ نے بھی رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھی، صبح کو لوگوں میں یہ بات پھیل گئی۔ چناں چہ دوسری رات پہلے سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے اور انھوں نے آپﷺ کے ساتھ نمازِ تراویح پڑھی پھر صبح کو مزید لوگوں میں اس کا تذکرہ ہوا۔ تیسری رات کو مسجد میں آنے والوں کی تعداد مزید بڑھ گئی، چناں چہ انھوں نے رسولِ خداﷺ کے ساتھ نماز ادا کی اور پھر چوتھی رات کو مسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی کہ رسول اللہﷺ اس رات تشریف نہیں لے گئے حتی کہ آپﷺ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے گئے اور جب نمازِ صبح کی تکمیل کی تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے ، شہادتین پڑھ کر ارشاد فرمایا: ‘‘أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا’’واقعہ یہ ہے کہ آج رات تمہارا حال مجھ سے مخفی نہیں تھا؛ لیکن مجھے خدشہ ہوا کہ رات کی نماز کہیں تم پر فرض نہ کر دی جائے کہ تم اسے ادا کرنے سے عاجز رہو۔ [صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب الترغیب فی قیام رمضان و ھو التراویح، رقم الحدیث: ۱۷۸۴]
 رسول اللہﷺ کی زندگی میں یہ سلسلہ یوں ہی قائم رہا پھر جب آپﷺ اپنے رب کو پیارے ہو گئے اور احکامِ تشریعی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا ۔اب نمازِ تراویح کی فرضیت کا کوئی خدشہ باقی نہ رہا تو حضرت عمر فاروقؓ نے نمازِ تراویح کے سلسلے میں انتشار سے بچنے کی غرض سے ایک امام کے پیچھے لوگوں کو جمع کر دیا۔
 حضرت عبد الرحمن قاری کا بیان ہے کہ میں رمضان المبارک کی ایک رات حضرت عمر فاروقؓ کے ہمراہ مسجد میں گیا تو دیکھا کہ لوگ مختلف گروپوں میں علیحدہ علیحدہ نماز تراویح پڑھ رہے ہیں، کوئی اکیلا ہے اور کسی کے ساتھ کچھ لوگ بھی شریک ہیں۔ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: واللہ! میرا خیال ہے کہ اگر ان سب کو ایک امام کی اقتدا میں جمع کردیا جائے تو بہت اچھا ہو؛ چناں چہ حضرت عمرؓ نے سب کو حضرت ابی بن کعبؓ کی اقتدا میں جمع کردیا ۔ 
حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ پھر جب ہم دوسری شب نکلے تودیکھا کہ سب لوگ ایک ہی امام کی اقتدا میں نمازِ تراویح ادا کررہے ہیں، اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: یہ بڑا اچھا طریقہ ہے اور مزید فرمایا کہ ابھی تم رات کے جس آخری حصّہ (تہجد) میں سوجاتے ہو، وہ اس (تراویح) سے بھی بہتر ہے، جس کو تم نماز میں کھڑے ہوکر گزارتے ہو۔ [موٴطا امام مالک، باب ماجاء فی قیام رمضان]
جہاں تک نمازِ تراویح کی رکعات کا معاملہ ہے تو یہ مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نمازِ تراویح گیارہ (۱۱) رکعت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ نمازِ تراویح کی تیرہ (۱۳) رکعت ہیں۔ اور ایک بڑا طبقہ اس پر متفق ہے کہ نمازِ تراویح تیئیس (۲۳) رکعات (مع وتر)پر مشتمل ہے۔ اور بعض نے اس سے زیادہ بھی بیان کی ہیں۔  
بہرحال یہ ایک فقہی مسئلہ ہے، فقہا نے اپنے اپنے اجتہادات اور دلائل کی روشنی میں مسالک اختیار کیے؛ البتہ جمور فقہا و محدثین کی رائے یہ ہے کہ نمازِ تراویح بیس(۲۰) رکعت پڑھنی چاہیے۔ 
ظاہر سی بات ہے کہ کوئی شخص گیارہ (۱۱) رکعتیں پڑھے یا تیرہ (۱۳)، کوئی تیئیس (۲۳) پڑھے یا اس سے بھی زیادہ مقصود یہ ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر خوب صورتیں کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ رسول اللہﷺ پڑھا کرتے تھے۔ 
اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ رمضان المبارک کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے اور نمازِ تراویح بھی عبادت ہے، اب چاہے تو رکعتوں میں اختلاف کیا جائے، قیام اللیل و صلاۃ التراویح میں اختلاف کیا جائے، حضرت عائشہؓ کے گیارہ رکعتوں والے قول کو نمازِ تراویح سمجھا جائے یا پھر نمازِ تہجد بہرحال سب ہی عبادت ہیں اور اللہ کے لیے ہیں۔ اس لیے کوئی آٹھ پڑھے یا بیس کارِ ثواب ہی ہے۔ گویا جس نے آٹھ پڑھیں تو اس نے اللہ کی عبادت کی اور جس نے بیس رکعتیں پڑھیں تو اس نے بھی اللہ ہی کی عبادت کی۔ بالکل واضح بات ہے کہ جو شخص آٹھ کی جگہ بیس پڑھ رہا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی تو ہے۔ تاہم ان باتوں کو لے کر اختلافات طعن و تشنیع، ایک دوسرے کو برا سمجھنے تک پہنچ جائیں تو یقیناً یہ امت کے زوال و انتشار کی دلیل ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

نمازِ تراویح کی ادائی کا وقت
 وقت کے سلسلے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے حال و احوال، ان کی ضروریات و مشاغل اور ان کی پریشانیوں کو مدّ نظر رکھا جائے، سب کے اتفاق سے نمازِ عشا کا وقت متعین کیا جائے اور ترایح کا وقت بھی طے کر لیا جائے۔ مزید یہ کہ رکعتوں کی طوالت و اختصار کا بھی خیال رکھا جائے گویا فراخ دلی سے کام لیا جائے، مقتدیوں کے لیے یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ صحیح طور پر ارکانِ نماز، واجباتِ نماز اور سنتوں کو بہ آسانی ادا کر سکیں۔ نہ رکعتوں کو اتنا لمبا کیا جائے کہ کھڑے کھڑے اکتاہٹ محسوس ہونے لگے نہ اتنا مختصر کیا جائے کہ نماز کے ارکان و واجبات و سنتیں چھوٹ جائیں اور جب قرآن مجید پڑھا جائے تو بہترین لب و لہجے میں اس طور پر کہ الفاظ و معانی و ادائی کی پورے طور پر رعایت ہو جائے۔ 
1. ایسی جگہوں پر جہاں لوگ راتوں کو کام کرتے ہیں، اپنی ضروریاتِ زندگی کی خاطر رات کا وقت مسجدوں میں جا کر عبادت کرنے کے لیے خالی نہیں کر سکتے ۔ جیسے ہسپتال یا کمپنی میں کام کرنے والے لوگ وغیرہ تو ایسی مساجد جو ان سے متصل ہوں جہاں وہ لوگ نمازی ہوں تو اوّل وقت کو ترجیح دینا چاہیے۔
2. جن مساجد میں ضعیف لوگوں، بیماروں یا دوسرے عذرِ شرعی رکھنے والوں کی اکثریت ہو، جو دیر تک قیام اور رکوع و سجود سے عاجز ہوں تو امام کو چاہیے کہ وہ ان کی حالت کا خیال رکھتے ہوئے رکعتوں کو مختصر رکھے۔
3. بعض لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خوب احسان اور فضل و کرم ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو رمضان المبارک کو عبادت کے لیے وقف کر لیتے ہیں؛ کیوں کہ اللہ نے انھیں اس کی توفیق دی ہوتی ہے۔ اللہ نے انھیں طاقت و استقامت سے نوازا ہوتا ہے، وہ دیر تک کھڑے رہ کر قرآن مجید سن سکتے ہیں، دیر تک رکوع میں ٹھہر سکتے ہیں اور اپنے سجدوں کو لمبا کر سکتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ تراویح کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کریں جہاں دیر رات تک تراویح ہوتی ہیں۔ 
الغرض لوگوں میں نمازِ تراویح پڑھنے کی صلاحیت و استطاعت مختلف ہوتی ہے؛ بالکل طالبِ علموں کی طرح، جن کی صلاحیتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جس طرح ایک طالبِ علم ابتدائی درجے سے ثانویہ اور ثانویہ سے عالیہ تک مختلف مراحل میں پہنچتا ہے اسی طرح نمازی بھی جسمانی و ایمانی اور ضرورت کے لحاظ سے ایسے ہی ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے آسانی اور سہولت پیدا کرنی چاہیے؛ تاکہ درجہ بہ درجہ ایمان بڑھتا اور تقویت پاتا رہے اور ان کا عزم و حوصلۂعبادت کسی طرح سے ٹوٹنے نہ پائے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادت کی توفیق بخشے، اس ماہ کے مابعد ہمیں ان عبادتوں پر تسلسل کی بھی توفیق بخشے۔ آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...