Translate

Thursday, March 6, 2025

استقبالِ رمضان محمد طارق بدایونی

استقبالِ رمضان

محمد طارق بدایونی

ماہِ ”رمضان المبارک“ سال کے تمام مہینوں کا سردار ہے اور اللہ رب العالمین کے نزدیک سب سے ا فضل ہے۔ یہ مبارک مہینہ ہے، ماہِ صیام و قیام ہے، ماہِ خیر و برکات ہےاور نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔ اسی مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
شھر رمضان الذین انزل فیہ القرآن ھدی للناس و بینات من الھدی و الفرقان۔ (البقرۃ: ۲۸۶)
(یہ رمضان کا مہینہ ہے، جس میں قرآن کا نزول (شروع) ہوا، وہ انسانوں کے لیے رہ نما ہے، ہدایت کی روشن صداقتیں رکھتا ہےاور حق کو باطل سے الگ کر دیتا ہے۔)
رمضان المبارک کی آمد اور اس کے استقبال سے متعلق دو طرح کے لوگ یا رویّے پائےجاتے ہیں:
1. وہ لوگ جو اس شہرِ کریم کی آمد پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے، اس ماہ کی آمد کو سعادت جانتے ہیں اورپہلے سے ہی یہ دعائیں کرتے ہیں کہ: 
اے ہمارے پروردگار ہمیں نیکیوں کے موسمِ بہار میں پہنچا دے؛ تاکہ خیر و برکت خوب بٹور سکیں، اس ماہ میں تیری رحمت، سکینت، طمانیت اور طرح طرح کی خیرات و برکات کے نزول سے لطف اندوز ہوں، سنتِ مصطفٰی ﷺ ، صحابۂ کرام، تابعین، سلف صالحین پر عمل پیرا ہو کر تجھے راضی کر سکیں۔ 
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ رمضان تک پہنچنے کی دعا کیا کرتے تھے اور جب ماہِ رجب آجاتا تو آپ فرمایا کرتے: اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان اوررسول اللہﷺ صحابۂ کرامؓ کو رمضان کی آمد پر خوش خبری سنایا کرتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے: جاءکم شھر رمضان، شھر مبارک، کتب اللہ علیکم صیامہ، فیہ تفتح ابواب الجنۃ و تغلق فیہ ابواب الجحیم، تغل فیہ الشیاطین، و فیہ لیلۃ خیر من ألف شھر من حرم خیرھا فقد حرم۔
عبد العزیز بن مروان کا کہنا ہے کہ جب ماہِ رمضان قریب آتا تو مسلمان کہا کرتے تھے کہ: 
”اے اللہ ہم پر ماہِ مبارک کو سایہ فگن فرما اور وہ ہمیں سلام کیا کرتے تھے اور ہم ان پر سلامتی بھیجا کرتے تھے“۔ 
نیز ساتھ میں یہ بھی فرمایا کرتے تھے:
”اے اللہ ہمارے صیام و قیام میں برکت عطا فرما ، ہماری کوششوں اور سرگرمیوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس مہینے میں فتنوں سے محفوظ فرما“۔ 
بہت سے بزرگانِ دین ایسے بھی گزرے ہیں، جو چھ ماہ تک اللہ سے دعا کیا کرتے تھے کہ انھیں رمضان المبارک تک پہنچا دے اور جب وہ اس ماہ کے روزوں سے فارغ ہو جاتے تو چھ ماہ تک ان کے شرفِ قبولیت کی دعا کیا کرتے تھے۔ مثلاً وہ ایک یہ دعا کیا کرتے تھے: 
اللھم سلّمنی إلی رمضان و سلّم لی رمضان و تسلّمہ منی متقبلاً۔
وہ لوگ ایسے تھے کہ یا تو ان کا سارا وقت رمضان المبارک میں گزرتا یا پھر اس سے متعلق گزرتا تھا۔ 
ایک شاعر ان کے احوال کا تذکرہ اس طرح کیا ہے:
مرحباً أھلاً و سھلاً بالصیام
یا حبیباً زارنا فی کل عام
قد لقیناکَ بحبّ مفعم
کل حبّ فی سوی المولی حرام
فاقبل اللھمّ ربّی صومناً
ثم زدنا من عطایاک الجسام 
لا تعاقبنا فقد عاقبنا
قلق أسھرنا جنح الظلام
الغرض! جب یہ لوگ جب ماہِ رمضان میں پہنچ جاتے تو ہشاش بشاش اس کا استقبال کرتے اور اس کی آمد پر ایک دوسرے کو مبارک بادیاں دیتے۔ دنوں میں ایمان و احتساب کے ساتھ روزے دار ہوتے اور شب کو شوق و رغبت کے ساتھ قیام کرتے، تراویح پڑھتے، نوافل میں وقت گزارتے، عبادات میں لگ جاتے۔
2. دوسرے وہ لوگ ہیں جو کہ پہلوں سے بالکل برعکس ہیں۔ نہ تو وہ ماہِ مبارک کی آمد پر خوش ہوتے ہیں نہ اس کے استقبال کی کوئی تیاری کرتے ہیں؛ ہاں اس سے بھاگنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ اپنے ایّام غیر مسلموں کی طرح کھاتے پیتے گزارتے ہیں یا ان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ انھیں ان پر قیام و صیام گراں گزرتا ہے۔ وہ ہر دن اس بات کی خوشی مناتے ہیں کہ روزہ گزر گیا اور جاتے دن و رات کو شمار کرتے رہتے ہیں۔ ان کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے کوئی مسافر خطرات سے گھر گیا ہو اور موقع پاتے ہیں کجاوہ اٹھا کر بھاگ کھڑا ہو۔ وہ عید کے موقع پر تو بڑے خوش ہوتے ہیں؛ جب کہ حقیقت میں ان کے لیے کوئی عید نہیں ہے۔
روزوں کے دنوں میں کوئی انھیں سخت سست کہتا ہے تو بھڑک جاتے ہیں، طعنے مارتے ہیں۔ کوئی رغبت دلاتا ہے تو ہر ایک سے پورے ماہ ان کا شکوہ کرتے ہیں، ان کی دین داری پر حرف سوال لے کر معصوم بنتے ہیں اور پرلے درجے کی زبان پر اتر آتے ہیں۔جب کہ حال یہ ہوتا ہے کہ رات کو سوتے ہیں تو جانے والے دن گن کر سوتے ہیں اور جب صبح کو اٹھتے ہیں تو باقی رہ جانے والے دن گنتے ہیں اور من ہی من میں اس سے سکون پاتے ہیں۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا بے روزے داروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ اور فریضہ کی ادائی پر شوق عنایت فرمائے۔

 آخر میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا دے جو اس ماہِ مبارک کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔ ہمیں عملِ صالح کی توفیق دے، ہمیں اخلاص، صدق و یقین کی دولت سے بہرہ مند فرما۔ بے وہ تو ہمارا مولیٰ ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور صلاۃ و سلام ہو ہمارے نبی پیغمبر محمد مصطفیٰ ﷺ پر، ان کی آل و اولاد پر اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...